نوف بن فضالۃ بکالی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
نوف بکالی
معلومات شخصیت
نسب: قبیلہ حمیر
مقام سکونت: کوفہ
اصحاب: امام علیؑ
سماجی خدمات: حضرت علی‌ؑ کے نگہبان
مشائخ: ابوایوب انصاری

نَوف بن فُضالَۃ بِکالی معروف بہ نوف بکالی، حضرت علی علیہ السلام کے دور حکومت میں آپ کے دربان اور نگہبان تھے۔ نوف نے نہج البلاغہ کے بعض کلمات قصار اور نہج البلاغہ کے خطبات کی فہرست نقل کی ہے۔ نوف کا نام قدیمی رجالی کتابوں میں ذکر نہیں ہوا ہے لیکن بعض شیعہ روائی کتابوں میں آپ سے حضرت علی کی بعض روایتیں نقل ہوئی ہیں۔

مختصر حالات زندگی

نوف بن فضالہ حضرت علیؑ کے صحابی ہیں اور قبیلہ حمیر کی ایک شاخ قبیلہ بکالہ یا بکال سے منسوب ہونے کی بناپر آپ کو نوف بکالی کہا جاتا ہے[1] بعض افراد آپ کو قبیلہ بنی ہمدان کی فرد شمار کرتے ہیں لیکن مامقانی نے اپنی کتاب تنقیح المقال میں اس قول کو رد کیا ہے[2] بعض منابع میں آپ کے والد کا نام عبداللہ ذکر ہوا ہے[3] عمرو بکالی کو آپ کا بھائی کہا گیا ہے جو صحابی پیامبرؐ تھے اور جن کی انگلیاں جنگ یرموک میں قطع ہوگئی تھیں۔[4] نوف شام کے رہنے والے تھے [5] لہذا انہیں شامی لقب سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ ابن عساکر نے نوف کو ملک شام کا باشندہ شمار کیا ہے اور آپ کے حالات زندگی تاریخ مدینہ دمشق میں نقل کئے ہیں[6] اور اس بات کا بھی تذکرہ کیا ہے کہ بعض محققین آپ کو فلسطین کا باشندہ جانتے ہیں۔[7] نوف کی کنیت، ابویزید تھی [8] آپ کی کنیت ابوعمرو اور ابورشید بھی ذکر ہوئی ہے۔[9]

بعض مؤرخین نے بیان کیا ہے کہ نوف کی ماں نے آپ کے باپ کے وفات یا ان سے طلاق کے بعد کعب احبار سے شادی کی[10] نقل ہوا ہے کہ ارمنیوں اور محمد بن مروان کے درمیان ہونے والی جنگ میں نوف قتل ہوئے۔[11]

حضرت علی علیہ السلام سے تعلق


امام علی علیہ السلام

«اے نوف خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو دنیا سے قطع تعلق کرتے ہیں اور آخرت کے مشتاق ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زمین کو اپنا فرش اور خاک کو بستر بناتے ہیں، پانی کو خوش مزہ سمجھتے ہیں، قرآن ان کا ورد زبان اور دعا ان کا شعار ہے دنیا سے منقطع ہوکر حضرت عیسیؑ کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔۔۔۔»

شیخ صدوق، الخصال، ۱۳۶۲ش، ص۳۳۷-۳۳۸؛‌ نہج‌البلاغہ، صبحی صالح، حکمت ۱۰۴۔

نوف بکالی حضرت علیؑ کے دربان تھے اور آپ امام علیؑ کے صاحب [12]، حاجب[13] یا خاص صحابی کے عنوان سے پہچانا جاتا ہے۔[14] آپ نے حضرت علیؑ کی بعض مناجاتوں[15] اور بعض خطبات کو بھی نقل کیا ہے۔[16] نوف بکالی نے حضرت علیؑ سے نصیحت کی درخواست فرمائی ، امیرالمومنین نے آپ کو صلہ رحم ، ظالموں کی مدد نہ کرنے ، اہلبیت علیہم السلام سے محبت، غیبت کو ترک کرنے نیز مکارم اخلاق کی سفارش کی ۔[17] مامقانی نے حضرت علی علیہ السلام کی نصیحتوں اور مواعظ کو جو آپ نے نوف کو مخاطب کرکے انجام دی ہیں نوف کے بلند مقام و مرتبہ اور قوت ایمانی کی دلیل قرار دیا ہے نیز حضرت علی علیہ السلام کی جانب سے نوف کو نیکوکاروں میں شمار کئے جانے کو شاہد کے طور پر پیش کیا ہے۔[18]

روایتیں

احادیث کی کتابوں میں نوف بکالی سے روایتیں نقل ہوئی ہیں: آپ نے نہج البلاغہ کے بعض کلمات قصار اور امیرالمومنین ؑ کے خطبات کی فہرست کو بھی نقل کیا ہے۔[19] اسی طرح آپ نے خطبہ ہمام { تھوڑے فرق کے ساتھ} )[20] اور شیعوں کی خصوصیات کے بارے میں حضرت علی کی روایت کو نقل کیا ہے۔[21]

نوف نے عبداللہ بن عمرو عاص اور ابوایوب انصاری سے روایتیں سنی ہیں۔[22] نیزابواسحاق ہمدانی، نُسَیر بن ذُعلُوق، خالد بن صبیح، عبدالملک بن حبیب جونی، عمارۃ بن جوین عبدی، شہر بن حوشب اشعری،[23] ابوعبداللہ شامی، عبدالاعلی[24] و علقمۃ بن قیس[25] نے آپ سے رویتیں نقل کیں ہیں۔

آپ کا نام قدیمی شیعہ رجالی کتابوں میں نہیں ملتا آیت‌اللہ خویی نے آپ کے نام کے ذیل میں شیخ صدوق سے ایک روایت نقل کرنے پر اکتفا کی ہے اور کوئی اظہار نظر نہیں کیا ہے۔[26] اہل سنت کی بعض کتابوں میں نقل ہوا ہے کہ نوف نے حضرت موسی اور حضرت خضر کے قصہ میں موسی سے مراد بنی اسرائیل کے نبی حضرت موسی کا انکار کیا ہے اور بیان کیا ہے کہ یہاں موسی سے مراد دوسرے موسی ہیں اسی بنا پر ابن عباس نے آپ کو جھوٹا اور دشمن خدا کہا ہے ۔[27]

حوالہ جات

  1. ابن ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، ۱۴۰۴ھ، ج۱۰، ص۷۷؛ مامقانی، تنقیح المقال، ۱۳۵۲ھ، ج۳، ص۲۷۷
  2. مامقانی، تنقیح المقال، ۱۳۵۲ھ، ج۳، ص۲۷۷
  3. شیخ طوسی، الامالی، ۱۴۱۴ھ، ص۵۷۶۔
  4. ابن حجر، الاصابہ، ۱۹۹۵ق-۱۴۱۵ھ، ج۴، ص۵۸۰۔
  5. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ۱۴۱۸ھ، ج۶۲، ص۳۰۳۔
  6. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ۱۴۱۸ھ، ج۶۲، ص۳۰۳-۳۱۳۔
  7. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ۱۴۱۸ھ، ج۶۲، ص۳۰۳۔
  8. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۹۶۷م-۱۳۸۷ھ، ج۱۱، ص۳۸۳۔
  9. مامقانی، تنقیح المقال، ۱۳۵۲ھ، ج۳، ص۲۷۶؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ۱۴۱۸ھ، ج۶۲، ص۳۰۳۔
  10. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ھ، ج۱۱، ص۱۶۴،۶۶۴۔
  11. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ۱۴۱۸ھ، ج۶۲، ص۳۱۳۔
  12. امین، اعیان الشیعہ، بی‌تا، ج۲، ص۳۵۰۔
  13. ابن ابی‌الحدید، شرح نہج‌البلاغہ، ۱۴۰۴ھ، ج۱۰، ص۷۷۔
  14. مامقانی، تنقیح المقال، ۱۳۵۲ھ، ج۳، ص۲۷۶۔
  15. علامہ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۷۳، ص۳۵۹۔
  16. نہج‌البلاغہ، صبحی صالح، خطبہ۱۸۲؛ علامہ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۳۳، ص۳۹۴، ج۳۴، ص۱۲۴۔
  17. شیخ صدوق، الامالی، ۱۳۷۶ش، ص۲۰۹-۲۱۰۔
  18. مامقانی، تنقیح المقال، ۱۳۵۲ھ، ج۳، ص۲۷۶۔
  19. نہج‌البلاغہ، صبحی صالح، خطبہ ۱۸۲؛ ابن ابی‌الحدید، شرح نہج‌البلاغہ، ۱۴۰۴ھ، ج۱۰، ص۷۷-۷۶۔
  20. علامہ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۶۵، ص۱۹۲-۱۹۳۔
  21. طوسی، الامالی، ۱۴۱۴ھ، ص۵۷۶۔
  22. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ۱۴۱۸ھ، ج۶۲، ص۳۰۳۔
  23. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ۱۴۱۸ھ، ج۶۲، ص۳۰۳۔
  24. شیخ صدوق، الخصال، ۱۳۶۲ش، ج۱، ص۳۳۷۔
  25. شیخ مفید، الامالی، ۱۴۱۳ھ، ص۱۳۲-۱۳۳۔
  26. خویی، معجم رجال الحدیث، ۱۴۱۰ق-۱۳۶۹ش، ج۱۹، ص۱۸۵-۱۸۶۔
  27. کرمانی، الکواکب الدراری، ۱۴۰۱ھ، ج۱۴، ص۵۰۔

مآخذ

  • ابن ابی‌الحدید، عبدالحمید بن ہبۃ‌اللہ، شرح نہج‌البلاغہ، ‏تصحیح: محمدابوالفضل ابراہیم، مکتبۃ آیۃ اللہ المرعشی النجفی، قم، ۱۴۰۴ھ۔
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، تحقیق: عادل احمد عبدالموجود و علی محمد معوض، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۹۹۵ق-۱۴۱۵ھ۔
  • ابن عساکر، علی بن حسن، تاریخ مدینۃ دمشق، تحقیق: علی شیری، دارالفکر، بیروت، ۱۴۱۸ق-۱۹۹۸م۔
  • امین، سید محسن، اعیان الشیعہ، تحقیق حسن امین، بے‌تا۔
  • خویی، سید ابوالقاسم، معجم رجال الحدیث، مرکز نشر آثار شیعہ، قم، ۱۴۱۰ق-۱۳۶۹ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، الامالی، کتابچی، تہران، ۱۳۷۶ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، الخصال، تصحیح: علی‌اکبر غفاری، جامعہ مدرسین، قم، ۱۳۶۲ہجری شمسی۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، الامالی، تصحیح: مؤسسہ البعثہ، دارالثقافہ، قم، ۱۴۱۴ھ۔
  • شیخ مفید، محمد بن نعمان، الامالی، تصحیح: علی اکبر غفاری و حسین ولی، کنگرہ شیخ مفید، قم، ۱۴۱۳ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، تحقیق: محمد ابوالفضل ابراہیم، دارالتراث، بیروت، ۱۹۶۷م-۱۳۸۷ھ۔
  • علامہ مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، داراحیا التراث العربی، بیروت، ۱۴۰۳ھ۔
  • کرمانی، محمد بن یوسف، الکواکب الدراری فی شرح صحیح البخاری، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ۱۴۰۱ھ/۱۹۸۱ء۔
  • مامقانی، عبداللہ، تنقیح المقال فی علم الرجال، المطبعۃ المرتضویہ، نجف، ۱۳۵۲ھ۔
  • نہج‌البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، ہجرت، قم، ۱۴۱۴ھ۔