سوده ہمدانی

ویکی شیعہ سے
سودہ ہمدانی
ذاتی کوائف
نام:سودہ بنت عمارۃ بن اشتر
لقب:ہمدانی، یمانی
محل زندگی:کوفہ، مدینہ
صحابی:امام علیؑ
حدیثی معلومات
شہرت:جنگ صفین میں شرکت اور امام کی حمایت میں اشعار پڑھی۔


سودہ ہَمْدانی، امام علیؑ کے اصحاب اور شیعہ شاعرہ خواتین میں سے تھیں۔ آپ جنگ صفین میں امام علیؑ کے ساتھ تھیں۔ آپ نے اپنے اشعار کے‌ ذریعے اس جنگ میں امام علیؑ کی حمایت اور لشکر اسلام کو جنگ کی ترغیب دی۔ امام علیؑ کی شہادت کے بعد آپ نے معاویہ کے نمائندوں میں سے بُسْر بن اَرطاۃ کی شکایت کرنے کے لئے معاویہ سے ملاقات کی اور اس ملاقات میں بھی انہوں نے امام علیؑ کی مدح میں شعر پڑھا۔

معاویہ کے دربار میں امام علیؑ کے ساتھ اظہار عقیدت میں کہے جانے والے اشعار کو بعض لوگ سودہ کی نیک نیتی، فضیلت اور امام علیؑ کی امامت و ولایت پر ان کی ثابت قدمی کی نشانی قرار دیتے ہیں۔

اجمالی تعارف

سودہ ہمدانی (متوفی: پہلی صدی ہجری)[1] امام علیؑ کے شیعیان اور اصحاب میں سے تھیں۔[2] کہا جاتا ہے کہ آپ قبیلہ ہَمْدان کی مشہور اور تابعی خواتین میں سے تھیں۔[3] آپ کے والد کا نام عمارۃ بن اشتر[4] یا عمارۃ بن الاسک[5] و یا عمارۃ بن اسد[6] ذکر کیا گیا ہے۔ آپ کے القاب میں ہَمْدانی[7] کے علاوہ یَمانی[8] کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ آپ کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات کے بارے میں تاریخی منابع میں کوئی معلومات ذکر نہیں ہیں۔[9]

شمّر کفعل أبیک یا ابن عمارۃیوم الطّعان و ملتقی الأقران
اے عمارہ کے بیٹے اپنے والد کی طرح ہو جاؤجنگ کے دن اپنے ساتھیوں کے ساتھ
و انصر علیا و الحسین و رہطہو اقصد لہند و ابنہا بہوان
علیؑ اور حسینؑ اور ان کی جماعت کی نصرت کرو اور ہند اور اس کے بیٹے کو ذلیل و خوار کرو۔
إنّ الإمام أخو النّبی محمّدعلم الہدی و منارۃ الإیمان
یہ امام اور پیغمبر محمّدؐ کے بھائی ہیں۔وہ ہدایت کے علمبردار اور ایمان کے مینار ہیں۔
فقَدِّ الجیوشَ و سِرْ أمام لوائہقدما بأبیض صارم و سنان [10]
دشمن کے سپاہیوں کو چیر کر علی کے پرچم تلے لے آؤ اور تیز تلواروں اور نیزوں کے ساتھ آگے بڑھے چلو۔

سودہ ہمدانی کو شاعرہ،[11] مُحَدِّثہ اور ادیبہ[12] خواتین میں شمار کی جاتی ہے۔ بعض لوگ اس بات کے معتقد ہیں کہ سودہ عرب کی فصیح شاعرہ خواتین میں سے تھیں اور بحث و مباحثہ اور گفتگو میں بہت مہارت رکھتی تھی اور مد مقابل پر ہمیشہ فائق رہتی تھی۔[13]کتاب محدثات شیعہ میں نہلہ غروی نائینی کے مطابق سودہ نے امام علیؑ سے حدیث نقل کی ہے۔ اسی طرح محمد بن عبیداللہ و عامر شعبی جیسے راویوں نے ان سے روایت نقل کی ہیں۔[14]

جنگ صفین میں امام علیؑ کی حمایت میں کی گئی شاعری

سودہ جِرْوَہ بنت مُرَّۃ بن غالب تمیمی، اُمّ سَنان بنت خَیْثَمہ، زَرقاء بنت عَدی ہَمْدانی اور ام الخیر کوفہ کے ان خواتین میں سے تھیں جو امام علیؑ کے ساتھ جنگ صفین میں حاضر تھیں۔[15] انہوں نے اس جنگ میں امام علیؑ کی حمایت میں اشعار کہے۔[16]جنہیں ان کے مشہور اشعار میں شمار کئے جاتے ہیں۔[17] ان اشعار میں وه جہاں امام علیؑ کی حمایت اور دفاع کرتی[18] وہاں امام علیؑ کے فضائل کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے امام کے سپاہیوں کو شامیوں کے خلاف جنگ کی ترغیب دیتی تھی۔[19] اسی وجہ سے انہیں ایک بہادر[20] اور زبان سے جہاد کرنے والی مجاہدہ خواتین میں شمار کی جاتی ہے۔[21] حضرت محمدؐ کے بھائی اور ہدایت کے علمبردار کے عنوان سے امام علیؑ کی مدد اور نصرت کی طرف دعوت دینا ان کے اشعار کے مضامین میں شمار ہوتے ہیں۔

معاویہ کے دربار میں امام علی سے اظہار عقیدت

صلّی الله علی جسم تضمّنهقبر فأصبح فیه العدل مدفونا
خدا کا سلام ہو اس پاک جسد پر جسے قبر نے جگہ دی جس کے ساتھ عدالت بھی دفن ہو گئی
قد حالف الحقّ لا یبغی به بدلافصار بالحقّ و الإیمان مقرونا
حقّ کے ساتھ عہد کیا اور اس کے سوا کسی کو نہیں اپنایاپس آپ حقّ اور ایمان کے ساتھ ہم‌ دوش ہیں[22]

تاریخی منابع کے مطابق سودہ معاویہ کے کارندوں میں سے بُسر بن اَرطاۃ کی شکایت کرنے کے لئے معاویہ کے دربار میں گئی۔[23] معاویہ نے اس ملاقات میں جنگ صفین میں معاویہ اور اس کے لشکر کے خلاف پڑھے جانے والے اشعار کی طرف اشارہ کیا[یادداشت 1] اور امام علیؑ کی حمایت کرنے اور امام کے سپاہیوں کو معاویہ کے خلاف ترغیب دینے پر ان کی ملامت کی۔ سودہ نے علی بن ابی‌ طالب کی محبت اور حق کی پیروی کو اپنے اس عمل کی دلیل قرار دیا۔[24] سودہ نے بُسْر کے مظالم کو جو اس نے لوگوں پر روا رکھا تھا، معاویہ کے سامنے پیش کیا اور ان سے بسر کی برطرفی اور لوگوں کے غصب شدہ حقوق کی بازیابی کی درخواست کی۔ معاویہ نے شروع میں ان کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے ان کی سرزنش کی۔ جس پر سودہ نے امام علیؑ کی شان میں اشعار کہنا شروع کیا جس میں ان کی شکایت پر امام علیؑ کی طرف سے اپنے عمال کی برطرفی کی طرف اشارہ کیا۔ معاویہ نے دوبارہ سرزنش کرنے کے بعد سودہ کے اس کام کو ان کی اس شہامت کا نتیجہ قرار دیا جسے علیؑ نے اپنے ماننے والوں کے دلوں میں ایجاد کی ہے، اس کے بعد معاویہ نے سودہ اور ان کے خاندان کے اموال کو واپس کرنے کا حکم دیا۔[25]

معاویہ کے دربار میں امام علیؑ کی شأن میں کہے گئے سودہ کے اشعار کو پہلی صدی ہجری میں کوفہ کے شیعوں کے یہاں مشہور اشعار میں شمار کئے جاتے ہیں۔[26]


معاویہ کے ساتھ سودہ کی ملاقات کے واقعے کو سودہ کی نیک نیتی، بہادری[27]، فضیلت اور امام علیؑ کی ولایت پر ان کی استقامت کی دلیل قرار دی گئی ہے۔[28]

نوٹ

  1. جنگ صفین میں ان اشعار کا قبیلہ ہمدان کے جنگجوں کے رجز میں تبدیل ہونا، ان اشعار کا معاویہ کی یاداشت میں باقی رہنے کا سبب قرار دئے ہیں۔(ملک‌لو، «سودہ ہمدانی»، ص108۔)

حوالہ جات

  1. مرکز مدیریت حوزہ‌ہای علمیہ خواہران، بانوان عالمہ و آثار آنہا، 1379ہجری شمسی، ص25۔
  2. حسون، أعلام النساء المؤمنات، 1421ھ، ص520؛ شبستری، التبیین فی أصحاب الإمام أمیر المؤمنینؑ و الرواۃ عنہ، 1430ھ، ج1، ص541۔
  3. ملک‌لو، «سودہ ہمدانی»، 1397ہجری شمسی،‌ ص108۔
  4. امینی، اصحاب امیر المومنینؑ و الرواۃ عنہ، 1412ھ، ج2، ص670؛ حسون، أعلام النساء المؤمنات، 1421ھ، ص520۔
  5. شوشتری، قاموس الرجال، 1410ھ، ج12، الألقاب المنسوبۃ، ص284؛ امین، أعیان الشیعۃ، 1403ھ، ج7، ص324۔
  6. محلاتی، ریاحین الشریعۃ، تہران، ج4، ص354۔
  7. امینی، اصحاب امیر المومنینؑ و الرواۃ عنہ، 1412ھ، ج2، ص670؛ حسون، أعلام النساء المؤمنات، 1421ھ، ص520۔
  8. ابن‌عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، 1415ھ، ج42، ص587۔
  9. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: ابن‌عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، 1415ھ، ج42، ص587؛ ابن‌اعثم، الفتوح، 1411ھ، ج3، ص59-61۔
  10. ضبی، أخبار الوافدات، 1403ھ، ص67؛ ابن‌طیفور، بلاغات النساء، قم، ص47۔
  11. ابن‌عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، 1415ھ، ج42، ص587۔
  12. مرکز مدیریت حوزہ‌ہای علمیہ خواہران، بانوان عالمہ و آثار آنہا، 1379ہجری شمسی، ص25۔
  13. حسون، أعلام النساء المؤمنات، 1421ھ، ص520؛ امینی، اصحاب امیر المومنینؑ و الرواۃ عنہ، 1412ھ، ج2، ص670۔
  14. غروی نایینی، محدثات شیعہ، 1375ہجری شمسی، ص222۔
  15. العقد الفرید، دار الكتب العلميۃ، ج1، ص347۔
  16. آیینہ‌وند، ادبیات سیاسی تشیع، 1387ہجری شمسی، ص50۔
  17. قمی، تاریخ قم، 1385ہجری شمسی، ص474، محقق در پاورقی۔
  18. آیینہ‌وند، ادبیات سیاسی تشیع، 1387ہجری شمسی، ص50۔
  19. امینی، اصحاب امیر المومنینؑ و الرواۃ عنہ، 1412ھ، ج2، ص670؛ شبستری، التبیین فی أصحاب الإمام أمیر المؤمنینؑ و الرواۃ عنہ، 1430ھ، ج1، ص541؛ آیینہ‌وند، ادبیات سیاسی تشیع، 1387ہجری شمسی، ص50۔
  20. غروی نایینی، محدثات شیعہ، 1375ہجری شمسی، ص220؛ ارفع، «حامیان ولایت، رثاء بانوان شیعہ در حمایت از ولایت»، ص12۔
  21. حسون، أعلام النساء المؤمنات، 1421ھ، ص520۔
  22. ضبی، أخبار الوافدات، 1403ھ، ص69؛ ابن‌طیفور، بلاغات النساء، قم، ص48۔
  23. ابن‌اعثم، الفتوح، 1411ھ، ج3، ص59-61؛ ابن‌عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، 1415ھ، ج42، ص587۔
  24. ابن اعثم، الفتوح، ج3، ص60؛ ضبی، أخبار الوافدات، 1403ھ، ص67-70؛ ابن‌طیفور، بلاغات النساء، قم، ص47-49؛ ابن‌عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، 1415ھ، ج42، ص587؛ حسون، أعلام النساء المؤمنات، 1421ھ، ص520۔
  25. ابن اعثم، الفتوح، ج3، ص60؛ ضبی، أخبار الوافدات، 1403ھ، ص67-70؛ ابن‌طیفور، بلاغات النساء، قم، ص47-49؛ ابن‌عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق،1415ھ، ج42، ص587؛ حسون، أعلام النساء المؤمنات، 1421ھ، ص520۔
  26. ملک‌لو، «سودہ ہمدانی»، 1397ہجری شمسی،‌ ص108۔
  27. نمازی شاہرودی، مستدرکات علم رجال الحدیث، 1414ھ، ج8، ص582۔
  28. محلاتی، ریاحین الشریعۃ، تہران، ج4، ص354؛ غروی نایینی، محدثات شیعہ، 1375ہجری شمسی، ص220۔

مآخذ

  • آیینہ‌وند، صادق، ادبیات سیاسی تشیع، تہران، نشر علم، 1387ہجری شمسی۔
  • ابن‌اعثم کوفی، احمد، کتاب الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، 1411ھ۔
  • ابن‌طیفور، محمد بن ابی‌طاہر، بلاغات النساء، قم، الشریف الرضی، بی‌تا۔
  • ابن‌عبد ربہ، احمد بن محمد، العقد الفرید، تحقیق عبدالمجید ترحینی، مفید محمد قمیحہ۔ بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 1407ھ۔
  • ابن‌عساکر، علی بن حسن، تاریخ مدینۃ دمشق و ذکر فضلہا و تسمیۃ من حلہا من الأماثل أو اجتاز بنواحیہا من واردیہا و أہلہا، بیروت، دارالفکر، 1415ھ۔
  • ارفع، فاطمہ السادات، «حامیان ولایت؛ رثاء بانوان شیعہ در حمایت از ولایت»، مجلہ بانوان شیعہ، شمارہ 3۔
  • امین، سید محسن، أعیان الشیعۃ، بیروت، دارالتعارف للمطبوعات، 1403ھ۔
  • امینی، محمدہادی، أصحاب أمیرالمؤمنین علیہ‌السلام و الرواۃ عنہ، بیروت، دارالغدیر، 1412ھ۔
  • حسون، محمد، أعلام النساء المؤمنات، تہران، اسوہ، چاپ دوم، 1421ھ۔
  • شبستری، عبدالحسین، التبیین فی أصحاب الإمام أمیر المؤمنین علیہ‌السلام و الرواۃ عنہ، قم، المکتبۃ التاریخیۃ المختصۃ، 1430ھ۔
  • شوشتری، محمدتقی، قاموس الرجال، قم، جماعۃ المدرسین فی الحوزۃ العلمیۃ بقم، مؤسسۃ النشر الإسلامی، چاپ دوم، 1410ھ۔
  • ضبی، عباس بن بکار، أخبار الوافدات من النساء علی معاویۃ بن أبی سفیان، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، 1403ھ۔
  • غروی نایینی، نہلہ، محدثات شیعہ، تہران، دانشگاہ تربیت مدرس، 1375ہجری شمسی۔
  • قمی، حسن بن محمد، تاریخ قم، تحقیق محمدرضا انصاری قمی، قم، کتابخانہ آیت‌اللہ مرعشی، 1385ہجری شمسی۔
  • محلاتی، ذبیح اللہ، ریاحین الشریعۃ در ترجمہ دانشمندان بانوان شیعہ، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، بی‌تا۔
  • مرکز مدیریت حوزہ‌ہای علمیہ خواہران، معاونت پژوہہجری شمسی، بانوان عالمہ و آثار آنہا، قم، حوزہ علمیہ قم، مرکز مدیریت حوزہ‌ہای علمیہ خواہران، 1379ہجری شمسی۔
  • ملک‌لو، صدیقہ، «سودہ ہمدانی»، دانشنامہ جہان اسلام، ج25، تہران، 1397ہجری شمسی۔
  • نمازی شاہرودی، علی، مستدرکات علم رجال الحدیث، تہران، فرزند مولف، 1414ھ۔