عبداللہ بن ابی حصین ازدی بجلی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبدالله بن اَبی حُصَین اَزدی
ذاتی کوائف
نام عبدالله بن اَبی حُصَین اَزدی بَجَلی
تاریخ/جائے پیدائش کوفہ
نسب/قبیلہ بجلیہ
کیفیت وفات پیاس کی بیماری
واقعہ کربلا میں کردار
دیگر فعالیتیں عمر بن سعد کی لشکر کا سپاہی اور عمرو بن حجاج کے ماتحت فوجیوں میں سے ایک


عبداللہ بن اَبی‌ حُصَین اَزدی بَجَلی واقعہ کربلا میں عمر بن سعد کے لشکر میں عمرو بن حجاج کے ماتحت افراد میں سے اور امام حسینؑ پر پانی بند کرنے پر مامور دستہ میں شامل تھا۔ کہا گیا ہے کہ امام حسینؑ نے اس پر نفرین کیا ہے۔

نام و نسب

عبداللہ بن ابی‌ حصین کو بجلیہ قبیلے میں سے قرار دیا گیا ہے۔[1] مآخذ میں اسے عبداللہ بن حصین[2] سے یاد کیا ہے۔ نیز عبداللہ بن حصن ازدی[3] بھی ذکر ہوا ہے۔

ابن سعد کے لشکر میں شرکت

عبداللہ بن ابی‌ حصین، واقعہ کربلا میں عمر بن سعد کی فوج میں شامل تھا اور عمرو بن حجاج کے ماتحت سپاہیوں میں سے ایک تھا جو امام حسینؑ اور ان کے اصحاب پر پانی بند کرنے پر مامور تھے۔ سات محرم الحرام کو عبیداللہ بن زیاد نے ایک خط کے ذریعے عمر بن سعد کو حکم دیا کہ امام حسینؑ اور پانی کے درمیان حائل ہو جائے۔ عمر سعد نے عمرو بن حجاج کو امام حسینؑ اور ان کے اصحاب کی شریعہ فرات تک رسائی سے مانع بننے کا حکم دیا۔ مآخذ کے مطابق، عبداللہ بن ابی حصین ازدی نے امام حسینؑ سے کہا:

«کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ پانی آسمان کے قلب کی مانند ہے! خدا کی قسم تم ایک گونٹ بھی نہیں پی سکو گے یہاں تک کہ پیاسا مرجاؤ گے۔»

امام حسینؑ نے فرمایا: « خدایا! اسے پیاسا مار دے اور کبھی اسے معاف نہ کریں۔»[4] حمید بن مسلم ازدی کی روایت کے مطابق، وہ واقعہ کربلا کے بعد بیمار ہوا اور جتنا بھی پانی پیتا تھا اس کی پیاس نہیں بجھتی تھی اور اسی حالت میں دنیا سے چلا گیا۔[5]

حوالہ جات

  1. ابن اثیر، الکامل، ۱۳۸۵ق، ج۳، ص۲۸۱، ۳۰۳، ج۴، ص۵۳؛ ابن اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۵، ص۴۱۲.
  2. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۱۸۱؛ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۸۷؛ ابن نما، مثیرالاحزان، ۱۴۰۶ق، ص۷۱؛ قمی، نفس المہموم، المکتبۃ الحیدریۃ، ص۳۰۱؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۴ق، ج۴۴، ص۳۸۹؛ طبرسی، اعلام الوری، دار الکتب الإسلامیۃ، ص۳۲۵
  3. ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، ۱۴۱۸ق، ص۲۲۳.
  4. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۱۲؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۱۸۱؛ ابن اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۵، ص۴۱۲.
  5. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۱۲؛ ابن اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۵، ص۴۱۲؛ ابن اثیر، الکامل، ۱۳۸۵ق، ج۴، ص۵۳-۵۴.


مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، بیروت، دار صادر، ۱۳۸۵ھ/۱۹۶۵ء۔
  • ابن اعثم کوفی، احمد، الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دار الأضواء، ۱۴۱۱ھ/۱۹۹۱ء۔
  • ابن جوزی، یوسف، تذکرۃ الخواص، قم، منشورات الشریف الرضی، ۱۴۱۸ھ۔
  • ابن نما حلی، جعفر بن محمد، مثیر الأحزان، قم، انتشارات مدرسہ امام مہدی (عج)، ۱۴۰۶ھ۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب‌ الأشراف، تحقیق محمد باقر المحمودی، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، ۱۹۷۷ء/۱۳۹۷ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد أبوالفضل ابراہیم، بیروت، دار التراث، ۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷ء۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الوری،‌ تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، بی‌تا.
  • قمی، عباس، نفس المہموم فی مصیبۃ سیدنا الحسین المظلوم و یلیہ نفثۃ المصدور فیما یتجدد بہ حزن العاشور، نجف، المکتبۃ الحیدریۃ، بی‌تا.
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار، بیروت، مؤسسۃ الوفاء، ۱۴۰۴ھ۔
  • مفید، محمد بن محمد، الإرشاد، قم، انتشارات کنگرہ جہانی شیخ مفید، ۱۴۱۳ھ۔