حکیم بن طفیل طائی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ذاتی کوائف
نسب/قبیلہ قبیلہ طے
مشہوراقارب عدی بن حاتم طائی
وفات (66ھ/868ء) کوفہ
کیفیت وفات قیام مختار کے بعد عبد اللہ بن کامل اور ان کے ساتھیوں کی تیراندازی کا نشانہ بنا
واقعہ کربلا میں کردار
اقدامات امام حسینؑ کو تیر مارنا • امام حسینؑ کے بدن پر گھوڑا دوڑانا • حضرت عباسؑ کا ہاتھ کاٹنا • عباس بن علیؑ کو شہید کرنا
نمایاں کردار عمر بن سعد کا سپاہی


حکیم بن طفیل طائی سنبِسی (66ھ-868ء) عمر بن سعد کے لشکر میں شامل تھا اور کربلا میں حضرت عباسؑ کے قاتلین میں سے تھا۔ اس نے عاشور کے دن امام حسینؑ کو ایک تیر بھی مارا اور ان لوگوں میں سے تھا کہ جنہوں نے حضرتؑ کے بدن کو گھوڑوں سے پامال کیا۔ قیام مختار کے بعد اسے مختار کے سپاہیوں نے گرفتار کیا اور عبد اللہ بن کامل اور ان کے ساتھیوں نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

سلسلہ نسب اور حالات زندگی

حکیم بن طفیل کا تعلق قبیلہ طے کی شاخ عدی بن حاتم طائی سے تھا۔ اسی لیے جب مختار کے ساتھیوں نے اسے گرفتار کیا تو عدی سے کہا گیا کہ مختار کے پاس جا کر اس کی سفارش کرے۔ [1] اس کی تاریخ ولادت اور حالات زندگی کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ اسے 66ھ میں قیام مختار کے دوران قتل کیا گیا۔ [2]

واقعہ کربلا

حکیم بن طفیل عاشور کے دن عمر بن سعد کے لشکر میں تھا۔ حضرت عباسؑ کی نہر فرات سے واپسی کے دوران اس نے کھجوروں کے درخت کی اوٹ میں چھپ کر حملہ کیا اور حضرتؑ کا بایاں بازو قطع کر دیا۔[3] آپؑ کی شہادت کے بعد اس نے آپؑ کا لباس اور اسلحہ لوٹ لیا۔[4] شیخ طوسی [5] اور علامہ حلی [6] نے حکیم بن طفیل کو عباس بن علیؑ کا قاتل قرار دیا ہے۔ زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر اور یزید بن رقاد پر حضرت عباسؑ کا قاتل ہونے کے عنوان سے لعنت کی گئی ہے۔ [7] اس نے عاشور کے دن امام حسینؑ کو تیر کے نشانے پر بھی لیا تھا۔ حکیم کا دعویٰ تھا کہ یہ تیر امام کے بدن کو نہیں لگا صرف لباس کو چھو سکا تھا۔ [8] حکیم بن طفیل ان دس سواروں میں سے ایک تھا کہ جنہوں نے عصر عاشور ابن سعد کے حکم پر امام حسینؑ کے بدن پر گھوڑے دوڑائے اور حضرتؑ کے سینے اور پشت کی ہڈیوں کو کچل ڈالا تھا۔[9] وہ اور دیگر افراد جنہوں نے امامؑ کے بدن پر گھوڑے دوڑائے تھے؛ واقعہ کربلا کے بعد ابن زیاد کے پاس گئے اور معمولی انعام دریافت کیا۔[10] ابو عمرو زاہد سے منقول ہے کہ یہ دس کے دس افراد زنا زادے تھے۔[11]

موت

سنہ 66ھ میں مختار کے حکم پر عبد اللہ بن کامل اور اس کے ساتھیوں نے حکیم بن طفیل کو گرفتار کیا۔ اس کے خاندان والوں نے عدی بن حاتم سے درخواست کی کہ مختار کے پاس اس کی سفارش کریں۔ ابن کامل اور اس کے ساتھیوں نے اس خوف سے کہ مبادا مختار اس کی سفارش قبول کر لے؛ پہلے اسے حضرت عباسؑ کا لباس لوٹنے کے جرم میں برہنہ کیا پھر امام حسینؑ کو تیر مارنے کے جرم میں اس پر تیروں کی بوچھار شروع کر دی یہاں تک کہ اس کے بدن پر درہم بھر جگہ بھی سلامت نہ رہی۔[12]

حوالہ جات

  1. بلاذری، انساب‌الاشراف، ج6، ص407۔
  2. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج6، ص63۔
  3. ابن شهر آشوب، مناقب، ج4، ص108۔
  4. بلاذری، انساب‌الاشراف، ج3، ص201۔
  5. طوسی، رجال، ص102۔
  6. علامہ حلی، رجال، ص118۔
  7. ابن مشهدی، المزار، ص487۔
  8. بلاذری، انساب الاشراف، ج6، ص407؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج6، ص63۔
  9. ابن شهر آشوب، المناقب، ج4، ص111۔
  10. مقرم، مقتل الحسین، ص317؛ ابن نما، مثیرالاحزان، ص78؛ مجلسی، بحارالانوار، ج45، ص59-60؛ سید بن طاووس، اللهوف، ص135؛ قمی، نفس المهموم، ص347۔
  11. سید بن طاؤوس، اللهوف، ص136؛ مجلسی، بحار الانوار، ج45، ص60؛ قمی، نفس المهموم، ص348۔
  12. بلاذری، انساب‌الاشراف، ج6، ص407۔


مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن ابی کرم، الکامل فی التاریخ، بیروت، دار صادر، 1385ھ/1965ء۔
  • ابن شہرآشوب مازندرانی، مناقب آل أبی طالبؑ، قم، انتشارات علامہ، 1379ھ۔
  • ابن نما حلی، مثیر الأحزان، قم، انتشارات مدرسہ امام مہدیؑ، 1406ھ۔
  • ابن مشہدی، محمد بن جعفر، المزار الکبیر، تحقیق: جواد قیومی اصفہانی، قم، مؤسسہ نشر اسلامی، 1419ھ۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، کتاب جمل من انساب‌الأشراف، تحقیق: سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت، دار الفکر، 1417ھ/1996ء۔
  • سید بن طاووس، علی بن موسی، اللہوف علی قتلی الطفوف، تہران، جہان، 1348 شمسی۔
  • علامہ حلی، رجال، قم، دار الذخائر، 1411ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق: محمد أبوالفضل ابراہیم، بیروت، دار التراث، 1387ھ/1967ء۔
  • طوسی، رجال الشیخ الطوسی، انتشارات اسلامی جامعہ مدرسین، 1415ھ۔
  • قمی، شیخ عباس، نفس المہموم، نجف، المکتبۃ الحیدریہ، 1421ھ۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار، تہران، اسلامیۃ، 1363 شمسی۔
  • مقرم، عبد الرزاق، مقتل الحسین علیہ‌السلام، بیروت، مؤسسۃ الخرسان للمطبوعات، 1426ھ/2007ء۔