صالح بن وہب

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

صالح بن وہب عمر بن سعد کے لشکریوں میں سے تھا جس کا نام امام حسین ؑ کو شہید کرنے والے افراد کی فہرست میں لیا جاتا ہے۔ یہ ان دس (10) افراد میں سے ہے جنہوں نے امام حسین ؑ کے جسد مبارک کو انکی شہادت کے بعد اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کیا ۔آخر کار مختار ثقفی کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا۔

نام

کتابوں میں صالح بن وہب کا نام صالح بن وہب یزنی[1]، صالح بن وہب مزنی[2]،صالح بن وہب جعفی[3] یا صالح بن وہب مری[4] ذکر ہوا ہے۔

دس محرم

61 ہجری کی دس (10) محرم کو یہ شخص کربلا میں عمر بن سعد کی فوج میں شامل تھا۔ یہ شمر بن ذی الجوشن کے دستے کے ہمراہ امام حسین ؑ کی جانب بڑھے۔ شمر ان لوگوں کو امام حسین ؑ کو شہید کرنے پر اکسا رہا تھا[5] ۔صالح بن وہب نے امام حسین ؑ کے پہلو میں نیزے سے وار کیا[6] جس کے نتیجے میں حضرت امام حسین ؑ (سواری پر سنبھل نہ سکے اور) دائیں پہلو کے بل سورای سے زمین پر گر پڑے۔ [7]۔

صالح بن وہب ان دس افراد میں سے ہے جنہوں نے عمر بن سعد کے حکم پر اپنے گھوڑے آپ کے جسم اطہر پر دوڑائے[8] ۔ جن افراد نے آپ کے جسد مبارک کو پامال کیا وہ واقعہ عاشورا کے بعد ابن زیاد کے پاس گئے اور انہوں نے اس کے بدلے میں ابن زیاد سے انعام حاصل کیا[9]۔ ابو عمر سے نقل ہے وہ تمام دس افراد جنہوں نے اپنے گھوڑے حضرت امام حسین ؑکے جسم اطہر پر دوڑائے وہ تمام زنا زادے تھے۔

انجام

66 ہجری میں مختار ثقفی کے حکم پر حضرت امام حسین ؑ کے قاتلوں سے بدلہ لیتے ہوئے صالح بن وہب سمیت آپ کے جسم اطہر کو پامال کرنے والوں کے جسموں کو لوہے کی کیلوں سے زمین میں گاڑ کر ان پر گھوڑوں کو دوڑایا گیا یہانتک کہ وہ مر گئے[10] ۔

حوالہ جات

  1. بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۲۰۲؛ ابن اثیر، الکامل، ج۴، ص۷۷
  2. سماوی، ابصارالعین، ص۳۷؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۴۵، ص۵۴
  3. قمی، نفس المہموم، ص۳۴۷؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۴۵، ص۵۹؛ سید بن طاووس، اللہوف، ص۱۳۶
  4. سید بن طاووس، اللہوف، ص۱۲۴
  5. بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۲۰۲؛ طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۵۰؛ ابن اثیر، الکامل، ج۴، ص۷۷؛ ابو مخنف، وقعۃ الطف، ص۲۵۰.
  6. ابن اعثم، الفتوح، ج۵، ص۱۱۸.
  7. سماوی، ابصار العین، ص۳۷؛ قمی، نفس المہموم، ص۲۳۰؛ مجلسی، بحار الانوار، ج۴۵، ص۵۴؛ سید بن طاووس، اللہوف، ص۱۲۴.
  8. مجلسی، ج۴۵، ص۵۹-۶۰؛ قمی، ص۳۴۷-۳۴۸؛ مقرم، ص۳۱۷؛ لہوف، ص۱۳۵-۱۳۶
  9. مقرم، مقتل الحسین، ص۳۱۷؛ ابن نما، مثیر الاحزان، ص۷۸؛ مجلسی، بحار الانوار، ج۴۵، ص۵۹-۶۰؛ سید بن طاووس، اللہوف، ص۱۳۶-۱۳۵؛ قمی، نفس المہموم، ص۳۴۷؛ ابن نما، مثیر الاحزان، ص۷۸
  10. سید بن طاووس، اللہوف، ص۱۳۶؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۴۵، ص۶۰؛ قمی، نفس المہموم، ص۳۴۸


مآخذ

  • ابو مخنف کوفی، لوط بن یحیی، وقعۃ الطف، جامعہ مدرسین، قم، ۱۴۱۷ق.
  • ابن اعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، تحقیق: علی شیری، دار الأضواء، بیروت، ۱۴۱۱ق/۱۹۹۱ ع
  • ابن نما حلی، مثیر الأحزان، انتشارات مدرسہ امام مہدی (عج)، قم، ۱۴۰۶ق.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب‌ الأشراف (ج۳)، تحقیق: محمد باقر محمودی، دار التعارف للمطبوعات، بیروت، ۱۹۷۷ق/۱۳۹۷ ع
  • سید بن طاووس، اللہوف علی قتلی الطفوف، جہان، تہران، ۱۳۴۸ش.
  • سماوی، محمد بن طاہر، إبصار العین فی أنصار الحسین علیہ السلام، دانشگاه شہید محلاتی، قم، ۱۴۱۹ق.
  • قمی، شیخ عباس، نفس المہموم، المکتبہ الحیدریہ، نجف، ۱۴۲۱ ق
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار، اسلامیہ، تہران، ۱۳۶۳ش.
  • مقرم، عبد الرزاق، مقتل الحسین علیہ السلام، مؤسسہ الخرسان للمطبوعات، بیروت، ۱۴۲۶ق/۲۰۰۷ ع