مقتل نگاری

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مقتل

مقتل نگاری سے مراد کسی شخص، گروہ یا جماعت کے قتل ہونے کی تفصیلات اور جزئیات ذکر کرنا ہے۔ جس میں متعلقہ عنوان کے بارے میں منقولہ اخبار و روایات مذکور ہوتی ہیں ۔ بزرگ تہرانی نے 60 کے قریب اس عنوان سے لکھی گئی کتابوں کی فہرست بیان کی ہے۔ان میں سے اکثر حضرت امام حسین ؑسے متعلق ہیں ۔

لغوی اور اصطلاحی معنا

لغوی اعتبار سے مقتل قتل کے مادے سے مَفعل کے وزن پر اسم مکان ہے جس کا معنی قتل کی جگہ ہے۔ اصطلاحی لحاظ سے اسم مکان سے لیا گیا ہے اور یہ ایک طرح سے تاریخ نگاری کا ایک مخصوص حصہ ہے جو کسی شخص، جماعت یا گروہ کے قتل کی تفصیلات اور جزئیات کو بیان کرتا ہے ۔

تقسیمات

اس عنوان سے لکھی جانے والی کتب کی اگر تقسیم بندی کرنا چاہیں تو ایک تقسیم زمانے کے لحاظ سے کی جا سکتی ہے ۔ ایک تقسیم اس لحاظ سے بھی قابل تصور ہے کہ اس عنوان سے لکھی گئی کتابوں کو مفقود یا موجود ہونے کے لحاظ سے تقسیم کریں جیسا کہ تراجم نگاری میں علماء کتابوں کے اسماء ذکر کرتے ہیں ان میں سے کئی ایسی کتابیں ہوتی ہیں جن کا تذکرہ صرف ذکر کی حد تک ہوتا ہے یا تصنیف ہوئیں لیکن زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ کتابیں ناپید ہو گئیں یا نا مساعد حالات کی وجوہ سے ہم تک نہ پہنچیں ۔

اسی طرح اس عنوان کو مستقل اور غیر مستقل عنوان سے بھی بیان کیا جاتا ہے ۔ مستقل سے مراد ایس کتاب جو مخصوص اسی عنوان سے لکھی گئی ہو اور غیر مستقل میں وہ کتابیں شامل ہیں جو کسی اور عنوان کے تحت لکھی گئیں لیکن اس میں ایک حصہ مقتل یا واقعہ کربلا کے حوالے سے ذکر ہوا جیسا کہ عام طور پر تاریخ نگاری میں ہوتا ہے یا مقتل کی اخبار و روایات پراگندہ طور پر ذکر ہوتی ہیں جیسے تراجم و رجال کے عنوان سے لکھی گئی کتاب میں اسماء کے ذیل میں مقتل کی روایات مذکور ہوتی ہیں ۔نیز اسے معتبر اور غیر معتبر مقتل کے لحاظ سے بھی تقسیم کیا جاتا ہے ۔ان تقسیمات کے باوجود قدیمی اور اصیل مصادر اور ماخذ زیادہ اہمیت کے حامل ہیں چاہیں وہ مستقل طور پر اس عنوان سے متعلق ہوں یا کسی دوسرے عناوین سے لکھے گئے ہوں۔

مفقود مستقل مقتل

اس قسم میں وہ کتابیں شامل ہیں جنہیں مقتل امام حسین کے عنوان سے تالیف کیا گیا ۔ اب ہمارے پاس موجود نہیں ہیں۔ان کا تذکرہ صرف تراجم یا فہرست نویسی کی کتب تک محدود ہے یا کتابیں خود موجود نہیں لیکن ان کی روایات مختلف کتب تاریخ و حدیث وغیرہ میں موجود ہیں ۔جیسے مقتل ابی مخنف ، یا مقتل ہشام بن سائب کلبی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

  1. مقتل الحسین :اصبغ ابن نباتہ مجاشعی حنظلی کوفی کا ہے ۔یہ حضرت امام علی کے اصحاب میں سے تھے ۔ان کا سن وفات ایک قول کی بنا پر 64 ہجری قمری اور دوسرے قول کی بنا پر پہلی صدی کے بعد ہوا۔ [1]قابل توجہ نقطہ یہ ہے کہ اسکی روایات اس صحابی سے بلا واسطہ منقول نہیں بلکہ قاسم بن اصبغ بن نباتہ کے توسط سے سبط ابن جوزی شیخ صدوق، ابو الفرج اصفہانی اور طبری نے نقل کی ہیں ۔
  2. قتل الحسین : ابو مخنف لوط بن یحیی اُزدی غامدی ۔ نجاشی نے اسے کوفے کے نامور مؤرخین میں سے لکھا ہے اور کہا: یہ حضرت امام جعفر صادق ؑ سے روایت نقل کرتا ہے ۔[2] .

محمد بن عمر واقدی (م 207) نے الطبقات الکبریٰ ، محمد بن جریر طبری (م 310) نے تاریخ طبری، ابن قتیبہ (م 322) نے الامامۃ و السیاسۃ، ابن عبدربہ (م 328) نے العقد الفرید،‌ علی بن حسین مسعودی (م 345) نے اپنی تاریخ ، ‌شیخ مفید (م 413)نے الارشاد اس کی روایات نقل کی ہیں ۔ خوارزمی (م 568) کی مقتل الحسین ، ابن عساکر (م 571) نے تاریخ دمشق، ابن اثیر (630) نے الکامل، سبط ابن جوزی (م 654) نے تذکرة الخواص و ابوالفداء (م 732) نے بھی اس سے نقل کیا ہے ۔[3]

  1. مقتل الحسین : عمار ابن اسحاق دہنی۔ متوفائے 133 ہجری ۔اگرچہ کسی نے اس شخص کی نسبت کسی ایسی کتاب کا نام ذکر نہیں کیا لیکن طبری نے اپنی تاریخ میں 61 ہجری کے ذیل میں اس سے کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔[4]
  2. مقتل ابی عبد اللہ :جابر بن یزید جعفی۔ حضرت امام محمد باقر اور حضرت امام جعفر صادق کے اصحاب میں سے ہے اور اس کا سن وفات 128 ہجری ہے ۔[5]
  3. المراثی:جعفر بن عفان طائی۔مرثیہ گو اور مدحت سرا تھا ۔ اس نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں اپنے مرثیہ کے اشعار پڑھے تھے[6] ۔ کہتے ہیں اسکی کتاب المراثی 200 صفحات پر تھی ۔امام حسین علیہ السلام کے متعلق اشعار کاتذکرہ تو شاہرودی نمازی نے کیا ہے لیکن اس میں مقتل کی روایات کا مذکور ہونا معلوم نہیں ہے ۔
  4. مقتل الحسین : ہشام بن سائب کلبی.[7] سن وفات 206 ہجری قمری ہے ۔
  5. مقتل ابی عبد اللہ :ابو عبیدہ معمر بن مثنیٰ تمیمی۔
  6. مقتل ابی عبد اللہ الحسین:ابو عبد اللہ محمد بن عمر واقدی مدنی متوفائے 207 ہے جو کتاب المغازی کا بھی مصنف ہے ۔
  7. مقتل الحسین :نصر بن مزاحم منقری۔وقعۃ صفین کا مؤلف سن وفات 212 ہجری ۔[8]
  8. مراثی الحسین :ابو عبد اللہ محمد بن زیادمعروف ابن اعرابی متوفی 230۔ بزرگ تہرانی نے اس کے خطی نسخے کا نام ذریعہ میں ذکر کیا ہے ۔[9]
  9. مقتل الحسین بن علی :ابو اسحاق ابراہیم بن اسحاق احمری نہاوندی( 269 میں زندہ تھا)
  10. مقتل الحسین :عبد اللہ بن احمد بن ابی دنیا اموی ۔ علمائے اہل سنت میں سے ہے۔281 میں فوت ہوا ۔[10]
  11. مقتل الحسین :ابو الفضل سلمہ بن خطاب براوستانی ۔تیسری صدی کے علماء میں سے ہے ۔ابن شہر آشوب نے اسی نام سے اور نجاشی نے مولد نے "مولد حسین بن علی و مقتلہ" کے نام سے ذکر کیا ہے ۔[11]
  12. مقتل ابی عبد اللہ الحسین : ابن واضح،احمد بن اسحاق یعقوبی ۔ تارخ یعقوبی کا مصنف ہے ۔292 یا 284 میں فوت ہوا ۔
  13. ....[12]

موجود مستقل مقتل

محرم کی عزاداری
تابلوی عصر عاشورا.jpg
واقعات
کوفیوں کے خطوط امام حسینؑ کے نام • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا
شخصیات
امام حسینؑ
علی اکبر  • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے واقعہ کربلا •
مقامات
حرم حسینی • حرم حضرت عباسؑ • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ
مواقع
تاسوعا • عاشورا • اربعین
مراسمات
زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ  • نوحہ • تباکی  • تعزیہ • مجلس • زنجیرزنی • ماتم داری  • عَلَم  • سبیل  • جلوس عزا  • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس


  1. تسمیه من قتل مع الحسین عليه‌السلام‌ من‌ ولده‌ و اءخوته‌ و اهل‌ بيته‌ و شيعته‌: فضیل بن زبیر بن عمر کوفی اسدی ۔ یہ حضرت امام محمد باقر و امام صادق ؑ کے اصحاب میں تھا ۔اخیرا سید محمد رضا جلالی کی تحقیق سے مجلہ تراثنا سال اول شمارۂ دوم میں چاپ ہوا۔
  2. ترجمہ الامام الحسین و مقتلہ من القسم غیر المطبوع من کتاب الطبقات الکبری لابن سعد : تحقیق عبد العزیز طباطبائی یزدی

الطبقات الکبری کے نام سے محمد بن سعد نے ایک کتاب لکھی۔یہ کتاب علمائے اہل سنت کے مشہور عالم کی تصنیف ہے اور اس کی یہ کتاب اہل سنت کے رجال کے قدیمی اور اصلی منابع میں سے سمجھی جاتی ہے ۔ اس کا مؤلف 230 ہ میں فوت ہوا ۔حضرت امام حسین علیہ السلام سے متعلق اس کتاب کا حصہ پہلے موجود نہیں تھا جو بعد میں محقق مذکور نے چاپ کیا ۔

  1. الحسین والسنه: سید عبد العزیز طباطبائی کی ہے جو کتاب الفضائل ، ابو عبد اللہ احمد بن حنبل شیبانی ،انساب الاشراف بلاذری اور معجم الکبیر طبرانی سے اخذ شدہ ہے ۔ اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ پہلی صدی میں واقعہ کربلا کی منقول روایات ذکر ہوئی ہیں ۔
  2. استشہاد الحسین :محمد بن جریر طبری (متوفا 310 ہجری) کی ہے اور یہ کتاب تاریخ طبری سے اخذ شدہ ہے ۔
  3. قیام امام حسین : یہ کتاب تاریخ اعثم کوفی سے لی گئی ہے ۔
  4. مقتل الحسین : سلیمان بن احمد طبرانی(360)۔
  5. شرح الاخبار الجزء الثالث عشر فی من قتل مع الحسین من اہل بیتہ : قاضی نعمان بن محمد بن منصور(365)۔
  6. کامل الزیارات : ابو القاسم جعفر بن محمد قمی معروف ابن قولویہ(367ہ ق)۔ یہ کتاب گاہی الزیارات اور کبھی جامع الزیارات کے نام سے جانی جاتی ہے ۔یہ کتاب 80 ابواب سے زیادہ پر مشتمل ہے جو حضرت امام حسین علیہ سے متعلق ہیں ۔
  7. مقتل الحسین بہ روایت شیخ صدوق(381ہ ق ): اس میں 200 کے قریب روایات حضرت امام حسین اور واقعہ کربلا سے متعلق مذکور ہیں ۔ اس کی جمع آوری کا کام محمد صحتی سردرودی نے کیا ہے ۔
  8. فضل زیاره الحسین: محمد بن علی بن حسن علوی شجری(445)۔ اس میں 90 سے زیادہ روایات فضیلت زیارت آنحضرتؑ ثواب گریہ کردن و غیرہآئمہ طاہرین سے مذکور ہیں۔
  9. مقتل الحسین : ضیاء الدین ابو المؤید حنفی(558)اخطب خوارزم یا خطیب خوارزمی کے نام سے مشہور ہے ۔
  10. ترجمہ ریحانة رسول اللہ الامام حسین:تاریخ دمشق کے مصنف ابو القاسم علی بن حسن شافعی کی تالیف ہے جس کی تحقیق باقر محمودی نے کی ہے ۔اس میں 401 کے قریب روایات منقول ہیں تکراری روایات حذف کر دی جائیں تو 250 روایات باقی بچتی ہیں۔جن میں سے صرف 10 روایات آپ کی شہادت اور لشکر ابن سعد کی کیفیت کو بیان کرتی ہیں ۔ 10 روایتیں لشکر یزید کے حالات کو بیان کرتی ہیں ۔20 روایاتیں حضرت رسولخدا اور حضرت علی سے آپ کی شہادت کے بارے میں ہیں ۔50 روایات ان امور عجیبہ کے بارے میں ہیں جو روز عاشورا یا اس کے بعد رونما ہوئے ۔[13]
  11. مثیر الاحزان: ابن نما حلی (645 یا 680 ہ ق)۔
  12. درر السمط فی خبر السبط: ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ قضاعی(658)معرف بنام ابن الابار۔
  13. ترجمۃ الامام الحسین من کتاب بغیۃ الطلب فی تاریخ حلب:کمال الدین عمر احمد بن ابی جرادہ حلبی (660 ہ ق)۔یہ کتاب تاریخ اخذ شدہ ہے جس میں 248 روایات واقعہ کربلا کے متعلق موجود ہیں ۔
  14. الملہوف علی قتلی الطفوف: رضی الدین ابو القاسم علی بن موسی بن جعفر معروف بنام سید ابن طاؤس نامور شیعہ عالم دین کی تالیف ہے ۔اکثر اس کتاب کو الملہوف کی بجائے اللہوف سے یاد کیا جاتا ہے ۔مقتل کی کتب میں سے اس کتاب کو بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی ہے ۔اس کے چند ترجمے فارسی میں ہوئے ہیں اور اردو زبان میں اس کا ترجمہ موجود ہے ۔
  15. استشہاد الحسین رضی اللہ  : حافظ ابن کثیر دمشقی(774)۔یہ کتاب حقیقت میں تاریخ البدایۃ و النہایۃ سے اخذ شدہ ہے۔ اس کے ہمراہ ابن تیمیہ کی کتاب راس الحسین بھی ہے اس کی بیشتر روایات تاریخ طبری سے متعارض ہیں ۔[14]
  16. عبرات المصطفین فی مقتل الحسین الماخوذ من اقدم المصادر التاریخیہ الاسلامیہ: باقر محمودی ۔ یہ کتاب قدیمی کتب تاریخ طبری ، انساب الاشراف بلاذری ،الطبقات الکبریٰ ابن سعد اور الاخبار الطوال دینوری کی روایات پر مشتمل ہے ۔
  17. ....[15]

غیر مستقل مقتل

واقعۂ کربلا تاریخ انسانیت کا ایک ایسا دلخراش اور غم انگیز واقعہ ہے کہ تاریخ نگاری اس واقعہ کے بغیر نا مکمل نظر آتی ہے ۔ لہذا تاریخ اسلام کے تمام متون ابتدائی قرون سے متعلق ہوں یا بعد کی صدیوں میں تالیف کئے گئے ہوں ان سب میں مؤلفین نے اسے ذکر کیا ہے اسی طرح رجال کی کتب میں جہاں حضرت امام حسین علیہ السلام کے گھرانے کا تذکرہ آیا وہاں اس واقعہ کو ذکر کیا گیا اسی طرح احادیث و انساب کی کتب بھی اس واقعے کے تذکرے سے خالی نہیں ہیں ۔پس اس اعتبار سے تاریخ اسلام کی تمام وہ کتب جن میں 61 ہجری قمری کے واقعات مذکور ہیں ان میں اس واقعے کا تذکرہ اجمال یا تفصیل کی صورت میں موجود ہے ۔بعض مؤلفین نے ان کتابوں کے اسماء کی فہرست ذکر کی ہے جو 71 کے لگ بھگ ہیں ۔[16]

ذیل میں آٹھویں صدی تک کی ان مشہور کتابوں کے اسما درج کئے جارے ہیں جن میں واقعہ کربلا کی تفصیلات مذکور ہیں :-

  1. طبقات الکبری، ابن سعد (متوفی 230)
  2. انساب الاشراف، بلاذری (متوفی 279)
  3. اخبار الطوال، دینوری (متوفی 283)
  4. تاریخ طبری (متوفی 310) یہ کتاب قیام حسینی کے متعلق اہم ترین منبع مانی جاتی ہے ۔
  5. الفتوح، ابن اعثم کوفی (متوفی حدود 314)
  6. مقاتل الطالبیین، ابوالفرج اصفہانی (متوفی 356)
  7. معجم‌الکبیر طبرانی (متوفی 360)
  8. شرح‌الاخبار، قاضی نعمان (متوفی 363)
  9. کامل‌الزیارات، ابن قولویہ (متوفی 368)
  10. امالی شیخ صدوق (متوفی 381)
  11. ارشاد، شیخ مفید (متوفی 413)
  12. روضۃ الواعظین، ابن فتال نیشاپوری (متوفی 508)
  13. اعلام الوری، طبرسی (متوفی 548)
  14. مقتل الحسین خوارزمی (متوفی 568)
  15. تاریخ مدینۂ دمشق، ابن عساکر (متوفی 571)
  16. مناقب ابن شہرآشوب (متوفی 588)
  17. الکامل فی التاریخ، ابن اثیر (متوفی 630)
  18. مثیر الأحزان، ابن نما (متوفی 645)
  19. تذکرة الخواص، سبط ابن جوزی (متوفی 653)
  20. الملہوف علی قتلی المطفوف (لہوف) سید ابن طاووس (متوفی 664)
  21. کشف الغمہ، اربلی (متوفی 692)
  22. سیر اعلام النبلاء، ذہبی (متوفی 748)

روش مقتل نگاری

واقعہ کربلا سے متعلق تحریر ہونے والی کتب کی طرز تالیف کا جائزہ لیا جائے تو انہیں حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے :

تاریخی

یہ ایسی کتابیں ہیں جن میں مؤلف واقعات تاریخی کو کسی تجزیہ و تحلیل کے بغیر صرف ایک تاریخی واقعے کی حیثیت سے نقل کرتا ہے ۔ البتہ ممکن ہے کہ تاریخ بیان کرتے ہوئے وہ اپنی اس خبر کی سند یا مستند وغیرہ کو ذکر کرے یا ممکن ہے کہ اسے وہ حذف کر دے ۔ اس طرز پر لکھی جانے والی کتابوں میں سے درج ذیل قابل ذکر ہیں:

  • مقتل ابی مخنف کہ جس کی روایات کا اکثر حصہ تاریخ طبری میں موجود ہے۔
  • اخبار الطوال تالیف ابو حنیفہ دینوری (متوفا 282)۔
  • تاريخ احمد بن ابي يعقوب معروف بنام تاريخ يعقوبی (متوفا 284)۔
  • محمد بن جرير طبري کی تاريخ طبری۔
  • مقاتل الطالبين تصنیف ابوالفرج اصفہانی (متوفا 357)۔
  • الارشاد شیخ مفید (متوفا 368)۔
  • اعلام الوری تصنیف امین الاسلام طبرسی (متوفا 548) وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے ۔

قصہ گوئی

یہ ایسی کتابیں ہیں جن میں واقعۂ کربلا کے واقعات کسی افسانے یا قصے کی صورت میں بیان ہوئے ہیں ۔تاریخ نگاری کے اس انداز میں لکھی جانے والی کتابوں میں سے چندایک یہ ہیں:

غیر معتبر مقتل

اس عنوان سے مراد ہے کہ مصنف واقعۂ کربلا کی جزئیات اور تفصیلات بیان کرتے ہوئے قدیمی اور معتبر مستندات کا لحاظ کئے بغیر کسی واقعے کو نقل کرتا ہے ۔اگر اس عنوان کے تحت واقعۂ کربلا سے متعلق کتب کا جائزہ لیا جائے تو بہت سی ایسی کتب کی فہرست ذکر کی جا سکتی ہے کہ جس میں اسی روش کے مطابق واقعۂ کربلا کو محفوظ کیا گیا ہے ۔عام طور پر محققین کی نگاہ میں چند ایک ایسی کتابیں ہیں جنہیں ابتدائی طور پر غیر معتبر مقتل کے عنوان سے جانا جاتا ہے :

  • جعلی مقتل ابی مخنف:

جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ ابو مخنف کا تحریر شدہ مقتل موجود نہیں ہے لیکن اس کی روایات مختلف کتابوں میں پراگندہ طور پر موجود ہیں ۔آخری دہائیوں میں مقتل ابی مخنف کے نام سے چھپا جس میں بہت سی ایسی روایات موجود ہیں جو قدیمی کتابوں میں ابی مخنف سے منقول روایات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی ہیں ۔لہذا اس بنا پر محقیقین اس چاپ شدہ مقتل کو جعلی مقتل ابی مخنف سے تعبیر کرتے ہیں ۔ظاہرا ہند وپاک میں اس جعلی چاپ شدہ مقتل کا اردو ترجمہ بھی ہوا ۔

اخیرا معاصرین میں سے حسن غفاری[17] اور محمد ہادی یوسفی غروی نے ابی مخنف کی روایات کی تحقیق کا کام کیا ان محققین کی کاوشیں کتابی صورت میں چاپ ہوئی ہیں ۔ آقا غروی نے اپنی اس تحقیقی کتاب:وقعۃ الطف، کے مقدمہ میں اس جعلی چاپ شدہ مقتل ابی مخنف کے بعض غیر معتبر مقامات کی نشاندہی کی ہے ۔ اب مجمع جہانی اہل البیت کی جانب سے وقعۃ الطف عربی میں چاپ ہوئی نیز اس کا دوسری زبانوں میں ترجمہ کیا جارہا ہے جن میں سے اردو زبان میں ترجمہ ہو کر یہ کتاب طباعت کے مراحل میں ہے .

محدث نوری ، میراز محمد ارباب ، حاج شیخ عباس قمی ، سید عبدالحسین شرف‌الدین ، سید حسن امین اور شہید قاضی طباطبائی ایسے محققین ہیں جنہوں نے اس کتاب کے غیر معتبر ہونے کی تصریح کی ہے ۔[18]

ابو اسحاق اسفرائینی سے منسوب 1263 ہ ق میں مصر سے چاپ ہوا ۔ احتمال دیا جاتا ہے کہ اس سے مراد ابراہیم بن محمد بن ابراہیم متوفی 417 یا 418 ہے ۔لیکن قدیمی ماخذوں میں کسی نے اس نام سے اس عالم دین کی کسی کتاب کا ذکر نہیں کیا ہے ۔متاخرین میں سے اسماعیل پاشا اور بزرگ تہرانی نے اسے ایک منسوب مقتل کے نام سے تعبیر کیا ہے جبکہ خود اسماعیل پاشا نے ایضاح المکنون میں اسے مؤلف کے نام کے بغیر ذکر کیا ہے ۔نیز عبد العزیز طباطبائی کے بقول یہ کتاب چوتھی صدی میں لکھی جانے والی کتابوں کے طرز تالیف سے مطابقت نہیں رکھتی ہے یعنی اسفرائینی کے تدریس و تالیف کے سالوں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی ہے[19]۔[20]

کمال الدین حسین بن علی واعظ کاشفی (910) نے قصہ گوئی کے انداز میں اس کتاب کو تالیف کیا ہے ۔مؤلف کے سنی یا شیعہ ہونے کا معلوم نہیں ہے ۔اس کتاب میں واقعات کو داستان کے پیرائے میں نثر کی صورت میں لکھا گیا ہے ۔واقعات مستند اور معتبر اور غیر معتبر کی تعیین کے بغیر مذکور ہونے کی وجہ سے اسے بھی غیر معتبر مقتل میں سے شمار کیا جاتا ہے ۔ شعرانی اور بحار الانوار کی جمع آوری میں علامہ مجلسی کے مددگار عالم دین میرزا عبدالله افندی نے اس کی اکثر بلکہ تمام روایات کو غیر معتبر کہا ہے نیز سید محسن امین عاملی نے بھی اس بات کی تائید کی ہے ، محدث نوری نے اسکے بعض واقعات کو بدون مستند کہا ہے ، شہید مطہری اور شہید قاضی طباطبائی نے بھی اسے غیر معتبر شمار کیا ہے ۔[21]

فخرالدین بن محمد علی بن احمد طریحی (م 1085) لغت کی کتاب "مجمع البحرین" کے مؤلف کی تالیف ہے ۔کتاب کے اکثر مطالب کسی مستند اور ماخذ کے بغیر مذکور ہیں ۔ المجالس الطریحیہ یا المجالس الفخریہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔محدث نوری منتخب طریحی کے اس مقتل کو معتبر اور غیر معتبر روایات کا مجموعہ کہتے ہیں ۔ میرزا محمد ارباب قمی بھی اسی کی تائید کرتے ہیں ۔

ملا مہدی نراقی (م 1209 ق) کی تالیف ہے اور اکثر روایات روضۃ الشہداء سے لی گئی ہیں اس وجہ سے اس کا بھی معتبر ہونا محل کلام ہے زیادہ تر عواطفی اور احساساتی طرز بیان سے کام لیا گیا ہے ۔چونکہ نراقی کا ماخذ "روضۃ الشهداء" ہے اور وہ ضعیف اور معتبر اخبار پر مشتمل ہے اس لئے اسے بھی روضۃ الشہدا کی فہرست میں شمار کیا جائے گا . میرزا محمد تنکابنی نے اس میں موجود بعض روایات کے بارے میں یقینی جھوٹے ہونے کا حکم لگایا ہے۔ شہید مطہری آقای نراقی کو ایک بزرگ فقیہ ماننے کے باوجود ان کی تالیف میں موجود روایات کو تسلیم نہیں کرتے ہیں ۔

آغا بن عابد دربندی شیروانی مشہور بنام فاضل دربندی (م 1285 یا 1286) کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں ضعیف اور قوی روایات کی موجودگی کی وجہ سے قابل اعتبار نہیں سمجھا جاتا ہے لہذا اسے معتبر مقتل میں شمار کرنا مشکل ہے ۔

اس کتاب کے مصنف کے بارے میں یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس مصنف کا خبر نقل کرنے کے متعلق یہ نکتہ نظر تھا کہ جب تک کسی خبر کے یقینی کذب اور جھوٹے ہونے کا یقین نہ ہو تو تاریخ و سیرت کے متعلق ایسی خبر اور روایت نقل کی جا سکتی ہے۔لیکن محققین اس نکتہ نظر کو قبول نہیں کرتے ہیں ۔

محدث نوری اس کتاب کے متعلق کہتے ہیں کہ.... حلہ سے ایک سید عرب روضہ خوان( ذاکر) تحریری صورت میں اپنے باپ کی میراثِ کہنہ کربلا میں میرے استاد(شیخ عبد الحسین تہرانی) کے پاس لایا تاکہ اس کے معتبر اور غیر معتبر سے آگاہ ہو سکے۔ اس تحریری مسودے کا اول و آخر نہیں تھا لیکن اس کے حاشیے پر لکھا تھا کہ یہ فلان کی تالیفات میں سے ہے اور جبل عامل کے علماء میں سے ایک عالم کا نام لکھا تھا جو محقق صاحب معالم کا شاگرد تھا۔ چونکہ تراجم کی کتب میں اس کے احوال موجود تھے ،مراجعہ کیا ۔علماء نے اس عالم کی تالیفات میں مقتل کے نام سے کسی کتاب کا ذکر ہی نہیں کیا اور جب خود انہوں نے ان اجزا کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ کثرت سے اکاذیب واضحہ اور اخبار واہیہ پر مشتمل ہونے کی وجہ احتمال نہیں دیا جا سکتا کہ یہ اس عالم کی تالیفات میں سے ہو ۔"

پس آپ نے جس سید کے ہاتھ میں یہ اجزا موجود تھے اسے ان اجزا سے نقل کرنے اور انہیں نشر کرنے سے منع فرمایا ۔چند روز بعد کسی مناسبت سے مرحوم فاضل دربندی آقا اخوند اس سے مطلع ہو گئے ۔انہوں نے وہ اجزا اس سید سے لے لئے۔ وہ ان دنوں میں اسرار الشہادۃ کی تالیف میں مشغول تھے ۔انہوں نے ان اجزا کی روایات کو اسرار الشہادۃ میں مختلف جگہوں پر ذکر کیا اور بے شمار اخبار واہیہ اور مجعولہ(جعلی) کی تعداد کا اضافہ کیا یوں مخالفینِ شیعہ کیلئے طعن، استہزاء کے ابواب کھول دئے ۔ان کی ہمت یہانتک پہنچ گئی کہ کوفیوں کے لشکر میں سواروں کی تعداد چھ لاکھ(600000) اور پیادوں کی تعداد دو کروڑ(20000000) تک پہنچا دی۔روضہ خوانوں اور ذاکرین کیلئے ایک وسیع میدان مہیا کر دیا کہ جو تعداد چاہیں وہ مضبوط دل کے ساتھ منبر پر کہیں، مستند ذکر کریں کہ فاضل دربندی نے اس طرح فرمایاہے.....۔آئمہ طاہرین کی سیرت کی روایات اور احادیث کی چھان بین کرنے والے علماء کے نزدیک یہ کتاب کسی ارزش کی حامل نہیں اور قابل اعتبار نہیں ہے ۔ اس پر اعتماد کرنا نقل کرنے والے کے کام کی خرابی اور امور میں بصیرت کی کمی کا بیان گر ہے۔ [22]۔ایسے ہی خیالات میرزا محمد تنکابنی (شاگرد فاضل دربندی )[23]، شیخ ذبیح‌الله محلاتی[24] ، سید‌محسن امین [25][39]، میرزا محمد‌علی مدرس تبریزی [26]، شیخ آقا بزرگ تہرانی [27] اس کتاب کے بارے میں مذکورہ علماء ایسی رائے رکھتے ہیں ۔

ان مذکورہ کتابوں کے علاوہ مرزا محمد تقی سپہر کی ناسخ التواریخ ،علامہ باقر فشارکی کی عنوان الکلام،ملا حبیب کاشانی 1340 کی تذکرۃ الشہداء، مہدی حائری مازندرانی 1385 کی معالی السبطین اور ریاض القدس وغیرہ نامی کتابیں بھی اسی فہرست کا حصہ سمجھی جاتی ہیں ۔[28]

حوالہ جات

  1. شیخ طوسی ،الفہرست،صص37 و 38شمارہ 109۔
  2. نجاشی ، رجال نجاشی ص 320 ش 875
  3. رجوع کریں
  4. محمودی باقر،عبرات المصطفین ج 1 ص 6
  5. نجاشی ،رجال نجاشی ص128
  6. شاہرودی نمازی ، مستدرک علم رجال الحدیث ج 2 ص 170 ش 2652
  7. نجاشی ، رجال نجاشی ص435 ش1166۔
  8. نجاشی ، رجال نجاشی ص427،ش1148۔
  9. صحتی سہروردی،عاشورا پژوہی ص26
  10. طوسی فہرست ،ص104ش438۔
  11. صحتی سہروردی،عاشورا پژوہی ص27
  12. مزید تفصیل کیلئے رجوع کریں :صحتی سہروردی،عاشورا پژوہی ص27 ۔ محسن رنجبر ، مقالہ سيرى‌ در مقتل‌نويسى‌ و تاريخ‌ نگارى‌ عاشورا از آغاز تا عصر حاضر
  13. صحتی ،عاشورا پژوہی35
  14. صحتی ،عاشورا پژوہی41
  15. مزید تفصیل کیلئے رجوع کریں : صحتی سہروردی،عاشورا پژوہی ص27 ۔ محسن رنجبر ، مقالہ سيرى‌ در مقتل‌نويسى‌ و تاريخ‌ نگارى‌ عاشورا از آغاز تا عصر حاضر
  16. مزید تفصیل کیلئے رجوع کریں :محسن رنجبر ، مقالہ سيرى‌ در مقتل‌نويسى‌ و تاريخ‌ نگارى‌ عاشورا از آغاز تا عصر حاضر۔ صحتی سہروردی،عاشورا پژوہی ص27 ۔
  17. مقتل الحسین، ابو مخنف ازدی، تحقیق حسن غفاری،نشر: مطبعہ العلميہ - قم
  18. اختصار کے ساتھ مقالۂ ری شہری
  19. صحتی سہروردی،عاشورا پژوہی ۔
  20. اختصار کے ساتھ مقالۂ ری شہری
  21. اختصار کے ساتھ مقالۂ ری شہری
  22. لولو و مرجان: ص 251.
  23. قصص العلماء: ص 108
  24. ریاحین الشریعہ: ج 3 ص 272
  25. اعیان الشیعہ: ج 2 ص 88
  26. ریحانۃ الأدب: ج 2 ص 217
  27. الذریعہ: ج 2 ص 279
  28. اختصار کے ساتھ مقالۂ ری شہری


بیرونی رابط

اس مقالے کا اصل مآخذ:صحتی سہروردی،عاشورا پژوہی۔