عمرہ مفردہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عمرہ مُفردہ، عمرہ کی ایک قسم ہے اور اسے خانہ کعبہ کی زیارت کے مناسک و اعمال کے طور پر انجام دیا جاتا ہے۔ عمرہ کی اس قسم کا حج سے کوئی ربط نہیں ہے۔ اس اعتبار سے عمرہ مفردہ عمرہ تمتع کے مقابلے میں ہے جو حج تمتع کا جزء ہے۔ یہ جداگانہ انجام پاتا ہے اسی لئے اسے مفردہ کا نام دیا گیا ہے۔

عمرہ مفردہ کے اعمال یہ ہیں: احرام، طواف، نماز طواف، سعی بین صفا و مروه، تقصیر یا حلق، طواف نساء و نماز طواف نساء۔ احادیث و فقہاء کے اقوال کے مطابق، ماہ رجب میں عمرہ مفردہ کی فضیلت دیگر مہینوں سے زیادہ ہے۔

عمرہ

تفصیلی مضمون: عمرہ

عمرہ: احرام، طواف و سعی پر مشتمل اعمال و عبادات کے مجموعے[1] کو کہتے ہیں جو خانہ خدا کی زیارت کے موقع پر انجام دیا جاتا ہے۔[2] عمرہ کی دو قسم ہے: عمرہ تمتع و عمرہ مفردہ۔[3] عمرہ تمتع، حج تمتع کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے اور اس کا ایک جزء ہے۔[4] عمرہ مفردہ حج سے جدا انجام دیا جاتا ہے اور اس کا حج سے کوئی ربط نہیں ہے۔[5]

فقہاء عمرہ کو بھی حج کی طرح ہر مسلمان کے لئے جو اس کے شرائط رکھتا ہو، زندگی میں ایک بار واجب[6] اور ایک سے زیادہ بار مستحب[7] مانتے ہیں۔

وجہ تسمیہ و اقسام

عمرہ مفردہ کو مفردہ اس لئے کہا جاتا ہے چونکہ وہ حج کا حصہ نہیں ہے اور اس کے علاوہ انجام دیا جاتا ہے۔[8] اسی سبب سے اسے عمرہ مبتولہ (بریدہ) بھی کہا جاتا ہے۔[9]

عمرہ قران و عمرہ افراد، عمرہ مفردہ کی قسمیں ہیں۔ عمرہ قران ان کے لئے ہے جن پر حج قران واجب ہو اور عمرہ افراد ان افراد کے لئے ہے جن پر حج افراد واجب ہے۔[10]

اعمال عمرہ مفردہ

عمرہ مفردہ سات عمل سے تشکیل پایا ہے جو بالترتیب درج ذیل ہیں:

  1. احرام
  2. طواف
  3. نماز طواف
  4. سعی بین صفا و مروہ
  5. تقصیر یا حلق
  6. طواف نساء
  7. نماز طواف نساء۔[11]

عمرہ مفردہ و عمرہ تمتع میں فرق

عمرہ مفردہ و عمرہ تمتع میں مندرجہ ذیل فرق پایا جاتا ہے:

با فضیلت ترین عمرہ مفردہ

کتب فقہی کے مطابق، دیگر مہینوں کی بہ نسبت ماہ رجب میں عمرہ مفردہ کا ثواب زیادہ ہے۔[14] روایات میں بھی یہ مسئلہ ذکر ہوا ہے۔ وسائل الشیعہ میں پیغمبر اکرم (ص) و امام جعفر صادق (ع) سے روایات میں نقل ہوا ہے کہ ماہ رجب میں ہونے والا عمرہ مفردہ سب سے زیادہ فضیلت کا حامل ہے۔[15]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. محقق حلی، شرایع‌ الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۵.
  2. شیخ طوسی، المبسوط، ۱۳۸۷ق، ج۱، ص۲۹۶؛‌ نجفی، جواهر الکلام، بیروت، ج۲۰، ص۴۴۱.
  3. مؤسسہ دایرة المعارف فقہ اسلامی، فرهنگ فقہ، ۱۳۹۲، ج۵، ص۴۷۹.
  4. مؤسسہ دایرة المعارف فقہ اسلامی، فرهنگ فقہ، ۱۳۹۲، ج۵، ص۴۸۱.
  5. مؤسسہ دایرة المعارف فقہ اسلامی، فرهنگ فقہ، ۱۳۹۲، ج۵، ص۴۸۵.
  6. برای نمونہ نگاه کریں محقق حلی، شرایع‌ الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۴؛ نجفی، جواهر الکلام، بیروت، ج۲۰، ص۴۴۱.
  7. شیخ طوسی، المبسوط، ۱۳۸۷ق، ج۱، ص۲۹۷؛ گروه پژوهش بعثہ مقام معظم رهبری، منتخب مناسک حج، ۱۴۲۶ق، ص۵۹.
  8. مؤسسہ دایرة المعارف فقہ اسلامی، فرهنگ فقہ، ۱۳۹۲، ج۵، ص۴۸۵.
  9. مؤسسہ دایرة المعارف فقہ اسلامی، فرهنگ فقہ، ۱۳۹۲، ج۵، ص۴۸۵.
  10. مؤسسہ دایرة المعارف فقہ اسلامی، فرهنگ فقہ، ۱۳۹۲، ج۵، ص۴۸۵.
  11. محقق حلی، شرایع‌ الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۵.
  12. محقق حلی، شرایع‌ الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۵و۲۷۶.
  13. مؤسسہ دایرة المعارف فقہ اسلامی، فرهنگ فقہ، ۱۳۹۲، ج۵، ص۴۸۸.
  14. برای نمونہ نگاه کریں شهید اول، الدروس الشرعیہ، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۳۳۷؛ محقق حلی، شرایع‌ الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۶.
  15. حر عاملی، وسایل‌ الشیعہ، ۱۴۰۹ق، ج۱۴، ص۳۰۲.


مآخذ

  • حر عاملی، محمد بن حسن، تفصیل وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعہ، قم، مؤسسہ آل‌البیت، چاپ اول، ۱۴۰۹ق.
  • شهید اول، محمد بن مکی العاملی، الدروس الشرعیہ فی الفقہ الامامیہ، قم، نشر اسلامی، چاپ دوم، ۱۴۱۷ق.
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی الفقہ الامامیہ، تحقیق و تصحیح سید محمد تقی کشفی، تهران، المکتبہ المرتضویہ لاحیاء الآثار الجعفریہ، چاپ سوم، ۱۳۸۷ق.
  • گروه پژوهش بعثہ مقام معظم رهبری، منتخب مناسک حج، تہران، نشر مشعر، چاپ دوم، ۱۴۲۶ق.
  • محقق حلی، جعفر بن حسن، شرائع الاسلام فی مسائل الحلال و الحرام، تحقیق و تصحیح عبد الحسین محمد علی بقال، قم، اسماعیلیان، چاپ دوم، ۱۴۰۸ق.
  • مؤسسہ دایرة‌المعارف فقہ اسلامى، فرهنگ فقہ مطابق مذهب اهل بيت عليهم‌ السّلام، قم، مؤسّسه دائرة المعارف فقہ اسلامى، چاپ اول، ۱۳۹۲ش.
  • نجفى، محمد حسن، جواهر الكلام فی شرح شرائع الاسلام، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ هفتم، ۱۴۰۴ق.