عمرہ مفردہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عمرہ مُفردہ عمرہ کی ایک قسم ہے۔ عمرہ مفردہ عمرہ تمتع کے مقابلے میں ہے ایک مخصوص اعمال پر مشتمل ہے۔ عمرہ کی اس قسم کا حج سے کوئی ربط نہیں ہے اور جداگانہ انجام پاتا ہے اسی لئے اسے "مفردہ" کا نام دیا گیا ہے.

عمرہ مفردہ کے اعمال

عمرہ مفردہ سات عمل سے تشکیل پایا ہے جو بالترتیب درج ذیل ہیں:

  1. احرام: عمرہ مفردہکے احرام باندھنے کیلئے اس کا میقات أدنى الحل (حرم سے باہر سب سے قریب مقام) ہے۔ لیکن عمرہ مفردہ انجام دینے والے شخص کیلئے پانچ میقات میں سے کسی ایک سے بھی مُحرِم ہونا بھی جائز ہے۔[1]
  2. طواف
  3. دو رکعت نماز طواف
  4. سعی بین صفا و مروہ
  5. تقصیر یا حلق: عمرہ مفردہ میں حاجی حلق یا تقصیر میں مخیر ہے عمرہ تمتع کے برخلاف جس میس حلق جایز نہیں ہے۔
  6. طواف نساء
  7. دو رکعت نماز طواف نساء[2]

وقت

عمرہ مفردہ کسی خاص وقت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ پورے سال میں کسی بھی ایام میں انجام دیا جا سکتا ہے۔ البتہ بعض روایات میں عمرہ رجبیہ (ماہ رجب میں عمرہ کرنے) کی بہت زیادہ فضیلت اور اہمیت بیان ہوئی ہے۔[3]

حوالہ جات

  1. فاضل لنکرانى، محمد، احکام عمرہ مفردہ، ۱۴۲۶ق. ص۳۵.
  2. ادعیہ و آداب الحرمین فی العمرۃ المفردۃ، ۱۳۸۳ش. ص۲۹۷.
  3. کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۵۳۶.


مآخذ

  • ادعیہ و آداب الحرمین فی العمرۃ المفردۃ، مرکز تحقیقات حج، تہران، مشعر، ۱۳۸۳ش.
  • فاضل لنکرانى، محمد، احکام عمرہ مفردہ، انتشارات امیر قلم، قم، یازدہم، ۱۴۲۶ق.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق، مصحح، غفاری، علی اکبر، آخوندی، محمد، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ق.