عبد اللہ بن عقبہ غنوی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عبد اللہ بن عقبہ غنوی 61ق کی 10 محرم کو کربلا میں ہونے والی جنگ میں عمر بن سعد کے لشکر میں شامل تھا ۔اس نے ابو بکر بن حسن بن علی بن ابی طالب کو شہید کیا ۔واقعۂ کربلا سے پہلے وہ خوارج میں سے شمار ہوتا تھا اوراس نے حاکمِ کوفہ کے خلاف مستورد بن علفہ کی شورش میں حصہ لیا۔

تعارف

کربلا سے پہلے وہ خوارج کی فوجی چھاؤنی میں تھا۔اس نے مستورد بن علفہ خارجی کے ساتھ مل کر 63ق میں معاویہ کی طرف سے حاکمِ کوفہ مغیرہ بن شعبہ کے خلاف بغاوت میں حصہ لیا[1] ۔مستورد کے قتل کے بعد شریک بن نملہ محاربی کی درخواست پر مغیرہ نے اسے امان دی[2]۔

واقعۂ کربلا

روز عاشورا اس کے تیر سے ابو بکر بن حسن بن علی کی شہادت ہوئی[3] نیز زیارت ناحیہ میں قاتل کے عنوان سے اس پر لعنت بھیجی گئی ہے ۔ابن سعد نے جعفر بن حسین کی شہادت میں بھی اس کا نام ذکر کیا ہے [4]۔

سلیمان بن قتہ نے واقعۂ کربلا کے اشعار میں امام حسین ؑ کے اصحاب میں سے ایک شخص کی شہادت میں قبیلہ غنویٰ کا ذکر کیا ہے[5] ممکن ہے کہ اس سے عبد اللہ بن عقبہ غنویٰ مراد ہو ۔

وفات

قیام مختار کے وقت یہ جزیرہ کے علاقہ کی طرف فرار کر گیا۔ مختار ثقفی نے اس کے گھر کو مسمار کر دیا[6] یہ بھی کہا گیا ہے کہ عبد اللہ بن عقبہ غنویٰ مختار کی فوجوں کے ہاتھوں قتل ہوا یا پیاس کے غلبے کی وجہ سے مارا گیا۔ [7]

حوالہ جات

  1. طبری، تاریخ، ج‌۵، ص۱۹۰.
  2. طبری، تاریخ، ج‌۵، ص۲۰۶.
  3. دینوری، اخبارالطوال، ص۲۵۷؛ بلاذری، انساب‌الاشراف، ج۳، ص۲۰۱؛ طبری تاریخ، ج۵، ص۴۶۸؛ مفید، الارشاد، ج۲، ص۱۰۸؛ طبرسی، اعلام‌الوری، ص۲۴۸؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۴۵، ص۳۶؛ بعض مآخذوں نے قاتلِ ابوبکر بن حسین (ع) کہا ہے زیادہ احتمال ہے کہ تصحیف کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ۔ اصفہانی، مقاتل‌الطالبیین، ص۹۲؛ ابن‌اثیر، الکامل، ج۴، ص۷۵؛ ابن‌سعد، الطبقات، (طبقہ خامسہ)، ج۱، ص۴۷۶، ۴۷۰؛ طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۴۸.
  4. ابن‌سعد، الطبقات، (طبقہ خامسہ، ج۱، ص۴۷۶.
  5. بلاذری، انساب‌الاشراف، ج۳، ص۲۲۰؛ ابن‌سعد، الطبقات، ج۱، ص۵۱۱
  6. طبری، تاریخ، ج۶، ص۶۵؛ ابن‌ اثیر، الکامل، ج۴، ص۲۴۳؛ مجلسی، بحار الانوار، ج۴۵، ص۳۷۴.
  7. بلاذری، أنساب‌ الأشراف، ج‌۶، ص۴۱۰.


مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، دارصادر، بیروت، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۵م.
  • ابن سعد، محمد بن سعد، الطبقات الکبری(طبقہ خامسہ ج۱)، تحقیق: محمد بن صامل السلمی، مکتبہ الصدیق، الطائف، ۱۴۱۴ق/۱۹۹۳م.
  • اصفہانی، ابوالفرج علی بن الحسین، مقاتل‌الطالبیین،، تحقیق: سید احمد صقر، دارالمعرفہ، بیروت، بی‌تا.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب‌الأشراف(ج۳)، تحقیق: محمد باقر المحمودی، دارالتعارف للمطبوعات، بیروت، ۱۹۷۷ق/۱۳۹۷م.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، کتاب جمل من انساب‌الأشراف، تحقیق: سہیل زکار و ریاض زرکلی، دارالفکر، بیروت، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۶م.
  • دینوری، احمد بن داود، الأخبارالطوال، تحقیق: عبدالمنعم عامر مراجعہ جمال‌الدین شیال، منشورات الرضی، قم، ۱۳۶۸ش.
  • سید بن طاووس، علی بن موسی، اقبال‌الأعمال، دارالکتب الإسلامیہ، تہران، ۱۳۶۷ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الوری،‌دار الکتب الإسلامیہ، تہران.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق: محمدأبوالفضل ابراہیم، دارالتراث، بیروت، ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷م.
  • مجلسی، بحارالأنوار، مؤسسہ الوفاء، بیروت، ۱۴۰۴ق.
  • مفید، الإرشاد، انتشارات کنگره جهانی شیخ مفید، قم، ۱۴۱۳ق.