ذات العرق

ویکی شیعہ سے
(ذات عرق سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ذات العرق کے نام سے مکہ اور کوفہ کے درمیان ایک وادی ہے جو چند علاقوں پر مشتمل ہے۔ حضرت امام حسین ؑ کی بشیر بن غالب سے اس مقام پر ملاقات اور بات چیت ہوئی ۔ہجرت کے تیسرے سال ذات العرق کے نام سے یہیں ایک سریہ ہوا۔

محل وقوع

عقیق کی وادی کا یہ حصہ نجد اور تہامہ کے درمیان واقع ہے۔ مکہ کے شمال مشرق میں 92 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے ۔کہا گیا ہے کہ مکہ کے قریب ذات العرق کے نام سے ایک پہاڑ موجود ہے ۔یہ قرار گاہ بستان بنی عامر اور غمرہ کے درمیان ہے۔

میقاتِ حج

شیعہ فقہاء عقیق کی وادی کو عراقیوں اور اہل شرق کیلئے حج کا میقات قرار دیتے ہیں۔ عقیق کی یہ وادی مسلخ، غمرہ اور ذات العرق کو شامل ہے۔اکثر فقہا ان میں سے کسی ایک جگہ پر احرام باندھنے کو جائز سمجھتے ہیں[1]۔ جبکہ بعض صرف اضطرار کی حالت میں ذات العرق میں احرام کو جائز سمجھتے ہیں [2]۔[3]

بشیر بن غالب اور امام حسین ؑ کی گفتگو

امام حسین ؑ: کوفہ کے لوگوں کو کیسا پایا ؟

بشیر بن غالب: دل آپکے ساتھ اور انکی تلواریں بنی امیہ کے ساتھ ہیں۔

امام حسین ؑ: دسرت کہا ہے اسدی بھائی۔خدا جو انجام دینا چاہتا ہے اور جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسی کا حکم فرمان صادر کرتا ہے[4] ۔

بشیر بن غالب:اس آیتيَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ ۖ فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَأُولَـٰئِكَ يَقْرَءُونَ كِتَابَهُمْ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا [5]کا تفسیر کیا ہے ؟

امام حسین ؑ:ہاں !جو امام لوگوں کو راہ راست اور خوشبختی طرف بلاتا ہے ایک جماعت اس کی پیروی کرتے ہیں ۔دوسرا امام کہ جو انحراف اور بدبختی طرف بلاتا ہے ایک جماعت اس کی بھی پیروی کرتی ہے پہلا گروہ جنتی اور دوسرا کروہ جہنمی ہے[6].یہ دوسری آیت فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر کا معنی ہے ۔[7]

واقعات

  • سریہ ذات العرق (سریہ زید بن حارثہ،سریہ قردۃ) ہجرت کے تیسرے سال جمادی الثانی میں زید بن حارثہ کی سپہ سالای میں اس جگہ ہوا تھا [8]۔
  • ذات العرق وہ پہلا مقام ہے جہاں حضرت امام حسین ؑ نے قیام کیا[9] نیز اسی جگہ قبیلہ بنی اسد کے بشیر بن غالب سے ملاقات ہوئی۔ اس نے کوفہ کے حالات سے آگاہی دی[10] ۔اسراء کی 71ویں آیت کی تفسیر پوچھی[11]۔شیخ صدوق کی امالی میں یہ گفتگو ثعلبیہ کے مقام پر منقول ہے[12] ۔
  • سماوی کے مطابق عبد اللہ بن جعفر کے فرزند محمد اور عون وادیے عقیق میں اپنے باپ کا خط لے امام کے پاس پہنچے ۔لیکن سماوی نے اہل سیر کے حوالے سے مزید کہا ہے :
عبد اللہ بن جعفر نے مکہ سے حضرت امام حسین ؑ کو واپس بلانے کیلئے خط لکھا جو عون اور محمد کے ہاتھ روانہ کیا پھر والیے مدینہ عمرو بن سعید بن عاص کے پاس آئے اور اس سے امان نامہ لکھوا کر اپنے بھائی یحیی کے ساتھ یہ خط لے کر حضرت امام حسین کے پاس آئے ۔امام نے خط پڑھا لیکن واپسی سے انکار کیا اور کہا :رسول اللہ نے مجھے خواب میں حکم میں دیا ہے پس میں اسی کو انجام دوں گا ۔عبد اللہ نے اپنے دونوں بیٹون کو حضرت امام حسین کے بارے میں نصیحت کی اور امام کو اپنا عذر پیش کیا ۔ وہ دونوں واپس آگئے[13]۔

حوالہ جات

  1. ابن براج، ج۱، ص۲۱۴؛ ابن حمزه، ص۱۶۰
  2. طوسی، ص۲۱۰؛ ج۱، ص۳۱۲؛ ر. ک. صاحب جواهر، ج۱۸، ص۱۰۶ .
  3. آیت اللہ سیستانی کی سائیٹ
  4. مثیرالاحزان، ص۴۲
  5. اس دن (کو یاد کرو) جب ہم (ہر دور کے) تمام انسانوں کو انکے امام (پیشوا) کے ساتھ بلائیں گے پس جس کسی کو اس کا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو یہ لوگ اپنا صحیفۂ اعمال (خوش خوش) پڑھیں گے اور ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔
  6. خوارزمی، ج۱، ص۳۱۹
  7. صدوق، امالی، ص۱۵۳
  8. انساب الاشراف، ج۱، ص۳۷۴
  9. ارشاد، ج۲، ص۶۹
  10. ابن اعثم، فتوح، ج۵، ص۷۰؛ مثیرالاحزان، ص۴۲؛ سید بن طاوس، ص۶۹
  11. صدوق، امالی، ص۱۵۳
  12. صدوق، امالی، ص۱۵۳
  13. سماوی، ابصارالعین، ص۷۵.


مآخذ

  • ابن اعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، تحقیق: علی شیری، دارالأضواء، بیروت، ۱۴۱۱ق/۱۹۹۱م.
  • شیخ مفید، الإرشاد فی معرفة حجج الله علی العباد، کنگره شیخ مفید، قم، ۱۴۱۳ق.
  • حلی،ابن نما، مثیر الأحزان، مدرسة الإمام المهدی عجّل الله تعالی فرجه الشریف، قم، ۱۴۰۶ق.
  • سید بن طاوس، اللهوف علی قتلی الطفوف، جهان، تهران، ۱۳۴۸ش.
  • خوارزمی، موفق بن احمد، مقتل الحسین علیه‌السلام، انوار الهدی، قم، ۱۴۲۳ق.
  • شیخ صدوق، أمالی، اعلمی، بیروت، ۱۴۰۰ ق.
  • مقدسی، محمد بن احمد، أحسن التقاسیم فی معرفة الأقالیم، مکتبة مدبولی، القاهره، ۱۴۱۱ق/۱۹۹۱م.
  • حموی بغدادی، یاقوت، معجم البلدان، دارصادر، بیروت، ۱۹۹۵م.
  • طوسی، محمد بن حسن، النهایة فی مجرد الفقه و الفتاوی‌، بیروت، دارالکتاب العربی‌، ۱۴۰۰ق.
  • طرابلسی، قاضی، (ابن براج)، المهذب‌، محقق/ مصحح: جمعی از محققین و مصححین تحت إشراف شیخ جعفر سبحانی‌، دفتر انتشارات اسلامی وابسته به جامعه مدرسین حوزه علمیه قم‌، ۱۴۰۶ق.
  • طوسی(ابن حمزه)، محمد بن علی، الوسیلہ إلی نیل الفضیلہ، محقق/ مصحح: محمد حسون‌، انتشارات کتابخانہ آیہ الله مرعشی نجفی، ۱۴۰۸ق.
  • صاحب جواہر، جواہر الکلام فی شرح شرائع الإسلام‌، محقق/ مصحح: عباس قوچانی- علی آخوندی‌، دارإحیاء التراث العربی‌، بیروت، ۱۴۰۴ق.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، جمل من انساب الأشراف، تحقیق: سہیل زکار و ریاض زرکلی، دارالفکر، بیروت، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۶م.
  • سماوی، محمد بن طاہر، إبصارالعین فی أنصار الحسین علیه‌السلام، دانشگاه شہید محلاتی، قم، ۱۴۱۹ق.