سورہ ضحی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
لیل سورۂ ضحٰی شرح
سوره ضحی.jpg
ترتیب کتابت: 93
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 11
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 11
الفاظ: 40
حروف: 165

سورہ ضحی یا والضحی قرآن کی 93ویں اور مکی سورتوں میں سے ہے جو تیسویں پارے میں واقع ہے۔ یہ سورت من جملہ ان سورتوں میں سے ایک ہے جس کی تمام آیتیں پیغمبر اکرمؐ پر ایک ساتھ نازل ہوئیں۔ سورہ ضحی کی شأن نزول کے بارے میں آیا ہے کہ یہ سورت ایک مدت تک پیغمبر اکرمؐ پر وحی کا سلسلہ رکنے اور اس پر کفار کی طرف سے آپ کو طعنہ دینے کے بعد نازل ہوئی۔ سورہ ضحی میں پیغمبر اکرمؐ سے مخاطب ہو کر خدا کی طرف سے آپ کو تنھا نہ چھوڑنے کی یقین دہانی کے ساتھ ساتھ آپ کے اوپر نازل ہونے والی خدا کی تعمتوں کا تذکرہ نیز آپ کو یتیموں اور محتاجوں کی دیکھ بھال کرنے اور لوگوں کیلئے خدا کی نعمتوں کی یادہانی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ جو شخص سورہ والضحی کی تلاوت کرے قیامت کے دن اس کی شفاعت‌ کرنا پیغمبر اکرمؐ پر واجب ہو جاتا ہے اور اسے دنیا میں موجود تمام یتیموں اور بینواؤں کے دس گنا ثواب عطا فرماتا ہے۔

تعارف

  • نام

اس سورت کا نام ضُحیٰ یا والضحیٰ ہے۔ "ضحی" کے معنی دن اور اس کی روشنی کے ہیں۔ اس سورت کو اس نام سے پکارنے کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے اس کی ابتداء میں "ضحی" کی قسم کھائی ہے۔[1]

  • ترتیب اور محل نزول

سورہ ضحی مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے اس کا شمار گیارہویں نمبر پر جبکہ مُصحَف کی موجودہ ترتیب کے اعتبار سے 93ویں سورہ ہے[2] اور قرآن کے آخری یعنی تیسویں پارے میں واقع ہے۔

  • آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ ضحی 11 آیات، 40 کلمات اور 165 حروف پر مشتمل ہے۔ حجم کے اعتبار سے اس کا شمار مُفصَّلات میں ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سورت ان چودہ سورتوں میں سے ایک ہے جن کی تمام آیتیں پیغمبر اکرمؐ پر ایک ساتھ نازل ہوئی ہیں۔[3]

مضامین

سورہ ضحی کی ابتداء میں خداوند عالم دو قسمیں کھا کر اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہؐ کو یہ بشارت دیتے ہیں کہ آپ کا پروردگار کبھی بھی آپؐ کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ اس کے بعد آپ کو یہ نوید بھی دیتے ہیں کہ عنقریب آپ کو اتنا دیا جائے گا کہ آپ راضی ہو جائے۔

اس سورت کے آخری حصے میں پیغمبر اکرمؐ کی گذشتہ زندگی میں خدا نے آپ پر جو مہربانی اور انتہائی سخت حالات میں جو آپ کی حمایت کی ہیں ان کی یاد دہانی کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس سورت کی آخری آیات میں آپ کو ان نعمتوں کے شکرانے کے طور پر یتیموں اور بینواؤوں کے ساتھ نیک برتاؤ کرنے اور خدا کی نعمتوں کو بیان کرنے کا حکم دیتے ہیں۔[4]

سورہ ضحی کے مضامین[5]
 
 
 
 
پیغمبر اکرم کو رسالت کی ذمہ داریاں نبھانے میں اللہ کی حمایت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ۹-۱۱
اللہ کی طرف سے پیغمبر کی حمایت کے استمرار میں موثر عوامل
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۶-۸
اللہ کی طرف سے پیغمبر کی حمایت کے اقسام
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱-۵
اللہ کی دنیا اور آخرت میں پیغمبر کی حمایت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا عامل؛ آیہ۹
یتیموں کے حقوق کی رعایت
 
عاطفی حمایت؛ آیہ ۶
یتیمی کے دور میں پیغمبر کی سرپرستی
 
پہلا نکتہ؛ آیہ ۱-۳
اللہ کسی بھی وقت پیغمبر کو اپنی حالت پر نہیں چھوڑتا ہے۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا عامل؛ آیہ۱۰
غریبوں سے احترام سے پیش آنا
 
دینی حمایت؛ آیہ ۷
پیغمبر کی توحید اور دینی احکام کی ہدایت
 
دوسرا نکتہ؛ آیہ۴
اللہ دنیا اور آخرت میں پیغمبر کی حمایت کرتا ہے
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا عامل؛ آیہ۱۱
نعمت کو بیان کرنا اور ان کا شکر ادا کرنا
 
اجتماعی حمایت؛ آیہ۸
پیغمبر کا دوسروں سے بےنیاز ہونا
 
تیسرا نکتہ؛ آیہ۵
اللہ پیغمبر پر مستقبل میں بھی لطف کرتا ہے


شأن نزول

سورہ ضحی کی شأن نزول کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سورت پیغمبر اکرمؐ پر کچھ مدت وحی کا سلسلہ رکنے کے بعد نازل ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کے بعض دشمن آپ کو طعنہ دے رہے تھے کہ محمدؐ کو اس کے خدا نے تنہا چھوڑ دیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد سورہ ضحی نازل ہوئی جس سے آپؐ کا دل خوش ہوئے۔[6] اسی طرح بعض شیعہ مفسرین[7] اور اہل‌سنت[8] مفسرین اس سورت کی آیت نمبر 5 کی شأن نزول کے بارے میں کہتے ہیں: ایک دقعہ پیغمبر اکرمؐ نے اپنی اکلوتی بیٹی فاطمہ(س) کو دیکھا جو اونٹ کی کھال سے بنی ہوئی عبا پہنے ایک طرف بچوں کو دودھ دے رہی ہیں تو دوسرے ہاتھ سے چکی چلا رہی ہیں، اس حالت کو دیکھ کر آپؐ نے گریہ کرتے ہوئے فرمایا: بیٹی دنیا کی سختیوں کو آخرت کی راحتی کے لئے تحمل کرو۔ اس کے بعد سورہ والضحی کی آیت نمبر 5 نازل ہوئی: "وَلَسَوْفَ یعْطِیكَ رَبُّكَ فَتَرْضَی(ترجمہ: اورعنقریب آپ(ص) کا پروردگار آپ(ص) کو اتنا عطا کرے گا کہ آپ(ص) خوش ہو جائینگے۔)"[9]

فضیلت اور خواص

پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ جو شخص سورہ والضحی کی تلاوت کرے روز قیامت اس کی شفاعت کرنا مجھ پیغمبر پر فرض ہے اور خدا اسے اس دنیا میں موجود یتیموں اور بینواؤوں کے دس گنا ثواب عطا کرے گا۔ ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے یوں منقول ہے کہ جو شخص سورہ‌ہای والضحی، سورہ لیل، سورہ انشراح اور سورہ شمس کو دن یا رات میں تلاوت کرے تو قیامت کے دن اس کے آس پاس موجود تمام چیزیں اس کے حق میں گواہی دیں گے یہاں تک کہ اس کے اپنے بال، جلد، گوشت، ہڈیاں، خون، رگیں اور عصب‌ وغیرہ بھی۔[10]

متن سورہ

سوره ضحٰی
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

وَالضُّحَى ﴿1﴾ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى ﴿2﴾ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى ﴿3﴾ وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَى ﴿4﴾ وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى ﴿5﴾ أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَى ﴿6﴾ وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَى ﴿7﴾ وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَى ﴿8﴾ فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ ﴿9﴾ وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ ﴿10﴾ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ ﴿11﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

قَسم ہے روزِ روشن کی۔ (1) اور رات کی جب کہ وہ آرام و سکون کے ساتھ چھا جائے۔ (2) (اے رسول(ص)) نہ آپ کے پروردگار نے آپ کو چھوڑا ہے اور نہ وہ ناراض ہوا ہے۔ (3) یقیناً آپ کے لئے انجام (اور بعد کا دور) آغاز (پہلے دور) سے بہتر ہے۔ (4) اورعنقریب آپ(ص) کا پروردگار آپ(ص) کو اتنا عطا کرے گا کہ آپ(ص) خوش ہو جائینگے۔ (5) کیا خدانے آپ(ص) کو یتیم نہیں پایا؟ تو پناہ کی جگہ دی؟ (6) اور آپ(ص) کو گمنام پایا تو (لوگوں کو آپ(ص) کی طرف) راہنمائی کی۔ (7) اور اللہ تعالیٰ نے آپ(ص) کونادار پایا سو مالدار بنا دیا۔ (8) پس یتیم پر سختی نہ کیجئے۔ (9) اور سائل کو نہ جھڑکئے۔ (10) اور اپنے پروردگار کی نعمت کا اظہار کیجئے۔ (11)


پچھلی سورت: سورہ لیل سورہ ضحی اگلی سورت:سورہ شرح

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۵۔
  2. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۶۔
  3. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۵۔
  4. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۸ش۲، ج۵، ص۵۲۱۔
  5. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  6. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۳ق، ج۲۰، ص۳۱۰۔
  7. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۳ق، ج۲۰، ص۳۱۲۔ مکارم شیرازی،برگزیدہ تفسیر نمونہ، ۱۳۸ش۲، ج۵، ص۵۲۴۔
  8. ثعلبی، الکشف و البیان، ۱۴۲۲ق، ج۱۰، ص۲۲۵۔ سیوطی، الدر المنثور، ۱۴۰۴ق، ج۶، ص۳۶۱۔
  9. ترجمہ آیت محمد حسین نجفی۔
  10. بحرانی، البرہان، ۱۳۸۹ش، ج۵، ص۶۸۱۔


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔==منابع==
  • بحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، مؤسسہ البعثہ، قسم الدراسات الاسلامیہ، قم، ۱۳۸۹ش۔
  • ثعلبی، احمد بن محمد، الکشف و البیان عن تفسیر القرآن، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ۱۴۲۲ق۔
  • دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، بہ کوشش بہاءالدین خرمشاہی، انتشارات دوستان، تہران،۱۳۷۷ش۔
  • سیوطی، عبدالرحمن بن ابی‌‌بکر، الدر المنثور فی التفسیر بالماثور، کتابخانہ آیت‌اللہ مرعشی نجفی(رہ)، قم ۱۴۰۴ق۔
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، بیروت ۱۳۹۳ق۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، برگزیدہ تفسیر نمونہ، تہران،‌دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۸۲ش۔

بیرونی روابط