سورہ نصر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
کافرون سورۂ نصر مسد
سوره نصر.jpg
ترتیب کتابت: 110
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 114
مکی/ مدنی: مدنی
اعداد و شمار
آیات: 3
الفاظ: 19
حروف: 80

سورہ نصر [سُورةُ النَّصْرِ] تین اہم پیشنگوئیوں اور اخبار غیب پر مشتمل ہے: 1۔ فتح مکہ عظیم کامیابی اور اسلام کی آخری فتح کے عنوان سے؛ 2۔ مکہ کے لوگوں کا ایمان لانا اور رسول اللہ(ص) کے ہاتھ پر بیعت کرنا اور 3۔ رسول اللہ(ص) کو حمد و تسبیح اور استغفار کے ساتھ لقاء اللہ کے لئے آمادگی کی ہدایت اور رحلت کی پیشنگوئی۔ اس سورت کے دیگر موضوعات میں اللہ کے ساتھ راز و نیاز اور اس کی عبادت اور اس کی نعمتوں کے بدلے شکر و سپاس نیز توبہ قبول کرنے والے پروردگار سے طلب مغفرت کا حکم، شامل ہے۔

سورہ نصر نام اور کوائف

  • اس سورت کو سورہ نصر کہا جاتا ہے کیونکہ لفظ نصر اس کی پہلی آیت میں مذکور ہے اور اسلام کی آخری فتح نیز فتح مکہ پر دلالت کرتا ہے:

"إِذَا جَاء نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (ترجمہ: جب اللہ کی مدد آ جائے اور فتح وظفر ہو جائے) [ سورہ نصر–1]

  • اس سورت کا دوسرا نام سورہ اذا جاء کیونکہ یہ عبارت اس کا حرف آغاز ہے۔[1]
  • اس سورت کو سورہ تودیع [= وداع] بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ رسول اللہ(ص) کی حیات کے آخری ایام میں نازل ہوئی ہے؛ اور درحقیقت [اس دنیا میں] رسول اللہ(ص) سے خداوند متعال اور جبرائیل کا وداع ہے۔[2]

مفاہیم و مضامین

سورہ نصر کے مضامین[3]
 
 
بڑی کامیابیوں میں اللہ کو مت بھولئے
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا نکتہ: آیہ ۳
فتح کے بعد پیغمبر اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں
 
پہلا نکتہ: آیہ ۱-۲
مسلمانوں کو بڑی فتوحات کی نوید
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلی ذمہ داری: آیہ ۴
اللہ کی نعمتوں اور کمالات کو یاد کرتے ہوئے اس کی تسبیح کرنا
 
پیروزی اول: آیہ ۱
اللہ کی مدد سے مسلمانوں کا فتح مکہ
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسری ذمہ داری: آیہ ۳
اللہ کے حکم کی تعمیل اور گناہوں کی مغفرت کی درخواست
 
پیروزی دوم: آیہ ۲
فتح مکہ کے بعد بہت سارے لوگوں کا اسلام کی طرف آجانا
  • سورہ نصر تین آیات، 19 الفاظ اور 80 حروف پر مشتمل ہے۔
  • ترتیب مصحف کے لحاظ سے ایک سو دسویں اور ترتیب نزول کے لحاظ ایک سو چودہویں (آخری) سورت ہے۔
  • بعض مفسرین کے بقول یہ ایک سو گیارہويں اور بعض کے بقول ایک سو بارہویں سورت نازلہ [یعنی ایک سو بارہویں پر نازل ہونے والی سورت] جبکہ سورہ توبہ آخری سورہ نازلہ ہے۔ لیکن قول اول ـ کہ یہ ایک سو چودہویں سورت نازلہ ہے) ـ مشہور ہے۔
  • نیز سورہ نصر سور زمانیہ میں بھی ساتویں اور آخری سورت ہے جس کا آغاز دوسری سورہ زمانیہ کی مانند اذا سے ہوا ہے۔
  • یہ سورت سور قصار میں سے ہے اور سور زمانیہ میں ساتویں اور آخری سورت ہے۔
  • تین اہم پیشنگوئیوں اور اخبار غیب پر مشتمل ہے:
  1. فتح مکہ عظیم کامیابی اور اسلام کی آخری فتح کے عنوان سے؛
  2. مکہ کے لوگوں کا ایمان لانا اور رسول اللہ(ص) کے ہاتھ پر بیعت کرنا
  3. ۔ رسول اللہ(ص) کو حمد و تسبیح اور استغفار کے ساتھ لقاء اللہ کے لئے آمادگی کی ہدایت اور رحلت کی پیشنگوئی۔
  • اس سورت کے دیگر موضوعات میں اللہ کے ساتھ راز و نیاز اور اس کی عبادت اور اس کی نعمتوں کے بدلے شکر و سپاس نیز توبہ قبول کرنے والے پروردگار سے طلب مغفرت کا حکم، شامل ہے۔[4]
  • بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ سورت صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے نازل ہوئی ہے۔[5]۔[6] لیکن بعض دیگر کا کہنا ہے کہ یہ سورت حجۃ الوداع کے دوران مِنٰی میں نازل ہوئی ہے۔[7] واحدی نیشابوری نے اسباب النزول میں لکھا ہے کہ یہ سورت غزوہ حنین سے رسول اللہ(ص) کی واپسی کے وقت نآزل ہوئی اور اس کے بعد آپ(ص) دو سال سے زیادہ بقید حیات نہ رہے۔[8]

متن سورہ

سوره نصر مدنیہ ۔ نمبر 110 ۔ آیات 3 ترتیب نزول 102
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

إِذَا جَاء نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ﴿1﴾ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا ﴿2﴾ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا ﴿3﴾

اللہ کے نام سے جو بہت رحم والا نہایت مہربان ہے

جب اللہ کی مدد آ جائے اور فتح وظفر ہو جائے (1) اور آپ دیکھئے کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں (2) تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجئے اور اس سے بخشش کی دعا مانگئے بیشک وہ بڑا نظر مرحمت متوجہ کرنے والا ہے (3)


پچھلی سورت:
سورہ کافرون
سورہ 110 اگلی سورت:
سورہ مسد
قرآن کریم

(1) سورہ فاتحہ (2) سورہ بقرہ (3) سورہ آل عمران (4) سورہ نساء (5) سورہ مائدہ (6) سورہ انعام (7) سورہ اعراف (8) سورہ انفال (9) سورہ توبہ (10) سورہ یونس (11) سورہ ہود (12) سورہ یوسف (13) سورہ رعد (14) سورہ ابراہیم (15) سورہ حجر (16) سورہ نحل (17) سورہ اسراء (18) سورہ کہف (19) سورہ مریم (20) سورہ طہ (21) سورہ انبیاء (22) سورہ حج (23) سورہ مؤمنون (24) سورہ نور (25) سورہ فرقان (26) سورہ شعراء (27) سورہ نمل (28) سورہ قصص (29) سورہ عنکبوت (30) سورہ روم (31) سورہ لقمان (32) سورہ سجدہ (33) سورہ احزاب (34) سورہ سباء (35) سورہ فاطر (36) سورہ یس (37) سورہ صافات (38) سورہ ص (39) سورہ زمر (40) سورہ غافر (41) سورہ فصلت (42) سورہ شوری (43) سورہ زخرف (44) سورہ دخان (45) سورہ جاثیہ (46) سورہ احقاف (47) سورہ محمد (48) سورہ فتح (49) سورہ حجرات (50) سورہ ق (51) سورہ ذاریات (52) سورہ طور (53) سورہ نجم (54) سورہ قمر (55) سورہ رحمن (56) سورہ واقعہ (57) سورہ حدید (58) سورہ مجادلہ (59) سورہ حشر (60) سورہ ممتحنہ (61) سورہ صف (62) سورہ جمعہ (63) سورہ منافقون (64) سورہ تغابن (65) سورہ طلاق (66) سورہ تحریم (67) سورہ ملک (68) سورہ قلم (69) سورہ حاقہ (70) سورہ معارج (71) سورہ نوح (72) سورہ جن (73) سورہ مزمل (74) سورہ مدثر (75) سورہ قیامہ (76) سورہ انسان (77) سورہ مرسلات (78) سورہ نباء (79) سورہ نازعات (80) سورہ عبس (81) سورہ تکویر (82) سورہ انفطار (83) سورہ مطففین (84) سورہ انشقاق (85) سورہ بروج (86) سورہ طارق (87) سورہ اعلی (88) سورہ غاشیہ (89) سورہ فجر (90) سورہ بلد (91) سورہ شمس (92) سورہ لیل (93) سورہ ضحی (94) سورہ شرح (95) سورہ تین (96) سورہ علق (97) سورہ قدر (98) سورہ بینہ (99) سورہ زلزال (100) سورہ عادیات (101) سورہ قارعہ (102) سورہ تکاثر (103) سورہ عصر (104) سورہ ہمزہ (105) سورہ فیل (106) سورہ قریش (107) سورہ ماعون (108) سورہ کوثر (109) سورہ کافرون (110) سورہ نصر (111) سورہ مسد (112) سورہ اخلاص (113) سورہ فلق (114) سورہ ناس


متعلقہ مآخذ

پاورقی حاشیے

  1. دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج2، ص270
  2. دیکھیں: دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج2، ص1270۔
  3. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  4. دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج2، ص1270۔
  5. الطباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، ج20، ذیل سوره نصر، ص376۔
  6. الطبرسی، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ج10، ص844۔
  7. تفسیر القمی، ج2، صص446-447۔
  8. اسباب النزول، ترجمه ذکاوتی، ج1، ص448۔


مآخذ