سورہ دخان

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
زخرف سورۂ دخان جاثیہ
سوره دخان.jpg
ترتیب کتابت: 44
پارہ : 25
نزول
ترتیب نزول: 64
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 59
الفاظ: 346
حروف: 1475

سورہ دخان [سُوْرَةُ الدُّخَانِ]، کو سورہ دخان کہا گیا ہے کیونکہ اس کی 10 سے 15 تک کی آیات میں کافروں کے لئے عذاب دخان کا ذکر ہے۔ حروف مقطعہ سے شروع ہونے والی انتیس سورتوں میں پچیسویں نمبر پر ہے اور حم سے شروع ہونے والی سات سورتوں میں پانچویں سورت ہے۔

سورہ دخان، نام اور کوائف

  • اس سورت کو دخان (دھواں) کہا گیا ہے کیونکہ اس کی 10 سے 15 تک کی آیات میں کافروں کے لئے عذاب دخان کا ذکر ہے۔
  • حروف مقطعہ [=حم: حاء میم] سے شروع ہونے والی انتیس سورتوں میں پچیسویں سورت ہے؛
  • حم سے شروع ہونے والی سات سورتوں میں پانچویں سورت ہے، (دوسری آیت میں قرآن کی قسم)؛
  • قراء کوفہ کے قول کے مطابق اس کی آیتوں کی تعداد 59، بعض قراء کے بقول 57 اور بعض کے بقول 56 ہے اور اول الذکر قول مشہور اور معمول ہے؛
  • اس سورت کے الفاظ کی تعداد 346 اور حروف کی تعداد 1475 ہے؛
  • مصحف کی ترتیب کے لحاظ سے قرآن کی چوالیسویں اور ترتیب نزول کے لحاظ سے چونسٹھویں سورت ہے؛
  • یہ مکی سورت ہے؛
  • حجم و کمیت کے لحاظ سے سور مثانی کے زمرے میں آتی ہے اور ایک حزب [ایک چوتھائی سورت] سے کچھ چھوٹی ہے۔

مفاہیم

یہ سورت منکرین قیامت کی طرف اشارہ کرتی ہے اور کہتی ہے کہ خداوند متعال نے آسمانوں اور زمینوں کو بیہودہ اور بےمقصد خلق نہیں کیا ہے اور ہر کوئی کسی دن اپنے کام کی جزا پائے گا۔

نیز یہ سورت قیامت کے وقوع کی نشانیوں اور گنہگاروں کی صورت حال کی خاکہ کشی کرتی ہے اور حضرت موسی(ع) کی داستان اور فرعون اور اس کی قوم کے عبرت انگیز انجام کی طرف اشارہ کرتی ہے۔[1]

سورہ دخان کے مضامین[2]
 
 
 
 
 
 
قرآن اور آیات الہی کی مخالفت کا عذاب
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
نتیجہ؛ آیہ ۵۸-۵۹
قرآن کے مخالف عذابِ الہی کا انتظار کریں
 
تیسرا گفتار؛ آیہ ۳۴-۵۷
آیاتِ الہی کی مخالف کا اخروی عذاب
 
دوسرا گفتار؛ آیہ ۹-۳۳
آیاتِ الہی کی مخالفت کا دنیوی عذاب
 
پہلا گفتار؛ آیہ ۱-۸
قرآن کی خصوصیات
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۳۴-۴۲
کافروں کو دنیا اور آخرت میں عذاب کی حقانیت
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۹-۱۶
عذاب سب قریش کو شامل ہوگی
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱-۲
قرآن حقائق کو واضح کرتا ہے
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۴۳-۵۰
کافروں اور گناہگاورں پر اخروی عذاب
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۱۷-۳۳
قومِ فرعون کی ہلاکت
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۳-۵
اللہ کی طرف سے شب قدر میں نزولِ قرآن
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۵۱-۵۷
آخرت میں اہلِ تقوی کو اجر
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۶-۸
قرآن اللہ کی رحمت ہے


متن اور ترجمہ

سورہ دخان
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

حم ﴿1﴾ وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿2﴾ إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ﴿3﴾ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ ﴿4﴾ أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ ﴿5﴾ رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿6﴾ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ ﴿7﴾ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ ﴿8﴾ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ يَلْعَبُونَ ﴿9﴾ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاء بِدُخَانٍ مُّبِينٍ ﴿10﴾ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿11﴾ رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ ﴿12﴾ أَنَّى لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَاءهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ ﴿13﴾ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّمٌ مَّجْنُونٌ ﴿14﴾ إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ ﴿15﴾ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُونَ ﴿16﴾ وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ ﴿17﴾ أَنْ أَدُّوا إِلَيَّ عِبَادَ اللَّهِ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ ﴿18﴾ وَأَنْ لَّا تَعْلُوا عَلَى اللَّهِ إِنِّي آتِيكُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ﴿19﴾ وَإِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ ﴿20﴾ وَإِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوا لِي فَاعْتَزِلُونِ ﴿21﴾ فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَؤُلَاء قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ ﴿22﴾ فَأَسْرِ بِعِبَادِي لَيْلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ ﴿23﴾ وَاتْرُكْ الْبَحْرَ رَهْوًا إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ ﴿24﴾ كَمْ تَرَكُوا مِن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ﴿25﴾ وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ ﴿26﴾ وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ ﴿27﴾ كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ ﴿28﴾ فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاء وَالْأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنظَرِينَ ﴿29﴾ وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ ﴿30﴾ مِن فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِيًا مِّنَ الْمُسْرِفِينَ ﴿31﴾ وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ ﴿32﴾ وَآتَيْنَاهُم مِّنَ الْآيَاتِ مَا فِيهِ بَلَاء مُّبِينٌ ﴿33﴾ إِنَّ هَؤُلَاء لَيَقُولُونَ ﴿34﴾ إِنْ هِيَ إِلَّا مَوْتَتُنَا الْأُولَى وَمَا نَحْنُ بِمُنشَرِينَ ﴿35﴾ فَأْتُوا بِآبَائِنَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿36﴾ أَهُمْ خَيْرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ أَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ ﴿37﴾ وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ ﴿38﴾ مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿39﴾ إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقَاتُهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿40﴾ يَوْمَ لَا يُغْنِي مَوْلًى عَن مَّوْلًى شَيْئًا وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ ﴿41﴾ إِلَّا مَن رَّحِمَ اللَّهُ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ﴿42﴾ إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ ﴿43﴾ طَعَامُ الْأَثِيمِ ﴿44﴾ كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ ﴿45﴾ كَغَلْيِ الْحَمِيمِ ﴿46﴾ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاء الْجَحِيمِ ﴿47﴾ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ﴿48﴾ ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ ﴿49﴾ إِنَّ هَذَا مَا كُنتُم بِهِ تَمْتَرُونَ ﴿50﴾ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقَامٍ أَمِينٍ ﴿51﴾ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ﴿52﴾ يَلْبَسُونَ مِن سُندُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُّتَقَابِلِينَ ﴿53﴾ كَذَلِكَ وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍ عِينٍ ﴿54﴾ يَدْعُونَ فِيهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ آمِنِينَ ﴿55﴾ لَا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولَى وَوَقَاهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ ﴿56﴾ فَضْلًا مِّن رَّبِّكَ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿57﴾ فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ﴿58﴾ فَارْتَقِبْ إِنَّهُم مُّرْتَقِبُونَ ﴿59﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

حا۔ میم۔ (1) قَسم ہے اس کتابِ مبین کی۔ (2) ہم نے اس (کتاب) کو ایک بابرکت رات (شبِ قدر) میں نازل کیا ہے بےشک ہم (عذاب سے) ڈرانے والے رہے ہیں۔ (3) اس(رات) میں ہر حکمت والے معاملہ کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ (4) ہمارے(خاص) حکم سے بےشک ہم ہی (ہر کتاب اور رسول(ع) کے) بھیجنے والے ہیں۔ (5) خاص تمہارے پروردگار کی رحمت سے یقیناً وہ بڑا سننے والا (اور) بڑا جاننے والا ہے۔ (6) جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو۔ (7) اس کے سوا کوئی الٰہ (خدا) نہیں ہے وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے اگلے باپ داداؤں کا بھی پروردگار ہے۔ (8) مگر وہ لوگ تو شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے ہیں۔ (9) آپ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان ایک کھلے ہوئے دھویں کے ساتھ آئے گا۔ (10) جو لوگوں پر چھا جائے گا یہ ایک دردناک عذاب ہوگا۔ (11) (اس وقت کفار بھی کہیں گے) اے ہمارے پروردگار! ہم سے یہ عذاب دور فرما۔ ہم ایمان لاتے ہیں۔ (12) اب ان کو کہاں سے نصیحت حاصل ہوگی؟ جبکہ ان کے پاس کھول کر بیان کرنے والا رسول(ع) آچکا۔ (13) پھر انہوں نے اس سے منہ موڑا اور کہا کہ یہ تو سکھایا ہوا ایک دیوانہ ہے۔ (14) بےشک (اگر) ہم کچھ وقت کیلئے یہ عذاب ہٹا بھی دیں تو تم لوگ لوٹ کر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے تھے۔ (15) جس دن ہم سخت پکڑ پکڑیں گے اس دن ہم پورا بدلہ لیں گے۔ (16) ہم نے ان سے پہلے فرعون کی قوم کو آزمایا تھا اور ان کے پاس ایک معزز رسول(ع)ایا تھا۔ (17) (اوران سے کہاتھا کہ) اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو میں ایک امانت دار رسول(ع) ہوں۔ (18) اور یہ کہ تم اللہ کے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو میں تمہارے پاس واضح دلیل (سند) پیش کرتا ہوں۔ (19) اور میں نے اپنے اور تمہارے پروردگار سے پناہ مانگ لی ہے کہ تم مجھے سنگسار کرو۔ (20) اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو پھر مجھ سے الگ ہی رہو۔ (21) پس اس (رسول) نے اپنے پروردگار سے دعا مانگی کہ یہ بڑے مجرم لوگ ہیں۔ (22) (ارشاد ہوا) تم میرے بندوں کو ہمراہلے کر راتوں رات نکل جاؤ کیونکہ تمہاراتعاقب کیا جائے گا۔ (23) اور تم سمندر کو اس کے حال (سکون) پہ چھوڑ دو۔ بیشک وہ (دشمن) ایسا لشکر ہے جو غرق ہو نے والا ہے۔ (24) وہ کتنے باغ اور چشمے چھوڑ گئے۔ (25) اور کھیتیاں اور عمدہ مقامات۔ (26) اور آرام و راحت کا ساز و سامان جس میں وہ خوش و خرم رہتے تھے۔ (27) اور ہم نے ان چیزوں کا وارث ایک قوم کو بنا دیا۔ (28) پس ان کی بربادی پر نہ آسمان رویا اور نہ زمین اور نہ ہی ان کو مہلت دی گئی۔ (29) اور ہم نے بنی اسرائیل کو رسوا کن عذاب سے نجات دی۔ (30) جو فرعون کی طرف سے تھا بےشک وہ سرکش اور حد سے نکل جا نے والوں میں سے تھا۔ (31) اور ہم نے جان بوجھ کر ان کو تمام جہانوں والوں پر ترجیح دی۔ (32) اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں عطا کیں جن میں کھلی ہوئی آزمائش تھی۔ (33) بیشک یہ لوگ کہتے ہیں۔ (34) کہ بس ہماری یہی پہلی موت ہی ہے اس کے بعد ہم (دوبارہ) نہیں اٹھائے جائیں گے۔ (35) اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ داداؤں کو لاؤ۔ (36) (قوت کے لحاظ سے) یہ بہتر ہیں یا قومِ تبع اور ان سے پہلے ہم نے ان کو ہلاک کر دیا کہ وہ مجرم تھے۔ (37) ہم نے آسمانوں کو، زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کو کھیل کے طور پر پیدانہیں کیا۔ (38) ہم نے ان کو پیدا نہیں کیا مگر حق (و حکمت) کے ساتھ مگر ان کے اکثر لوگ (یہ حقیقت) نہیں جانتے۔ (39) بےشک فیصلہ کا دن (قیامت) ان سب کا طے شدہ وقت ہے۔ (40) جس دن کوئی دوست کسی دوست کوکوئی فائدہ نہیں پہنچاسکے گا اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی۔ (41) مگر وہ جس پر اللہ رحم کرے بےشک وہ بڑا غالب (اور) بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (42) بیشک زقوم کا درخت۔ (43) گنہگار کی غذا ہوگا۔ (44) پگھلے ہوئے تانبےکی طرح پیٹوں میں جوش کھائے گا۔ (45) جس طرح گرم کھولتا ہوا پانی ہے۔ (46) اس کو پکڑو۔اور اسے گھسیٹتے ہوئے جہنم کے وسط تکلے جاؤ۔ (47) اور پھر اس کے سر پر کھولتے ہوئے پانی کا عذاب انڈیل دو۔ (48) مزا چکھ تُو تو بڑا معزز اور مکرم ہے۔ (49) یہ وہی ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے۔ (50) بےشک جو پرہیزگار لوگ ہیں وہ امن و سکون کی جگہ پر ہوں گے۔ (51) یعنی باغوں میں اور چشموں میں۔ (52) وہ سندس و اسبترق (باریک اور دبیز ریشم) کے کپڑے پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ (53) یہ بات اسی طرح ہے اور ہم ان کی گوری رنگت اور بڑی آنکھوں والی عورتوں (حوروں) سے شادی کریں گے۔ (54) وہ اس میں بڑے امن و سکون کے ساتھ ہر قِسم کے میوے طلب کریں گے۔ (55) وہ وہاں پہلے والی موت کے سوا موت کامزہ نہیں چکھیں گے اور اللہ نے انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیا ہے۔ (56) یہ سب کچھ آپ کے پروردگار کے فضل و کرم سے ہوگا اور یہ بڑی کامیابی ہے۔ (57) پس ہم نے اس (قرآن) کو آپ کی زبان پر بالکل آسان بنا دیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (58) (اچھا) آپ انتظار کیجئے! یقیناً وہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔ (59)

پچھلی سورت:
سورہ زخرف
سورہ 43 اگلی سورت:
سورہ جاثیہ
قرآن کریم

(1) سورہ فاتحہ (2) سورہ بقرہ (3) سورہ آل عمران (4) سورہ نساء (5) سورہ مائدہ (6) سورہ انعام (7) سورہ اعراف (8) سورہ انفال (9) سورہ توبہ (10) سورہ یونس (11) سورہ ہود (12) سورہ یوسف (13) سورہ رعد (14) سورہ ابراہیم (15) سورہ حجر (16) سورہ نحل (17) سورہ اسراء (18) سورہ کہف (19) سورہ مریم (20) سورہ طہ (21) سورہ انبیاء (22) سورہ حج (23) سورہ مؤمنون (24) سورہ نور (25) سورہ فرقان (26) سورہ شعراء (27) سورہ نمل (28) سورہ قصص (29) سورہ عنکبوت (30) سورہ روم (31) سورہ لقمان (32) سورہ سجدہ (33) سورہ احزاب (34) سورہ سباء (35) سورہ فاطر (36) سورہ یس (37) سورہ صافات (38) سورہ ص (39) سورہ زمر (40) سورہ غافر (41) سورہ فصلت (42) سورہ شوری (43) سورہ زخرف (44) سورہ دخان (45) سورہ جاثیہ (46) سورہ احقاف (47) سورہ محمد (48) سورہ فتح (49) سورہ حجرات (50) سورہ ق (51) سورہ ذاریات (52) سورہ طور (53) سورہ نجم (54) سورہ قمر (55) سورہ رحمن (56) سورہ واقعہ (57) سورہ حدید (58) سورہ مجادلہ (59) سورہ حشر (60) سورہ ممتحنہ (61) سورہ صف (62) سورہ جمعہ (63) سورہ منافقون (64) سورہ تغابن (65) سورہ طلاق (66) سورہ تحریم (67) سورہ ملک (68) سورہ قلم (69) سورہ حاقہ (70) سورہ معارج (71) سورہ نوح (72) سورہ جن (73) سورہ مزمل (74) سورہ مدثر (75) سورہ قیامہ (76) سورہ انسان (77) سورہ مرسلات (78) سورہ نباء (79) سورہ نازعات (80) سورہ عبس (81) سورہ تکویر (82) سورہ انفطار (83) سورہ مطففین (84) سورہ انشقاق (85) سورہ بروج (86) سورہ طارق (87) سورہ اعلی (88) سورہ غاشیہ (89) سورہ فجر (90) سورہ بلد (91) سورہ شمس (92) سورہ لیل (93) سورہ ضحی (94) سورہ شرح (95) سورہ تین (96) سورہ علق (97) سورہ قدر (98) سورہ بینہ (99) سورہ زلزال (100) سورہ عادیات (101) سورہ قارعہ (102) سورہ تکاثر (103) سورہ عصر (104) سورہ ہمزہ (105) سورہ فیل (106) سورہ قریش (107) سورہ ماعون (108) سورہ کوثر (109) سورہ کافرون (110) سورہ نصر (111) سورہ مسد (112) سورہ اخلاص (113) سورہ فلق (114) سورہ ناس


حوالہ جات

  1. دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج2، ص1250۔
  2. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔