سورہ جاثیہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دخان سورۂ جاثیہ احقاف
سوره جاثیه.jpg
ترتیب کتابت: 45
پارہ : 25
نزول
ترتیب نزول: 65
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 37
الفاظ: 489
حروف: 2085

سورہ جاثیہ قرآن کی ۲۵ویں سپارے میں واقع پینتالیسویں(45ویں) سورت ہے جو مکی سورتوں کا حصہ ہے۔ جاثیہ گھٹنوں کے بل بیٹھنے کے معنا میں ہے۔ اٹھائیسویں آیت میں قیامت کے دن امتوں کے گھٹنوں کے بل جھکنے اور انہیں انکے اعمال نامے دینے کے ذکر کی وجہ سے اس کا نام جاثیہ رکھا گیا ہے۔ حقانیت قرآن، وحدانیت خداوند اور منحرف عقائد پر مصر افراد کو تہدید، مؤمنین کو کفار کو بخشنے کی دعوت اور قیامت کے مختلف مناظر کی تصویر کشی اس سورے میں بیان ہوئی ہے۔ سورت کی فضیلت میں رسول اللہ سے مروی ہے کہ اس کی تلاوت کرنے والے کے عیوب کی خدا پردہ پوشی کرے گا اور اسے پریشانی اور حساب و کتاب کے وقت آرام و سکون نوازے گا۔

تعارف

  • وجہ تسمیہ

اس سورے کی اٹھائیسویں آیت میں جاثیہ کا ذکر آنے کی وجہ سے اس کا نام جاثیہ رکھا گیا کہ قیامت کے روز تمام امتں اپنے اعمال نامہ لینے کیلئے گھٹنوں کے بل جھکے ہونگیں۔ جاثیہ کا لفظ قرآن میں صرف ایک مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ اس سورت کا دوسرا نام سورہ شریعت ہے۔[1]

  • مقام و ترتیب نزول

سوره جاثیہ مکی سورہ ہے اور ترتیب نزول کے لحاظ سے پینسٹھویں (65ویں) سورت ہے جو رسول اللہ پر نازل ہوئی۔قرآنی سورتوں کی موجودہ ترتیب میں پینتالیسویں نمبر پر ہے[2] اور ۲۵ویں پارے میں واقع ہے۔

  • تعداد آیات و دیگر خصوصیات

سورہ جاثیہ ۳۷ آیات، ۴۸۹ کلمات اور ۲۰۸۵ حروف پر مشتمل ہے۔ حجم کے لحاظ سے مَثانی سورتوں کا حصہ ہے اور یہ ایک حزب سے کم ہے۔ سوره جاثیہ حروف مُقَطَّعہ «حم» (جسے حامیم پڑھا جاتا ہے) سے شروع ہوتی ہے اسی وجہ سے حامیمات (یا حوامیم) کا حصہ سمجھتے ہیں۔[3]

مضامین

سورہ جاثیہ حقانیت قرآن کے بیان سے شروع ہوتی ہے پھر آسمان و زمین کی خلقت کی عظیم علامات اور وحدانیت خدا کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ان علامات کے باوجود اپنے انحرافی عقائد پر باقی رہنے والوں کو سخت سزا کی تہدید کی خبر دیتی ہے۔ نیز اس سورے میں آگے چل کر مومنوں کو کفار کو عفو کرنے کا پیغام دیتی ہے۔ بنی اسرائیل جیسی ناشکر گزار قوم کے کفران نعمت کی مثال بیان کرتی ہے کہ جو رسول اللہ کو دئے جانے والے ایک دستور کا مقدمہ ہے جس میں آپ کو جاہلوں کی چاہت پر عمل پیرا ہونے کی بجائے شریعت کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے۔

اس کے بعد معاد کے منکرین میں سے ایک گروہ کا قول اور ان کا جواب ہے نیز آخری آیات میں قیامت کے مختلف مناظر اور مجرموں کے حالات بیان ہوئے ہیں۔[4]

سورہ جاثیہ کے مضامین[5]
 
 
 
 
توحید اور شریعت الہی کی پیروی کی دعوت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
گفتار سوم: آیہ ۲۱-۳۷
شریعت الہی کی مخالفت پر عذاب
 
گفتار دوم: آیہ ۱۴-۲۰
شریعت الہی کی پیروی کی ضرورت
 
گفتار اول: آیہ ۱-۱۳
توحید اور شریعت الہی کے ساتھ کافروں کا غلط رویہ
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مطلب اول: آیہ ۲۱-۲۳
گناہگار اور صالحین کا انجام ایک جیسا نہ ہونا
 
مطلب اول: آیہ ۱۴-۱۷
قیامت میں مخالفین دین کے خلاف اللہ کا حکم
 
مطلب اول: آیہ ۱-۲
قرآن میں توحیدی تعلمیات کا اللہ کی طرف سے نازل ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مطلب دوم: آیہ ۲۴-۲۸
معاد اور اُخروی سزا کا محال نہ ہونا
 
مطلب دوم: آیہ ۱۸-۲۰
اسلامی شریعت کی پیروی میں پیغمبر کی ذمہ داری
 
مطلب دوم: آیہ ۳-۵
اللہ کی وحدانیت کی نشانیاں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مطلب سوم: آیہ ۲۹-۳۵
آیاتِ الہی کا مذاق اڑانے والوں پر حتمی عذاب
 
 
 
 
 
مطلب سوم: آیہ ۶-۹
قرآن میں موجود توحیدی معارف کا کافروں کی طرف سے استہزا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مطلب چہارم: آیہ ۳۶-۳۷
رب کائنات کی تدبیر کا حکمت آمیز ہونا
 
 
 
 
 
مطلب چہارم: آیہ ۱۰-۱۱
منکرین توحید کا عذاب
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مطلب پنجم: آیہ ۱۲-۱۳
نعمت الہی کے مقابلے میں شکر اور تفکر


مشہور آیات

  • مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَیهَا ۖ ثُمَّ إِلَیٰ رَ‌بِّکمْ تُرْ‌جَعُونَ (آیت ۱۵)

ترجمه: جو کوئی نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے فائدہ کیلئے کرتا ہے اورجو کوئی بر ائی کرتا ہے اس کا وبال بھی اسی پر پڑتا ہے پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

اس کی تفسیر میں آیا ہے کہ قرآن میں کئی مرتبہ مثلا (سورہ لقمان آیت ۱۲ اور سورہ زمر آیت ۴۱) میں یہ مطلب تکرار ہوا ہے اور یہ ان لوگوں کا جواب ہے جو یہ کہتے ہیں کہ خدا کی نافرمانی اور اطاعت کرنے میں ہمارے لئے کیا فائدہ یا نقصان ہے۔ یہ آیات انہیں جواب دے رہی ہیں کہ یہ تم خود ہی ہو جو اعمال صالح کے سائے تلے تکامل حاصل کرتے ہو اور تم خود ہی ہو جو گنار و جرم کی وجہ سے سقوط کرتے ہو اور اس کے نتیجے میں تم رحمت خدا سے دور اور ابدی لعنت میں گرفتار ہو جاتے ہو۔ [6]

فضیلت اور خواص

اس سورہ کی فضیلت میں پیغمبرؐ سے مروی ہے جو شخص اس سورت کی تلاوت کرے گا خدا اسکے عیوب چھپائے گا، اسے خوف کی حالت اور حساب و کتاب کے موقع پر پریشانی میں آرام و سکون بخشے گا۔[7] امام باقرؑ سے نیز مروی ہے: اس کی تلاوت کرنے کی جزا یہ ہے کہ جہنم کی آگ اس تک نہیں پہنچے گی اور وہ شخص جہنم کی زناٹے دار صدائیں نہیں سنے گا نیز وہ رسول کے ہمراہ ہو گا۔[8]

برهان میں ظالموں کے شر سے محفوظ رہنا اور لوگوں میں آبرومند رہنا[9] نیز سخن چین کے شر سے محفوظ رہنا اس کے خواص بیان ہوئے ہیں۔[10]

سورہ جاثیہ کے مضامین[11]
 
 
 
 
توحید اور شریعت الہی کی پیروی کی دعوت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
گفتار سوم: آیہ ۲۱-۳۷
شریعت الہی کی مخالفت پر عذاب
 
گفتار دوم: آیہ ۱۴-۲۰
شریعت الہی کی پیروی کی ضرورت
 
گفتار اول: آیہ ۱-۱۳
توحید اور شریعت الہی کے ساتھ کافروں کا غلط رویہ
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مطلب اول: آیہ ۲۱-۲۳
گناہگار اور صالحین کا انجام ایک جیسا نہ ہونا
 
مطلب اول: آیہ ۱۴-۱۷
قیامت میں مخالفین دین کے خلاف اللہ کا حکم
 
مطلب اول: آیہ ۱-۲
قرآن میں توحیدی تعلمیات کا اللہ کی طرف سے نازل ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مطلب دوم: آیہ ۲۴-۲۸
معاد اور اُخروی سزا کا محال نہ ہونا
 
مطلب دوم: آیہ ۱۸-۲۰
اسلامی شریعت کی پیروی میں پیغمبر کی ذمہ داری
 
مطلب دوم: آیہ ۳-۵
اللہ کی وحدانیت کی نشانیاں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مطلب سوم: آیہ ۲۹-۳۵
آیاتِ الہی کا مذاق اڑانے والوں پر حتمی عذاب
 
 
 
 
 
مطلب سوم: آیہ ۶-۹
قرآن میں موجود توحیدی معارف کا کافروں کی طرف سے استہزا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مطلب چہارم: آیہ ۳۶-۳۷
رب کائنات کی تدبیر کا حکمت آمیز ہونا
 
 
 
 
 
مطلب چہارم: آیہ ۱۰-۱۱
منکرین توحید کا عذاب
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مطلب پنجم: آیہ ۱۲-۱۳
نعمت الہی کے مقابلے میں شکر اور تفکر


متن اور ترجمہ

سورہ جاثیہ
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

حم ﴿1﴾ تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ﴿2﴾ إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّلْمُؤْمِنِينَ ﴿3﴾ وَفِي خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِن دَابَّةٍ آيَاتٌ لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ ﴿4﴾ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاء مِن رِّزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ آيَاتٌ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴿5﴾ تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿6﴾ وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿7﴾ يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّهِ تُتْلَى عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿8﴾ وَإِذَا عَلِمَ مِنْ آيَاتِنَا شَيْئًا اتَّخَذَهَا هُزُوًا أُوْلَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ ﴿9﴾ مِن وَرَائِهِمْ جَهَنَّمُ وَلَا يُغْنِي عَنْهُم مَّا كَسَبُوا شَيْئًا وَلَا مَا اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاء وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿10﴾ هَذَا هُدًى وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مَّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ ﴿11﴾ اللَّهُ الَّذِي سخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿12﴾ وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لَّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴿13﴾ قُل لِّلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لا يَرْجُون أَيَّامَ اللَّهِ لِيَجْزِيَ قَوْمًا بِما كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴿14﴾ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاء فَعَلَيْهَا ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ ﴿15﴾ وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ ﴿16﴾ وَآتَيْنَاهُم بَيِّنَاتٍ مِّنَ الْأَمْرِ فَمَا اخْتَلَفُوا إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءهُمْ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ﴿17﴾ ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَى شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاء الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ﴿18﴾ إِنَّهُمْ لَن يُغْنُوا عَنكَ مِنَ اللَّهِ شَيئًا وإِنَّ الظَّالِمِينَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ ﴿19﴾ هَذَا بَصَائِرُ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّقَوْمِ يُوقِنُونَ ﴿20﴾ أًمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أّن نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاء مَّحْيَاهُم وَمَمَاتُهُمْ سَاء مَا يَحْكُمُونَ ﴿21﴾ وَخَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ﴿22﴾ أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَى بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّهِ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ﴿23﴾ وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ وَمَا لَهُم بِذَلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ ﴿24﴾ وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا ائْتُوا بِآبَائِنَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿25﴾ قُلِ اللَّهُ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيبَ فِيهِ وَلَكِنَّ أَكَثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿26﴾ وَلَلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرضِ وَيَومَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَخْسَرُ الْمُبْطِلُونَ ﴿27﴾ وَتَرَى كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَى إِلَى كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿28﴾ هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿29﴾ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِي رَحْمَتِهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ ﴿30﴾ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا أَفَلَمْ تَكُنْ آيَاتِي تُتْلَى عَلَيْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَكُنتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِينَ ﴿31﴾ وَإِذَا قِيلَ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ لَا رَيْبَ فِيهَا قُلْتُم مَّا نَدْرِي مَا السَّاعَةُ إِن نَّظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ ﴿32﴾ وَبَدَا لَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا عَمِلُوا وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُون ﴿33﴾ وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاء يَوْمِكُمْ هَذَا وَمَأْوَاكُمْ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ ﴿34﴾ ذَلِكُم بِأَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا وَغَرَّتْكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فَالْيَوْمَ لَا يُخْرَجُونَ مِنْهَا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ ﴿35﴾ فَلِلَّهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَرَبِّ الْأَرْضِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿36﴾ وَلَهُ الْكِبْرِيَاء فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿37﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

حا۔ میم۔ (1) یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے جو غالب ہے (اور) بڑا حکمت والا ہے۔ (2) بےشک آسمانوں اور زمین میں اہلِ ایمان کے لئے (خدا کی توحید و قدرت کی) بہت سی نشانیاں ہیں۔ (3) اورخود تمہاری پیدائش میں اور ان حیوانات میں جن کو وہ (زمین میں) پھیلا رہا ہے یقین رکھنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں۔ (4) اور رات اور دن کی آمد ورفت میں اس (ذریعہ) رزق (بارش) میں جو اللہ نے آسمانوں سے نازل کیا اور اس سے زمین کو زندہ کر دیا اس کی موت کے بعد اور ہواؤں کی گردش میں بھی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ (5) یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم حق کے ساتھ آپ کو پڑھ کر سنا رہے ہیں تو آخر اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد وہ کونسی بات ہے جس پر وہ ایمان لائیں گے؟ (6) ہلاکت ہے ہر اس بڑے جھوٹے (اور) بڑے گنہگار کے لئے۔ (7) جو اللہ کی آیتوں کو سنتا ہے جب اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں پھر وہ تکبر کے ساتھ اس طرح اَڑا رہتا ہے کہ گویا اس نے انہیں سنا ہی نہیں۔ بس تم اسے دردناک عذاب کی خبر دے دو۔ (8) اور جب اس کو ہماری آیات میں سے کسی کا علم ہوتا ہے تو وہ ان کو مذاق بنا لیتا ہے ایسے لوگوں کیلئے رسوا کُن عذاب ہے۔ (9) ان کے آگے جہنم ہے اور انہوں نے جو کچھ کیا کمایا ہے وہ انہیں کوئی فائدہ نہ دے گا اور نہ ہی وہ ان کے کام آئیں گے جن کو انہوں نے اللہ کے سوا کارساز بنا رکھا ہے اور ان کیلئے بڑا عذاب ہے۔ (10) یہ ہدایت ہے (اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے پرودرگار کی آیتوں کا انکار کیا ان کیلئے) سخت قِسم کا دردناک عذاب ہے۔ (11) اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے سمندر کومسخر کر دیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کا فضل (رزق) تلاش کرو۔ اور تاکہ تم شکر کرو۔ (12) اوراس نے آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے۔ بےشک اس میں غورو فکر کرنے والوں کیلئے (خدا کی قدرت و حکمت کی) نشانیاں ہیں۔ (13) (اے رسول(ص)) ایمان والوں سے کہیے! کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے (خاص) دنوں کی امید نہیں رکھتے تاکہ اللہ ایک قوم کو اس کے ان سارے اعمال کا بدلہ دے جو وہ کیا کرتے تھے۔ (14) جو کوئی نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے فائدہ کیلئے کرتا ہے اورجو کوئی بر ائی کرتا ہے اس کا وبال بھی اسی پر پڑتا ہے پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (15) اور یقیناً ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب، حُکم اور نبوت عطا فرمائی اور ان کو پاکیزہ رزق عطا فرمایا اور ان کو دنیا جہان والوں پر فضیلت عطا کی۔ (16) اورہم نے انہیں دین کے معاملہ میں کھلے دلائل عطا کئے پس انہوں نے اس میں اختلاف نہیں کیا مگر علم آجانے کے بعد محض باہمی ضد اور ظلم کی وجہ سے۔ بےشک قیامت کے دن آپ(ص) کا پروردگار ان کے درمیان فیصلہ کرے گا جن چیزوں میں وہ باہم اختلاف کرتے تھے۔ (17) (اے رسول(ص)) پھر ہم نے آپ(ص) کو ایک واضح شریعت پر قائم کیا ہے پس آپ(ص) اس کی پیروی کیجئے! اور ان لوگوں کی خواہش کی پیروی نہ کیجئے جو علم نہیں رکھتے۔ (18) وہ اللہ کے مقابلہ میں آپ(ص) کو ہرگز کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ یقیناً ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہوتے ہیں اور اللہ تو پرہیزگاروں کا ساتھی (اور پُشت پناہ) ہے۔ (19) یہ(قرآن) لوگوں کے لئے بصیرتوں کا سرمایہ اور یقین رکھنے والوں کیلئے ہدایت و رحمت کا باعث ہے۔ (20) کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں کی مانند قرار دیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے؟ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو جائے گا؟ بہت براہے وہ فیصلہ جو وہ کر رہے ہیں۔ (21) اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق و حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دیاجائے اور ان پر (ہرگز) ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (22) کیا آپ(ص) نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنا رکھاہے اوراللہ نے باوجود علم کے اسے گمراہی میں چھوڑ دیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پر دہ ڈال دیا ہے اللہ کے بعد کون ایسے شخص کو ہدایت کر سکتا ہے؟ کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ (23) اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو بس یہی دنیٰوی زندگی ہے۔ یہیں ہم مرتے ہیں اور یہیں جیتے ہیں اور ہمیں صرف گردشِ زمانہ ہلاک کرتی ہے حالانکہ انہیں اس (حقیقت) کا کوئی علم نہیں ہے وہ محض گمان کی بناء پر ایسا کہتے ہیں۔ (24) اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی ہوئی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کے پاس کوئی حجت اور دلیل نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر کے) لاؤ۔ (25) آپ(ص) کہہ دیجئے! اللہ ہی تمہیں زندہ رکھتا ہے وہی تمہیں موت دیتا ہے پھر وہی تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) جانتے نہیں ہیں۔ (26) آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی بادشاہی ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل پرست لوگ خسارہ اٹھائیں گے۔ (27) اور آپ دیکھیں گے کہ اس وقت ہر گروہ گھٹنوں کے بل گرا ہوا اپنے (فیصلے کامنتظر) ہوگا اور ہر گروہ کو اس کی کتاب (صحیفۂ عمل) کی طرف بلایا جائے گا (اور ان سے کہا جائے گا کہ) آج تمہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ (28) یہ ہماری کتاب (دفترِ عمل) ہے جو تمہارے بارے میں حق و سچ کے ساتھ بولتی ہے ہم لکھتے (لکھواتے) رہتے تھے جو کچھ تم کرتے تھے۔ (29) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کا پروردگار انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گااوریہی واضح کامیابی ہے۔ (30) اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا (ان سے کہا جائے گا) میری آیتیں تمہیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟ مگر تم نے تکبر کیا اور تم مجرم لوگ تھے۔ (31) اورجب (تم سے) کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں ہے تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے؟ بس ایک گمان ہے جو ہم کرتے ہیں اور ہمیں اس کا یقین نہیں ہے۔ (32) (اس وقت) ان کے اعمال کی برائیاں واضح ہو جائیں گی اور وہ چیز ان کو گھیرے گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ (33) اور (ان سے کہا) جائے گا کہ آج ہم تمہیں اس طرح نظر انداز کریں گے جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات (حاضری) کو بُھلا دیا تھا۔ تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے۔ (34) یہ اس لئے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کامذاق اڑایا تھا اوردنیاوی زندگی نے تمہیں دھوکہ میں مبتلا کیا۔ پس وہ آج نہ تو اس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کو معذرت (خدا کو راضی) کرنے کاموقع دیا جائے گا۔ (35) ہر قِسم کی تعریف اللہ کیلئے ہے جو آسمانوں اور زمین کا بلکہ سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ (36) اسی کیلئے کِبریائی ہے اور وہ بڑا غالب (اور) بڑی حکمت والا ہے۔ (37)

پچھلی سورت: سورہ دخان سورہ جاثیہ اگلی سورت:سورہ احقاف

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. خرمشاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن‌ پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۰.
  2. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۶.
  3. خرم شاہی، دانش نامہ قرآن و قرآن‌ پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۰.
  4. رجوع کنید بہ: طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج۱۸، ص۱۵۴.
  5. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  6. مکارم شیرازی، برگزیده تفسیر نمونہ، ۱۳۸۷ش، ج‌۴، ص۴۰۴.
  7. طبرسی، مجمع البیان، ۱۴۱۵ق، ج۹، ص۱۱۸.
  8. صدوق، ثواب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ص۱۱۴.
  9. بحرانی، تفسیرالبرهان، ۱۴۱۶ق، ج۵، ص۲۳.
  10. بحرانی، تفسیر البرهان، ۱۴۱۶ق، ج۵، ص۲۳۱.
  11. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • قرآن کریم، ترجمہ محمد مہدی فولادوند، تہران، دار القرآن الکریم، ۱۴۱۸ق/۱۳۷۶ش.
  • بحرانی، سید ہاشم، البرہان، تہران، بنیاد بعثت، ۱۴۱۶ق.
  • خرمشاہی، بہاءالدین، دانشنامہ قرآن و قرآن‌ پژوہی، تہران، انتشارات دوستان، ۱۳۷۷ش.
  • سعدی، مصلح‌ بن‌ عبداللہ، گلستان، دیباچہ، تصحیح: حسین استادولی، انشارات، قدیانی، چاپ۲۹، ۱۳۹۳ش.
  • صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، تحقیق: صادق حسن زادہ، تہران، ارمغان طوبی، ۱۳۸۲ش.
  • طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسة الأعلمي للمطبوعات، چاپ دوم، ۱۹۷۴م.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسة الأعلمي للمطبوعات، چاپ اول، ۱۴۱۵ق.
  • علی‌ بابایی، احمد، برگزیدہ تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۸۷ش.
  • محقق، محمد باقر، نمونہ بینات در شأن نزول آیات از نظر شیخ طوسی، تہران، انتشارات اسلامى، چاپ چہارم، ۱۳۶۱ش.
  • معرفت، محمد ہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چ۱، ۱۳۷۱ش.