سورہ عبس

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
نازعات سورۂ عبس تکویر
سوره عبس.jpg
ترتیب کتابت: 80
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 24
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 42
الفاظ: 133
حروف: 553

سورہ عبس قرآن کریم کی مکی سورتوں میں سے ہے۔ ترتیب نزول کے لحاظ سے چوبیسویں جبکہ ترتیب مصحف کے اعتبار سے 80ویں سورت ہے۔ اس سورت کا آغاز لفظ عَبَسَ سے ہوتا ہے جس کے معنی تیوری چڑھانے کے ہیں اسی وجہ سے اس کو سورہ عبس کہا گیا ہے۔ سورہ عبس میں قرآن کی اہمیت، اپنے پروردگار کی نعمتوں کے مقابلے میں انسان کی نا شکری اور قیامت کے واقعات اور اس دن انسان کے انجام کے بارے میں گفتگوں ہوتی ہے۔ اس کی ابتدائی آیات میں آیا ہے کہ خدا اس شخض کی توبیخ کرتا ہے جو کسی نابینا کے ساتھ تیوری چڑھا کر پیش آتا ہے۔ یہ شخص پیغمبر اکرمؐ تھا یا کوئی اور اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

آیت نمبر 34 سے لے کر 37 تک اس سورت کی مشہور آیات میں سے ہیں جن میں محشر کے واقعات کی تصویر کشی کرتے ہوئے فرماتے ہیں اس دن انسان اپنے عزیزوں (ماں باپ، بہن بھائی اور بیوی بچوں) سے بھی دور بھاگتا ہے۔ احادیث میں آیا ہے کہ جو شخص سورہ عبس کی تلاوت کرے قیامت کے دن وہ خوشحال اور مسکراتے ہوئے محشور ہو گا۔


تعارف

9ویں صدی ہجری تیموریان کے دور میں خط مُحقَّق میں قرآن کا ایک صفحہ‌ جس میں قرائت ہفتگانہ کی نشاندہی کی گئی ہے۔
  • نام

اس سورت کا نام عَبَس رکھا گیا ہے جس کے معنی تیوری چڑھانے کے ہیں۔ کیونکہ یہ سورہ اسی لفظ سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے دوسرے اسامی میں أعمی اور سَفَرَہ بھی ہیں۔ پہلا نام دوسری آیت سے جبکہ دوسرا نام 15ویں آیت سے لیا گیا ہے۔ "اعمیٰ" نابینا کے معنی میں جبکہ "سَفَرَہ" سفیر کا جمع ہے اور اس سے مراد وہ فرشتگان ہیں جو انسان کے اعمال کو ثبت کرتے ہیں۔[1]

  • محل اور ترتیب نزول

سورہ عبس قرآن کی مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے 24ویں جبکہ ترتیب مُصحَف کے اعتبار سے 80ویں سورت ہے[2] اور یہ قرآن کے آخری پارے میں واقع ہے۔

  • آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ عبس 42 آیات، 133 کلمات اور 553 حروف پر مشتمل ہے۔ اس کا شمار مفصلات میں ہوتا ہے اور نسبتا چھوٹی سورتوں میں سے ہے۔[3]

مضامین

سورہ عبس نسبتا چھوٹی سورت ہونے کے باوجود مختلف مسائل سے بحث کرتی ہے اور معاد کے بحث پر اس کی خاص توجہ مرکوز ہے۔ اس سورت کے مضامین کو 5 حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

  1. حق اور حقیقت کے متلاشی ایک نابینا کے ساتھ مناسب رویہ اختیار نہ کرے پر خدا کا سخت رد عمل۔
  2. قرآن مجید کی عظمت اور منزلت۔
  3. خدا کی دی ہوئی نعمتوں کے مقابلے میں انسان کی ناسپاسی اور ناشکری۔
  4. انسان میں حس شکرگزاری کو بیدار کرنے کیلئے خدا کی نعمتوں کی ایک جہلک۔
  5. قیامت کے ہولناک واقعات کا تذکرہ اور اس دن مؤمنوں اور کفار کا انجام۔[4]
سورہ عبس کے مضامین[5]
 
 
اللہ سے اپنے آپ کو بےنیاز سمجھنے والوں کو انتباہ
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا گفتار؛ آیہ ۱۷-۴۲
اللہ سے اپنے آپ کو بےنیاز سمجھنے والوں کا غلط تصور
 
پہلا گفتار؛ آیہ ۱-۱۶
مشاہدہ اعمال کے مراحل
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱۷-۲۳
زندگی کے ہر مرحلے میں انسان کی خدا سے وابستگی
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱-۱۰
بے ایمان مالداروں کو غریب مومنوں پر ترجیح نہ دیں
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۲۴-۳۲
خوراک کی فراہمی میں انسان کا اللہ سے وابستہ ہونا
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۱۱-۱۶
قرآن کے نزول کا ہدف، انسان کو بیدار کرنا ہے
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ۳۳-۴۲
آخرت میں گناہگار کافروں کی ذلت اور عذاب
 
 


شأن نزول

اس سورت کے شأن نزول کے بارے میں دو طرح کے نظریات موجود ہیں:

  1. اہل سنت مفسرین نقل کرتے ہیں کہ قریش کے بعض اکابرین پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں حاضر تھے اور پیغمبر اکرمؐ ان کو اسلام کی طرف دعوت دینے میں مشغول تھے تاکہ ان کے دلوں پر کوئی اثر ہو۔ اتنے میں عبداللہ ابن ام‌ مکتوم جو ایک نابینا اور غریب شخص تھا بھی پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پیغمبر اکرمؐ سے قرآن کی چند آیات کی تعلیم دینے کی درخواست کی اور وہ اپنی یہ درخواست بار بار دہرا رہا تھا۔ اور بار بار پیغمبر اکرمؐ کی گفتگو کو قطع کیا جس سے پیغمبر اکرمؐ ناراض ہوئے اور آپ کے چہرے پر ناراضگی کے آثار نمودار ہوئے اور آپ نے دل میں یہ کہنا شروع کیا کہ یہ عرب کےاکابرین کہیں گے کہ محمدؐ کے پیرکار نابینا اور غلام ہیں، یہ سوچ کر آپ نے عبداللہ سے منہ پھیر لیا اور قریش کے اکابرین سے اپنی گفتگو جاری رکھی اس موقع پر یہ اس آیت کے ذریعے خدا نے آپ کی توبیخ فرمائی۔ پیغمبر اکرمؐ نے اس کے بعد ہمیشہ عبداللہ کا احترام کرتے تھے اور فرماتے تھے "مرحبا اس شخص پر جس کی وجہ سے میرے پروردگار نے میری تنبیہ کی"۔[6]
  2. اس حوالے سے شیعہ مفسرین نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت بنی‌امیہ کے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں بیٹھے تھے اتنے میں عبداللہ بن ام‌ مکتوم بھی پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جیسے ہی اس شخص کی نظر عبداللہ پر پڑی تو اس نے اپنے آپ کو جمع کرنا شروع کیا۔ گویا اس نے خیال کیا کہ عبدالله کی وجہ سے اس کے کپڑے بھی میلے ہوں گے یہ سوچ کر اس کے چہرے کا رنگ بھی بگھڑنے لگا اور اس نے اپنا چہرا موڑ لیا۔ اس موقع پر خدا نے ان آیتوں کے ذریعے اس کی توبیخ فرمائی۔ یہ شأن نزول امام صادقؑ سے منقول ایک حدیث میں بھی نقل ہوئی ہے۔[7]

بہت سارے شیعہ علماء من جملہ سید مرتضی اور علامہ طباطبایی اس سلسلے میں پہلے نظریے کو صحیح نہیں مانتے۔ علامہ طباطبایی معتقد ہیں کہ مذکورہ آیات سے یہ بات واضح اور آشکار نہیں ہے کہ مذکورہ تنبیہ شدہ شخص سے مراد خود پیغمبر اکرمؐ ہو بلکہ بہت سارے قرائن و شواہد موجود ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی اور شخص تھا۔ کیونکہ پیغمبر اکرمؐ حتی کفار کے ساتھ بھی تندی سے پیش نہیں آتے تھے چہ رسد مؤمنین کے ساتھ۔ اس کے علاوہ خداوندعالم نے سورہ قلم جو کہ سورہ عبس سے پہلے نازل ہوئی ہے، میں پیغمبر اکرمؐ کی اخلاق کو خلق عظیم سے تعبیر کی ہیں۔[نوٹ 1] اسی طرح اس سے پہلے بہت ساری آیات میں پیغمبر اکرمؐ کو مؤمنوں کے ساتھ تواضع اور انکساری سے پیش آنے اور دنیا کے زرق و برق سے مرغوب نہ ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔[نوٹ 2] اس کے علاوہ غریبوں کے ساتھ تند روی سے پیش آنا عقلی اعتبار سے بھی ایک قبیح فعل ہے اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ ایسا عمل پیغمبر اکرمؐ سے سرزد ہو۔[8]

مشہور آیتیں

  • فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ إِلَىٰ طَعَامِهِ (آیت 24) ترجمہ: ذرا انسان اپنے کھانے کی طرف تو نگاہ کرے۔

اس آیت کی تفسیر میں آیا ہے کہ یہاں پر "نظر کرنے اور دیکھنے" سے مراد دقت اور غور و فکر کرنا ہے۔[9] اس بارے میں غور و غکر کرنا کہ جو کھانا انسان کھا رہا ہے وہ کہاں سے اور کس طریقے سے آیا ہے آیا حلال ہے یا حرام؟[10] بعض احادیث میں بھی آیا ہے کہ یہاں پر کھانے سے مراد علم اور آگاہی ہے جو حقیقت میں روح کی غذا ہے؛ پس انسان کو چاہئے کہ یہ دہیان رکھئے کہ وہ اپنا علم کس سے حاصل کر رہا ہے۔[11]

  • يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ، وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ، وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ (آیات 34-36) ترجمہ: جس دن انسان اپنے بھائی سے فرار کرے گا اور ماں باپ سے بھی اور بیوی اور بچوں سے بھی۔

تفاسیر میں آیا ہے کہ یہ آیتیں قیامت اور محشر کی شدت اور ہولناکی[12] کو بیان کرتی ہیں۔ اس وقت انسان نہ صرف اپنے پیاروں کو بھلا دیتے ہیں بلکہ ان سے دور بھاگتے ہیں۔[13] یہ واقعہ اس عظیم اور خطرناک آواز(صیحہ) کے بعد واقع ہو گا جو انسان کے کانوں کو گونگھا کر دیتی ہے۔ یہ آواز جسے صور اسرافیل کہا جاتا ہے جس کی طرف اس سورت کی آیت نمبر 33 میں اشارہ ہوا ہے۔[14] امیرالمؤمنین حضرت علیؑ مسجد کوفہ میں اپنی مناجات میں انہی آیات کی تلاوت فرماتے ہوئے اس دن کی ہولناکی سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔[15]

فضیلت اور خواص

اس سورت کی تلاوت کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوئی ہے کہ جو شخص سورہ عبس کی تلاوت کرے گا وہ شخص خوشحال اور مسکراتے ہوئے قیامت میں محشور ہو گا۔[16] امام صادقؑ سے بھی نقل ہوئی ہے که یہ شخص بہشت میں خدا کے پرچم کے سایے میں ہوگا اور خدا کی کرامتیں اس کے شامل حال ہونگے اور یہ کام خدا کیلئے بہت ہی آسان ہے۔[17] اسی طرح امام صادقؑ سے ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص بارش کی وقت اس سورت کی تلاوت کرے گا خداوندمتعال بارش کے قطرات کے برابر اس کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔[18] بعض احادیث میں اس سورت کی تلاوت کیلئے مخصوص خواص کا ذکر ملتا ہے جن میں مسافروں کا خطرے سے امان میں رہنا[19] اور گم شدہ کا پیدا ہونا[20] وغیره ہے۔

متن سورہ

سورہ عبس
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

عَبَسَ وَتَوَلَّى ﴿1﴾ أَن جَاءہُ الْأَعْمَى ﴿2﴾ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّہُ يَزَّكَّى ﴿3﴾ أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَہُ الذِّكْرَى ﴿4﴾ أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَى ﴿5﴾ فَأَنتَ لَہُ تَصَدَّى ﴿6﴾ وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّى ﴿7﴾ وَأَمَّا مَن جَاءكَ يَسْعَى ﴿8﴾ وَہُوَ يَخْشَى ﴿9﴾ فَأَنتَ عَنْہُ تَلَہَّى ﴿10﴾ كَلَّا إِنَّہَا تَذْكِرَةٌ ﴿11﴾ فَمَن شَاء ذَكَرَہُ ﴿12﴾ فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ ﴿13﴾ مَّرْفُوعَةٍ مُّطَہَّرَةٍ ﴿14﴾ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ ﴿15﴾ كِرَامٍ بَرَرَةٍ ﴿16﴾ قُتِلَ الْإِنسَانُ مَا أَكْفَرَہُ ﴿17﴾ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَہُ ﴿18﴾ مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَہُ فَقَدَّرَہُ ﴿19﴾ ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَہُ ﴿20﴾ ثُمَّ أَمَاتَہُ فَأَقْبَرَہُ ﴿21﴾ ثُمَّ إِذَا شَاء أَنشَرَہُ ﴿22﴾ كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَہُ ﴿23﴾ فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ إِلَى طَعَامِہِ ﴿24﴾ أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاء صَبًّا ﴿25﴾ ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا ﴿26﴾ فَأَنبَتْنَا فِيہَا حَبًّا ﴿27﴾ وَعِنَبًا وَقَضْبًا ﴿28﴾ وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا ﴿29﴾ وَحَدَائِقَ غُلْبًا ﴿30﴾ وَفَاكِہَةً وَأَبًّا ﴿31﴾ مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ ﴿32﴾ فَإِذَا جَاءتِ الصَّاخَّةُ ﴿33﴾ يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيہِ ﴿34﴾ وَأُمِّہِ وَأَبِيہِ ﴿35﴾ وَصَاحِبَتِہِ وَبَنِيہِ ﴿36﴾ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيہِ ﴿37﴾ وُجُوہٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ﴿38﴾ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ ﴿39﴾ وَوُجُوہٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْہَا غَبَرَةٌ ﴿40﴾ تَرْہَقُہَا قَتَرَةٌ ﴿41﴾ أُوْلَئِكَ ہُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ ﴿42﴾۔


(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

(ایک شخص نے) تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا۔ (1) کہ اس (پیغمبرِ اسلام (ص)) کے پاس ایک نابینا آیا۔ (2) اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ پاکیزہ ہو جاتا۔ (3) یا نصیحت حاصل کرتا اور نصیحت اسے فائدہ پہنچاتی۔ (4) جوشخص مالدار ہے (یا بےپروائی کرتا ہے)۔ (5) تو تم اس کی طرف تو توجہ کرتے ہو۔ (6) حالانکہ تم پر کوئی الزام نہیں اگر وہ پاکیزہ نہیں ہوتا۔ (7) اور جو تمہارے پاس دوڑتا ہوا (شوق سے) آتا ہے۔ (8) اور (خدا سے) ڈرتا ہے۔ (9) تو تم اس سے بےرُخی بر تتے ہو۔ (10) ہرگز نہیں! یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے۔ (11) جو چاہے اسے قبول کرے۔ (12) یہ (قرآن) ان صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں۔ (13) بلند مر تبہ (اور) پاک و پاکیزہ ہیں۔ (14) جو ایسے کاتبوں کے ہاتھوں سے (لکھے ہوئے) ہیں۔ (15) جو معزز اور نیکوکار ہیں۔ (16) غارت ہو (منکر) انسان یہ کتنا بڑا ناشکرا ہے؟ (17) اللہ نے اسے کس چیز سے پیدا کیا ہے؟ (18) نطفہ سے اسے پیدا کیا ہے اور پھر اس کے اعضاء و جوا رح کا اندازہ مقرر کیا ہے۔ (19) پھر (زندگی کا) راستہ اس کے لئے آسان کر دیا۔ (20) پھر اس کو موت دی پھر اسے قبر میں پہنچایا۔ (21) پھر جب چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا۔ (22) ہرگز نہیں (بایں ہمہ) اس نے اسے پورا نہ کیا جس کا (خدا نے) اسے حکم دیا تھا۔ (23) انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی غذا کی طرف دیکھے۔ (24) ہم نے اچھی طرح خوب پانی برسایا۔ (25) پھر ہم نے زمین کو اچھی طرح شگافتہ کیا۔ (26) پھر ہم نے اس میں غلے۔ (27) اور انگور اور ترکاریاں اگائیں۔ (28) اور زیتون اور کجھوریں۔ (29) اور گھنے باغ۔ (30) اور میوے اور چارا۔ (31) جو تمہارے اور تمہارے مویشوں کیلئے سامانِ زندگی کے طور پر ہے۔ (32) پس جب کانوں کو پھاڑ دینے والی آواز آجائے گی۔ (33) تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے۔ (34) اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔ (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا۔ (36) اس دن ان میں ہر شخص کا یہ عالم ہوگا جو اسے سب سے بےپروا کر دے گا۔ (37) کچھ چہرے اس دن روشن ہوں گے۔ (38) خنداں و شاداں (اور خوش و خرم) ہوں گے۔ (39) ور کچھ چہرے ایسے ہوں گے جن پر گرد و غبار پڑی ہوئی ہوگی۔ (40) اور ان پر سیاہی چھائی ہوگی۔ (41) اور یہی لوگ کافر و فاجر ہوں گے۔ (42)

پچھلی سورت: سورہ نازعات سورہ عبس اگلی سورت:سورہ تکویر

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۱۔
  2. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۱۶۶۔
  3. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۱۔
  4. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۶، ص۱۲۱۔
  5. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  6. طبری، جامع البيان في تفسير القرآن، ۱۴۱۲ق، ج‏۳۰، ص۳۳؛ تفسیر رازی، ۱۴۲۰ق، ج۳۱، ص۵۳۔
  7. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۶۶۴؛ طوسی، التبیان، ۱۴۰۹ق، ج۱۰، ص۲۶۹۔
  8. طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج۲۰، ص۲۰۳۔
  9. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۶، ص۱۴۵۔
  10. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۶، ص۱۴۵۔
  11. بحرانی، البرہان، ۱۴۱۵ق، ج۵، ص۵۸۴۔
  12. طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج۲۰، ص۲۱۰۔
  13. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۶، ص۱۵۷ـ۱۵۸۔
  14. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۶، ص۱۵۷؛ طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج۲۰، ص۲۱۰۔
  15. مفاتیح الجنان، باب سوم، فضیلت مسجد کوفہ و اعمال آن، مناجات امیرالمؤمنین، ص۵۷۶۔
  16. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۶۶۱۔
  17. شیخ صدوق، ثواب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ص۱۲۱۔
  18. نوری، مستدرک الوسائل، ۱۴۰۸ق، ج۶، ص۲۱۰۔
  19. بحرانی، البرہان، ۱۴۱۵ق، ج۵، ص۵۸۱۔
  20. کفعمی، مصباح، ۱۴۲۳ق، ص۱۸۲۔


نوٹ

  1. "وَ إِنَّكَ لَعَلى‏ خُلُقٍ عَظِيمٍ" (سورہ قلم، آیت نمبر4)۔
  2. مثلا: "اور پیغمبر آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے اور جو صاحبانِ ایمان آپ کا اتباع کرلیں ان کے لئے اپنے شانوں کو جھکا دیجئے" (سورہ شعراء، آيت 214-215) "لہذا آپ ان کفار میں بعض افراد کو ہم نے جو کچھ نعمااُ دنیا عطا کردی ہیں ان کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں اور اس کے بارے میں ہرگز رنجیدہ بھی نہ ہوں بس آپ اپنے شانوں کو صاحبانِ ایمان کے لئے جھکائے رکھیں " (سورہ حجر، آيت ۸۸)

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • بحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، قم، مؤسسۃ البعثۃ، چاپ اول، ۱۴۱۵ق۔
  • دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، بہ کوشش بہاءالدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، تحقیق: صادق حسن زادہ، تہران، ارمغان طوبی، ۱۳۸۲ش۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمي للمطبوعات،‌ چاپ دوم،‌ ۱۹۷۴م۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲ش۔
  • کفعمی، ابراہیم بن علی، المصباح للکفعمی، قم، محبین، ۱۴۲۳ق۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چاپ اول، ۱۳۷۱ش۔
  • قمی،‌ شیخ عباس، مفاتیح الجنان، قم، نشر مؤسسہ انصاریان، ۱۳۸۲ش۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ دہم، ۱۳۷۱ش۔
  • نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسائل، بیروت، مؤسسہ آل البیت لاحیاء التراث، ۱۴۰۸ق۔

بیرونی روابط

سورہ عبس کی تلاوت