سورہ انفطار

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
تکویر سورۂ انفطار مطففین
سوره انفطار.jpg
ترتیب کتابت: 82
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 82
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 19
الفاظ: 81
حروف: 333

سورہ انفطار قرآن کی 82ویں اور مَکّی سورتوں میں سے ہے جو 30ویں پارے میں واقع ہے۔ اس سورت کا نام انفطار ہے جس کے معنی پھٹ جانے اور ایک دوسرے سے جدا ہونے کے ہیں اور یہ نام اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے جس میں خدا نے آسمان کے پھٹ جانے کا تذکرہ فرمایا ہے۔ سورہ انفطار میں قیامت اور اس کے شرایط اور نشانیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح ابرار (نیکوکار) اور فُجّار (بدکار) نیز ان دونوں کے مقام و منزلت کی طرف بھی اس سورت میں اشارہ ملتا ہے۔ اس کی تلاوت کے بارے میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: جو شخص سورہ انفطار کی تلاوت کرے خدا اسے روی زمین پر موجود تمام قبروں کی تعداد کے برابر نیز برف اور بارش کے قطروں کے دس گنا نیکیاں عطا کرے گا۔

تعارف

  • نام

اس سورت کا نام اِنفطار‌ رکھا گیا ہے جس کے معنی پھٹ جانے کے ہیں۔ یہ نام اس سورت کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے جس میں قیامت کے دن آسمان کے پھٹ جانے کا تذکرہ ہوا ہے۔ اس سورت کا دوسرا نام إنفَطَرَت‌ ہے۔[1]

  • محل اور ترتیب نزول

سورہ انفطار مَکّی سورتوں میں سے ہے۔ ترتیب نزول اور ترتیب مُصحَف دونوں اعتبار سے اس کا شمار 82ویں نمبر پر آتا ہے۔[2] یہ سورت قرآن کے تیسویں پارے میں واقع ہے۔

  • آیت کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ انفطار 19 آیات، 81 کلمات اور 333 حروف پر مشتمل ہے۔ آیتوں کے مختصر ہونے کی وجہ سے اس کا شمار مفصلات میں ہوتا ہے جبکہ حجم کے اعتبار سے یہ سورت قرآن کی نسبتا چھوٹی سورتوں میں سے ہے۔[3]

مضامین

سورہ انفطار میں قیامت اور اس کی نشانیوں نیز اس دنیا کے اختتام پر رونما ہونے والے واقعات کا ذکر ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ سورت انسان کو خدا کی ان نعمتوں کی طرف متوجہ کراتی ہے جو اس کے وجود کو احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس سورت میں خداوند متعال نے انسانوں کو دو گروہوں (ابرار اور فجار) میں تقسیم کرتے ہوئے قیامت کے دن ان میں سے ہر ایک کے انجام تصویر کشی فرمائی ہے۔ اسی طرح خدا کے مقرب فرشتوں(کراما کاتبین) کے ذریعے انسان کے اعمال کا ثبت و ضبط ہونے کا تذکرہ بھی اس سورت میں ملتا ہے۔[4]

سورہ انفطار کے مضامین[5]
 
 
 
 
قیامت میں انسانی اعمال کی درست حساب کتاب
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا گفتار: آیہ ۱۳-۱۹
درست حساب و کتاب کا وقت
 
دوسرا گفتار: آیہ ۶-۱۲
اعمال کی درست حساب و کتاب سے انسان کی غفلت کی دلائل
 
پہلا گفتار: آیہ ۱-۵
اعمال کے صحیح حساب سے آگاہی کے مراحل
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب: آیہ ۱۳-۱۶
قیامت کے دن اعمال کا درست حساب و کتاب
 
پہلی دلیل: آیہ ۶-۸
انسان کی حکمت آمیز اور صحیح خلقت سے غفلت
 
مرحلہ اول: آیہ ۱-۳
کائنات کے نظم کی نابودی
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب: آیہ ۱۷-۱۹
قیامت کا دن اللہ کی فرمانروائی کا دن
 
دوسری دلیل: آیہ ۹
اللہ کے دین اور قوانین کا پابند ہونا
 
مرحلہ دوم: آیہ ۴-۵
انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسری دلیل: آیہ ۱۰-۱۲
انسانی اعمال کا فرشتوں کے توسط صحیح حساب و کتاب سے غفلت
 
 


آیات مشہور

  • يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ(ترجمہ: اے انسان تجھے کس چیز نے اپنے (رحیم و) کریم پروردگار سے دھو کے میں ڈال رکھا ہے؟) (آیت 6)

تفسیر نمونہ میں آیا ہے که اس آیت کا اصل مقصد انسان کی غرور کو ختم کرکے اسے خواب غلت سے بیدار کرنا ہے۔[6] امام علیؑ نہج البلاغہ کے ایک خطبے میں اس آیت کی طرف اشارہ کرتے هوئے انسان کو مخاطب قرار دیتے ہوئے یوں فرماتے ہیں کہ آخر انسان کیسے غرور میں مبتلا ہوکر گناہ کی جرأت کرتا ہے۔ اس کو بالکل اس بات کی کوئی پروا نہیں ہے کہ حالانکہ دیگر بہت سارے موارد میں انسان دوسروں کا لحاظ رکھتا ہے۔ خدا کے غضب کا خوف کس طرح اس انسان کو خواب غفلت سے بیدار نہیں کر رہا؟ اور انسان اپنی تمام تر ناتوانی اور کمزوری کے باوجود خدا کی معصیت کی جرأت پیدا کرتا ہے؛ وہ پروردگار جو کریم ہے اور اپنے بندے پر احسان کرنے میں کوئی دریغ نہیں کرتا اور اسے ایک لمحے کیلئے بھی اپنی لطف و کرم سے محروم نہیں فرماتا۔[7]

فضیلت اور خواص

تفسیر مجمع البیان میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ جو شخص سورہ انفطار کی تلاوت کرے خدا اسے روی زمین پر موجود تمام قبروں کی تعداد کے برابر نیز برف اور بارش کے قطروں کے دس گنا نیکیاں عطا کرے گا۔[8] اسی طرح ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا کہ جو شخص قیامت کے دن میری زیارت کرن چاہتے ہیں جس طرح ظاہری آنگوں سے میری زیارت کی جاتی ہے، تو اسے چاہئے کہ سورہ تکویر، سورہ انفطار اور سورہ انشقاق کی تلاوت کرے۔[9] شیخ صدوق امام صادقؑ سے ایک حدیث میں نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص سورہ انفطار اور سورہ انشقاق کو اپنی واجب یا مستحب نمازوں میں قرأت کرے تو خدا اس کی حاجتوں کو پورا کرے گا اور اس کے اور خدا کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوگا اور خدا ہمیشہ رحمت کی نگاہ سے اسے دیکھے گا یہاں تک کہ وہ حساب و کتاب سے فارغ ہو جائے۔[10]

شیعہ حدیثی منابع میں اس سورت کی تلاوت کے کچھ خواص کا تذکرہ ملتا ہے جن میں زندان سے رہائی،[11] قیامت کی رسوائی سے محفوظ رہنا اور آنکھوں کی بینائی میں اضافہ اور آنکھوں کی بیماریوں سے نجات وغیرہ شامل ہیں۔[12] ذکر شدہ است۔


متن اور ترجمہ

سورہ انفطار
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

إِذَا السَّمَاءُ انفَطَرَتْ ﴿1﴾ وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انتَثَرَتْ ﴿2﴾ وَإِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ ﴿3﴾ وَإِذَا الْقُبُورُ بُعْثِرَتْ ﴿4﴾ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ ﴿5﴾ يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ ﴿6﴾ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ ﴿7﴾ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاء رَكَّبَكَ ﴿8﴾ كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِالدِّينِ ﴿9﴾ وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ ﴿10﴾ كِرَامًا كَاتِبِينَ ﴿11﴾ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ ﴿12﴾ إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ ﴿13﴾ وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ ﴿14﴾ يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ الدِّينِ ﴿15﴾ وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَائِبِينَ ﴿16﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ ﴿17﴾ ثُمَّ مَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ ﴿18﴾ يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْئًا وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ ﴿19﴾


(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اور جب آسمان پھٹ جائے گا۔ (1) اور جب ستارے بکھر جائیں گے۔ (2) اور جب سمندر بہہ پڑیں گے۔ (3) اور جب قبریں تہ و بالا کر دی جائیں گی۔ (4) تب ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا ہے اور پیچھے کیا چھوڑا ہے؟ (5) اے انسان تجھے کس چیز نے اپنے (رحیم و) کریم پروردگار سے دھو کے میں ڈال رکھا ہے؟ (6) جس نے تجھے پیدا کیا پھر (تیرے اعضاء کو) درست بنایا (اور) پھر تجھے متناسب بنایا۔ (7) جس شکل میں چاہا تجھے ترتیب دے دیا۔ (8) ہرگز نہیں! بلکہ (اصل حقیقت یہ ہے کہ) تم جزا و سزا (کے دن) کو جھٹلاتے ہو۔ (9) حالانکہ تم پر نگران (ملائکہ) مقرر ہیں۔ (10) معزز لکھنے والے۔ (11) وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو۔ (12) بےشک نیکوکار لوگ عیش و آرام میں ہوں گے۔ (13) اور بدکار لوگ دوزخ میں ہوں گے۔ (14) وہ جزا (سزا) والے دن اس میں داخل ہوں گے۔ (15) اور وہ اس سے اوجھل نہیں ہوں گے۔ (16) تمہیں کیا معلوم کہ وہ جزا و سزا کا دن کیا ہے؟ (17) (پھر سنو) تمہیں کیا معلوم کہ جزا (و سزا) والا دن کیا ہے؟ (18) جس دن کوئی کسی دوسرے کے کام نہ آسکے گا اور اس دن معاملہ (اختیار) اللہ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہوگا۔ (19)

پچھلی سورت: سورہ تکویر سورہ انفطار اگلی سورت:سورہ مطففین

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۲۔
  2. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۱۶۶۔
  3. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۲۔
  4. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۲
  5. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  6. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۶، ص۲۱۹۔
  7. نہج البلاغہ، ترجمہ حسین انصاریان، خطبہ ۲۱۴، ص۴۹۰۔
  8. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۹۰ش، ج۱۰، ص۲۸۳۔
  9. متقی ہندی٬کنزالعمال،ج۶، ص۳۸۳۴
  10. شیخ صدوق، ثواب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ص۱۲۱۔
  11. کفعمی، مصباح، ۱۴۲۳ق، ص۴۵۹۔
  12. بحرانی، تفسیرالبرہان، ۱۴۱۶ق، ج۵، ص۵۹۹۔


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • بحرانی، سید ہاشم، البرہان فی تفسیر القرآن، بنیاد بعثت، ۱۴۱۶ق۔
  • دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، بہ کوشش بہاءالدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، تحقیق: صادق حسن زادہ، تہران، ارمغان طوبی، ۱۳۸۲ش۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ترجمہ: بیستونی، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۳۹۰ش۔
  • کفعمی، ابراہیم بن علی، مصباح، ،قم، محبین، ۱۴۲۳ق۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چ۱، ۱۳۷۱ش۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ دہم، ۱۳۷۱ش۔
  • نہج البلاغہ، ترجمہ حسین انصاریان، ویراستار حسین اسادولی، قم، نشر عطرت، چاپ پنجم، ۱۳۷۹ش۔

بیرونی روابط