نماز مغرب

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

نماز مغرب یومیہ نمازوں میں سے تین رکعتی نماز ہے اور اس کو مغرب کی اذان کے بعد سے لے کرآدھی رات تک جتنی مقدار میں عشاء کی چار رکعت نماز ادا کر سکتے ہوں اس وقت تک پڑھ سکتے ہیں.

نماز مغرب کا طریقہ

نماز مغرب تین رکعت ہے [1]کہ جس کی پہلی رکعت میں نیت [2]اور تکبیرہ الاحرام [3] کے بعد سورہ حمد اور کوئی دوسری سورت ( جس میں سجدہ نہ ہو) عام طور پر سورہ توحید، پڑھتے ہیں.[4] پھر ایک رکوع[5] اور دو سجدے [6] بجا لائے جاتے ہیں اور اس کے بعد دوسری رکعت کا قیام[7] جس میں سورہ حمد اور دوسری سورہ پھر رکوع اور دو سجدے.

اس کے بعد بیٹھ کر تشہد [8] پڑھی جاتی ہے اورتیسری اور چوتھی رکعت میں تسبیحات اربعہ [9] پڑھتے ہیں پھر ایک رکوع اور دو سجدے بجا لائے جاتے ہیں.

اور آخر میں، تشہد اور سلام پڑھا جاتا ہے. [10]

نماز مغرب کا وقت

سورج غروب ہونے کے بعد مشرق کی طرف جو سرخی ظاہر ہوتی ہے جب وہ سرخی ختم ہو جائے اس وقت مغرب کی نماز کا وقت ہوتا ہے. یہ نماز مغرب بجا لانے کا مخصوص وقت ہے جس کی مقدار تین رکعت نماز بجالانے تک ہے. اس کے بعد نماز مغرب اور عشاء کا مشترک وقت شروع ہوتا ہے. نماز گزار، نماز مغرب کو مشترک وقت میں بھی پڑھ سکتا ہے. نماز عشاء کا مخصوص وقت جب آدھی رات ہونے میں اتنا وقت رہ جائے کہ چار رکعت نمازبجا لائی جا سکے.[11]

نماز مغرب کے نوافل

نماز مغرب کے نوافل چار رکعت ہیں اور نماز مغرب کے بعد پڑھے جاتے ہیں اور ان کے ختم ہونے کا وقت آسمان کے مغرب کی طرف سرخی جو کہ سورج غروب ہونے کے بعد ظاہر ہوتی ہے، اس کے ختم ہونے تک ہے .[12]

نماز مغرب کے بعض احکام

  • اگر کوئی مشترک وقت میں، نماز مغرب پڑھنے سے پہلے، نماز عشاء پڑھ لے اور نماز کے بعد متوجہ ہو تو اس کی نماز صحیح ہے اور اس کے بعد نماز مغرب کو بجا لا سکتا ہے. [13]
  • اگر مسافر جو کہ نماز عشاء کو قصر پڑھتا ہے بھول کر (غیر عمد) نماز عشاء کو مغرب کے مخصوص وقت میں پڑھ لے، احتیاط مستحب یہ ہے کہ نماز مغرب کے بعد، دوبارہ نماز عشاء کو بجا لائے. [14]
  • اگر کوئی بھول کر نماز مغرب سے پہلے، نماز عشاء پڑھنے میں مشغول ہو جائے، تو چوتھی رکعت کے رکوع میں جانے سے پہلے اپنی نیت کو مغرب کی طرف پلٹ دے اور نماز کو تمام کرے. [15]
  • مرد حضرات پر واجب ہے کہ حمد اور سورہ کو نماز مغرب میں بلند آواز سے پڑھیں.[16][17] خواتین حمد اور سورہ کو پڑھنے میں مختار ہیں اونچی آواز میں پڑھیں یا آہستہ، لیکن اگر ان کی آواز نامحرم سن رہا ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ آہستہ آواز میں پڑھیں. [18]


حوالہ جات

  1. رساله توضیح المسائل، امام خمینی، یومیہ نمازیں
  2. رساله توضیح المسائل، امام خمینی، مسئله 943
  3. رساله توضیح المسائل، امام خمینی، مسئله 948
  4. رساله توضیح المسائل، امام خمینی، مسئله 978
  5. رساله توضیح المسائل، امام خمینی، مسئله 1022
  6. 1045
  7. رساله توضیح المسائل، امام خمینی، مسئله 958
  8. رساله توضیح المسائل، امام خمینی، مسئله 1100
  9. رساله توضیح المسائل، امام خمینی، تسبیحات اربعہ کا ترجمہ
  10. رساله توضیح المسائل، امام خمینی، مسئله ۱۱۰۵ 1105
  11. رساله توضیح المسائل، امام خمینی، مسئله 736
  12. رساله توضیح المسائل، امام خمینی، مسئله 770
  13. رساله توضیح المسائل، امام خمینی، مسئله ۷۳۶.
  14. رساله توضیح المسائل، امام خمینی، مسئله ۷۳۶.
  15. رساله توضیح المسائل، امام خمینی، مسئله ۷۳٨.
  16. الطباطبائی الحکیم، مستمسک العروة الوثقی، ۱۴۰۴ق، ج۶ ص۱۹۸؛ امام خمینی، رساله توضیح المسائل، مسئله ۹۹۲
  17. امام خمینی، رساله توضیح المسائل، مسئله ۹۹۵
  18. امام خمینی، رساله توضیح المسائل، مسئله ۹۹۴


مآخذ

  • امام خمینی، رساله توضیح المسائل.
  • السید محسن الطباطبائی الحکیم، مستمسک العروة الوثقی، ۱۴۰۴ ق، منشورات مکتبة آیة الله العظمی المرعشی النجفی، قم ایران