نماز عشاء

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکٰوۃحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
طہارت کے احکام
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاص
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

نماز عشاء یومیہ نمازوں میں سے چار رکعتی ہے اور اس کا وقت نماز مغرب سے لے کر آدھی رات تک ہے.

نماز عشاء کا طریقہ

نماز عشاء چار رکعت ہے [1]کہ جس کی پہلی رکعت میں نیت [2] اور تکبیرۃ الاحرام[3]، کے بعد سورہ حمد اور ایک دوسری سورہ (جس میں سجدہ نہ ہو)، عام طور پر سورہ توحید پڑھی جاتی ہے.[4]، ایک رکوع [5]اور دو سجدے [6]بجا لائے جاتے ہیں اور اس کے بعد دوسری رکعت کا قیام [7] جس میں سورہ حمد اور دوسری سورہ، ایک رکوع اور دو سجدے بجا لاتے ہیں.

اس کے بعد بیٹھ کر تشہد، [8]پڑھی جاتی ہے، تیسری اور چوتھی رکعت میں، تسبیحات اربعہ پڑھتے ہیں [9] اس کے بعد رکوع اور دو سجدے بجا لاتے ہیں.

آخر میں تشہد اور سلام کہہ کر نماز ختم کرتے ہیں. [10]

نماز عشاء کا وقت

نماز عشاء کا وقت نماز مغرب کی اذان سے بعد اور جتنی دیر میں تین رکعت نماز ادا کرتے ہیں اس کے بعد سے لے کر آدھی رات تک. نماز عشاء کا مخصوص آدھی رات ہونے میں اتنی مقدار رہتی ہو کہ چار رکعت نماز ادا کر سکیں. نماز مغرب اور عشاء کا مشترک وقت، دونوں نمازوں کے مخصوص وقت کے درمیان والا وقت مغرب اور عشاء کا مشترک وقت ہے.[11]

نماز عشاء کی اہمیت

قرآن کریم میں یومیہ نمازوں کے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور نماز عشاء بھی انہی یومیہ نمازوں میں سے ایک ہے: حافِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ وَ الصَّلاةِ الْوُسْطى‏ وَ قُومُوا لِلَّہِ قانِتين[12]

نماز عشاء کے نوافل

نماز عشاء کے نوافل، دو رکعت ہیں جو نماز عشاء کے بعد پڑھے جاتے ہیں اور ان کے ختم ہونے کا وقت آدھی رات تک ہے. [13]

نماز عشاء کے بعض احکام

  • نماز مسافر: جو شرعی حکم سے مسافر ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ نماز عشاء کو قصر پڑھے. [14]
  • اگر نماز عشاء کے مخصوص وقت تک جان بوجھ کر نماز مغرب ادا نہ کی گئی ہو تو ضروری ہے کہ پہلے نماز عشاء بجا لائی جائے.[15]
  • اگر کوئی شخص بھول کر (غیر عمد) نماز عشاء کو نماز مغرب سے پہلے پڑھ لے اور نماز کے بعد متوجہ ہو تو اس کی نماز صحیح ہے. [16]
  • مرد حضرات کے لئے ضروری ہے کہ وہ نماز عشاء میں حمد اور سورہ کو بلند آواز میں قرائت کریں [17] خواتین نماز عشاء میں حمد اور سورہ کو پڑھنے میں مختار ہیں اونچی آواز میں پڑھیں یا آہستہ، لیکن اگر نامحرم انکی آواز سن رہا ہے تو احتیاط واجب کی بناء پر نماز آہستہ آواز میں پڑھیں. [18]

حوالہ جات

  1. رسالہ توضیح المسائل، امام خمینی، یومیہ نمازیں
  2. امام خمینی، رسالہ توضیح‌المسائل، مسئلہ 943
  3. امام خمینی، رسالہ توضیح‌المسائل، مسئلہ 948
  4. امام خمینی، رسالہ توضیح‌المسائل، مسئلہ 948
  5. امام خمینی، رسالہ توضیح‌المسائل، مسئلہ 978
  6. امام خمینی، رسالہ توضیح‌المسائل، مسئلہ 1022
  7. امام خمینی، رسالہ توضیح‌المسائل، مسئلہ 1045
  8. امام خمینی، رسالہ توضیح‌المسائل، مسئلہ 958
  9. رسالہ توضیح المسائل، امام خمینی، تسبیحات اربعہ کا ترجمہ
  10. رسالہ توضیح المسائل، امام خمینی 1105
  11. رسالہ توضیح المسائل، امام خمینی 736
  12. سورہ بقرہ، آیہ ۲۳۸
  13. امام خمینی، رسالہ توضیح‌المسائل، مسئلہ 771
  14. امام خمینی، رسالہ توضیح‌المسائل، مسئلہ 728
  15. امام خمینی، رسالہ توضیح‌المسائل، مسئلہ 736
  16. الطباطبائی الحکیم، مستمسک العروة الوثقی، ۱۴۰۴ق، ج۶ ص۱۹۸؛ امام خمینی، رسالہ توضیح المسائل، مسئلہ ۹۹۲736
  17. امام خمینی، رسالہ توضیح المسائل، مسئلہ ۹۹٥
  18. امام خمینی، رسالہ توضیح المسائل، مسئلہ ۹۹۴

مآخذ

  • امام خمینی، رسالہ توضیح المسائل.
  • السید محسن الطباطبائی الحکیم، مستمسک العروة الوثقی، ۱۴۰۴ ق، منشورات مکتبة آیة اللہ العظمی المرعشی النجفی، قم ایران