سورہ طارق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بروج سورۂ طارق اعلی
سوره طارق.jpg
ترتیب کتابت: 86
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 36
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 17
الفاظ: 61
حروف: 254

سورہ طارق [سُوْرَةُ الطَّارِقِ] کو اس لئے طارق کہا جاتا ہے کہ اس کے آغاز میں آسمان اور طارق کی قسم اٹھائی گئی ہے۔ سور مفصلات کے زمرے میں آتی ہے اور [[اوساط|اوساط سے معنون 13 سورتوں میں پہلے نمبر پر ہے۔ نیز یہ سورت قسم سے شروع ہونے والی سورتوں میں پندرہویں نمبر پر ہے۔

سورہ طارق، نام اور کوائف

  • یہ سورت اس مناسبت سے سورہ طارق کہلاتی ہے کہ اس کے آغاز میں آسمان اور طارق (رات کو ظاہر ہونے والے محیر العقول موجود) کی قسم اٹھائی گئی ہے:
 :"وَالسَّمَاء وَالطَّارِقِ ﴿1﴾" ترجمہ: قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی۔
  • اس سورت کی آیات کی تعداد 17 اور بقولے 16 ہے اور اول الذکر عدد مشہور ہے؛ جبکہ اس کے الفاظ اور حروف کی تعداد بالترتیب 61 اور 256 ہے۔
  • یہ سورت ترتیب مصحف کے لحاظ سے چھیاسی ویں اور ترتیب نزول کے لحاظ سے چھتیسویں سورت ہے۔
  • سورہ طارق مکی سورت ہے۔
  • یہ سورت سور مفصلات کے زمرے میں آتی ہے نیز سور اوساط میں پہلی سورت ہے۔ اوساط کی تعداد 13 ہے۔
  • سورہ طارق قسم سے شروع ہونے والی سورتوں میں پندرہویں نمبر پر ہے۔

مفاہیم

اس سورت میں خداوند متعال آسمان اور رات کو نمودار ہونے والی موجود کی قسم اٹھاتا ہے اور اس بات کی یادآوری کراتا ہے کہ "انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے" اور ارشاد فرماتا ہے:

بے شک خداوند متعال روز قیامت اس [انسان] کے پلٹا کے لانے پر بھی قادر ہے؛ اسی دن جب تمام چھپی ہوئی [اور آشکار] باتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے بعد تاکید فرماتا ہے کہ یہ (قرآن) فیصلہ کن بات ہے اور وہ کوئی مذاق نہیں ہے۔[1]
سورہ طارق کے مضامین[2]
انسان کی جمسانی معاد کے اثبات کی دلائل
 
 
پہلی دلیل؛ آیہ۱-۴
موت کے بعد روح کا محفوظ رہنا
 
 
دوسری دلیل؛آیہ۵-۱۰
جہندہ پانی سے انسان کی خلقت کرنے پر اللہ کی قدرت
 
 
تیسری دلیل؛ آیہ۱۱-۱۴
نظام خلقت میں معاد کا قانون
 
 
نتیجہ؛ آیہ۱۵-۱۷
معاد جسمانی کے انکار میں کافروں کی چالاکیاں کہیں نہیں پہنچ پاتیں


متن سورہ

سوره طارق
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

وَالسَّمَاء وَالطَّارِقِ ﴿1﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الطَّارِقُ ﴿2﴾ النَّجْمُ الثَّاقِبُ ﴿3﴾ إِن كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ ﴿4﴾ فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ ﴿5﴾ خُلِقَ مِن مَّاء دَافِقٍ ﴿6﴾ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ ﴿7﴾ إِنَّهُ عَلَى رَجْعِهِ لَقَادِرٌ ﴿8﴾ يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ ﴿9﴾ فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ ﴿10﴾ وَالسَّمَاء ذَاتِ الرَّجْعِ ﴿11﴾ وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ ﴿12﴾ إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ ﴿13﴾ وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ ﴿14﴾ إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا ﴿15﴾ وَأَكِيدُ كَيْدًا ﴿16﴾ فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا ﴿17﴾


(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

قَسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہو نے والے کی۔ (1) اورتمہیں کیا معلوم کہ رات کو نمودار ہو نے والا کیا ہے؟ (2) وہ چمکتا ہوا تاراہے۔ (3) کوئی متنفس ایسا نہیں ہے جس پرکوئی نگہبان نہ ہو۔ (4) سو انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے؟ (5) اچھل کر نکلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ (6) جو ریڑھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ (7) بےشک وہ (خدا) اس کے لوٹا سکنے (دوبارہ پیدا کرنے) پر قادر ہے۔ (8) جس دن سب پوشیدہ راز کھل جائیں گے۔ (9) پس اس وقت نہ خود انسان کے پاس کوئی طاقت ہوگی اور نہ کوئی مددگار ہوگا۔ (10) قَسم ہے بارش والے آسمان کی۔ (11) اور (نباتات کے ذریعہ سے) پھٹ جانے والی زمین کی۔ (12) کہ وہ (قرآن) قولِ فیصل ہے۔ (13) کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے۔ (14) بےشک وہ (کافر لوگ) کچھ چالیں چل رہے ہیں۔ (15) اور میں بھی (ان کیخلاف) ایک چال چل رہا ہوں۔ (16) تو (اے رسول(ص)) ان (کافروں) کو مہلت دے دیجئے ان کو تھوڑی سی مہلت دے دیجئے۔ (17)

پچھلی سورت:
سورہ بروج
سورہ 86 اگلی سورت:
سورہ اعلی
قرآن کریم

(1) سورہ فاتحہ (2) سورہ بقرہ (3) سورہ آل عمران (4) سورہ نساء (5) سورہ مائدہ (6) سورہ انعام (7) سورہ اعراف (8) سورہ انفال (9) سورہ توبہ (10) سورہ یونس (11) سورہ ہود (12) سورہ یوسف (13) سورہ رعد (14) سورہ ابراہیم (15) سورہ حجر (16) سورہ نحل (17) سورہ اسراء (18) سورہ کہف (19) سورہ مریم (20) سورہ طہ (21) سورہ انبیاء (22) سورہ حج (23) سورہ مؤمنون (24) سورہ نور (25) سورہ فرقان (26) سورہ شعراء (27) سورہ نمل (28) سورہ قصص (29) سورہ عنکبوت (30) سورہ روم (31) سورہ لقمان (32) سورہ سجدہ (33) سورہ احزاب (34) سورہ سباء (35) سورہ فاطر (36) سورہ یس (37) سورہ صافات (38) سورہ ص (39) سورہ زمر (40) سورہ غافر (41) سورہ فصلت (42) سورہ شوری (43) سورہ زخرف (44) سورہ دخان (45) سورہ جاثیہ (46) سورہ احقاف (47) سورہ محمد (48) سورہ فتح (49) سورہ حجرات (50) سورہ ق (51) سورہ ذاریات (52) سورہ طور (53) سورہ نجم (54) سورہ قمر (55) سورہ رحمن (56) سورہ واقعہ (57) سورہ حدید (58) سورہ مجادلہ (59) سورہ حشر (60) سورہ ممتحنہ (61) سورہ صف (62) سورہ جمعہ (63) سورہ منافقون (64) سورہ تغابن (65) سورہ طلاق (66) سورہ تحریم (67) سورہ ملک (68) سورہ قلم (69) سورہ حاقہ (70) سورہ معارج (71) سورہ نوح (72) سورہ جن (73) سورہ مزمل (74) سورہ مدثر (75) سورہ قیامہ (76) سورہ انسان (77) سورہ مرسلات (78) سورہ نباء (79) سورہ نازعات (80) سورہ عبس (81) سورہ تکویر (82) سورہ انفطار (83) سورہ مطففین (84) سورہ انشقاق (85) سورہ بروج (86) سورہ طارق (87) سورہ اعلی (88) سورہ غاشیہ (89) سورہ فجر (90) سورہ بلد (91) سورہ شمس (92) سورہ لیل (93) سورہ ضحی (94) سورہ شرح (95) سورہ تین (96) سورہ علق (97) سورہ قدر (98) سورہ بینہ (99) سورہ زلزال (100) سورہ عادیات (101) سورہ قارعہ (102) سورہ تکاثر (103) سورہ عصر (104) سورہ ہمزہ (105) سورہ فیل (106) سورہ قریش (107) سورہ ماعون (108) سورہ کوثر (109) سورہ کافرون (110) سورہ نصر (111) سورہ مسد (112) سورہ اخلاص (113) سورہ فلق (114) سورہ ناس


متعلقہ مآخذ

پاورقی حاشیے

  1. دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج2، ص1263۔
  2. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.


مآخذ