سورہ تحریم

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سورہ تحریم قرآن کی چھیاسٹھویں(66ویں) اور مدنی سورت ہے اور قرآن کے اٹھائیسویں پارے میں واقع ہے۔ سورت کا نام اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے جس میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ رسول اللہ نے ازواج کی رضایت کی خاطر قسم اٹھا کر اپنے اوپر حلال چیز کو حرام کیا۔ سورہ تحریم گناہکاروں کو توبہ نصوح کی ترغیب، قیامت میں ایمان کے آثار، مسلمانوں کو کفار اور منافقین سے جہاد اور ان پر سخت گیری کی طرف دعوت دیتی ہے۔ اس سورت میں زوجہ نوح اور لوط کو غیر صالح اور زوجہ فرعون (آسیہ) اور حضرت مریم کو صالح خواتین میں سے شمار کیا ہے۔ اس سورت کی چھٹی آیت مشہور آیات میں سے ہے جس میں مؤمنوں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ اور اہل خانہ کو آتش جہنم سے بچائیں۔ پیامبر(ص) سے مروی ہے کہ جو بھی سورہ تحریم کی تلاوت کرے گا وہ توبہ نصوح میں کامیاب ہو گا اور دوبارہ گناہ کی طرف نہیں لوٹے گا۔اسی طرح اس سورہ کے خواص میں سے مُردوں سے تخفیف عذاب اورشخص کی آسانی سے جان کنی کا ہونا اس کے خواص میں سے ہیں۔

تعارف

  • وجہ تسمیہ

اس سورے کا مشہور نام تحریم ہے جو اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے۔[1] اس آیت میں رسول خدا(ص) سے استفسار ہوا ہے کہ ازواج کی خوشنودی کی خاطر تم نے حلال خدا کو اپنے اوپر کیوں حرام کیا ہے۔[2] اس سورے کو «سورة النبی» «لِمَ تُحرم» اور «المُتحرّم» بھی کہا گیا ہے۔[3]

  • مقام و ترتیب نزول

سورہ تحریم مدنی سورتوں کا حصہ ہے اور ترتیب نزول کے مطابق قرآن میں 180 واں نمبر ہے، قرآن کی موجودہ ترتیب میں اس کا نمبر چھیاسٹھ[4] 66 اور قران کے اٹھائسویں پارے (28ویں)میں واقع ہے۔

  • تعداد آیات اور دیگر خصوصیات

سورہ تحریم کی ۱۲ آیتیں، ۲۵۴ کلمے اور حروف کی تعداد ۱۱۰۵ ہے۔ حجم کے لحاظ سے چھوٹے سوروں کا حصہ ہے اور سورہ‌ہای مُفصّلات (چھوٹی آیات پر مشتمل سورے) کا حصہ ہے جو قرآن کے ایک حزب کے نصف پر مشتمل ہے۔[5]

اس سورے کو ممتحنہ سورتیں سے بھی شمار کرتے ہیں۔[6] کہا گیا ہے کہ یہ سورہ مضامین کے لحاظ سے قرآن کی سورہ ممتحنہ کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے۔[7] [نوٹ 1]

مضامین

سورہ تحریم عتاب پیغمبرؐ (کہ جو حقیقت میں عتاب ازواج نبی ہے) سے شروع ہوتی ہے کہ تم نے ازواج کی خوشنودی کی خاطر حلال خدا کو اپنے اوپر کیوں حرام کرتے ہو۔ آگے چل کر خداوند مؤمنین کو یوں مخاطب ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو اس عذاب آتش سے بچانے کی تدبیر کرو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اور جان لیں کہ انہیں اپنے کئے ہوئے اعمال کے علاوہ کوئی سزا نہیں ملے گی۔[8] گناہگاروں کو توبہ (توبۂ نصوح)، قیامت میں آثار ایمان، منافقین اور کفار سے جہاد، ان کے ساتھ سخت برتاؤ، غیر صالح خواتین زوجۂ نوح اور زوجۂ لوط، صالح خواتین زوجۂ فرعون اور حضرت مریم (بنت عمران) کا مقام و منزلت اس سورت کے اہم موضوعات میں سے ہیں۔[9]

سورہ تحریم کے مضامین[10]
 
 
 
 
پیغمبر کی افواہ پھیلانے والی اور خیانتکار بیویوں کو انتباہ
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا گفتار؛ آیہ ۱۰-۱۲
مؤمن اور خائن عورتوں کا انجام
 
دوسرا گفتار؛ آیہ ۶-۹
خیانت کرنے والوں کے مقابلے میں پیغمبر اور مؤمنوں کی ذمہ داری
 
پہلا گفتار؛ آیہ ۱-۵
پیغمبر کی بیویوں کی خیانت پر اللہ کی طرف سے رسول کی
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱۰
نوح اور لوط کی بیویوں کا انجام
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۶-۸
مؤمنوں کی ذمہ داریاں
*پیغمبر کے مخالف سے کسی قسم کی تعاون سے اجتناب
*پیغمبر کے مخالفوں سے تعاون پر توبہ کرنا
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱-۲
اللہ کی طرف سے رسول کی عاطفی حمایت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۱۱-۱۲
آسیہ اور مریم کی بندگی کا انجام
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۹
پیغمبر کی ذمہ داری
*افواہ پھلانے والوں سے سخت مقابلہ
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۳
پیغمبر کی بیوں کی خیانت فاش ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۴
اللہ اور اس کی لشکر کا پیغمبر کی حمایت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۵
خائن بیویوں کو طلاق کی دھمکی

شأن نزول

سورہ تحریم کی ابتدائی آیات کے شان نزول کے متعلق مفسرین کی رائے مختلف ہے کہ جس میں رسول اللہ کی نسبت اس بات پر اظہار ناراضگی ہے کہ آپ نے اپنے اوپر حلال خدا کو کیوں حرام کیا ہے۔ بعض نے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم ؐ نماز صبح کے بعد اپنی ازواج کے ہاں آتے تھے۔ اس دوران حفصہ رسول اکرم کو شہد کا شربت پیش کرتی اور آپ زیادہ وقت اس کے پاس ہوتے۔ حضرت عائشہ حفصہ کے پاس زیادہ وقت گزارنے کی وجہ ناراحت ہوتیں،اس نے دوسری ازواج سے مل کر طے کیا کہ جب رسول انکے ہاں آئے تو وہ ان س کہیں کہ آپ سے بد بو آرہی ہے۔ رسول خدا بدبودار منہ سے نفرت رکھتے تھے، پس رسول اللہ نے قسم اٹھائی کہ وہ آئندہ شہد نہیں کھائیں گے۔[11]ایک اور نقل کے مطابق زینب بنت جحش رسول اللہ کو شہد کا شربت پیش کرتی تھی۔[12] اور ایک روایت میں ام‌سلمہ کا نام مذکور ہے۔[13]

ایک اور تفصیل کے مطابق حضرت عائشہ بنت ابی بکر کی باری کے دنوں میں پیغمبر اکرم نے حفصہ کے گھر اپنی ایک کنیز سے خلوت کی جبکہ حفصہ اپنے والد کے گھر گئی ہوئی تھیں۔ کنیز کو باہر نکلتے ہوئے حضرت عائشہ دیکھ کر بہت زیادہ ناراض ہوئیں۔ حفصہ نے گھر واپس آنے پر رسول اللہ سے کہا میں سمجھ گئی کہ آپ کس کے ساتھ تھے اور آپ بد خلقی سے پیش آرہے ہیں۔ رسول خدا نے قسم کھائی اور حفصہ کو راضی کیا۔ اس کے بعد آپ نے اس کنیز کو اپنے اوپر حرام قرار دے دیا اور حفصہ کو توصیہ کیا اس راز کو کسی کے سامنے بیان نہیں کرے گی لیکن حفصہ نے اسے عائشہ کے سامنے فا کیا۔ اس عمل کے نتیجے میں سورہ تحریم کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔[14]

سید محمدحسین طباطبائی نے تفسیر المیزان میں اس سورہ کی ابتدائی آیات کے شان نزول میں مختلف اقوال کو ذکر کیا اور پھر تحلیل کرتے ہوئے انہیں سورہ تحریم کی دیگر آیات کے ساتھ ناسازگار کہا ہے۔[15]

دیگر بعض روایات کے مطابق ماریہ کے گھر رہنے پر حضرت عائشہ اور حفصہ کے اعتراض کے جواب میں قسم کھائی کہ ماریہ کے نزدیک نہیں جائیں گے۔اس کے بعد آیات تحیم نازل ہوئیں۔[16]

مشہورآیات

  • يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَہْلِيكُمْ نَارً‌ا وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَ‌ةُ... (آیت ۶)

ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آتشِ دوزخ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے

علامہ مجلسی اس آیت کی توضیح میں لکھتے ہیں: اطاعت خدا، گناہ سے دوری، شہوات کی پیروی نہ کرنے، صبر اختیار کرنے، اپنے اہل خانہ کو اطاعت کی طرف دعوت دینے،واجبات دین کی تعلیم دینے او انہیں نیک کاموں کی ترغیب دینے کے ذریعے اپنے اور اپنے اہل خانہ کو آتش جہنم سے دور رکھ سکتے ہیں۔[17]

فضیلت اور خواص

پیامبر(ص) سے روایت مروی ہے: جو کوئی سورہ تحریم کی تلاوت کرے گا وہ توبہ نصوح میں کامیاب ہو گا اور وہ دوبارہ گناہ کی طرف دوبارہ نہیں لوٹے گا۔[18] امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے:جو کوئی طلاق اور تحریم کو نماز یومیہ میں قرات کرے گا خداوند روز قیامت اسے ترس، خوف، حزن اور اندوہ سے امان میں رکھے گا اور اسے آتش جہنم میں گرنے سے بچائے گا اور ان دو سورتوں کی مسلسل تلاوت کرنے کے نتیجے میں بہشت میں داخل کرے گ کیونکہ یہ دو سورے پیامبر سے متعلق ہیں۔[19] اس کے خواص میں منقول ہے کہ موجب آسان‌شدن جان دادن فرد محتضر کے موقع پر ان دو سورتوں کو محتضر کیلئے لکھنے سے جان کنی میں آسانی اور عذاب میں تخفیف ہوتی ہے۔[20] اسی طرح یہ سورہ اضطراب کو دور کرتا ہے اور اسکی مسلسل تلاوت مقروض کیلئے مفید ہے۔[21]

متن سورہ

سورہ تحریم
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـہِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

يَا أَيُّہَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّہُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿1﴾ قَدْ فَرَضَ اللَّہُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ وَاللَّہُ مَوْلَاكُمْ وَہُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ﴿2﴾ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِہِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِہِ وَأَظْہَرَہُ اللَّہُ عَلَيْہِ عَرَّفَ بَعْضَہُ وَأَعْرَضَ عَن بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّأَہَا بِہِ قَالَتْ مَنْ أَنبَأَكَ ہَذَا قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ ﴿3﴾ إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا وَإِن تَظَاہَرَا عَلَيْہِ فَإِنَّ اللَّہَ ہُوَ مَوْلَاہُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَہِيرٌ ﴿4﴾ عَسَى رَبُّہُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَہُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا ﴿5﴾ يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَہْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْہَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللَّہَ مَا أَمَرَہُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ﴿6﴾ يَا أَيُّہَا الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿7﴾ يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّہِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّہُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَہُ نُورُہُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيہِمْ وَبِأَيْمَانِہِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿8﴾ يَا أَيُّہَا النَّبِيُّ جَاہِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْہِمْ وَمَأْوَاہُمْ جَہَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ﴿9﴾ ضَرَبَ اللَّہُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ كَفَرُوا اِمْرَأَةَ نُوحٍ وَاِمْرَأَةَ لُوطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَاہُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْہُمَا مِنَ اللَّہِ شَيْئًا وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ ﴿10﴾ وَضَرَبَ اللَّہُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ آمَنُوا اِمْرَأَةَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِن فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ﴿11﴾ وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِيہِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّہَا وَكُتُبِہِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ ﴿12﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اے نبی(ص)! جو چیز اللہ نے آپ کیلئے حلال قرار دی ہے آپ اسے اپنی بیویوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے (اپنے اوپر) کیوں حرام ٹھہراتے ہیں اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (1) بےشک اللہ نے تمہاری قَسموں (کی گرہ کے) کھولنے کا طریقہ مقررکر دیا ہے اللہ تمہارا مولیٰ (سرپرست و کارساز ہے) اور وہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔ (2) (وہ وقت یاد رکھنے کے لائق ہے) جب نبی(ص) نے اپنی بعض بیویوں سے راز کی ایک بات کہی اور جب اس نے وہ بات (کسی اور کو) بتا دی اور اللہ نے آپ(ص) کو اس (خیانت کاری) سے آگاہ کر دیا تو آپ(ص) نے اس (بیوی) کو کچھ بات جتا دی اور کچھ سے اعراض کیا (چشم پوشی کی) تو جب آپ(ص) نے اس (بیوی) کو یہ بات بتائی تو اس نے (ازراہِ تعجب) کہا کہ آپ(ص) کو اس کی کس نے خبر دی؟ فرمایا مجھے بڑے جاننے والے (اور) بڑے باخبر (خدا) نے خبر دی ہے۔ (3) اگر تم دونوں (اللہ کی بارگاہ میں) توبہ کر لو (تو بہتر ہے) کیونکہ تم دونوں کے دل ٹیڑھے ہو چکے ہیں اور اگر تم ان (پیغمبر(ص)) کے خلاف ایکا کرو گی (تو تم پیغمبر کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گی) کیونکہ یقیناً اللہ ان کا حامی ہے اور جبرائیل(ع) اور نیکوکار مؤمنین اور اس کے بعد سب فرشتے ان کے پشت پناہ (اور مددگار) ہیں۔ (4) اگر پیغمبر(ص) تمہیں طلاق دے دیں تو بہت جلد اللہ ان کو تمہارے بدلے تم سے اچھی بیویاں دے دے گا جو (پکی و سچی) مسلمان ہونگی اور باایمان، اطاعت گزار اور فرمانبردار، توبہ کرنے والیاں عبادت گزار، روزہ دار اور شوہر دیدہ اور ابکار (کنواریاں)۔ (5) اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آتشِ دوزخ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے اس پر ایسے فرشتے مقرر ہیں جو تُندخو اور درشت مزا ج ہیں انہیں جس بات کا حکم دیا گیا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہ وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا گیا ہے۔ (6) اے کافر لوگو! آج تم عذر و معذرت نہ کرو تمہیں اسی کا بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم کیا کرتے تھے۔ (7) اے ایمان والو! اللہ کی بارگاہ میں (سچے دل سے) خالص توبہ کرو۔ امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں ایسے بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جس دن خدا (اپنے) نبی(ص) کو اور ان لوگوں کو جو آپ(ص) کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کرے گا (اس دن) ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں جانب تیز تیز چل رہا ہوگا (اور) وہ کہہ رہے ہوں گۓ اے ہمارے پروردگار! ہمارے لئے ہمارا نور مکمل کر اور ہماری مغفرت فرما بےشک تو ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے۔ (8) اے نبی(ص)! کافروں اور منافقوں سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت بری جائے بازگشت ہے۔ (9) اور اللہ کافروں کیلئے نوح(ع) اور لوط(ع) کی بیویوں کی مثال بیان کرتا ہے جو دونوں ہمارے بندوں میں سے دو نیک بندوں کی زوجیت میں تھیں پس انہوں نے ان کے ساتھ خیانت (غداری) کی تو وہ دونوں نیک بندے اللہ کے مقابلہ میں انہیں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکے اور ان دونوں (بیویوں) سے کہا گیا کہ تم بھی دوزخ میں داخل ہو جاؤ اور داخل ہو نے والوں کے ساتھ۔ (10) اوراللہ اہلِ ایمان کے لئے فرعون کی بیوی (آسیہ(ع)) کی مثال پیش کرتا ہے جبکہ اس نے کہا اے میرے پروردگار! میرے لئے جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے (کافرانہ) عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔ (11) اور (دوسری) مریم(ع) بنت عمران کی مثال بیان کرتا ہے جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی ایک (خاص) روح پھونک دی اور اس نے اپنے پروردگار کی باتوں (پیاموں) اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھی۔ (12)

پچھلی سورت:
سورہ طلاق
قرآن کریم اگلی سورت:
سورہ مُلك
سورہ 66

١.فاتحہ ٢.بقرہ ٣.آل‌عمران ٤.نساء ٥.مائدہ ٦.انعام ٧.اعراف ٨.انفال ٩.توبہ ١٠.یونس ١١.ہود ١٢.یوسف ١٣.رعد ١٤.ابراہیم ١٥.حجر ١٦.نحل ١٧.اسراء ١٨.کہف ١٩.مریم ٢٠.طہ ٢١.انبیاء ٢٢.حج ٢٣.مؤمنون ٢٤.نور ٢٥.فرقان ٢٦.شعراء ٢٧.نمل ٢٨.قصص ٢٩.عنکبوت ٣٠.روم ٣١.لقمان ٣٢.سجدہ ٣٣.احزاب ٣٤.سبأ ٣٥.فاطر ٣٦.یس ٣٧.صافات ٣٨.ص ٣٩.زمر ٤٠.غافر ٤١.فصلت ٤٢.شوری ٤٣.زخرف ٤٤.دخان ٤٥.جاثیہ ٤٦.احقاف ٤٧.محمد ٤٨.فتح ٤٩.حجرات ٥٠.ق ٥١.ذاریات ٥٢.طور ٥٣.نجم ٥٤.قمر ٥٥.رحمن ٥٦.واقعہ ٥٧.حدید ٥٨.مجادلہ ٥٩.حشر ٦٠.ممتحنہ ٦١.صف ٦٢.جمعہ ٦٣.منافقون ٦٤.تغابن ٦٥.طلاق ٦٦.تحریم ٦٧.ملک ٦٨.قلم ٦٩.حاقہ ٧٠.معارج ٧١.نوح ٧٢.جن ٧٣.مزمل ٧٤.مدثر ٧٥.قیامہ ٧٦.انسان ٧٧.مرسلات ٧٨.نبأ ٧٩.نازعات ٨٠.عبس ٨١.تکویر ٨٢.انفطار ٨٣.مطففین ٨٤.انشقاق ٨٥.بروج ٨٦.طارق ٨٧.اعلی ٨٨.غاشیہ ٨٩.فجر ٩٠.بلد ٩١.شمس ٩٢.لیل ٩٣.ضحی ٩٤.شرح ٩٥.تین ٩٦.علق ٩٧.قدر ٩٨.بینہ ٩٩.زلزلہ ١٠٠.عادیات ١٠١.قارعہ ١٠٢.تکاثر ١٠٣.عصر ١٠٤.ہمزہ ١٠٥.فیل ١٠٦.قریش ١٠٧.ماعون ١٠٨.کوثر ١٠٩.کافرون ١١٠.نصر ١١١.مسد ١١٢.اخلاص ١١٣.فلق ١١٤.ناس


حوالہ جات

  1. دائرة المعارف قرآن کریم، ۱۳۸۲ش، ج۷، ص۳۳۵.
  2. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۷.
  3. دائرة المعارف قرآن کریم، ۱۳۸۲ش، ج۷، ص۳۳۵.
  4. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۸.
  5. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۷.
  6. رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰و۵۹۶.
  7. فرہنگ‌نامہ علوم قرآن، ج۱، ص۲۶۱۲.
  8. طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج‏۱۹، ص۳۲۹.
  9. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۷.
  10. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  11. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۵.
  12. سیوطی، الدر المنثور في التفسیر بالمأثور، ۱۴۰۴ق، ج۶، ص۲۳۹.
  13. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۵.
  14. سیوطی، الدر المنثور في التفسیر بالمأثور، ۱۴۰۴ق، ج۶، ص۲۳۹-۲۴۰.
  15. طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج۱۹، ص۳۳۸-۳۴۰.
  16. قمی، تفسیر قمی، ۱۳۶۳ش، ج۲، ص۳۷۵.
  17. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۱، ص۸۶.
  18. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۴۶۸.
  19. صدوق، ثواب الأعمال، ۱۴۰۶ق، ص۱۱۸.
  20. نوری، مستدرک الوسائل، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۲۴۱.
  21. بحرانی، البرہان، ۱۴۱۶ق، ج۵، ص۴۱۷.
  1. ممتحنہ سورتوں کی تعداد ۱۶ ہے۔ سیوطی نے انہیں ممتحنات کے نام سے تعبیر کیا ہے۔رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۵۹۶۔سورۂ فتح، حشر، سجدہ، طلاق، قلم، حجرات، تبارک، تغابن، منافقون، جمعہ، صف، جن، نوح، مجادلہ، ممتحنہ اور تحریم ممتحنہ کہلاتی ہیں۔(رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰.)

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • بحرانی، سیدہاشم، البرہان فی تفسیر القرآن، تحقیق قسم الدراسات الاسلامیة مؤسسة البعثة قم، تہران، بنیاد بعثت، چاپ اول، ۱۴۱۶ھ.
  • رامیار، محمود، تاریخ قرآن، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۶۲شمسی.
  • دائرة المعارف قرآن کریم، تہیہ و تدوین: پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، مرکز فرہنگ و معارف قرآن، قم، مؤسسہ بوستان کتاب، ۱۳۸۲شمسی.
  • دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، بہ کوشش بہاءالدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷شمسی.
  • سیوطی، عبدالرحمن بن ابی‌‌بکر، الدر المنثور فی التفسیر بالماثور، قم، کتابخانہ عمومی حضرت آيت اللہ العظمی مرعشی نجفی (رہ)، ۱۴۰۴ھ.
  • صدوق، محمد بن‌علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، قم، دار الشریف الرضی، چ۲، ۱۴۰۶ھ.
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسة الأعلمي للمطبوعات، چاپ دوم، ۱۹۷۴ء.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بہ تصحیح فضل‌اللہ یزدی طباطبایی، تہران، انتشارات ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲شمسی.
  • فرہنگ‌نامہ علوم قرآن، قم، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم.
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، بہ تحقیق طیب موسوی جزایری، قم، دار الکتب، چاپ سوم، ۱۳۶۳شمسی.
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بہ تصحیح جمعی از محققان، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ھ.
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چاپ اول، ۱۳۷۱شمسی.
  • نوری، میرزا حسین (محدث نوری)، مستدرک الوسائل، بی‌جا، مؤسسہ آل البیت لاحیاء التراث، ۱۴۰۸ھ.

بیرونی روابط