سورہ فاطر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سباء سورۂ فاطر یس
سوره فاطر.jpg
ترتیب کتابت: 35
پارہ : 22
نزول
ترتیب نزول: 43
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 45
الفاظ: 780
حروف: 3228

سوره فاطر [سُوْرَةُ الْفَاطِر] کو اس سورت کی پہلی آیت میں اللہ کے اس نام کی مناسبت سے سورہ فاطر کا نام دیا گیا ہے۔ اس سورت کا دوسرا نام سورہ ملائکہ ہے۔ حجم کے لحاظ سے سور مثانی کے زمرے میں آتی ہے اور تقریبا ایک حزب (یا ایک چوتھائی پارے) کے برابر ہے۔

نام

سوره فاطر کو اس سورت کی پہلی آیت میں اللہ کے اس نام کی مناسبت سے سورہ فاطر کا نام دیا گیا ہے۔ اس سورت کا دوسرا نام سورہ ملائکہ ہے کیونکہ پہلی ہی آیت میں فرشتوں اور ان کی ذمہ داریوں اور ان کی خلقت کا ذکر ہے۔ اس آیت میں فرشتوں کو "صاحبان اجنحہ (یعنی شہپروں والے) قرار دیا گیا ہے۔[1]

کوائف

یہ حامدات کہلانے والی ان پانچ سورتوں میں سے پانچویں اور آخری سورت ہے جو جملہ "الحمد للہ" (یعنی اللہ کی حمد و تعریف) سے شورع ہوئی ہے۔ اس سورت کی آیات کی تعداد 45 جبکہ یہ تعداد تعداد قراءِ شام و مدینہ کے نظریئے کے مطابق 46 ہے لیکن اول الذکر عدد مشہور ہے۔ اس کے الفاظ کی تعدد 780 اور حروف کی تعداد 3228 ہے؛ ترتیب مصحف کے لحاظ سے قرآن کریم کی پینتیسویں اور ترتیب نزول کے لحاظ سے تینتالیسویں سورت ہے۔ یہ سورت مکی ہے اور حجم و کمیت کے لحاظ سے سور مثانی کے زمرے میں آتی ہے اور تقریبا ایک حزب (یعنی ایک چوتھائی پارے) کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

مفاہیم

یہ سورت لوگوں کو غرور دنیا (اور دنیا سے دھوکا کھانے) اور شیطان کے فتنوں اور وسوسوں سے خبردار کرتی ہے؛ لوگوں کو فقیر و محتاج اور اللہ کو بےنیاز قرار دیتی ہے؛ اپنے ولی نعمت اور محسن کی شناخت اور اس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت کے حوالے سے ـ انسان کے لئے یادآوری کے طور پرـ اللہ کی بعض نعمتوں کا حوالہ دیتی ہے اور مسئلۂ معاد (قیامت) اور حشر اور احوال قیامت کی طرف اجمالی اشارہ کرتی ہے؛ نیز اشارہ کرتی ہے کہ قیامت کے دن کفار نادم و پشیمان ہونگے اور اپنی غلطیوں اور کفر و شرک کا ازالہ کرنے کے لئے دنیا کی طرف لوٹ آنے کی خواہش ظاہر کریں گے۔[2]

متن سورہ

سورہ فاطر مکیہ ـ نمبر 35 - آیات 45 - ترتیب نزول 43
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الْحَمْدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا أُولِي أَجْنِحَةٍ مَّثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاء إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿1﴾ مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿2﴾ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاء وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ ﴿3﴾ وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأمُورُ ﴿4﴾ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ ﴿5﴾ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ ﴿6﴾ الَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ ﴿7﴾ أَفَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَنًا فَإِنَّ اللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَاء وَيَهْدِي مَن يَشَاء فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ﴿8﴾ وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَى بَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا كَذَلِكَ النُّشُورُ ﴿9﴾ مَن كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيِّئَاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَكْرُ أُوْلَئِكَ هُوَ يَبُورُ ﴿10﴾ وَاللَّهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَى وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ ﴿11﴾ وَمَا يَسْتَوِي الْبَحْرَانِ هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَائِغٌ شَرَابُهُ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَمِن كُلٍّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُونَ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿12﴾ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُّسَمًّى ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ ﴿13﴾ إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ ﴿14﴾ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاء إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ ﴿15﴾ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ ﴿16﴾ وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ ﴿17﴾ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى إِنَّمَا تُنذِرُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالغَيْبِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَمَن تَزَكَّى فَإِنَّمَا يَتَزَكَّى لِنَفْسِهِ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ ﴿18﴾ وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ ﴿19﴾ وَلَا الظُّلُمَاتُ وَلَا النُّورُ ﴿20﴾ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُورُ ﴿21﴾ وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاء وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاء وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ ﴿22﴾ إِنْ أَنتَ إِلَّا نَذِيرٌ ﴿23﴾ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خلَا فِيهَا نَذِيرٌ ﴿24﴾ وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ جَاءتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالزُّبُرِ وَبِالْكِتَابِ الْمُنِيرِ ﴿25﴾ ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ ﴿26﴾ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاء مَاء فَأَخْرَجْنَا بِهِ ثَمَرَاتٍ مُّخْتَلِفًا أَلْوَانُهَا وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٌ ﴿27﴾ وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ كَذَلِكَ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاء إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ ﴿28﴾ إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَّن تَبُورَ ﴿29﴾ لِيُوَفِّيَهُمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ إِنَّهُ غَفُورٌ شَكُورٌ ﴿30﴾ وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ إِنَّ اللَّهَ بِعِبَادِهِ لَخَبِيرٌ بَصِيرٌ ﴿31﴾ ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ ﴿32﴾ جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ ﴿33﴾ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ ﴿34﴾ الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِن فَضْلِهِ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ ﴿35﴾ وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَى عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا كَذَلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ ﴿36﴾ وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَاءكُمُ النَّذِيرُ فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِن نَّصِيرٍ ﴿37﴾ إِنَّ اللَّهَ عَالِمُ غَيْبِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ﴿38﴾ هُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ فَمَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ وَلَا يَزِيدُ الْكَافِرِينَ كُفْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ إِلَّا مَقْتًا وَلَا يَزِيدُ الْكَافِرِينَ كُفْرُهُمْ إِلَّا خَسَارًا ﴿39﴾ قُلْ أَرَأَيْتُمْ شُرَكَاءكُمُ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمَاوَاتِ أَمْ آتَيْنَاهُمْ كِتَابًا فَهُمْ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّنْهُ بَلْ إِن يَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُهُم بَعْضًا إِلَّا غُرُورًا ﴿40﴾ إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا ﴿41﴾ وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَى مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا ﴿42﴾ اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا ﴿43﴾ أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَكَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعْجِزَهُ مِن شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا ﴿44﴾ وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِن دَابَّةٍ وَلَكِن يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَإِذَا جَاء أَجَلُهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِعِبَادِهِ بَصِيرًا ﴿45﴾

قرآن کریم


ترجمہ
اللہ کے نام سے جو بہت رحم والا نہایت مہربان ہے

سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، فرشتوں کو پیغام رساں بنانے والا جن کے دو دو، تین تین اور چار چار شہپر ہیں، اللہ اپنی خلقت میں جو چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے۔ یقینا اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے (1) اللہ لوگوں کے لیے جو رحمت ارزانی فرمائے، اسے روکنے والا کوئی نہیں اور جسے وہ روکے تو اس کے بعد اسے بھیجنے والا کوئی نہیں اور وہ غالب ہے، بڑی سوجھ بوجھ والا (2) اے انسانو! یاد کرو اللہ کی نعمت جو تم پر ہے۔ کیا اللہ کے سوا کوئی پیدا کرنے والا ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزی عطا کرے؟ اس کے سوا کوئی خدا نہیں تو تم کہاں حیران و سرگردان پھرتے ہو (3) اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو جھٹلائے گئے بہت سے پیغمبر آپ سے پہلے اور اللہ ہی کی طرف رجوع ہونا ہے تمام معاملات کی (4) اے لو گو! یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے تو یہ زندگانی دنیا تمہیں فریب میں مبتلا نہ کرے اور اللہ کے بارے میں تمہیں دھوکا دینے والا دھوکا نہ دے (5)یہ حقیقت ہے کہ شیطان تمہارا دشمن ہے تو اسے دشمن سمجھو وہ اپنی جماعت کو اس کی دعوت دیتا ہے کہ وہ دوزخ والے ہو جائیں (6) جنہوں نے کفر اختیار کیا، ان کے لیے سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا اجر و ثواب (7) تو کیا وہ شخص جس کے لئے اس کی بداعمالی دل آویز بنی ہوئی ہو تو وہ اسے اچھا سمجھتاہو ؟ تو بے شک اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے، ہدایت فرماتا ہے تو آپ کی جان نہ جائے ان پر افسوس میں، یقینا اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں (8) اور اللہ وہ ہے جس نے ہوائیں روانہ کیں تو وہ ابر کو حرکت میں لاتی ہیں تو ہم اسے لے جاتے ہیں ایک مردہ بستی کی طرف تو اس سے زندہ کرتے ہیں زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد اسی طرح (حشر میں) مردوں کو اٹھایا جائے گا (9) جو عزت چاہتا ہے تو عزت تو تمام بس اللہ کے لئے ہے، اس کی طرف بلند ہوتے ہیں، اچھے اچھے کلمے اور اچھا عمل، وہ اسے بلند کرتا ہے اور جو برائیوں کے منصوبے بناتے ہیں ان کے لئے بہت سخت عذاب ہے اور ان کے منصوبے ملیامیٹ ہوتے ہیں (10) اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا مٹی سے، پھر نطفے سے، پھر تمہیں مرد اور عورت کے جوڑے کی شکل میں بنایا اور کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ اس کے یہاں وضع حمل ہوتا ہے مگر اس کے علم سے اور نہ کوئی عمر پانے والا عمر پاتا ہے اور نہ اس کی عمر میں کمی ہوتی ہے مگر یہ کہ وہ ایک نوشتے میں موجود ہے، یقینا یہ اللہ پر آسان ہے (11) اور نہیں یکساں ہیں دونوں دریا کہ یہ خوشگوار میٹھے پانی کا ہے خوش مزہ اور یہ کھاری بدمزہ ہے اور ہر ایک میں سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور برآمد کرتے ہو جسے پہنتے ہو اور اس میں کشتیوں کو تم دیکھو گے پانی کو چیرتی ہوئی تاکہ تم اس کے فضل و کرم سے کسب معاش کرو، اور شاید کہ تم شکر گزار ہو (12) وہ رات کو دن کے اندر لے جاتا ہے اور دن کو رات کے اندر لے جاتا ہے اور اس نے قابو میں رکھا ہے سورج اور چاند کو۔ ہر ایک ایک مقررہ میعاد تک چل رہا ہے۔ یہ ہے اللہ تمہارا مددگار۔ اس کی سلطنت ہے اور جنہیں وہ اسے چھوڑ کر پکارتے ہیں، ذرا سی چیز پر بھی قدرت نہیں رکھتے (13) اگر انہیں پکارو تو تمہاری پکار کو وہ سنیں گے نہیں اور اگر سنیں بھی تو تمہاری التجا کو قبول نہیں کریں گے اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک سے بیزاری کا اعلان کریں گے اور ایسے شخص کی سی جو پورے طور پر باخبر ہو، کوئی دوسرا تمہیں صحیح اطلاع نہیں دے سکتا (14)اے لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو اور اللہ، وہ بے نیاز ہے جو قابل تعریف ہے (15) اگر وہ چاہے تو تم کو ختم کر دے اور نئی مخلوق کو پیدا کرے (16) اور یہ اللہ پر کوئی دشوار امر نہیں ہے (17) اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور اگر کوئی گراں بار اس کے اٹھانے کے لیے پکارے تو اس میں سے کچھ بھی (دوسرے کے ہاتھوں) اٹھایا نہ جائے گا چاہے رشتہ دار کیوں نہ ہو۔ آپ خوف آخرت سے ہوشیار بس انہی کو کرتے ہیں جو اپنے پروردگار سے بے دیکھے ڈرتے ہوں اور نماز کے پابند ہوں اور جو پاک باز رہے، وہ بس خود اپنے فائدے کے لیے پاک باز رہے گا اور بالآخر اللہ ہی کی طرف جانا ہے (18) اور نہیں یکساں ہے اندھا اور آنکھوں والا (19) اور نہ اندھیرا اور نہ اجالا (20) اور نہ سایہ اور دھوپ (21) اور نہیں ہیں یکساں زندہ اور مردے، یقینا اللہ سنائے گا جسے چاہے اور آپ نہیں سنا سکتے انہیں جو قبروں میں ہیں (22) آپ نہیں ہیں مگر ڈرانے والے (23) ہم نے بھیجا ہے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر اور کوئی قوم نہیں مگر یہ کہ اس میں کوئی ڈرانے والا گزرا ہے (24) اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو ان کے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا تھا۔ آئے ان کی طرف ان کے پیغمبر معجزے اور کتابیں اور روشن دستور حیات لے کر (25) پھر میں نے گرفت میں لیا انہیں جو کافر تھے تو کیسا تھا میرا عذاب (26) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا تو ہم نے اس سے نکالے مختلف رنگ کے پھل اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ ٹکڑے ہیں جن کے رنگ مختلف ہیں (27) اور انسانوں اور چلنے پھرنے والے جانوروں اور چوپایوں میں بھی اسی طرح مختلف رنگ ہیں، اللہ سے اس کے بندوں میں سے بس عالم لوگ ڈرتے ہیں، بلاشبہ اللہ عزت والا ہے بخشنے والا (28) یقینا وہ جو کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس سے پوشیدہ طور پر اور ظاہر بظاہر خیرات کرتے ہیں، وہ امید وابستہ کیے ہوئے ہیں ایسی تجارت سے جو کبھی برباد نہیں ہو گی (29) تاکہ وہ انہیں پورے پورے ان کے ثواب عطا کرے اور اپنے فضل و کرم سے انہیں اور زیادہ دے، بلاشبہ بخشنے والا ہے، عمل کی قدر کرنے والا (30) اور ہم نے آپ کی طرف بذریعہ وحی جو کتاب بھیجی ہے، وہ حق ہے تصدیق کرنے والی اس کی جو اس کے پہلے ہے، یقینا اللہ اپنے بندوں سے باخبر ہے، دیکھنے والا (31) پھر ہم نے کتاب کا وارث بنایا انہیں جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کیا ، اس لیے کہ ان میں کچھ اپنے نفوس پر ظلم کرنے والے ہیں اور کچھ معتدل قسم کے ہیں اور ان میں سے بعض بھلائیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں اللہ کے حکم سے، یہی تو بہت بڑی فضیلت ہے (32) ہمیشہ کے قیام والے بہشتوں میں داخل ہوں گے، انہیں پہنائے جائیں گے ان میں سونے کے کنگن اور موتی اور ان کے کپڑے ریشم کے ہوں گے (33) اور وہ کہیں گے شکر اس اللہ کا جس نے ہم سے رنج و غم دور کیا، بلاشبہ ہمارا پروردگار بخشنے والا ہے، اچھے اعمال کی قدر کرنے والا (34) جس نے ہم کو اتارا اپنے فضل و کرم سے دائمی قیام والی جگہ پر جس میں ہمیں نہ کوئی زحمت ہوتی ہے اور نہ ہمیں کوئی ذرا سی بھی تھکن ہوتی ہے (35) اور جنہوں نے کفر کیا، ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے، ان کو قضا بھی نہیں آئے گی کہ مر جائیں اور نہ ان سے ان کے عذاب میں کمی ہو گی۔ اسی طرح ہم سزا دیں گے ہر نا شکرے کو (36) اور وہ اس میں چیختے ہوں گے، اے ہمارے پروردگار ! اب ہم نیک اعمال کریں گے اس کے علاوہ جو کرتے رہے تھے۔ کیا ہم نے تم کو عمر دی نہیں اتنی جس میں کسی کو نصیحت قبول کرنا ہو تو وہ قبول کرلے اور تمہارے پاس ڈرانے والا رسول بھی آیا، اب مزہ چکھو کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے (37) بلاشبہ اللہ آسمان اور زمین کی ان دیکھی چیزوں کا جاننے والا ہے، یقینا وہ دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے (38) اس نے تم لوگوں کو زمین پر اگلے والوں کی جگہ پیدا کیا، اب جو کفر اختیار کرے گا، اس کے کفر سے اسی کو نقصان پہنچے گا اور نہیں اضافہ کرتا کافروں کو ان کا کفر ان کے پروردگار کے یہاں ناراضگی کے سوا اور نہیں اضافہ کرتا کافروں کے لیے ان کا کفر سوا خسارے کے (39) کہئے کہ کیا تم نے غور کیا ہے اپنے (بنائے ہوئے) شریکوں پر جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو مجھے دکھا دو، انہوں نے زمین میں کیا چیزیں پیدا کی ہیں یا ان کی آسمانوں میں کوئی شرکت ہے؟ یا ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے تو وہ ایک دلیل رکھتے ہیں اس کی؟ بلکہ ظالم لوگ ایک دوسرے کو توقعات نہیں دلاتے سوا دھوکے اور فریب کے (40) یقینا اللہ تھامے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو اس سے کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹیں اور اگر وہ ہٹیں تو کوئی اس کے بعد ان کی روک تھام نہیں کر سکتا، یقینا وہ برداشت کرنے والا ہے، بڑا بخشنے والا (41) اور انہوں نے اپنی کوشش بھر سخت سے سخت قسمیں اللہ کی کھائیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا(پیغمبر) آئے تو وہ کسی بھی قوم سے زیادہ ہدایت یافتہ ثابت ہوں گے، اس کے بعد جب ان کے پاس ڈرانے والا آیا تو اس نے ان میں اضافہ نہیں کیا سوا وحشت کے (42) دنیا میں گھمنڈ اور بری طرح کی سازشوں کی صورت میں اور بری قسم کی سازش ضرر نہیں پہنچاتی مگر اپنے کرنے والے کو تو انہیں کیا انتظار ہو سکتا ہے سوا اگلے والوں کو پیش آنے والے دستور کے اس لیے کہ تم ہرگز اللہ کے دستور میں تبدیلی نہیں پاؤ گے اور نہ کبھی اللہ کے دستور میں تغیر پاؤ گے (43) کیا وہ اطراف زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ دیکھتے کیا انجام ہوا ان کا جو ان کے پہلے تھے وہ ان سے زیادہ طاقت ور تھے اور اللہ کو کوئی چیز بے بس نہیں بنا سکتی آسمانوں میں اور نہ زمین میں وہ بڑا جاننے والا ہے، قدرت رکھنے والا (44) اور اگر اللہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے گرفت میں (فوراً) لے لیا کرتا تو اس روئے زمین پر کسی نقل و حرکت کرنے والے کو چھوڑتا ہی نہ مگر وہ تو انہیں ایک مقررہ مدت تک مہلت دیتا ہے تو جب ان کی مدت پوری ہو گی تو اللہ اپنے بندوں کا دیکھنے والا تو ہے ہی (45)


پچھلی سورت:
سورہ سبا
سورہ 35 اگلی سورت:
سورہ یس
قرآن کریم

(1) سورہ فاتحہ (2) سورہ بقرہ (3) سورہ آل عمران (4) سورہ نساء (5) سورہ مائدہ (6) سورہ انعام (7) سورہ اعراف (8) سورہ انفال (9) سورہ توبہ (10) سورہ یونس (11) سورہ ہود (12) سورہ یوسف (13) سورہ رعد (14) سورہ ابراہیم (15) سورہ حجر (16) سورہ نحل (17) سورہ اسراء (18) سورہ کہف (19) سورہ مریم (20) سورہ طہ (21) سورہ انبیاء (22) سورہ حج (23) سورہ مؤمنون (24) سورہ نور (25) سورہ فرقان (26) سورہ شعراء (27) سورہ نمل (28) سورہ قصص (29) سورہ عنکبوت (30) سورہ روم (31) سورہ لقمان (32) سورہ سجدہ (33) سورہ احزاب (34) سورہ سباء (35) سورہ فاطر (36) سورہ یس (37) سورہ صافات (38) سورہ ص (39) سورہ زمر (40) سورہ غافر (41) سورہ فصلت (42) سورہ شوری (43) سورہ زخرف (44) سورہ دخان (45) سورہ جاثیہ (46) سورہ احقاف (47) سورہ محمد (48) سورہ فتح (49) سورہ حجرات (50) سورہ ق (51) سورہ ذاریات (52) سورہ طور (53) سورہ نجم (54) سورہ قمر (55) سورہ رحمن (56) سورہ واقعہ (57) سورہ حدید (58) سورہ مجادلہ (59) سورہ حشر (60) سورہ ممتحنہ (61) سورہ صف (62) سورہ جمعہ (63) سورہ منافقون (64) سورہ تغابن (65) سورہ طلاق (66) سورہ تحریم (67) سورہ ملک (68) سورہ قلم (69) سورہ حاقہ (70) سورہ معارج (71) سورہ نوح (72) سورہ جن (73) سورہ مزمل (74) سورہ مدثر (75) سورہ قیامہ (76) سورہ انسان (77) سورہ مرسلات (78) سورہ نباء (79) سورہ نازعات (80) سورہ عبس (81) سورہ تکویر (82) سورہ انفطار (83) سورہ مطففین (84) سورہ انشقاق (85) سورہ بروج (86) سورہ طارق (87) سورہ اعلی (88) سورہ غاشیہ (89) سورہ فجر (90) سورہ بلد (91) سورہ شمس (92) سورہ لیل (93) سورہ ضحی (94) سورہ شرح (95) سورہ تین (96) سورہ علق (97) سورہ قدر (98) سورہ بینہ (99) سورہ زلزال (100) سورہ عادیات (101) سورہ قارعہ (102) سورہ تکاثر (103) سورہ عصر (104) سورہ ہمزہ (105) سورہ فیل (106) سورہ قریش (107) سورہ ماعون (108) سورہ کوثر (109) سورہ کافرون (110) سورہ نصر (111) سورہ مسد (112) سورہ اخلاص (113) سورہ فلق (114) سورہ ناس


متعلقہ مآخذ

پاورقی حاشیے

  1. اس بارے میں وضاحت کے لئے رجوع کریں:قرآن – ترجمه، توضیحات و واژه نامه از بهاءالدین خرمشاهی، ص434۔
  2. دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج2، ص1247۔


منابع