سورہ زخرف

ویکی شیعہ سے
شوری سورۂ زخرف دخان
ترتیب کتابت: 43
پارہ : 25
نزول
ترتیب نزول: 63
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 89
الفاظ: 838
حروف: 3609

سورہ زُخْرُف قرآن کی 43ویں اور مکی سورتوں میں سے ہے جو 25ویں پارے میں واقع ہے۔ زخرف زر و زیور کے معنی میں ہے جسے اس سورت کی 35ویں آیت سے لیا گیا ہے۔ اس سورت میں قرآن کریم اور پیغمبر اکرمؐ کی نبوت کی اہمیت، توحید کے بعض دلائل اور کفر و شِرک سے مقابلہ کرنے کے بارے میں ہے اسی طرح بعض انبیاء اور ان کے اقوام کی داستان بھی اس سورت میں بیان ہوئی ہیں۔ بعض تفاسیر کے مطابق اس سورت کا اصلی مقصد انسان کو نصیحت اور اسے خبردار کرنا ہے۔

آیت نمبر 4 اور 74 اس سورت کی مشہور آیات میں سے ہیں۔ پہلی آیت ام‌الکتاب اور لوح محفوظ کے بارے میں جبکہ دوسری آیت اہل جہنم کا جہنم میں ہمیشہ رہنے کے بارے میں ہے۔ احادیث میں عذاب قبر سے نجات اور بہشت میں داخل ہونا اس سورت کے فضائل اور خواص میں شمار کیا گیا ہے۔

تعارف

  • نام

زُخرُف زر و زیور کے معنی میں ہے اور یہ نام اس سورت کی 35ویں آیت سے لیا گیا ہے جہاں پر دینا کے مال و دولت اور زر و زیور کی بے اہمیت ہونے کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے اسی مناسبت سے اس کا نام "سورہ زخرف" رکھا گیا ہے۔[1]

  • محل اور ترتیب نزول

سورہ زخرف مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے 63ویں جبکہ مُصحَف شریف کی موجودہ ترتیب کے اعتبار سے قرآن کی 43ویں سورہ ہے[2] اور 25ویں پارے میں واقع ہے۔

  • آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

یہ سورت 89 آیات، 838 کلمات اور 3609 حروف پر مشتمل ہے اور حجم کے اعتبار سے اس کا شمار مَثانی میں ہوتا ہے۔[3] سورہ زخرف کی ابتداء چونکہ "حم" سے ہوتی ہے اس لئے یہ حامیمات میں بھی شمار ہوتا ہے اور قسم سے شروع ہونے والی سورتوں میں اس کا نمبر چوتھے نبر پر آتا ہے۔[4]

مضامین

تفسیر نمونہ کے مطابق سورہ زخرف کے مباحث کو سات(7) حصوں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے:

  1. قرآن اور پیغمبر اکرمؐ کی نبوت کی اہمیت؛
  2. "آفاق" میں موجود توحید کے بعض دلائل اور انسان پر خداوندعالم کے گوناگون نعمات کی یادآوری؛
  3. شِرک اور کفر سے مقابلہ اور خدا کی طرف نسبت دی جانے والی ناروا نستبوں کی نفی اور اندھے تقلید کی ممانعت؛
  4. گذشتہ انبیاء اور ان کے اقوام کا ذکر؛
  5. معاد، قیامت کے دن مؤمنین کی جزا، کفار کی سزا اور مجرموں کو خبردار؛
  6. بے ایمانوں کے غلط معیار جو ان کی غلطی کا سبب بنا ہے؛
  7. وعظ و نصیحت۔[5]

علامہ طباطبایی تفسیر المیزان میں سورہ زخرف کے اصلی مقصد کو انسان کیلئے لئے وعظ و نصیحت کرنا اور اسے خبردار کرانا قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سورت میں اس بات کے اوپر تأکید کی گئی ہے کہ یہ خدا کی سنت رہی ہے کہ وہ انسان کی نصیحت اور اسے خبردار کرانے کیلئے انبیاء بھیجتے ہیں جن کی تکذیب اور ان کا مذاق اڑانے والے ہلاک ہوئے ہیں جس کیلئے اس سورت میں حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیؑ اور حضرت عیسیؑ کے اقوام کو بطور مثال ذکر کیا گیا ہے۔[6]

سورہ زخرف کے مضامین[7]
 
 
 
 
 
 
 
 
مشرکوں کے عقائد اور رفتار کا بطلان اور ان کی ناکامی کا اثبات
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچواں گفتار؛ آیہ ۷۹-۸۰
توحید کا اثبات اور مشرکوں کی ناکامی
 
چوتھا گفتار؛ آیہ ۶۶-۷۸
خدا پرستوں اور مشرکوں کا انجام
 
تیسرا گفتار؛ آیہ ۳۶-۶۵
مشرکوں کاعقیدہ اور کردار صحیح نہ ہونا
 
دوسرا گفتار؛ آیہ ۱۵-۳۵
فرشتوں کی پرستش کے لیے مشرکوں کے بہانے
 
پہلا گفتار؛ آیہ ۱-۱۴
قرآن کی توحیدی تعلیمات سے مشرکوں کا منہ پھیرنا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۷۹-۸۰
پیغمبر سے مقابلے کےلیے مشرکوں کی ناکام کوشش
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۶۶-۶۷
شرک کا انجام عذاب ہے
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۳۶-۳۹
شرک، شیطان کی پیروی کا نتیجہ
 
پہلا بہانہ؛ آیہ ۱۵-۱۹
فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱-۴
قرآن کے نزول کا ہدف انسان کو غور و فکر پر مجبور کرنا ہے
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۸۱-۸۳
اللہ کا کوئی بیٹا یا شریک نہیں
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۶۸-۷۳
اللہ کے بندوں کا اجر بہشت ہے
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۴۰-۴۵
دل کے آندھے مشرک قابل ہدایت نہ ہونا
 
دوسرا بہانہ؛ آیہ ۲۰-۲۱
اللہ نے چاہا ہے کہ ہم فرشتوں کی پوجا کریں
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۵-۸
گناہ اور مزاق اڑانا دین پہنچانے میں مانع نہیں ہے
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۸۴-۸۵
کائنات کا فرمانروا صرف اللہ ہے
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۷۴-۷۸
دوزخ میں حق سے مقابلہ کرنے والوں کی سزا
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۴۶-۵۶
مشرکوں کا کردار فرعونیوں جیسا
 
تیسرا بہانہ؛ آیہ ۲۲-۳۰
اچھے لوگوں کی تقلید
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۹-۱۴
نعمت دینے والے خدا کی عبادت کی ضرورت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۸۶-۸۷
اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کو بھی شفاعت کرنے کی اجازت نہیں
 
 
 
 
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۵۷-۶۵
حضرت عیسی کے بارے میں مشرکوں کا جدال اور نزاع
 
چوتھا بہانہ؛ آیہ ۳۱-۳۵
توحید کا منادی (پیغمبر) مالدار نہ ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچواں مطلب؛ آیہ ۸۸-۸۹
مشرکوں کے مقابلے میں پیغمبر کی ذمہ داری
 
 
 
 
 
 
 
 


آیات مشہورہ

ام‌الکتاب

  • وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ (ترجمہ: بےشک وہ (قرآن) اصل کتاب (لوحِ محفوظ) میں جو ہمارے پاس ہے بلند مرتبہ (اور) حکمت والا ہے۔) (آیت نمبر4)

"امّ الکتاب" کی ترکیب قرآن میں تین بار آیا ہے۔[8] مفسرین نے اس آیت میں اس عبارت سے کتاب کی "اصل" اور "اساس" مراد لئے ہیں اور سورہ بروج کی آیت نمبر 21 اور 22 [یادداشت 1] سے استناد کرتے ہوئے "ام‌الکتاب" سے لوح محفوظ مراد لئے ہیں۔[9] لوح محفوظ اس کتاب کو کہا جاتا ہے جس میں کائنات کے تمام موجودات ثبت ہیں اور ان میں ہر قسم کی تبدیلی بھی اس کتاب میں محفوظ اور درج ہیں۔[10]

جہنم میں دائمی قیام

  • إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي عَذَابِ جَهَنَّمَ خَالِدُونَ (ترجمہ: بےشک مجرم لوگ دوزخ کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔) (آیت نمبر 74)

خلود ہمیشگی اور جاودانگی اور طولانی مدت تک قیام کے معنی میں ہے[11] اہل بہشت کا بہشت میں ہمیشہ کیلئے رہنا کے بارے میں اسلامی متکلمین کے درمیان زیادہ اختلاف نہیں پایا جاتا اور اکثر اس بات کو قبول کرتے ہیں۔[12] لیکن جہنم میں ہمیشہ رہنے کے بارے میں شیعہ متکلمین اس بات کے قائل‌ ہیں کہ یہ چیز صرف کافروں کے ساتھ مختص ہے اور اگر کوئی مؤمن یا مسلمان کسی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو تو اسے اس گناہ کے تناسب سے عذاب ہو گا لیکن وہ اس عذاب میں ہمیشہ کیلئے نہیں رہیں گے۔[13]

تاریخی واقعات اور داستانیں

  • حضرت ابراہیم کا بت‌پرستی سے اظہار برأت (آیت نمبر 26 اور 27)؛
  • حضرت موسی کا فرعون کو یکتا پرستی کی دعوت، فرعون کا غرور اور خودپسندی، لوگوں کا فرعون کی پیروی، بنی اسرائیل کا عذاب میں مبتلا ہونا (آیت نمبر 46- 56)؛
  • لوگوں کا حصرت عیسی سے جدال، حضرت عیسی کی طرف سے واضح دلائل پیش کرنا، توحید کی طرف دعوت، اختلاف احزاب (آیت نمبر 56 - 65)۔

فضیلت اور خواص

امام باقرؑ سے نقل ہوئی ہے کہ جو کوئی سورہ زخرف کی تلاوت اور اس پر مداومت کرے تو خدا اسے قبر میں حشرات اور فشار قبر سے نجات دے گا یہاں تک کہ وہ خداوندعالم کی بارگاہ میں پہنچ جائے اس وقت یہ سورت اسے خدا کے حکم سے بہشت میں داخل کرے گا۔[14]

اسی طرح پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے کہ اگر کوئی سورۀ زخرف کی تلاوت کرنے تو یہ شخص ان لوگوں میں سے ہو گا جنہیں قیامت کے دن کہا جائے گا:‌ اے میرے بندو! آج تمہارے لئے نہ کوئی ترس ہے اور نہ کوئی غم و اندوہ، آؤ بغیر حساب و کتاب کے بہشت میں داخل ہو جاؤ۔[15]

متن اور ترجمہ

سورہ زخرف
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

حم ﴿1﴾ وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿2﴾ إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿3﴾ وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ ﴿4﴾ أَفَنَضْرِبُ عَنكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا أَن كُنتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِينَ ﴿5﴾ وَكَمْ أَرْسَلْنَا مِن نَّبِيٍّ فِي الْأَوَّلِينَ ﴿6﴾ وَمَا يَأْتِيهِم مِّن نَّبِيٍّ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُون ﴿7﴾ فَأَهْلَكْنَا أَشَدَّ مِنْهُم بَطْشًا وَمَضَى مَثَلُ الْأَوَّلِينَ ﴿8﴾ وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِيزُ الْعَلِيمُ ﴿9﴾ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا وَجَعَلَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ﴿10﴾ وَالَّذِي نَزَّلَ مِنَ السَّمَاء مَاء بِقَدَرٍ فَأَنشَرْنَا بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا كَذَلِكَ تُخْرَجُونَ ﴿11﴾ وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ ﴿12﴾ لِتَسْتَوُوا عَلَى ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ﴿13﴾ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ ﴿14﴾ وَجَعَلُوا لَهُ مِنْ عِبَادِهِ جُزْءًا إِنَّ الْإِنسَانَ لَكَفُورٌ مُّبِينٌ ﴿15﴾ أَمِ اتَّخَذَ مِمَّا يَخْلُقُ بَنَاتٍ وَأَصْفَاكُم بِالْبَنِينَ ﴿16﴾ وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمَنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ ﴿17﴾ أَوَمَن يُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ ﴿18﴾ وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ ﴿19﴾ وَقَالُوا لَوْ شَاء الرَّحْمَنُ مَا عَبَدْنَاهُم مَّا لَهُم بِذَلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ ﴿20﴾ أَمْ آتَيْنَاهُمْ كِتَابًا مِّن قَبْلِهِ فَهُم بِهِ مُسْتَمْسِكُونَ ﴿21﴾ بَلْ قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِم مُّهْتَدُونَ ﴿22﴾ وَكَذَلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ ﴿23﴾ قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكُم بِأَهْدَى مِمَّا وَجَدتُّمْ عَلَيْهِ آبَاءكُمْ قَالُوا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ ﴿24﴾ فَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ ﴿25﴾ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاء مِّمَّا تَعْبُدُونَ ﴿26﴾ إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ ﴿27﴾ وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴿28﴾ بَلْ مَتَّعْتُ هَؤُلَاء وَآبَاءهُمْ حَتَّى جَاءهُمُ الْحَقُّ وَرَسُولٌ مُّبِينٌ ﴿29﴾ وَلَمَّا جَاءهُمُ الْحَقُّ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ وَإِنَّا بِهِ كَافِرُونَ ﴿30﴾ وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ ﴿31﴾ أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ ﴿32﴾ وَلَوْلَا أَن يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً لَجَعَلْنَا لِمَن يَكْفُرُ بِالرَّحْمَنِ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفًا مِّن فَضَّةٍ وَمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُونَ ﴿33﴾ وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْوَابًا وَسُرُرًا عَلَيْهَا يَتَّكِؤُونَ ﴿34﴾ وَزُخْرُفًا وَإِن كُلُّ ذَلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ عِندَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِينَ ﴿35﴾ وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ ﴿36﴾ وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ ﴿37﴾ حَتَّى إِذَا جَاءنَا قَالَ يَا لَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِينُ ﴿38﴾ وَلَن يَنفَعَكُمُ الْيَوْمَ إِذ ظَّلَمْتُمْ أَنَّكُمْ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ ﴿39﴾ أَفَأَنتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ أَوْ تَهْدِي الْعُمْيَ وَمَن كَانَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿40﴾ فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُم مُّنتَقِمُونَ ﴿41﴾ أَوْ نُرِيَنَّكَ الَّذِي وَعَدْنَاهُمْ فَإِنَّا عَلَيْهِم مُّقْتَدِرُونَ ﴿42﴾ فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ إِنَّكَ عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿43﴾ وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ ﴿44﴾ وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ ﴿45﴾ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِآيَاتِنَا إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَقَالَ إِنِّي رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿46﴾ فَلَمَّا جَاءهُم بِآيَاتِنَا إِذَا هُم مِّنْهَا يَضْحَكُونَ ﴿47﴾ وَمَا نُرِيهِم مِّنْ آيَةٍ إِلَّا هِيَ أَكْبَرُ مِنْ أُخْتِهَا وَأَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴿48﴾ وَقَالُوا يَا أَيُّهَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ إِنَّنَا لَمُهْتَدُونَ ﴿49﴾ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ ﴿50﴾ وَنَادَى فِرْعَوْنُ فِي قَوْمِهِ قَالَ يَا قَوْمِ أَلَيْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ وَهَذِهِ الْأَنْهَارُ تَجْرِي مِن تَحْتِي أَفَلَا تُبْصِرُونَ ﴿51﴾ أَمْ أَنَا خَيْرٌ مِّنْ هَذَا الَّذِي هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ ﴿52﴾ فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاء مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ ﴿53﴾ فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ ﴿54﴾ فَلَمَّا آسَفُونَا انتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿55﴾ فَجَعَلْنَاهُمْ سَلَفًا وَمَثَلًا لِلْآخِرِينَ ﴿56﴾ وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ ﴿57﴾ وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ ﴿58﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ ﴿59﴾ وَلَوْ نَشَاء لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ ﴿60﴾ وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ ﴿61﴾ وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ﴿62﴾ وَلَمَّا جَاء عِيسَى بِالْبَيِّنَاتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُم بِالْحِكْمَةِ وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿63﴾ إِنَّ اللَّهَ هُوَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ ﴿64﴾ فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِن بَيْنِهِمْ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ أَلِيمٍ ﴿65﴾ هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ﴿66﴾ الْأَخِلَّاء يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ ﴿67﴾ يَا عِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ ﴿68﴾ الَّذِينَ آمَنُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا مُسْلِمِينَ ﴿69﴾ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنتُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُونَ ﴿70﴾ يُطَافُ عَلَيْهِم بِصِحَافٍ مِّن ذَهَبٍ وَأَكْوَابٍ وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ وَأَنتُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿71﴾ وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿72﴾ لَكُمْ فِيهَا فَاكِهَةٌ كَثِيرَةٌ مِنْهَا تَأْكُلُونَ ﴿73﴾ إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي عَذَابِ جَهَنَّمَ خَالِدُونَ ﴿74﴾ لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَهُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ ﴿75﴾ وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِن كَانُوا هُمُ الظَّالِمِينَ ﴿76﴾ وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ قَالَ إِنَّكُم مَّاكِثُونَ ﴿77﴾ لَقَدْ جِئْنَاكُم بِالْحَقِّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَارِهُونَ ﴿78﴾ أَمْ أَبْرَمُوا أَمْرًا فَإِنَّا مُبْرِمُونَ ﴿79﴾ أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُم بَلَى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ ﴿80﴾ قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ ﴿81﴾ سُبْحَانَ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ ﴿82﴾ فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا وَيَلْعَبُوا حَتَّى يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي يُوعَدُونَ ﴿83﴾ وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاء إِلَهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَهٌ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ ﴿84﴾ وَتَبَارَكَ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَعِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴿85﴾ وَلَا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَن شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴿86﴾ وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ فَأَنَّى يُؤْفَكُونَ ﴿87﴾ وَقِيلِهِ يَارَبِّ إِنَّ هَؤُلَاء قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُونَ ﴿88﴾ فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ﴿89﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

حا۔ میم۔ (1) قَسم ہے اس واضح کتاب کی۔ (2) کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم سمجھو۔ (3) بےشک وہ (قرآن) اصل کتاب (لوحِ محفوظ) میں جو ہمارے پاس ہے بلند مرتبہ (اور) حکمت والا ہے۔ (4) کیا ہم محض اس لئے نصیحت سے منہ پھیرلیں کہ تم حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو۔ (5) اور ہم نے پہلے لوگوں میں کتنے ہی نبی(ع) بھیجے ہیں۔ (6) اور ان کے پاس کوئی نبی(ع) نہیںایا مگریہ کہ وہ اس کامذاق اڑاتے تھے۔ (7) پھر ہم نے ان لوگوں کو ہلاک کر دیا جو ان (موجودہ منکرین) سے زیادہ طاقتور تھے اور پہلے لوگوں کی مثال (حالت) گزر چکی ہے۔ (8) اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ انہیں اس ہستی نے پیدا کیا ہے جو غالب ہے اور ہمہ دان۔ (9) وہی جس نے زمین کو تمہارے لئے گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنا دئیے تاکہ تم (منزل تک) راہ پاؤ۔ (10) اور جس نے ایک خاص مقدارمیں آسمان سے پا نی اتارا پھر ہم نے اس سے مردہ (خشک) زمین کو زندہ کر دیا اسی طرح تم (قبروں سے) نکالے جاؤ گے۔ (11) اور جس نے تمام اِقسام کی چیزیں پیدا کیں اور تمہارے لئے کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ (12) تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو اور پھر اپنے پروردگار کی نعمت کو یاد کرو اور کہو پاک ہے وہ ذات جس نے ان چیزوں کو ہمارے لئے مسخر کر دیا اور ہم ایسے نہ تھے کہ ان کو اپنے قابو میں کرتے۔ (13) اور بےشک ہم اپنے پروردگار کی طرف لو ٹنے والے ہیں۔ (14) اور ان لوگوں نے خدا کے بندوں میں سے اس کا جزو قرار دیا ہے بیشک انسان کھلا ہوا ناشکراہے۔ (15) کیا خدا نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لئے بیٹیاں منتخب کی ہیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ مخصوص کر دیا؟ (16) اور جب ان میں سے کسی کو اس (بیٹی) کی بشارت دی جاتی ہے جسے وہ خدا کی صفت قرار دیتا ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور اس کا دل غم سے بھر جاتا ہے۔ (17) کیا (خدا کیلئے وہ ہے) جو زیوروں میں پرورش پائے اور بحث و تکرار میں اپنا مدعا واضح نہ کر سکے؟ (18) اور انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں عورتیں قرار دے رکھا ہے کیا وہ ان کی پیدائش (اور جسمانی ساخت) کے وقت موجود تھے ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے بازپرس کی جائے گی۔ (19) اور وہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم ان (بتوں) کی عبادت نہ کرتے انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ وہ محض اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں۔ (20) کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے جسے وہ مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں۔ (21) بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر دیکھا ہے اور ہم انہی کے نقشِ قدم پر راہ یاب ہیں۔ (22) اور اسی طرح ہم نے آپ(ص) سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرا نے والا (پیغمبر(ع)) نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہاں آسودہ حال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا اور ہم تو انہی کے نقوشِ پاکی پیروی کر رہے ہیں۔ (23) اس (نذیر) نے کہا گرچہ میں تمہارے پاس اس سے زیادہ ہدایت بخش طریقہلے کرایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے؟ ان لوگوں نے کہا کہ تم جس(دین) کے ساتھ بھیجے گئے ہو ہم اس کے منکر ہیں۔ (24) سو ہم نے ان سے انتقام لیا تو دیکھو کہ جھٹلا نے والوں کا کیا انجام ہوا؟ (25) اور وہ وقت یاد کرو جب ابراہیم(ع) نے اپنے باپ (تایا) اور اپنی قوم سے کہا میں ان سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ (26) مگر وہ جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی میری راہنمائی کرے گا (میں صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں)۔ (27) اور وہ (ابراہیم(ع)) اسی (عقیدۂ توحید) کو اپنی اولاد میں باقی رہنے والا کلمہ قرار دے گئے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔ (28) اور (باوجود ان کی خلاف ورزی کرنے کے) میں ان کو اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے ساز و سامان سے بہرہ مندہ کرتا رہا یہاں تک کہ انکے پاس حق اور کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا۔ (29) اور جب ان کے پاس حق آگیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں۔ (30) اور وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دو (مشہور) بستیوں (مکہ و طائف) کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا؟ (31) کیا یہ لوگ آپ کے پروردگار کی رحمت تقسیم کرتے ہیں؟ (حالانکہ) دنیاوی زندگی میں ان کے درمیان ان کی روزی ہم نے تقسیم کر دی ہے اور ہم نے بعض کو بعض پر کئی درجے فوقیت دی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے خد متلے سکیں اور آپ کے پروردگار کی رحمت اس مال و دولت سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ (32) اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ ایک ہی طریقے کے ہو جائیں گے تو ہم خدائے رحمٰن کا انکار کرنے والوں کے مکانوں کی چھتیں اور سیڑھیاں جن پر وہ چڑھتے ہیں۔ (33) اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت جن پر وہ تکیہ لگاتے ہیں سب چا ندی اور سونے کے بنوا دیتے۔ (34) اور یہ سب کچھ دنیاوی زندگی کا ساز و سامان ہے اور تمہارے پروردگار کے ہاں آخرت تو متقیوں کے لئے ہے۔ (35) اور جوشخص خدا کی یاد سے اندھا بنتا ہے تو ہم اس کیلئے ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں جو اس کا ساتھی ہوتا ہے۔ (36) اور وہ (شیاطین) ان (اندھوں) کو راہ (راست) سے روکتے ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ (37) یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئیگا تو (اپنے شیطان سے) کہے گا اے کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرقومغرب کی دوری ہوتی تو بہت برا ساتھی ہے۔ (38) (ان سے کہا جائے گا کہ) جب تم (دنیا میں) ظلم کر چکے تو (آج) یہ بات تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی تم سب عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہو۔ (39) کیا آپ(ص) بہروں کو سنائیں گےیا اندھوں کو راہ دکھائیں گے اور ان کو جو کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں؟ (40) پس اگر ہم آپ کو (دنیا سے) اٹھائیں تو پھر بھی ہم ان لوگوں سے بدلہ لینے والے ہیں۔ (41) یا ہم ان کو (آپ کے عینِ حیات) وہ (عذاب) دکھا دیں گے جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے سو ہم ان پر پوری طرح قادر ہیں۔ (42) پس آپ(ص) مضبوطی سے اسے تھامے رہیں جس کی آپ(ص) کی طرف وحی کی گئی ہے۔ یقیناً آپ سیدھے راستہ پر ہیں۔ (43) اور بےشک وہ (قرآن) آپ(ص) کیلئے اور آپ(ص) کی قوم کیلئے بڑا شرف اور اعزاز ہے اور عنقریب تم لوگوں سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (44) آپ(ص) پیغمبروں(ع) سے پوچھیں جنہیں ہم نے آپ(ص) سے پہلے بھیجا تھا کہایا ہم نے خدائے رحمٰن کے علاوہ بھی کوئی ایسے خدا مقرر کئے تھے جن کی عبادت کی جائے۔ (45) اور بےشک ہم نے موسیٰ (ع) کو اپنی نشانیاں (معجزے) دے کر فرعون اور اس کے عمائدِ سلطنت کے پاس بھیجا۔ پس آپ(ع) نے (ان سے) کہا کہ میں عالمین کے پروردگار کا رسول(ع) ہوں۔ (46) پس جب وہ ہماری نشانیوں کے ساتھ ان کے پاس آئے تو وہ لوگ ان (نشانیوں) پر ہنسنے لگے (مذاق اڑا نے لگے)۔ (47) اور ہم انہیں کوئی نشانی نہیں دکھاتے تھے مگر وہ پہلی سے بڑی ہوتی تھی اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وہ (اپنی روش سے) باز آئیں۔ (48) اور انہوں نے کہا کہ اے جادوگر! اپنے پروردگار سے ہمارے لئے دعا کرو۔ہم ضرور ہدایت پا جائیں گے۔ (49) تو جب ہم نے ان سے عذاب دور کر دیا تو ایکدم وہ عہد توڑ دیتے تھے۔ (50) اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی اے میری قوم! کیا مصر کی سلطنت میری نہیں ہے؟ اور یہ نہریں جو میرے نیچے بہہ رہی ہیں تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ (51) (مجھے بتا‎ؤ) کیا میں اس سے بہتر نہیں ہوں جو ذلیل و حقیر ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ (52) (اگر یہ برحق نبی ہے) تو اس پر سو نے کے کنگن کیوں نہیں اتارے گئے؟ یا اس کے ہمراہ فرشتے پر باندھ کر آتے۔ (53) اس طرح اس (فرعون) نے اپنی قوم کو احمق بنایا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی۔ بےشک یہ نافرمان قِسم کے لوگ تھے۔ (54) پس انہوں نے ہمیں ناراض کیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کر دیا۔ (55) اور انہیں گیا گزرا اور بعد والوں کیلئے نمونۂ عبرت بنا دیا۔ (56) اور جب ابنِ مریم (ع) (عیسےٰ(ع)) کی مثال دی گئی تو ایک دم آپ(ص) کی قوم والے چیخنے چلا نے لگے۔ (57) اور کہنے لگے کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یاوہ(عیسیٰ(ع))؟ وہ یہ بات محض آپ(ص) سے کج بحثی کیلئے کرتے ہیں بلکہ یہ لوگ تو ہیں ہی بڑے جھگڑالو۔ (58) وہ (عیسیٰ (ع)) تو بس ہمارا ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور اسے بنی اسرائیل کیلئے ایک مثال (نمونہ) بنا دیا۔ (59) اگر ہم چاہیں تو تمہارے بدلے زمین میں فرشتے بسا دیں جو تمہارے جانشین ہوں۔ (60) وہ(عیسیٰ(ع)) تو صرف قیامت کی ایک نشانی ہے تم لوگ اس میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔ (61) (دیکھو خیال رکھنا کہیں) شیطان تمہیں اس سے روک نہ دے۔ بےشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ (62) اور جب عیسیٰ(ع) کھلی نشانیاں (معجزے)لے کر آئے تو کہا میں تمہارے پاس حکمتلے کرایا ہوں تاکہ تم پر بعض وہ باتیں واضح کردوں جن میں تم اختلاف کرتے ہو سو تم اللہ سے (آپ(ع) کی نافرمانی سے) ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (63) بےشک اللہ ہی میرا پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ تو تم اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ (64) پس مختلف گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا پس تباہی ظالموں کیلئے ایک بڑے دردناک دن (قیامت) کے عذاب سے۔ (65) کیا یہ لوگ بس قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے کہ انہیں خبر بھی نہ ہو۔ (66) اس دن سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔ (67) (خدا ان سے فرمائے گا) اے میرے بندو! آج نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ ہی تم غمگین ہو گے۔ (68) (یہ وہ لوگ ہیں) جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مطیع و فرمانبردار بن کر رہے۔ (69) (حکم ہوگا) تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہو جاؤ تم خوش کئے جاؤ گے۔ (70) ان پر سو نے کے تھال اور جام گردش میں ہوں گے اور وہاں ہر وہ چیز موجود ہوگی جو دل چاہیں گے اور آنکھوں کو لذت ملے گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ (71) یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہواپنے ان اعمال کے صلہ میں جو تم کرتے تھے۔ (72) تمہارے لئے اس میں بہت سے میوے ہیں جن سے تم کھاؤ گے۔ (73) بےشک مجرم لوگ دوزخ کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ (74) وہ عذاب کبھی ان سے ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اس میں مایوس ہو کر پڑے رہیں گے۔ (75) اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود (اپنے اوپر) ظلم کرنے والے تھے۔ (76) اور وہ پکاریں گے کہ اے مالک! تمہارا پروردگار ہمارا کام ہی تمام کر دے (تو بہتر) وہ کہے گا کہ تم یوں ہی پڑے رہو گے۔ (77) بےشک ہم تمہارے پاس (دین) حقلے کر آئے مگر تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے رہے۔ (78) کیا انہوں نے کوئی قطعی فیصلہ کر لیا ہے تو ہم بھی کوئی فیصلہ کر لیتے ہیں۔ (79) کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کے رازوں اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے؟ ہاں (ہم سنتے ہیں) اور ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھتے بھی جاتے ہیں۔ (80) آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ اگر خدائے رحمٰن کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلا عبادت گزار میں ہوتا۔ (81) پاک ہے آسمانوں اور زمین کا پروردگار جو عرش کامالک ہے اس سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔ (82) آپ ان کو چھوڑیں کہ وہ بحث کریں اور تفریح کریں (کھیلیں) یہاں تک کہ ان کو اس دن سے سابقہ پڑے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ (83) اور وہ وہی ہے جو آسمان میں بھی خدا ہے اور زمین میں بھی وہی خدا ہے اور وہ بڑا حکمت والا، بڑا جاننے والا ہے۔ (84) بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں آسمانوں اور زمین اور ہر اس چیز کی بادشاہی ہے جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اسی کے پاس قیامت کا عِلم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ (85) اورجن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ سفارش کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ سوائے ان کے جو حق کی گواہی دیں اور وہ جانتے بھی ہوں۔ (86) اور اگر آپ(ص) ان سے پوچھیں کہ انہیں کس نے پیدا کیا؟ تو وہ کہیں گے کہ اللہ نے تو وہ کہاں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ (87) اور اسی (اللہ) کو رسول(ص) کے اس قول کا عِلم ہے کہ اے میرے پروردگار! یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ (88) (اے رسول(ص)) درگزر کرو۔اور کہو سلام ہو (خداحافظ) عنقریب انہیں (اپنا انجام) معلوم ہو جائے گا۔ (89)

پچھلی سورت: سورہ شوری سورہ زخرف اگلی سورت:سورہ دخان

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. خرمشاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۰۔
  2. معرفت، آموزش علوم قرآنی، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۶۔
  3. خرمشاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۰۔
  4. خرمشاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۰۔
  5. علی‌بابایی، برگزیدہ تفسیر نمونہ، ۱۳۸۲ش، ج۴، ص۳۵۷۔
  6. طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۳م، ج۱۸، ص۸۳۔
  7. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  8. سورہ آل عمران، آیہ ۷؛ سورہ رعد، آیہ ۳۹؛ سورہ زخرف، آیہ ۴۔
  9. زمخشری، الکشاف، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۵۳۴؛ طبرسی، مجمع‌البیان، ۱۴۰۶ق، ج۹، ص ۶۰؛ آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۷ق، ج۱۳، ص ۲۴۵۔
  10. سبحانی، مع الشیعہ الامامیہ، ۱۴۱۳ق، ص۱۱۹-۱۲۰۔
  11. بیہقی، تاج المصادر، تہران، ج۱، ص۱۳؛ ابن منظور، لسان العرب، ذیل «خلد»۔
  12. اشعری، مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلین، ۱۴۰۰ق، ص۴۷۴؛ مفید، رسالہ شرح عقائد الصدوق، ص۵۳-۵۴؛ بغدادی، کتاب اصول الدین، ص۲۳۸، ۳۳۳؛ تفتازانی، شرح المقاصد، ج۵، ص۱۳۴؛ فاضل مقداد، اللوامع الالہیہ فی المباحث الکلامیہ، ص۴۴۱ ۔
  13. مفید، اوائل المقالات، ص۱۴؛ ہمو، رسالہ شرح عقاد الصدوق، ص۵۵؛ نصیرالدین طوسی، ص۳۰۴، علامہ حلی، ص۵۶۱؛ فاضل مقداد، اللوامع الالہیہ فی المباحث الکلامیہ، ص۴۴۱- ۴۴۳۔
  14. صدوق، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ج۱، ص۲۲۱۔
  15. بحرانی، البرہان فی تفسیر القرآن، ۱۳۸۹ش، ج۴، ص۸۴۳۔

نوٹ

  1. بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَّجِيدٌ فِي لَوْحٍ مَّحْفُوظٍ : بلکہ وہ بڑی شان والا قرآن ہے۔ (21) جو لوحِ محفوظ میں ثبت ہے۔

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • قرآن کریم، ترجمہ محمدمہدی فولادوند، تہران: دارالقرآن الکریم، ۱۴۱۸ق/۱۳۷۶ش۔
  • ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت، دار الفکر، چاپ سوم، ۱۴۱۴ق۔
  • اشعری، علی بن اسماعیل، مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلین، چاپ ہلموت ریتر، ویسبادن، ۱۴۰۰/۱۹۸۰۔
  • آلوسی، سیدمحمود، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم، بہ کوشش محمد حسین عرب، بیروت،‌ دار الفکر، چاپ اول، ۱۴۱۷ق۔
  • بحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، قم، مؤسسہ البعثہ، قسم الدراسات الاسلامیہ، ۱۳۸۹ش۔
  • بغدادی، عبدالقاہر بن طاہر، کتاب اصول الدین، استانبول ۱۳۴۶/۱۹۲۸، چاپافست بیروت ۱۴۰۱/۱۹۸۱
  • بیہقی، احمد بن علی، تاج المصادر، تہران، چاپ ہادی عالم زادہ، ۱۳۶۶-۱۳۷۵ش۔
  • تفتازانی، مسعود بن عمر، شرح المقاصد، چاپ عبدالرحمان عمیرہ، قاہرہ ۱۴۰۹/۱۹۸۹، چاپ افست قم ۱۳۷۰-۱۳۷۱ش۔
  • خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، ۱۳۹۲ش۔
  • خرمشاہی، بہاءالدین، دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • زمخشری، محمود بن عمر، الکشاف، قم، بلاغت، چاپ دوم، ۱۴۱۵ق۔
  • سبحانی، جعفر، مع الشیعہ الامامیہ فی عقائدہم، [بی‌جا]، معاونيۃ الشؤون التعلیم، چاپ اول، ۱۴۱۳ق۔
  • شیخ صدوق، محمد ابن‌علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ترجمہ محمدرضا انصاری محلاتی، قم، نسیم کوثر، ۱۳۸۲ش۔
  • طبرسی، فضل بن حسن)، مجمع‌البیان فی تفسیر القرآن، بیروت،‌ دار المعرفۃ، افست، تہران، ناصر خسرو، ۱۴۰۶ق۔
  • فاضل مقداد، مقداد بن عبداللہ، اللوامع الالہیہ فی المباحث الکلامیہ، چاپ محمدعلی قاضی طباطبائی، قم ۱۳۸۷ش۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمي للمطبوعات، چاپ دوم، ۱۹۷۳م۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآنی، ترجمہ ابومحمد وکیلی، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، ۱۳۷۱ش۔
  • علی‌بابایی، احمد، برگزیدہ تفسیر نمونہ، تہران،‌ دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۸۲ش۔

بیرونی روابط