سورہ مجادلہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حدید سورۂ مجادلہ حشر
سوره مجادله.jpg
ترتیب کتابت: 58
پارہ : 28
نزول
ترتیب نزول: 105
مکی/ مدنی: مدنی
اعداد و شمار
آیات: 22
الفاظ: 475
حروف: 2046

سورہ مجادلہ [سُوْرَةُ الْمُجَادِلةُ] کو مجادلہ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ اس کے آغاز میں ایک خاتون کا مجادلہ اور رسول اللہ(ص) سے اس کی شکایت کی طرف اشارہ ہوا ہے جس سے اس کے شوہر نے ظہار ۔[1] کیا تھا۔ یہ سورت حجم و کمیت کے لحاظ سے سور طوال کے گروہ سے ہے اور مفصلات کے زمرے میں آتی ہے۔

سورہ مجادلہ کے مضامین[2]
 
 
 
 
اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی نہ کریں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا گفتار: آیہ ۱۴-۲۲
اللہ کے دشمنوں سے دوستی نہ کرنا
 
دوسرا گفتار: آیہ ۸-۱۳
پیغمبر کی اہانت اور ان کے خلاف سازشوں سے پرہیز
 
پہلا گفتار: آیہ ۱-۷
طلاق کے طریقے میں اللہ کی مخالفت نہ کرنا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب: آیہ ۱۵-۱۸
افشای رابطہ دوستی منافقان با دشمنان خدا
 
پہلا مطلب: آیہ ۸
اقدامات منافقان برای مخالفت با پیامبر
 
پہلا مطلب: آیہ ۱-۲
ظالمانہ‌بودن طلاق ظہار
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب: آیہ ۱۵-۱۸
اللہ کے دشمنوں سے دوستی کی سزا
 
دوسرا مطلب: آیہ ۹-۱۳
منافقوں کے مقابلے میں مومنوں کی ذمہ داریاں
 
دوسرا مطلب: آیہ ۳-۴
ظہار کا کفارہ
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب: آیہ ۱۹-۲۱
اللہ کے دشمنوں کے دوستوں کی خصوصیات
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب: آیہ ۵-۷
اللہ کے فرمان کی مخالفت کا انجام
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا مطلب: آیہ ۲۲
کوئی بھی مومن اللہ کے دشمنوں سے دوستی نہیں کرتا ہے

سورہ مجادلہ، نام اور کوائف

  • مجادلہ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ اس کے آغاز میں ایک خاتون کا مجادلہ اور رسول اللہ(ص) سے اس کی شکایت کی طرف اشارہ ہوا ہے جس سے اس کے شوہر نے ظہار کیا تھا۔
  • ظہار سے مراد یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو اپنی محارم بالخصوص ماں سے تشبیہ دے۔ اس موضوع کے لئے کئی فقہی احکام وارد ہوئے ہیں۔
  • مذکورہ مسئلے اور آیت ظہار (آیت 2) کی بنا پر اس کو سورہ ظہار بھی کہا جاتا ہے؛ اور اس کا تیسرا نام سورہ قَدْ سَمِعَ کیونکہ اس کا آغاز اسی عبارت سے ہوتا ہے۔
  • قراءِ کوفہ کے بقول اس سورت کے 22 اور قراءِ مکہ و مدینہ 21 آیت ہے لیکن اول الذکر قول مشہور اور معمول ہے۔
  • سورہ مجادلہ کے الفاظ کی تعداد 475 اور حروف کی تعداد 2046 ہے۔
  • ترتیب مصحف کے لحاظ سے سورہ مجادلہ قرآن کی اٹھاون ویں اور ترتیب نزول کے لحاظ سے ایک سو پانچویں سورت ہے جو مدنی سورتوں میں سے ایک ہے۔
  • یہ سورت حجم و کمیت کے لحاظ سے سور طوال نیز مسبحات کے زمرے میں آتی ہے اور ایک حزب سے کچھ کم ہے۔[3]

متن سورہ

سورہ مجادلہ مدنیہ ـ نمبر 58 - آیات 22- ترتیب نزول 105
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ ﴿1﴾ الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَائِهِم مَّا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُورًا وَإِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ ﴿2﴾ وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِن نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ﴿3﴾ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ذَلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿4﴾ إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ كُبِتُوا كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَقَدْ أَنزَلْنَا آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ ﴿5﴾ يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا أَحْصَاهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ﴿6﴾ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَى ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَى مِن ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿7﴾ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُوا عَنِ النَّجْوَى ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَيَتَنَاجَوْنَ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَإِذَا جَاؤُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقُولُونَ فِي أَنفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمَصِيرُ ﴿8﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ﴿9﴾ إِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّيْطَانِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيْسَ بِضَارِّهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿10﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ وَإِذَا قِيلَ انشُزُوا فَانشُزُوا يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ﴿11﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ذَلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿12﴾ أَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿13﴾ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِم مَّا هُم مِّنكُمْ وَلَا مِنْهُمْ وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴿14﴾ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا إِنَّهُمْ سَاء مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿15﴾ اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ ﴿16﴾ لَن تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿17﴾ يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ ﴿18﴾ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ أُوْلَئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَ ﴿19﴾ إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَئِكَ فِي الأَذَلِّينَ ﴿20﴾ كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿21﴾ لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءهُمْ أَوْ أَبْنَاءهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُوْلَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُوْلَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿22﴾

قرآن کریم


ترجمہ
اللہ کے نام سے جو بہت رحم والا نہایت مہربان ہے

سنی ہے اللہ نے بحث اس کی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں شدت کے ساتھ بحث کر رہی ہے اور اللہ سے شکوہ کر رہی ہے۔ اور اللہ آپ دونوں کی باہمی گفتگو سن رہا ہے یقینا اللہ سننے والا ہے، دیکھنے والا (1) وہ جو تم میں سے اپنی عورتوں سے ظہار کرتے ہیں،وہ ان کی مائیں تو نہیں ہیں،مائیں تو ان کی بس وہی تھیں جنہوں نے اپنے پیٹ سے انہیں پیدا کیا تھا اور یہ لوگ ایک بری بات زبان سے کہتے ہیں اور جھوٹ اور بلاشبہ اللہ بخشنے والا ہے، بڑا مہربان (2) اور جو لوگ اپنی عورتوں سے ظہار کریں، پھر جو کچھ کہا ہے اس سے (پریشان ہو کر) رجوع کرنا چاہیں تو آپس میں تعلقات ازدواجی قائم کرنے سے پہلے ایک بندہ آزادکریں، یہ تمہیں سبق دیا جاتا ہے اور اللہ جو کچھ تم کرو اس سے واقف ہے (3) اب جس کے پاس نہ ہو تو پے درپے دو مہینے روزے رکھنا ہوں گے قبل اس کے ازدوجی تعلقات کے۔ اب جو اس پر قدرت نہ رکھتا ہو تو وہ ساٹھ غریبوں کو کھانا کھلائے۔ یہ اس لئے ہے کہ اللہ اور اس کے پیغمبر پر تمہارا ایمان پایہٴ ثبوت تک پہنچے اور یہ اللہ کی طرف کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے (4) یقینا جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبر کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ویسے ہی ذلیل ورسوا ہوں گے جیسے وہ لوگ ذلیل ورسوا ہوئے جو ان کے پہلے تھے اور ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں اتاری ہیں، اور کافروں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے (5) جس دن ان سب کو وہ دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا تو انہیں بتائے گا جو انہوں نے کیا تھا۔ اللہ تو اس پر حاوی ہے اور وہ اسے بھول گئے ہیں اور اللہ ہر چیز پر حاضر وناظر ہے (6) کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ جانتا ہے اسے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ کوئی تین آدمی آپس میں خفیہ باتیں نہیں کرتے مگر یہ کہ وہ انکا چوتھا ہوتا ہے اور نہ پانچ مگر یہ کہ وہ ان کے ساتھ چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ مگر یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں بھی وہ ہوں، پھر انہیں بتائے گا جو کچھ انہوں نے کیا ہے قیامت کے دن، یقینا اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے (7) کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہیں خفیہ سرگوشی سے ممانعت کی گئی، پھر بھی جس سے انہیں منع کیا تھا، وہ دوبارہ وہی حرکت کرتے ہیں اور آپس میں خفیہ میٹنگیں ،گناہ اور ظلم وتعدی اور پیغمبر کی نافرمانی کے ساتھ کرتے ہیں اور جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا ہے اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ جو ہم کہتے ہیں، اس پر اللہ ہم پر عذاب نازل کیوں نہیں کرتا۔ ان کے لئے دوزخ کافی ہے جس کی تپش انہیں اٹھانا ہو گی تو وہ کتنا برا انجام ہے (8) اے ایمان لانے والو! جب آپس میں خفیہ باتیں کرو تو گناہ اور ظلم وتعدی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں نہ کیا کرو اور نیکی اور پرہیزگاری کی باتیں کیا کرو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف دوبارہ زندگی کے بعد تم سب کو یکجائی طور پر جانا ہے (9) وہ خفیہ گفتگو شیطان کی تحریک سے ہوتی ہے تاکہ انہیں جو مؤمن ہیں باعث رنج ہو حالانکہ کہ وہ انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی سوا اس کے کہ منظور خدا ہو اور اللہ پر بھروسا کرنا چاہئے ایمان والوں کو (10) اے ایمان لانے والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجمعوں میں ادھر ادھر ہٹ کر جگہ دو تو جگہ دے دیا کرو، اللہ تمہارے لئے کشائش پیدا کرے گا اورجب تم سے کہا جائے کھڑے ہو جاؤ تو کھڑے ہو جاؤ تا کہ اللہ بلندی نمایاں کرے بدرجہا ان کی جو تم میں ایمان رکھتے ہیں اور جنہیں علم کا جوہر عطا ہوا ہے اور اللہ جو تم کرتے ہو اس سے باخبر ہے (11) اے ایمان لانے والو! جب پیغمبر کے پاس آ کے بصیغہ راز کچھ بات کرو تو اپنی اس بات چیت سے پہلے کچھ خیرات دے دیا کرو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور زیادہ پاکیزگی کا ذریعہ تو اگر تمہارے پاس نہ ہو تو بلاشبہ اللہ بخشنے والا ،مہربان ہے (12) (ارے) کیا تم ڈر گئے اس سے کہ اپنی صیغہ راز والی باتوں کے پہلے خیرات دو، اب جب تم نے ایسا نہیں کیا اور اللہ نے تمہاری توبہ قبول کر لی تو بس نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو اور اللہ اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کرو، اور اللہ واقف ہے اس سے جو تم کرتے ہو (13) کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہوں نے اتحاد عمل کیا ہے اس جماعت سے جس پر اللہ کا غضب ہے، نہ وہ ان میں سے ہیں اور نہ تم میں سے اور جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں (14) ان کے لئے اللہ نے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے، بہت برا ہے وہ جو وہ کرتے رہے ہیں (15) انہوں نے اپنی قسموں کو سپر بنا لیا ہے تو اللہ کی راہ سے ہٹے ہوئے ہیں تو ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے (16) انہیں ان کے مال اور اولاد اللہ کے مقابلے میں کچھ فائدہ نہ پہنچائیں گے، یہ لوگ دوزخ والے ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (17) جس دن اللہ انہیں دوبارہ اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے یونہی قسمیں کھائیں گے جیسے تم لوگوں کے سامنے کھاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ کسی صحیح پالیسی پر ہیں، آگاہ ہونا چاہئے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں (18) ان پر شیطان نے غلبہ پالیا ہے تو انہیں اللہ کی یاد کو بھلا دیا ہے۔ یہ لوگ شیطان کی پارٹی والے ہیں،آگاہ ہو کہ شیطان کی پارٹی گھاٹا اٹھانے والی ہے (19) یقینا جو اللہ اور اس کے پیغمبر کی مخالفت کرتے ہیں، یہ لوگ انتہائی ذلیل لوگوں میں سے ہیں (20) اللہ نے لکھ دیا ہے کہ ضرور بالضرور میں اورمیرے پیغمبر غالب آئیں گے، یقینا اللہ طاقتور ہے، غالب آنے والا (21) کسی جماعت کو جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہو، نہیں پاؤ گے کہ وہ محبت رکھیں ان سے جو اللہ اور اس کے پیغمبروں کے مخالف ہیں، چاہے وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا بھائی ہوں یا ان کے قبیلے والے ہوں۔ یہ وہ ہوں گے کہ جن کے دلوں میں اس نے ایمان کو نقش کر دیا ہے اور ان کی تقویت کی ہے اپنی طرف کی روح سے اور انہیں داخل کرے گا ان بہشتوں میں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اس سے راضی ہیں۔ یہ اللہ کی جماعت والے ہوں گے، یقینا اللہ کی جماعت والے، غالب آنے والے ہیں (22)


پچھلی سورت:
سورہ حدید
سورہ 58 اگلی سورت:
سورہ حشر
قرآن کریم

(1) سورہ فاتحہ (2) سورہ بقرہ (3) سورہ آل عمران (4) سورہ نساء (5) سورہ مائدہ (6) سورہ انعام (7) سورہ اعراف (8) سورہ انفال (9) سورہ توبہ (10) سورہ یونس (11) سورہ ہود (12) سورہ یوسف (13) سورہ رعد (14) سورہ ابراہیم (15) سورہ حجر (16) سورہ نحل (17) سورہ اسراء (18) سورہ کہف (19) سورہ مریم (20) سورہ طہ (21) سورہ انبیاء (22) سورہ حج (23) سورہ مؤمنون (24) سورہ نور (25) سورہ فرقان (26) سورہ شعراء (27) سورہ نمل (28) سورہ قصص (29) سورہ عنکبوت (30) سورہ روم (31) سورہ لقمان (32) سورہ سجدہ (33) سورہ احزاب (34) سورہ سباء (35) سورہ فاطر (36) سورہ یس (37) سورہ صافات (38) سورہ ص (39) سورہ زمر (40) سورہ غافر (41) سورہ فصلت (42) سورہ شوری (43) سورہ زخرف (44) سورہ دخان (45) سورہ جاثیہ (46) سورہ احقاف (47) سورہ محمد (48) سورہ فتح (49) سورہ حجرات (50) سورہ ق (51) سورہ ذاریات (52) سورہ طور (53) سورہ نجم (54) سورہ قمر (55) سورہ رحمن (56) سورہ واقعہ (57) سورہ حدید (58) سورہ مجادلہ (59) سورہ حشر (60) سورہ ممتحنہ (61) سورہ صف (62) سورہ جمعہ (63) سورہ منافقون (64) سورہ تغابن (65) سورہ طلاق (66) سورہ تحریم (67) سورہ ملک (68) سورہ قلم (69) سورہ حاقہ (70) سورہ معارج (71) سورہ نوح (72) سورہ جن (73) سورہ مزمل (74) سورہ مدثر (75) سورہ قیامہ (76) سورہ انسان (77) سورہ مرسلات (78) سورہ نباء (79) سورہ نازعات (80) سورہ عبس (81) سورہ تکویر (82) سورہ انفطار (83) سورہ مطففین (84) سورہ انشقاق (85) سورہ بروج (86) سورہ طارق (87) سورہ اعلی (88) سورہ غاشیہ (89) سورہ فجر (90) سورہ بلد (91) سورہ شمس (92) سورہ لیل (93) سورہ ضحی (94) سورہ شرح (95) سورہ تین (96) سورہ علق (97) سورہ قدر (98) سورہ بینہ (99) سورہ زلزال (100) سورہ عادیات (101) سورہ قارعہ (102) سورہ تکاثر (103) سورہ عصر (104) سورہ ہمزہ (105) سورہ فیل (106) سورہ قریش (107) سورہ ماعون (108) سورہ کوثر (109) سورہ کافرون (110) سورہ نصر (111) سورہ مسد (112) سورہ اخلاص (113) سورہ فلق (114) سورہ ناس


متعلقہ مآخذ

پاورقی حاشیے

  1. ظہار کے معنی لغت میں پشت کے ہیں اور اصطلاح میں ظہار سے مراد یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو اپنی محارم بالخصوص ماں سے تشبیہ دے۔ ظہار جاہلیت کے زمانے میں طلاق کے ہم معنی تھا اور اس کے بعد شوہر بیوی سے الگ ہوجاتا تھا۔ اسلام نے اس کو معتدل کیا۔ اور اس کے لئے احکام متعین کئے اور اس کو طلاق قرار نہیں دیا۔ تفسیر نمونہ میں سورہ مجادلہ کے ذیل میں کہا گیا ہے کہ "بنی انظار کے قبیلے کی ایک عورت کو اپنے شوہر کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑا جو تند خو اور بدخو شخص تھا۔ اس نے علیحدگی کا فیصلہ کیا اور بیوی سے کہا: تم میری ماں کی طرح ہو یعنی اس کے بعد مجھ پر حلال نہیں ہو۔ مرد کچھ عرصہ بعد پشیمان ہوا اور سورہ مجادلہ کی دوسری، تیسری اور چوتھی آیات نازل ہوئیں۔(رجوع کریں: پـاورقي 1.تفسير نمونه، ج23 ص409۔
  2. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  3. دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج2، ص1255۔1254۔


مآخذ