سورہ مجادلہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حدید سورۂ مجادلہ حشر
سوره مجادله.jpg
ترتیب کتابت: 58
پارہ : 28
نزول
ترتیب نزول: 105
مکی/ مدنی: مدنی
اعداد و شمار
آیات: 22
الفاظ: 475
حروف: 2046

سورہ مجادلہ قرآن کریم کی 58ویں اور مدنی سورتوں میں سے ہے اور قرآن کے 28ویں پارے میں واقع ہے۔اس سورت کو اس لئے "مجادلہ" کہا جاتا ہے کہ اس کے آغاز ایک عورت کی رسول خداؐ سے مجادلہ اور شکایت سے ہوتا ہے جس کے شوہر نے اس کے ساتھ ظہار کیا تھا۔ اسی مناسبت سے سورہ مجادلہ میں ظہار کا حکم، معاشرت اور ہمنشینی کے آداب اور منافقین کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے اور مؤمنین کو شیاطین اور منافقین سے دور رہنے کی تلقین ہوتی ہے۔

آیت نجوا اس سورت کی مشہور آیات میں سے ہے۔ خدا والوں میں شامل ہونا اور خدا کے عذاب اور فقر سے نجات اس سورت کی تلاوت کی فضیلتوں میں بیان کی گئی ہیں۔ سورہ مجادلہ واحد سورہ‌ ہے جس کی ہر آیت میں لفظ جلالہ یعنی "اللہ" آیا ہے۔

تعارف

  • نام

یہ سورت سورہ مجادلہ‌ کے نام سے معروف ہے؛ کیونکہ اس کا آغاز پیغمبر اکرمؐ کے حضور ایک عورت کی شکایت سے ہوتی ہے جس کو اسے کے شوہر نے ظہار کیا تھا۔ (ظہار کے معنی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنی ماں سے تشبیہ دے جس کے مخصوص فقہی احکام ہیں) اسی مناسبت سے اس سورت کو "ظہار‌" کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس سورت کا ایک اور نام "قَدْ سَمِعَ‌" ہے؛ کیونکہ یہ سورت کا آغاز اسی لفظ سے ہوتا ہے۔[1]

  • محل اور ترتیب نزول

سورہ مجادلہ قرآن کی مدنی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے 106ویں جبکہ موجودہ ترتیب کے اعتبار سے 58ویں سورہ ہے۔[2] یہ سورت قرآن کے 28ویں پارے کی ابتداء میں واقع ہے۔[3]

  • آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ مجادلہ 22 آیات، 475 کلمات اور 2046 حروف پر مشتمل ہے۔ اس سورت کا شمار مُفَصّلات(چھوٹی آیات پر مشتمل سورہ) میں ہوتا ہے اور اس کا حجم ایک حزب سے کم ہے۔[4] اسی طرح اس کا شمار ممتحنات میں بھی ہوتا ہے[5] جس کی علت اس سورت کا سورہ ممتحنہ کے ساتھ مضامین میں یکساں ہونا ہے۔[6] [نوٹ 1]

  • تمام آیتوں میں لفظ جلالہ(اللہ)

اس سورت کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ یہ سورت واحد سورت ہے جس کی تمام آیتوں میں لفظ جلالہ یعنی"اللہ" آیا ہے۔

مضامیں

تفسیر نمونہ کے مطابق سورہ مجادلہ کے مضامین کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:[7]

  1. پہلا حصہ ظِہار کے حکم پر مشتمل ہے جو زمانہ جاہلیت میں ایک قسم کی دائمی طلاق شمار ہوتی تھی جسے اسلام نے تبدیل کر کے صحیح سمت دے دیا۔
  2. دوسرے حصے میں ہمنشینی اور معاشرت کے آداب بیان ہوئی ہے، من جملہ ان میں نجوا (سرگوشی) سے پرہیز کرنا اور مجلس میں نئے آنے والوں کو جگہ دے دینا شامل ہیں۔
  3. آخری حصے میں منافقین سے بحث ہوتی ہے؛ یعنی وہ اشخاص جو بظاہر اپنے آپ کو اسلام کا خیر خواہ ظاہر کرتے ہیں؛ لیکن باطن میں یہ لوگ اسلام کے دشمنوں کے ساتھ مخفیانہ تعلقات رکھتے ہیں۔ اس حصے میں اسلام کے حقیقی پیرکاروں یعنی مؤمنین کو شیاطین اور منافقین سے پرہیز کرنے کی تلقین کرتے انہیں "حزب اللّہ" یعنی اللہ والوں میں شامل ہونے نیز محبت اور نفرت میں بھی خدا کی مرضی شامل کرنے کی دعوت دیتے ہیں
سورہ مجادلہ کے مضامین[8]
 
 
 
 
اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی نہ کریں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا گفتار: آیہ ۱۴-۲۲
اللہ کے دشمنوں سے دوستی نہ کرنا
 
دوسرا گفتار: آیہ ۸-۱۳
پیغمبر کی اہانت اور ان کے خلاف سازشوں سے پرہیز
 
پہلا گفتار: آیہ ۱-۷
طلاق کے طریقے میں اللہ کی مخالفت نہ کرنا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب: آیہ ۱۵-۱۸
افشای رابطہ دوستی منافقان با دشمنان خدا
 
پہلا مطلب: آیہ ۸
اقدامات منافقان برای مخالفت با پیامبر
 
پہلا مطلب: آیہ ۱-۲
ظالمانہ‌بودن طلاق ظہار
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب: آیہ ۱۵-۱۸
اللہ کے دشمنوں سے دوستی کی سزا
 
دوسرا مطلب: آیہ ۹-۱۳
منافقوں کے مقابلے میں مومنوں کی ذمہ داریاں
 
دوسرا مطلب: آیہ ۳-۴
ظہار کا کفارہ
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب: آیہ ۱۹-۲۱
اللہ کے دشمنوں کے دوستوں کی خصوصیات
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب: آیہ ۵-۷
اللہ کے فرمان کی مخالفت کا انجام
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا مطلب: آیہ ۲۲
کوئی بھی مومن اللہ کے دشمنوں سے دوستی نہیں کرتا ہے


تاریخی واقعات

  • پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں ظہار شدہ ایک عورت کی شکایت (آیت 1)
  • پیغمبر اکرمؐ سے گفتگو کرنے کیلئے صدقہ دینے کا حکم اور اس کا نسخ ہونا (آیات 12-13)۔

آیات مشہورہ

اصل مضمون: آیت نجوا
  • يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّ‌سُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ‌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ‌... (آیت نمبر 12)

ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم پیغمبر سے تنہائی میں کوئی بات کرنا چاہو تو اپنی اس رازدارانہ بات سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے اور پاکیزہ تر ہے اور اگر اس کے لئے کچھ نہ پاؤ تو بلاشبہ اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

بعض مشہور مفسرین من جملہ شیخ طبرسی مجمع البیان میں آیت نجوا اور اس کے بعد والی آیات کی شأن نزول کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ بعض مالدار لوگ پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضورؐ سے نجوا(سرگوشی) میں مشغول ہوگئے۔ [اس کام سے ایک طرف پیغمبر اکرمؐ کا وقت ضایع کر رہے تھے تو دوسری طرف سے یہ کام غریبوں کی پریشانی کا سبب بن رہا تھا]۔ اس بناء پر خدا پیغمبر اکرمؐ سے نجوا کرنے سے پہلے صدقہ دینے کا حکم فرمایا۔ اس حکم کے بعد مالدار لوگ پیغمبر اکرمؐ سے نجوا کرنے سے پرہیز کرنے لگے۔ اس کے بعد بعد والی آیت نازل ہوئی [جس میں اس کام پر ان لوگوں کی مزمت کرتے ہوئے پہلی والی آیت میں موجود حکم کو نَسخ کر دیا گیا] اور سب کو نجوا کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ اس کے باوجود بھی واحد شخص جو نجوا کے حکم کی منسوخی کے بعد بھی صدقہ دیا کرتے تھے وہ امام علیؑ کی ذات تھی۔[9]

آیات الاحکام

سورہ مجادلہ کی ابتدائی آیات (1-4) کو آیات الاحکام میں شمار کیا جاتا ہے۔[10] ان آیات میں ظِہار کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے؛ یہ کام زمانہ جاہلیت میں انجام دیا جاتا تھا اور اس کام کے ذریعے مرد اپنی بیوی سے ہمیشہ کیلئے جدا ہو جاتا تھا۔ اس کام کیلئے مرد اپنی بیوی سے کہہ دیتے تھے کہ تمہاری پشت(کمر) میری ماں کی پشت جیسی ہے۔[11] خدا نے ان آیتوں میں ظِہار کو ایک ناپسند عمل قرار دیتے ہیں لیکن اس کام کو مرد اور بیوی کا ایک دوسرے پر حرام ہونے کا سبب قرار نہیں دیتے ہاں اگر کوئی شخص یہ عمل انجام دینے کے بعد دوبارہ اپنی ازدواجی زندگی کو باقی رکھنا چاہتا ہے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا۔[12][نوٹ 2]

فضیلت اور خواص

احادیث میں اس سورت کی تلاوت کے بارے میں آیا ہے:

  • ایک حدیث میں پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: "جو شخص سورہ مجادلہ کی تلاوت کرے وہ قیامت کی دن "حزب اللّہ"(اللہ والوں) میں سے ہوگا"۔[13]
  • ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے نقل ہوئی ہے: "جو شخص سورہ حدید اور مجادلہ کو یومیہ نمازوں میں پڑے اور اس پر مداومت کرے تو یہ شخص زندگی میں کسی عذاب میں مبتلا نہیں ہوگا، اپنے اندر اور اپنی اہل و عیال میں کسی بری چیز کا مشاہدہ نہیں کرے گا اور یہ شخص کبھی بھی فقر اور بدبختی میں گرفتار نہیں ہوگا"۔[14]

متن اور ترجمہ

سورہ مجادلہ
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ ﴿1﴾ الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَائِهِم مَّا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُورًا وَإِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ ﴿2﴾ وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِن نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ﴿3﴾ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ذَلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿4﴾ إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ كُبِتُوا كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَقَدْ أَنزَلْنَا آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ ﴿5﴾ يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا أَحْصَاهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ﴿6﴾ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَى ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَى مِن ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿7﴾ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُوا عَنِ النَّجْوَى ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَيَتَنَاجَوْنَ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَإِذَا جَاؤُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقُولُونَ فِي أَنفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمَصِيرُ ﴿8﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ﴿9﴾ إِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّيْطَانِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيْسَ بِضَارِّهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿10﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ وَإِذَا قِيلَ انشُزُوا فَانشُزُوا يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ﴿11﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ذَلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿12﴾ أَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿13﴾ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِم مَّا هُم مِّنكُمْ وَلَا مِنْهُمْ وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴿14﴾ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا إِنَّهُمْ سَاء مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿15﴾ اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ ﴿16﴾ لَن تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿17﴾ يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ ﴿18﴾ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ أُوْلَئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَ ﴿19﴾ إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَئِكَ فِي الأَذَلِّينَ ﴿20﴾ كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿21﴾ لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءهُمْ أَوْ أَبْنَاءهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُوْلَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُوْلَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿22﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

بےشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو اپنے شوہر کے بارے میں آپ(ص) سے بحث و تکرار کررہی ہے اور اللہ سے شکوہ و شکایت کر رہی ہے اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے بےشک اللہ بڑا سننے والا، بڑا دیکھنے والا ہے۔ (1) تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہیں (کیونکہ) ان کی مائیں تو بس وہی ہیں جنہوں نے انہیں جَنا ہے البتہ یہ لوگ ایک بہت بری بات اور جھوٹ کہتے ہیں اور بلاشبہ اللہ بڑا درگزر کرنے والا، بڑا بخشنے والا ہے۔ (2) اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں اور پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرنا چاہیں تو قبل اس کے کہ باہمی ازدواجی تعلق قائم کریں (شوہر کو) ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ یہ بات ہے جس کی تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ (3) اور جوشخص (غلام) نہ پائے تو جنسی تعلق قائم کرنے سے پہلے دو ماہ پے در پے (لگاتار) روزے رکھنا ہوں گے اور جو اس پر بھی قدرت نہ رکھتا ہو تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے یہ اس لئے کہ تم اللہ اور اس کے رسول(ص) پر ایمان لاؤ (تمہارا ایمان راسخ ہو) یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور کافروں کیلئے دردناک عذاب ہے۔ (4) بےشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول(ص) کی مخالفت کرتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل و خوار ہوں گے جس طرح وہ (مخالف) لوگ ذلیل و خوار ہوئے جو ان سے پہلے تھے اور ہم نے کھلی ہوئی آیتیں نازل کر دی ہیں اور کافروں کیلئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ (5) جس دن اللہ ان سب کو زندہ کر کے اٹھائے گا تو انہیں بتائے گا جو کچھ انہوں نے کیا تھا اللہ نے تو (ان کے اعمال کو) محفوظ رکھا مگر وہ بھول گئے اور اللہ ہر چیز پر شاہد ہے۔ (6) کیا تم نے نہیں دیکھا (غور نہیں کیا) کہ اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے کہیں بھی تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر وہ ان کا چوتھا ہوتاہے اور نہ پانچ کی ہوتی ہے مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم اور نہ زیادہ مگر یہ کہ وہ جہاں بھی ہوں اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے پھر وہ قیامت کے دن انہیں بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے؟ یقیناً اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔ (7) کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھاجنہیں (اسلام کے خلاف) سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا وہ پھر وہی کام کرتے ہیں جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور وہ گناہ، ظلم و زیادتی اور رسول(ص) کی نافرمانی کی سرگوشیاں (خفیہ میٹنگیں) کرتے ہیں اور جب آپ(ص) کے پاس آتے ہیں تو آپ(ص) کو کس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے آپ(ص) کو سلام نہیں کیا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ برحق نبی(ص) ہیں تو) اللہ ہماری ان باتوں پر ہم پر عذاب کیوں نازل نہیں کرتا؟ ان کے لئے جہنم کافی ہے جس میں وہ پڑیں گے (اور اس کی تپش اٹھائیں گے) سو وہ کیا برا ٹھکانہ ہے؟ (8) اے ایمان والو! تم جب کوئی سرگوشی (خفیہ بات) کرو تو گناہ، ظلم و زیادتی اور رسول(ص) کی نافرمانی کے بارے میں سرگوشی نہ کرو بلکہ نیکی کرنے اور تقویٰ اختیار کرنے کی سرگوشی کرو اور اللہ (کی نافرمانی سے) ڈرو جس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔ (9) (کافروں کی یہ) سرگوشی شیطان کی طرف سے ہے تاکہ وہ اہلِ ایمان کو رنج و غم پہنچائے حالانکہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور ایمان والوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔ (10) اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ (آنے والوں کیلئے) مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو کشادہ کر دیا کرو اللہ تمہیں کشادگی دے گااور جب کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کرو اللہ ان لوگوں کے جو تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم دیا گیا ہے ان کے در جے بلند کرتا ہے اور تم جو کچھ کرتے ہواللہ اس سے بڑا باخبر ہے۔ (11) اے ایمان والو! جب تم پیغمبر سے تنہائی میں کوئی بات کرنا چاہو تو اپنی اس رازدارانہ بات سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے اور پاکیزہ تر ہے اور اگر اس کے لئے کچھ نہ پاؤ تو بلاشبہ اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ (12) کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ (رسول(ص) سے) تنہائی میں بات کرنے سے پہلے صدقہ دو! اب جبکہ تم نے ایسانہیں کیا اور اللہ نے تمہاری توبہ قبول کر لی تو بس نماز قائم کرو اور زکوٰۃد و اور اللہ اور اس کے رسول(ص) کی اطاعت کرو اور تم جو کچھ کرتے ہواللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔ (13) کیا تم نے ایسے لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب نازل کیا ہے وہ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے ہیں اور وہ جانتے بوجھتے ہوئے جھوٹی بات پر قَسمیں کھاتے ہیں۔ (14) اللہ نے ان کیلئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے بےشک یہ لوگ بہت برے کام کرتے ہیں۔ (15) انہوں نے اپنی قَسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پس وہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں تو ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ (16) ان کے مال اور ان کی اولاد انہیں ذرا بھی اللہ (کے عذاب) سے نہیں بچا سکیں گے یہ لوگ دوزخ والے ہیں وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔ (17) جس دن اللہ ان سب کو (دوبارہ) اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قَسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں اور خیال کریں گے کہ وہ کسی چیز (بنیاد) پر ہیں خبردار! یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں۔ (18) شیطان نے ان پر غلبہ پا لیا ہے اور اس نے انہیں خدا کی یاد بُھلا دی ہے یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں آگاہ ہو کہ شیطانی گروہ ہی گھاٹا اٹھانے والا ہے۔ (19) جو لوگ اللہ اور اس کے رسول(ص) کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں۔ (20) اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول(ص) ہی غالب آکر رہیں گے بےشک اللہ طاقتور (اور) زبردست ہے۔ (21) تم کوئی ایسی قوم نہیں پاؤگے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو (اور پھر) وہ دوستی رکھے ان لوگوں سے جو خدا و رسول(ص) کے مخالف ہیں اگرچہ وہ (مخالف) ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی ہی ہوں یا ان کے قبیلے والے یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی ایک خاص روح سے ان کی تائید کی ہے اور انہیں ایسے باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اس سے راضی ہیں یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں آگاہ رہو کہ اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا (اور کامیاب ہونے والا) ہے۔ (22)

پچھلی سورت:
سورہ حدید
قرآن کریم اگلی سورت:
سورہ حشر
سورہ 58

١.فاتحہ ٢.بقرہ ٣.آل‌عمران ٤.نساء ٥.مائدہ ٦.انعام ٧.اعراف ٨.انفال ٩.توبہ ١٠.یونس ١١.ہود ١٢.یوسف ١٣.رعد ١٤.ابراہیم ١٥.حجر ١٦.نحل ١٧.اسراء ١٨.کہف ١٩.مریم ٢٠.طہ ٢١.انبیاء ٢٢.حج ٢٣.مؤمنون ٢٤.نور ٢٥.فرقان ٢٦.شعراء ٢٧.نمل ٢٨.قصص ٢٩.عنکبوت ٣٠.روم ٣١.لقمان ٣٢.سجدہ ٣٣.احزاب ٣٤.سبأ ٣٥.فاطر ٣٦.یس ٣٧.صافات ٣٨.ص ٣٩.زمر ٤٠.غافر ٤١.فصلت ٤٢.شوری ٤٣.زخرف ٤٤.دخان ٤٥.جاثیہ ٤٦.احقاف ٤٧.محمد ٤٨.فتح ٤٩.حجرات ٥٠.ق ٥١.ذاریات ٥٢.طور ٥٣.نجم ٥٤.قمر ٥٥.رحمن ٥٦.واقعہ ٥٧.حدید ٥٨.مجادلہ ٥٩.حشر ٦٠.ممتحنہ ٦١.صف ٦٢.جمعہ ٦٣.منافقون ٦٤.تغابن ٦٥.طلاق ٦٦.تحریم ٦٧.ملک ٦٨.قلم ٦٩.حاقہ ٧٠.معارج ٧١.نوح ٧٢.جن ٧٣.مزمل ٧٤.مدثر ٧٥.قیامہ ٧٦.انسان ٧٧.مرسلات ٧٨.نبأ ٧٩.نازعات ٨٠.عبس ٨١.تکویر ٨٢.انفطار ٨٣.مطففین ٨٤.انشقاق ٨٥.بروج ٨٦.طارق ٨٧.اعلی ٨٨.غاشیہ ٨٩.فجر ٩٠.بلد ٩١.شمس ٩٢.لیل ٩٣.ضحی ٩٤.شرح ٩٥.تین ٩٦.علق ٩٧.قدر ٩٨.بینہ ٩٩.زلزلہ ١٠٠.عادیات ١٠١.قارعہ ١٠٢.تکاثر ١٠٣.عصر ١٠٤.ہمزہ ١٠٥.فیل ١٠٦.قریش ١٠٧.ماعون ١٠٨.کوثر ١٠٩.کافرون ١١٠.نصر ١١١.مسد ١١٢.اخلاص ١١٣.فلق ١١٤.ناس


حوالہ جات

  1. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۴۔
  2. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۸۔
  3. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۴۔
  4. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۴۔
  5. رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰و۵۹۶۔
  6. فرہنگ‌نامہ علوم قرآن، ج۱، ص۲۶۱۲۔
  7. علی‌بابایی، برگزیدہ تفسیر نمونہ، ۱۳۸۲ش، ج۵، ص۱۱۵
  8. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  9. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج۲۳، ص۴۴۷ـ۴۴۹۔
  10. ایروانی، دروس تمہیدیہ، ج۱، ص۴۳۵؛ فاضل مقداد، کنز العرفان، ج۲، ص۲۲۸؛ مقدس اردبیلی، زبدۃ البیان، ص۶۰۹۔
  11. ایروانی، دروس تمہیدیہ، ج۱، ص۴۳۵۔
  12. طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج۱۹، ص۱۷۸۔
  13. علی‌بابایی، برگزیدہ تفسیر نمونہ، ۱۳۸۲ش، ج۵، ص۱۱۶
  14. علی‌بابایی، برگزیدہ تفسیر نمونہ، ۱۳۸۲ش، ج۵، ص۱۱۶


نوٹ

  1. قرآن کی 16 سورتوں کو ممتحنات کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے ان سورتوں کو یہ سیوطی نے دیا تھا۔رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۵۹۶ وہ سورتیں یہ ہیں: فتح، حشر، سجدہ، طلاق، قلم، حجرات، تبارک، تغابن، منافقون، جمعہ، صف، جن، نوح، مجادلہ، ممتحنہ و تحریم (رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰۔)
  2. ظہار کی اپنی شرایط ہے۔ ان شرائط سے آگاہی اور اس کے کفارے کی ادائیگی کی کیفت سے آگاہی کیلئے اس صفحے کی طرف مراجعہ کریں

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • ایروانی، باقر، دروس تمہیدیہ فی تفسیر آیات الاحکام، قم، دار الفقہ، ۱۳۸۱ش۔
  • رامیار، محمود، تاریخ قرآن، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۶۲ش۔
  • دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ج۲، بہ کوشش بہاءالدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، چاپ دوم، ۱۹۷۴م۔
  • علی‌بابایی، احمد، برگزیدہ تفسیر نمونہ، تہران،‌دار الکتب الاسلامیہ، چاپ سیزدہم، ۱۳۸۲ش
  • فاضل مقداد، مقداد بن عبداللہ، کنز العرفان فی فقہ القرآن، بہ تصحیح محمدباقر شریف‌زادہ و محمدباقر بہبودی، تہران، نشر مرتضوی، چاپ اول، [بی‌تا]۔
  • فرہنگ‌نامہ علوم قرآن، قم، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چ۱، ۱۳۷۱ش۔
  • مقدس اردبیلی، احمد بن محمد، زبدۃ البیان فی احکام القرآن، بہ تحقیق محمدباقر بہبودی، تہران، نشر مکتبۃ المرتضویہ، چاپ اول، [بی‌تا]۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، برگزیدہ تفسیر نمونہ،‌ دار الکتب الاسلامیہ، تہران، ۱۳۸۲ش۔

بیرونی روابط

سورہ مجادلہ کی تلاوت