سورہ منافقون

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جمعہ سورۂ منافقون تغابن
سوره منافقون.jpg
ترتیب کتابت: 63
پارہ : 28
نزول
ترتیب نزول: 104
مکی/ مدنی: مدنی
اعداد و شمار
آیات: 11
الفاظ: 180
حروف: 800

سورہ منافقون قرآن مجید کی 63ویں سورت جس کا شمار مدنی سورتوں میں ہوتا ہے اور 28ویں پارے میں واقع ہوئی ہے۔ یہ سورت منافقین کا اصل چہرہ بے نقاب کرتی ہے اور ان کے علائم و نشانیاں بیان کرتی ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالی پیغمبر اکرمؐ کو منافقوں کے خطرات سے احتیاط کرنے اور مومنین کو اللہ کی راہ میں انفاق کرنے اور منافقت سے بچے رہنے کی تلقین کرنے کا حکم دیتا ہے۔ تفسیر قمی میں کہا گیا ہے کہ اس سورت کی آٹھویں سورت عبدالله بن اُبَیّ کے بارے میں نازل ہوئی جو مہاجروں کو مدینہ سے خارج کرنا چاہتا تھا۔ اس سورت کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ کی روایت میں آیا ہے کہ جو شخص سورہ منافقون کی تلاوت کرے گا وہ ہر قسم کی منافقت سے پاک ہوگا۔


تعارف

  • ‌‌نام

اس سورت کا اصل موضوع چونکہ منافقین کے بارے میں ہے تو اس لیے اسے یہی نام دیا گیاہ ہے۔[1]

  • ترتیب و محل نزول

سورہ منافقون مدنی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہونی والی 105ویں سورت ہے جبکہ قرآن مجید کے موجودہ مصحف میں 63ویں سورت ہے[2] اور 28ویں پارے میں واقع ہوئی ہے۔

  • آیات کی تعداد اور دیگر خصوصیات

سورہ منافقون میں 11 آیات، 180 کلمات اور 800 حروف ہیں۔ یہ سورت مفصلات سورتوں (چھوٹی آیات والی) اور چھوٹی سورتوں میں سے ہے۔[3]

اس سورت کو ممتحنات سورتوں میں بھی شمار کیا گیا ہے[4] چونکہ کہا گیا ہے کہ ان سورتوں کا مضمون سورہ ممتحنہ کے مضمون کے متناسب ہے۔[5] [نوٹ 1]

مضمون

سورہ منافقون، منافقین کا اصل چہرہ بے نقاب کرتی ہے اور مسلمانوں کے خلاف ان کی دشمنی کو بیان کرتی ہے۔ اس سورت میں حضرت محمدؐ کو حکم ہوتا ہے کہ منافقوں کے خطرات کے بارے میں احتیاط کریں۔ اور اسی طرح مومنوں کو اللہ کی راہ میں انفاق کرنے اور منافقت سے اجتناب کرنے کی تلقین ہوئی ہے۔[6]

سورہ منافقون کے مضامین[7]
 
 
 
 
منافقوں کی حقیقت برملا کرنا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا گفتار؛ آیہ ۹-۱۱
ایمان کو نفاق سے محفوظ کرنے کے عوامل
 
دوسرا گفتار؛ آیہ ۷-۸
منافقوں کی سازشیں
 
پہلا گفتار؛ آیہ ۱-۶
منافقوں کی دینی ماہیت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا عامل؛ آیہ ۹
اللہ کی یاد سے غافل ہونا
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۷
مومنوں پر اقتصادی پابندی کی کوششیں
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱-۳
اللہ اور پیغمبر پر ایمان لانے کے جھوٹے دعوے
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا عامل؛ آیہ ۱۰-۱۱
اللہ کے راہ میں انفاق
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۸
اسلامی نظام کو نابود کرنے کی کوششیں
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۴
ظاہر نمائی اور عوام فریبی
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۵-۶
رسول اللہ سے منافقوں کا متکبر رویہ


شأن نزول

تفسیر قمی میں سورہ منافقوں کی شأن نزول کے بارے میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک غزوے میں کنویں سے پانی نکالنے میں اصحاب میں سے دو صحابی آپس میں الجھ پڑے جس کے نتیجے میں انصار میں سے کسی ایک کو چوٹ آئی اور یہ خبر سن کر عبدالله بن اُبَیّ کو بڑا غصہ آیا اور یہ دھمکی دی کہ وہ واپسی پر حقیر لوگوں کو مدینہ سے نکال دیں گے۔[8] عبداللہ کی اس بات کا مطلب مہاجروں کو مدینہ سے نکال دینا تھا جس کا ذکر اس سورت کی 8ویں آیت میں یوں بیان ہوا ہے: يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ۚ وَلِلَّـهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَـٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ(ترجمہ: وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم لَوٹ کرمدینہ گئے تو عزت والے لوگ وہاں سے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے حالانکہ ساری عزت تو صرف اللہ، اس کے رسول(ص) اور مؤمنین کیلئے ہے لیکن منافق لوگ (یہ حقیقت) جانتے نہیں ہیں۔)
زید بن ارقم جو اس ماجرا کو دیکھ رہا تھا عبداللہ کی باتوں کو پیغمبر اکرمؐ تک پہنچادیا؛ لیکن عبداللہ نے رسول خدا کے حضور جاکر اللہ تعالی کی وحدانیت اور پیغمبر اکرمؐ کی رسالت کی گواہی دیا اور زید کو جھٹلایا لیکن مختصر وقت کے بعد سورہ منافقوں کی 8ویں آیت نازل ہوئی۔[9]

فضیلت اور خصوصیات

تفسیر مجمع البیان میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ جو بھی سورہ منافقون کی تلاوت کرے وہ ہر قسم کی منافقت سے پاک ہوگا۔[10]ایک اور روایت جو ثواب الاعمال میں امام صادقؑ سے منقول ہے اس میں شیعوں کو تاکید کرتے ہیں کہ جمعہ کے دن نماز ظہر میں سورہ حمد کے بعد سورہ جمعہ اور سورہ منافقون پڑھیں۔ اس حدیث میں آیا ہے کہ: جس نے ایسا کیا گویا اس نے پیغمبر اکرمؐ کا عمل انجام دیا اور اس کا اجر بہشت ہے۔[11]بعض فقہا کے فتوے کے مطابق نماز جمعہ کی دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ منافقون کی تلاوت مستحب ہے۔[12]

متن سورہ

سوره منافقون
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

إِذَا جَاءكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ ﴿1﴾ اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّهُمْ سَاء مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿2﴾ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ ﴿3﴾ وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ وَإِن يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ ﴿4﴾ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُؤُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ ﴿5﴾ سَوَاء عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ ﴿6﴾ هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُوا عَلَى مَنْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنفَضُّوا وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ ﴿7﴾ يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ ﴿8﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ ﴿9﴾ وَأَنفِقُوا مِن مَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ الصَّالِحِينَ ﴿10﴾ وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاء أَجَلُهَا وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿11﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

(اے رسول(ص)) جب منافق لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بےشک آپ اللہ کے رسول(ص) ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ اس کے رسول(ص) ہیں لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق بالکل جھوٹے ہیں۔ (1) انہوں نے اپنی قَسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پس اس طرح وہ خود اللہ کی راہ سے رکتے ہیں اور دوسروں کو روکتے ہیں بیشک بہت برا ہے وہ کام جو یہ کر رہے ہیں۔ (2) یہ اس لئے ہے کہ یہ پہلے (بظاہر) ایمان لائے پھر کفر کیا تو ان کے دلوں پر (گویا) مہر لگا دی گئی ہے لہذا وہ کچھ نہیں سمجھتے ہیں۔ (3) اور جب آپ(ص) انہیں دیکھیں گے تو ان کے جسم (اور ان کے قد و قا مت) آپ(ص) کو اچھے لگیں گے اور اگر وہ بات کریں گے تو آپ(ص) ان کی بات (توجہ) سے سنیں گے (مگر وہ عقل و ایمان سے خالی ہیں) گویا (کھوکھلی) لکڑیاں ہیں جو (دیوار وغیرہ سے) ٹیک لگا دی گئی ہیں وہ ہر چیخ کی آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں یہی (اصلی) دشمن ہیں ان سے بچ کے رہو اللہ ان کو غارت کرے یہ کہاں الٹے پھرائے جا رہے ہیں۔ (4) اور جب ان سے کہاجائے کہ آؤ اللہ کا پیغمبر تمہارے لئے مغفرت طلب کرے تو وہ اپنا سر پھیر لیتے ہیں اور آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ تکبر کرتے ہو ئے (آنے سے) رک جاتے ہیں۔ (5) ان کیلئے برابر ہے کہ آپ ان کیلئے مغفرت طلب کریں یا طلب نہ کریں اللہ ہرگز ان کو نہیں بخشے گا بےشک اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا (اورانہیں منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا)۔ (6) یہی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسولِ خدا(ص) کے پاس ہیں ان پر (اپنا مال) خرچ نہ کرو تاکہ وہ منتشر ہو جائیں حالانکہ آسمان اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں مگر منافق لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔ (7) وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم لَوٹ کرمدینہ گئے تو عزت والے لوگ وہاں سے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے حالانکہ ساری عزت تو صرف اللہ، اس کے رسول(ص) اور مؤمنین کیلئے ہے لیکن منافق لوگ (یہ حقیقت) جانتے نہیں ہیں۔ (8) اے ایمان والو! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں خدا کی یاد سے غافل نہ کردے اور جو ایسا کرے گا وہی لوگ گھاٹا اٹھانے والے ہیں۔ (9) اور جو کچھ ہم نے تمہیں رزق دیا ہے اس سے (میری راہ میں) خرچ کرو قبل اس سے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے اور پھر وہ کہے کہ میرے پروردگار! تونے مجھے کیوں نہ تھوڑی سی مدت تک مہلت دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوکار بندوں میں سے ہو جاتا۔ (10) اورجب کسی شخص کی مدت پوری ہو جائے توخدا مزید مہلت نہیں دیتا اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ (11)

پچھلی سورت: سورہ جمعہ سورہ منافقون اگلی سورت:سورہ تغابن

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۴، ص۱۴۳.
  2. معرفت، آموزش علوم قرآنی، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۸.
  3. دانش نامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ج۲، ص۱۲۵۶.
  4. رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰و۵۹۶.
  5. فرہنگ‌ نامہ علوم قرآن، ج۱، ص۲۶۱۲.
  6. علامہ طباطبائی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۹، ص۲۷۸.
  7. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  8. قمی، تفسیر القمی، ۱۳۶۷ش، ج۲، ص۳۶۸.
  9. قمی، تفسیر القمی، ۱۳۶۷ش، ج۲، ص۳۶۹و۳۷۰.
  10. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۴۳۷.
  11. شیخ صدوق، ثواب الاعمال، ۱۴۰۶ق، ص۱۱۸.
  12. امام خمینی، توضیح المسائل (مُحَشّی)، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۸۴۸.


نوٹ

  1. قرآن مجید کی 16 سورتیں ممتحنات ہیں کہ جنہیں سیوطی نے ممتحنات کے نام سے ذکر کیا ہے۔رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۵۹۶ یہ سورتیں مندرجہ زیل ہیں: فتح، حشر، سجدہ، طلاق، قلم، حجرات، تبارک، تغابن، منافقون، جمعہ، صف، جن، نوح، مجادلہ، ممتحنہ و تحریم (رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰.)

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • رامیار، محمود، تاریخ قرآن، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۶۲ش.
  • دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، بہ کوشش بہاءالدین خرمشاہی، تہران: دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش.
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال‏، قم: دار الشریف رضی، ۱۴۰۶ق.
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیرالقرآن، قم: انتشارات اسلامی، ۱۴۱۷ق.
  • طبرسى، فضل بن حسن، مجمع البيان فى تفسير القرآن، تہران: انتشارات ناصر خسرو، ۱۳۷۲ش.
  • فرہنگ‌نامہ علوم قرآن، قم، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم.
  • قمی، على بن ابراہيم، تفسیر القمی، تحقیق: سيد طيب موسوى جزايرى، قم، دارالکتاب، چاپ چہارم، ۱۳۶۷ش.
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآنی، ترجمہ ابومحمد وکیلی، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، ۱۳۷۱ش.
  • مكارم شيرازى، ناصر، تفسیر نمونہ، ج۱، تہران: دار الكتب الإسلاميۃ، ۱۳۷۴ش.
  • موسوى ‌خمينى، سيد روح اللہ، توضیح المسائل(مُحَشّی)، تحقیق : سيد محمد حسين بنى ہاشمى خمينى‌، قم: ‌دفتر انتشارات اسلامى، چاپ ہشتم، ۱۴۲۴ق.‌

بیرونی روابط