سورہ غاشیہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اعلٰی سورۂ غاشیہ فجر
سوره غاشیه.jpg
ترتیب کتابت: 88
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 68
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 26
الفاظ: 92
حروف: 382

سورہ غاشیہ قرآن کریم کی مکی سورت ہے جو ترتیب مصحف کے لحاظ سے 88ویں اور ترتیب نزول کے لحاظ سے 68ویں سورت ہے اور قرآن کے 30ویں پارے میں واقع ہے۔ غاشیہ کا معنی چھپانا ہے جو کی قیامت کے ناموں میں سے ایک ہے۔ اس سورت میں جنت اور دوزخ کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں اور منکروں کے حالات اور انجام، نیز مؤمنین کی شادمانی، شادابی اور فلاح و رستگاری کو موضوع سخن بنایا گیا ہے۔ اور انسانوں کو خلقت میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس سورت کی فضیلت کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ اگر کسی نے سورہ غاشیہ کی تلاوت کی تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے حساب میں آسانی کرے گا۔

تعارف

  • نام

اس سورت کو غاشیہ ناد دیا گیا ہے کیونکہ اس کے آغاز میں غاشیہ کے بارے میں تذکرہ ہواہ ہے۔[1]غاشیہ کا معنی ڈھانپنا ہے اور قیامت کے ناموں میں سے ایک ہے۔ قیامت کو اس لئے غاشیہ کہا گیا ہے کہ اس دن ایسے واقعات رونما ہونگے جو سب کو شامل ہونگے۔[2]

  • محل و ترتیب نزول

سورہ غاشیہ مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیبِ نزول کے اعتبار سے 68ویں سورت ہے جو پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئی ہے اور قرآن کے موجودہ مصحف میں 88ویں سورت ہے[3] اور 30ویں پارے میں واقع ہے۔

  • آیات کی تعداد اور دیگر خصوصیات

سورہ غاشیہ میں 26 آیات، 92 کلمات اور 382 حروف ہیں اور اس کا شمار مفصلات سورتوں (چھوٹی آیتوں والی) میں ہوتا ہے۔[4]

مفاہیم

سورہ غاشیہ بہشت اور اس کی نعمتوں کی صفات اور دوزخ اور اس کے عذاب کے بیان سے شروع ہوتی ہے۔ پھر اللہ کی وحدانیت کے بارے میں تذکرہ ہوتا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالی انسانوں سے کہتا ہے کہ وہ خلقت کی خوبصورتیوں پر توجہ کریں؛ جیسے اونٹ، آسمان، پہاڑ اور زمین کی خلقت کی خوبصورتیوں پر توجہ کرے۔ ان مخلوقات کی خوبصورتیاں اور اسرار انسان کو اللہ تعالی کی طرف راہنمائی کرتی ہیں۔ پھر پیغمبر اکرم کی نبوت کا تذکرہ ہوتا ہے۔ آخر میں کافروں کو عذاب کی دھمکی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اس سورت میں منکرین کے انجام نیز مومنین کی شادمانی، شادابی اور فلاح و رستگاری کے بارے میں تذکرہ ہوا ہے۔[5]

سورہ غاشیہ کے مضامین[6]
 
 
 
 
اللہ کا عذاب اور ثواب سب کو شامل کرنا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسری گفتار؛ آیہ۲۱-۲۶
اللہ کی ربوبیت کے منکروں پر عذاب الہی
 
دوسری گفتار؛ آیہ۱۷-۲۰
اللہ کی ربوبیت کی وسیع نشانیاں
 
پہلی گفتار؛ آیہ۱-۱۶
قیامت میں عذاب اور ثواب کا عام ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیہ۲۱-۲۴
جن کافروں نے پیغمبر کی بات نہیں مانی ان پر عذاب حتمی ہونا
 
پہلی نشانی؛ آیہ۱۷
اونٹ کی خلقت اور اس کے مختلف فائدے
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱-۷
دوزخ میں سب کافروں پر عذاب ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ۲۵-۲۶
اللہ کی طرف انسان کی بازگشت کا یقینی ہونا
 
دوسری نشانی؛ آیہ۱۸
آسمان کے مختلف طبقات کی خلقت
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۸-۱۶
بہشت میں مومنوں کو وسیع ثواب
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسری نشانی؛ آیہ۱۹
پہاڑوں کی خلقت اور مختلف خصوصیات
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
نشانہ چہارم؛ آیہ۲۰
وسیع امکانات اور زمین کی خلقت
 
 


غاشیہ اور روایات

بعض روایات میں غاشیہ کی تفسیر اور تاویل بیان کا ذکر ہے اور «ھل أتیک حدیث الغاشیة»
سے مراد یہ ہے کہ آخری زمانے میں امام زمانہ کے قیام کے بعد ان کو (دشمن) شمشیر سے مار دینگے۔[7]ایک اور روایت میں امام صادقؑ سے منقول ہے کہ «ھل أتیک حدیث الغاشیة»
سے مراد وہ منافقین ہیں جو امام کے اردگرد جمع ہونگے ان کی ہمراہی کا امامؑ کو نہ کوئی فائدہ ہوگا اور نہ ہی عدم ہمراہی سے وہ بےنیاز ہیں۔[8]

فضیلت اور خصوصیات

اس سورے کی فضیلت کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوا ہے کہ جو بھی سورہ غاشیہ کی تلاوت کرے گا اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے حساب و کتاب میں آسانی کرے گا۔[9] امام صادقؑ سے منقول ہے کہ جو بھی اپنی واجب یا مستحب نمازوں میں ہمیشہ سورہ غاشیہ پڑھے گا اللہ تعالی اسے دنیا اور آخرت میں اسے اپنی رحمت میں ڈھانپے گا اور جہنم کے دردناک عذاب سے محفوظ رکھے گا۔[10]

بعض روایات میں سورہ غاشیہ کی تلاوت کے لیے بعض خصوصیات ذکر ہوئی ہیں: درد سے نجات (اگر کسی کے دانت میں درد ہو تو اس کے لیے قرائت کی جائے۔)[11] اور کھانے کے احتمالی نقصانات سے حفاظت اور بچے کی ولادت کے دوران اسے ہر ضرر سے محفوظ رکھنے کےلیے مفید قرار دیا ہے۔[12]

  • مخصوص مواقع پر قرائت

سورہ غاشیہ کو پیر اور جمعرات کے دن نماز فجر کی دوسری رکعت میں پڑھنا اور اسی طرح نماز عید فطر اور عید قربان میں پڑھنا بھی مستحب مؤکد ہے۔[13]

متن سورہ

سوره غاشیہ
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ﴿1﴾ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ ﴿2﴾ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ ﴿3﴾ تَصْلَى نَارًا حَامِيَةً ﴿4﴾ تُسْقَى مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ ﴿5﴾ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ ﴿6﴾ لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ ﴿7﴾ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌ ﴿8﴾ لِسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ ﴿9﴾ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ ﴿10﴾ لَّا تَسْمَعُ فِيهَا لَاغِيَةً ﴿11﴾ فِيهَا عَيْنٌ جَارِيَةٌ ﴿12﴾ فِيهَا سُرُرٌ مَّرْفُوعَةٌ ﴿13﴾ وَأَكْوَابٌ مَّوْضُوعَةٌ ﴿14﴾ وَنَمَارِقُ مَصْفُوفَةٌ ﴿15﴾ وَزَرَابِيُّ مَبْثُوثَةٌ ﴿16﴾ أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ ﴿17﴾ وَإِلَى السَّمَاء كَيْفَ رُفِعَتْ ﴿18﴾ وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ ﴿19﴾ وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ ﴿20﴾ فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ ﴿21﴾ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ ﴿22﴾ إِلَّا مَن تَوَلَّى وَكَفَرَ ﴿23﴾ فَيُعَذِّبُهُ اللَّهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ ﴿24﴾ إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ ﴿25﴾ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ ﴿26﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

کیا تمہیں (کائنات پر) چھا جانے والی (مصیبت یعنی قیامت) کی خبر پہنچی ہے؟ (1) اس دن کچھ چہرے ذلیل (اترے ہوئے) ہوں گے۔ (2) سخت محنت کرنے والے (نڈھال اور) تھکے ماندے ہوں گے۔ (3) وہ دہکتی ہوئی آگ میں پڑیں گے (اور جھلسیں گے)۔ (4) انہیں کھولتے ہوئے چشمہ کا پانی پلایا جائے گا۔ (5) (وہاں) ان کیلئے کوئی کھانا نہ ہوگا سوائے خاردار جھاڑ کے۔ (6) جو نہ (انہیں) موٹا کرے گا اور نہ بھوک دور کرے گا۔ (7) (اور) کچھ چہرے اس دن تر و تازہ (اور با رونق) ہوں گے۔ (8) اپنی کاوش و کوشش پر خوش اور مطمئن ہوں گے۔ (9) (اور) عالیشان جنت میں ہوں گے۔ (10) جہاں وہ کوئی بےہودہ بات نہیں سنیں گے۔ (11) اس میں چشمہ رواں دواں ہوگا۔ (12) اس میں اونچے اونچے تخت (بچھے ہوئے) ہوں گے۔ (13) اور جام و ساغر رکھے ہوں گے۔ (14) اور گاؤ تکیے قطار در قطار لگے ہوئے ہوں گے۔ (15) اور طرح طرح کے نفیس فرش و فروش بچھے ہوئے ہوں گے۔ (16) کیا یہ لوگ اونٹ کو (غور سے) نہیں دیکھتے کہ وہ کیونکر پیدا کیا گیا ہے؟ (17) اور آسمان کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے بلند کیا گیا ہے۔ (18) اور پہاڑوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیونکر کھڑے کئے گئے ہیں؟ (19) اور زمین کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی ہے۔ (20) پس(اے رسول(ص)) آپ(ص) نصیحت کیجئے (اور سمجھائیے) کہ آپ(ص) نصیحت کرنے (اور سمجھانے) والے ہیں۔ (21) آپ(ص) ان پر داروغہ نہیں ہیں۔ (22) ہاں البتہ جو شخص رُوگردانی کرے گا اور کفر کرے گا۔ (23) تو اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا۔ (24) یقیناً ان کی بازگشت ہماری طرف ہے۔ (25) پھر بیشک ان کا حساب کتاب ہمارے ذمہ ہے۔ (26)

پچھلی سورت: سورہ اعلی سورہ غاشیہ اگلی سورت:سورہ فجر

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. دانش نامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۳.
  2. مکارم شیرازی، برگزیدہ تفسیر نمونہ، ۱۳۸۲ش، ج۵، ص۴۸۴.
  3. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۱۶۶.
  4. دانش نامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۳.
  5. دانش نامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج2، ص1263۔
  6. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  7. کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۵۰
  8. کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۵۰
  9. طبرسی، مجمع البیان، ۱۹۹۵م، ج۱۰، ص۳۳۳.
  10. شیخ صدوق، ثواب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ص۱۲۲
  11. بحرانی، البرهان فی تفسیر القرآن، ۱۴۱۶ق، ج ۵، ص۶۴۱
  12. کفعمی، مصباح، ۱۴۲۳ق، ص۴۶۰.
  13. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۱۴ق، ج۶، ص۱۱۷ و ۱۱۸.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • قرآن کریم، ترجمہ محمدمہدی فولادوند، تہران، دارالقرآن الکریم، ۱۴۱۸ق/۱۳۷۶ہجری شمسی.
  • بحرانی، سید ہاشم، البرہان فی تفسیر القرآن، بنیاد بعثت، ۱۴۱۶ھ۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعة، قم، آل البیت، ۱۴۱۴ھ۔
  • دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج2، بہ کوشش بہاء الدین خرمشاہی، تہران: دوستان-ناہید، 1377ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، بہ تحقیق صادق حسن‌زادہ، تہران، ارمغان طوبی، ۱۳۸۲شمسی۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسة الأعلمی للمطبوعات، چاپ اول، ۱۹۹۵ء.
  • کفعمی، ابراہیم بن علی، المصباح، قم، محبین، ۱۴۲۳ق.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تحقیق و تصحیح علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران،‌ دار الکتب الإسلامیة، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ھ.
  • مکارم شیرازی، ناصر، برگزیدہ تفسیر نمونہ، احمد علی‌بابایی، تہران،‌ دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۸۲شمسی.

بیرونی روابط

سورہ غاشیہ کی تلاوت