علامہ طباطبائی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
علامہ طباطبائی
علامہ طباطبائی
کوائف
مکمل نام سید محمد حسین قاضی طباطبائی
تاریخ ولادت آخر ذی الحجہ 1321 ھ، 24 ستمبر 1924 ع
آبائی شہر تبریز۔ ایران
تاریخ وفات 18 محرم 1402 ھ، 5 نومبر 1981 ع
مدفن حرم حضرت معصومہ (ع)، قم
اولاد سید عبد الباقی، نجمہ السادات
علمی معلومات
اساتذہ محمد حسین نایینی، محمد حسین غروی اصفہانی، سید علی قاضی طباطبایی۔
شاگرد مرتضی مطہری، سید عز الدین حسینی زنجانی، سید محمد حسینی بہشتی، محمد صادقی تہرانی، ابراہیم امینی، محمد تقی مصباح یزدی، حسن حسن زاده آملی، عبد الله جوادی آملی، جعفر سبحانی، سید موسی صدر، حسین نوری ہمدانی، ناصر مکارم شیرازی، غلام حسین ابراہیمی دینانی، سید محمد حسین لالہ زاری تہرانی۔
تالیفات تفسیر المیزان، شیعہ در اسلام، بدایہ الحکمہ، نہایہ الحکمہ، اصول فلسفہ و روش رئالیسم، رسالہ الولایہ، تعلیقہ بر بحار الانوار، حاشیہ بر اسفار و ...۔
خدمات

سید محمد حسین طباطبائی جو علامہ طباطبائی کے نام سے معروف ہیں 1321 ہ.ش (1903ء) ذی الحجہ کی آخری تاریخ کو تبریز کے شہر شادآباد کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ علامہ طباطبائی چودہویں صدی ہجری کے بڑے مفسر، فلسفی، متکلم، اصولی، فقیہ، عارف، اسلام شناس اور فکری اور مذہبی لحاظ سے ایران کے بااثر علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے تفسیر میں المیزان، فلسفہ میں بدایۃ الحکمۃ و نہایۃ الحکمۃ اور اصول فلسفہ و روش رئالیسم نامی کتابیں تحریر فرمائی ہیں۔

علامہ طباطبائی نے حوزہ علمیہ قم میں فقہ اور اصول کے روایتی درسوں کی بجائے تفسیر کا درس شروع کیا اور ان کا یہ کام حوزہ میں تفسیر کے دروس میں رونق پیدا ہونے کا سبب بنا۔ ان کی تفسیری روش “تفسیر قرآن بہ قرآن” یعنی قرآن کی قرآن کے ذریعے تفسیر تھی۔ فلسفہ کے دروس کی چھٹیوں کے دوران خصوصی کلاسیں ترتیب دے کر اپنے خاص شاگردوں کو ملا صدرا کے فلسفیانہ نظریات تدریس کرتے تھے۔ ان کے شاگردوں میں شہید مرتضی مطہری، آیت اللہ جوادی آملی، آیت اللہ مصباح یزدی اور شہید بہشتی کو ایران میں چودویں صدی ہجری کے بااثر اور مشہور شیعہ علماء میں شمار کئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد فلسفہ کے اکثر اساتید ان کے ہی شاگرد رہے ہیں۔اس کے علاوہ ہنری کربن کے ساتھ فلسفہ اور جدید مسائل پر علامہ کی نشست و برخاست یورپ میں مکتب تشیع کی معرفی کا سبب بنا۔

سوانح حیات

ولادت و نسب

سید محمد حسین طباطبائی کی ولادت ذی الحجہ کے آخری روز سن 1321 ہجری قمری[1] میں تبریز کے علاقہ شاد آباد میں ہوئی۔ 14 پشتوں تک ان کے اجداد عالم و دانشور رہے ہیں۔

ان کے پدری اجداد کا سلسلہ نسب امام حسن مجتبی (ع) اور ابراہیم بن اسماعیل دیباج (ع) سے اور مادری اجداد کا سلسلہ حسینی سادات سے ملتا ہے۔

5 سال کی عمر میں وہ والدہ اور 9 سال کی عمر میں والد کے سایہ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی سید محمد حسن، سید محمد حسن الہی کے نام سے معروف ہیں۔

ازدواجی زندگی

آپ کی زوجہ کا نام قمر السادات، مہدوی طباطبائی سادات کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں[2] اور علامہ طباطبائی کی ترقی، معنوی ارتقاء اور سیر و سلوک میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان سے 3فرند متولد ہوئے لیکن تینوں بچپنے میں ہی نجف اشرف میں فوت ہوگئے۔ایک دن قاضی طباطبائی جو ان کی زوجہ کے رشتہ دار تھے ان کے گھر آئے اور انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اس دفعہ جو بچہ ہوگا وہ بیٹا ہوگا اور وہ زندہ بھی رہے گا اس کا نام عبد الباقی رکھیں۔[3] علامہ اس وقت تک زوجہ کے حاملہ ہونے سے باخبر نہیں تھے اسلئے حیران ہوگئے لیکن آخر کار اس عارف کی پیشن گوئی درست ثابت ہو گئی اور خداوند عالم نے اس شادی کا ثمرہ عبدالباقی اور نجمہ سادات کی شکل میں انہیں عطا کیا۔ 1344 ہجری شمسی (1965ء) میں ان کی زوجہ اس دنیا سے کوچ کر گئی اور کچھ مدت کے بعد علامہ نے خانم منصورہ سے شادی کی۔

دوران تحصیل و تدریس

علامہ طباطبائی نے قرآن کریم کی تعلیم کے بعد 6 سال کی مدت میں گلستان اور بوستان وغیرہ کا درس مکمل کیا ۔ ادبیات سیکھنے کے بعد میرزا علی نقی کے ہاں خوش نویسی سیکھی ۔ اس کے بعد تبریز کے مدرسہ طالبیہ میں داخلہ لیا اور ادبیات عرب، علوم نقلی اور فقہ و اصول میں مشغول ہو گئے اور 1297 سے لے کر 1304 ہجری شمسی(1918ء سے1925ء) تک دوسرے اسلامی علوم کی تعلیم حاصل کیں۔ علامہ مدرسہ طالبیہ میں تحصیل کے بعد اپنے بھائی کے ہمراہ نجف اشرف مشرف ہوئے اور پورے دس سال 1304 سے 1314 ہجری شمسی(1925ء سے 1935ء) تک نجف اشرف میں علوم دینی اور اخلاقی اور معنوی کمالات کے حصول میں مشغول رہے۔ 1314 سے 1325ہجری شمسی (1935ء سے 1946ء) تک تبریز میں مقیم اور تالیف و تحقیق میں مصروف ہوئے لیکن 1325 ہجری شمسی (1946ء)سے قم المقدسہ میں ساکن ہوئے اور آخری عمر تک تدریس ، تحقیق اور تالیف میں سرگرم رہے۔

زندگی علمی

نجف اشرف میں

اپنے محل پیدایش تبریز میں پہلا علمی مرتبہ کامل کرنے کے بعد 1304 ہجری شمسی (1925ء) میں نجف اشرف کی طرف روانہ ہوئے اور نجف کے حوزہ علمیہ میں جو اس وقت عالم تشیع کا علمی مرکز تھا مختلف اسلامی علوم میں اپنی علمی پیاس بجھانے میں مصروف ہوگئے۔ فقہ اور اصول کو نائینی اور کمپانی جیسے اساتید جبکہ فلسفہ کو سید حسین بادکوبی کے ہاں جو خود علی مدرس صاحب کے شاگرد تھے، کے پاس پڑھا۔ ریاضی کیلئے سید ابوالقاسم خوانساری اور اخلاقی دورس کیلئے حاجی میرزا علی قاضی جو حکمت اور عرفان میں بلند علمی درجے پر فائز تھے، کے پاس شاگردی کی۔ علامہ طباطبائی نے اپنے آپ کو فقہ و اصول کے روایتی دروس تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے ادبیات، فقہ و اصول کے علاوہ ریاضیات کا ایک دورہ ، فلسفہ و کلام اور عرفان و تفسیر کے علوم میں بھی اجتہاد کے درجے تک علم حاصل کیا۔

تبریز میں

علامہ طباطبائی نجف اشرف میں تحصیل کے دوران معیشت میں تنگی اور تبریز سے اپنی زمینوں کے اجارے جو مقرر کئے ہوئے تھے کے نہ پہنچنے کی وجہ سے ایران لوٹنے پر مجبور ہوگئے اور 10 سال تک تبریز اپنے آبائی گاوں شادآباد میں زراعت میں مشغول رہے۔ اس دوران کوئی علمی فعالیت، تحصیل یا تدریس کے حوالے سے کوئی قابل ذکر بات نظر نہیں آتی لیکن کچھ کتابیں اور رسالے علامہ طباطبائی کے اس دور کے فکری ماحصل ہیں جو انہوں نے تبریز میں لکھے ہیں۔

قم میں

علامہ طباطبائی قیام قم کے دوران

تبریز سے باہر ایران کے دوسرے شہروں کے حوزaت میں علامہ طباطبائی کی شہرت اس وقت ہوئی جب انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے سیاسی حوادث کی وجہ سے تبریز سے قم کی طرف ہجرت کی۔ علامہ طباطبائی 1325 ہجری شمسی(1946ء) کو قم میں مقیم ہوئے اور کسی شور و شرابے کے بغیر تفسیر اور فلسفے کے دروس کا آغاز کیا۔ حوزہ علمیہ قم میں علامہ طباطبائی کا بڑا علمی کارنامہ علوم عقلی کا احیاء اور تفسیر قرآن کریم تھا۔ انہوں نے بتدریج حکمت کے اعلی دروس جیسے کتاب شفا اور اسفار کو رواج دیا ۔ ہر روز زیادہ سے زیادہ با صلاحیت اور شوق و اشتیاق رکھنے والے لوگ ان کے دروس کی طرف مائل ہوتے گئے یہاں تک کہ آخری سالوں میں ان کے فلسفے کے دروس میں سینکڑوں شاگرد شرکت کرتے تھے اور گذشتہ کئی دہائیوں سے بہت سارے دانشمند حضرات جو آج کل خود فلسفہ کے اساتید میں شمار ہوتے ہیں ان کے زیر سایہ ان علوم میں اجتہاد کے درجے تک نائل ہوئے ہیں۔

تہران میں علمی جلسات

قم میں سکونت کے دوران علامہ طباطبائی کی فعالیتوں میں سے ایک تہران میں علمی اور فلسفی نشستوں میں شرکت تھی۔ یہ جلسات ہنری کربن ، سید حسن نصر اور داریوش شایگان وغیرہ کے ساتھ علامہ طباطبائی کی زیر صدارت فلسفہ، عرفان، ادیان اور اسلام شناسی کے بارے میں انجام پاتے تھے۔ تہران میں پے در پے سفر کے دوران انہوں نے فلسفہ اور معارف اسلامی کے شائقین سے ملاقات کیں اور بعض اوقات دین اور حکمت کے مخالفین کے ساتھ بھی نشست و برخاست رکھتے تھے ۔ ہنری کربن کے ساتھ علامہ طباطبائی کے جلسات( 20سال 1378 سے 1399 ہجری قمری)(1958ء سے1978ء) تک ہر موسم خزاں میں کئی فاضل اور دانشمندحضرات کے ہمرا انجام پاتے تھے جن میں دین اور فلسفہ کے بنیادی اور حیاتی مسائل پر بحث ہوتی تھی۔ سید حسن نصر کے بقول اس قدر بلند و بالا درجے اور وسیع و عریض افق کے ساتھ ایسے جلسات کا اس سے پہلے کہیں کوئی مثال نہیں ملتی، یہاں تک کہ یہ دعوا کرسکتے ہیں کہ قرون وسطی جہاں سے عیسایت اور دین مبین اسلام کا فکری اور معنوی رابطہ منقطع ہوا تھا کبھی مشرق زمین اور دنیائے غرب کے ساتھ ایسا رابطہ برقرار نہیں ہوا ہے۔

علامہ کے اساتید

علامہ نے اپنے تحصیل کے دوران درج ذیل اساتید سے کسب فیض کیا ہے:

  1. آیت اللہ سید علی قاضی طباطبائی
  2. آیت اللہ سید ابو القاسم خوانساری
  3. آیت اللہ مرتضی طالقانی
  4. آیت اللہ محمد حسین غروی اصفہانی
  5. آیت اللہ سید ابو الحسن اصفہانی
  6. آیت اللہ میرزا حسین نائینی
  7. آیت اللہ سید حسین بادکوبہ‌ ای
  8. آیت اللہ سید حجت کوہ کمرہ ای

علامہ کے شاگرد

ان کے جنازہ پر ان کے شاگرد۔ بائیں سے دائیں پہلے نمبر پر محمد صادقی تہرانی، دوسرے حسن زادہ آملی، پانچوے عبد اللہ جوادی آملی۔

جنہوں نے علامہ سے کسب فیض کئے ان میں درج ذیل شخصیات شامل ہیں:

  1. سید عزالدین حسینی زنجانی
  2. مرتضی مطہری
  3. آیت اللہ جوادی آملی
  4. آیت اللہ فاضل لنکرانی
  5. آیت اللہ منتظری
  6. آیت اللہ شبیری زنجانی
  7. آیت اللہ مصباح یزدی
  8. آیت اللہ جعفر سبحانی
  9. غلام حسین ابراہیمی دینانی
  10. آیت اللہ حسن زادہ آملی
  11. سید محمد حسین لالہ‌ زاری طہرانی
  12. آیت اللہ ابراہیم امینی
  13. آیت اللہ آشتیانی
  14. آیت اللہ مکارم شیرازی
  15. احمد احمدی
  16. آیت اللہ طاہری خرم آبادی
  17. آیت اللہ قدوسی
  18. محمد محمدی گیلانی
  19. یحیی انصاری شیرازی
  20. شہید بہشتی
  21. شہید مفتح
  22. شہید باہنر
  23. آیت اللہ موسوی اردبیلی
  24. آیت اللہ نوری ہمدانی
  25. ابو طالب تجلیل
  26. امام موسی صدر
  27. سید محمد باقر موحد ابطحی
  28. سید محمد علی موحد ابطحی
  29. سید مہدی روحانی
  30. علی احمدی میانجی
  31. عباس ایزدی
  32. محمد صادقی تہرانی
  33. آیت اللہ خوش وقت
  34. علی سعادت‌ پرور

علامہ کے علمی آثار

علامہ نے بہت سارے علمی آثار باقی چھوڑے ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

  1. تفسیر المیزان
  2. رسالہ در صفات
  3. اصول فلسفہ و روش رئالیسم
  4. رسالہ در افعال
  5. اسفار پر حاشیہ
  6. سنن النبی (ص)
  7. رسالہ در برہان
  8. رسالہ در نبوت و مقامات
  9. کربن کے ساتھ انٹرویوو
  10. رسالہ در اعتبارات
  11. رسالہ در وسائط
  12. رسالہ در ترکیب
  13. الانسان قبل الدنیا
  14. رسالہ در تحلیل
  15. الانسان فی الدنیا
  16. رسالہ در مغالطہ
  17. الانسان بعد الدنیا
  18. منظومہ در رسم خط نستعلیق
  19. کفایۃ الاصول پر حاشیہ
  20. شیعہ در اسلام
  21. رسالہ در قوہ و فعل
  22. قرآن در اسلام
  23. رسالہ در اثبات ذات
  24. رسالہ در ولایت
  25. رسالہ در مشتقات
  26. رسالہ در نبوت
  27. متعدد مقالات جو مختلف نشریوں میں منتشر ہوئے ہیں۔
  28. حکومت اسلامی پر ایک رسالہ، جو فارسی ، عربی اور جرمنی میں منتشر ہواہے۔

تفسیر المیزان

تفسیر المیزان

علامہ طباطبائی نے 1374 ہجری قمری (1954ء) میں تفسیر المیزان لکھنا شروع کی اور 1392 ہجری قمری (1972ء) میں اسے 20 جلدوں میں عربی زبان میں مکمل کیا۔ اس تفسیر میں “قرآن کے ذریعے قرآن کی تفسیر” کی روش سے استفادہ کیا ہے۔ اس میں علامہ نے آیات کی تفسیر اور لغوی بحث کے علاوہ مختلف جگہوں پر مختلف مناسبتوں سے تاریخی، روائی، کلامی، فلسفی، سائنسی اور اجتماعی حوالے سے بھی بحث کی ہے۔ سید محمد باقر موسوی ہمدانی نے اس کا فارسی میں دو طرح سے ترجمہ کیا ہے، ابتداء میں 40 جلدوں میں اس کے بعد 20 جلدوں میں۔

علامہ طباطبائی کے بارے میں لکھے گئے آثار

علامہ طباطبائی کی وفات کے بعد متعدد سیمینار آپ کی زندگی پر مطالعے کے حوالے سے برگزار ہوئے ہیں۔ ان میں سے اہم ترین سیمینار میزان حکمت کے عنوان سے 1383 ہجری شمسی(2004ء) میں منعقد ہوا جس کا اہتمام ایران کے ایک ٹی وی ادارے نے کیا تھا۔شیعہ علماء کی شخصیت پرحدیث سرو کے نام سے ٹی وی پر ایک مستند ڈاکومنٹری ریلیز ہوئی جس کا ایک حصہ علامہ طباطبائی کی زندگی سے مختص تھا۔ آپ کی زندگی پر مختلف کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں سے بعض صرف یاد نامہ ہیں اور علمی مقالات پر مشتمل ہیں جبکہ بعض علامہ کی زندگی پر لکھی گئی ہیں جو درج ذیل ہیں:

  1. یادیں اور یادگاریں، تحریرعلی تاجدینی
  2. مہر تابان، تحریر سید محمد حسین طہرانی
  3. محبت کے دئے، تحریر سید علی تہرانی
  4. شناخت نامہ علامہ طباطبائی، ترتیب و پیش کش، مہدی مہریزی اور ہادی ربانی
  5. جان بخش گھونٹیں، تحریر غلام رضا گلی زوارہ
  6. شمس الوحی تبریزی، تحریر آیت اللہ جوادی آملی

اسکے علاوہ ایران میں بہت سارے علمی مراکز علامہ طباطبائی کے نام سے منسوب ہیں جن میں سے اہم ترین تہران میں علامہ طباطبائی یونیورسٹی ہے۔

وفات

علامہ طباطبائی 24 آبان ماہ 1360 ہجری شمسی (15 نومبر 1981ء) بروز اتوار صبح 9 بجے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور اگلے دن مسجد امام حسن عسکری سے حرم حضرت معصومہ (ع) قم تک انکی تشییع ہوئی۔ ان کی نماز جنازہ آیت اللہ العظمی سید محمد رضا موسوی گلپائگانی نے پڑھائی جس کے بعد حضرت معصومہ (س) کے حرم میں مسجد بالا سر میں دفن ہوئے۔

حوالہ جات

  1. طباطبائی، بررسی های اسلامی، ج۱، ص۱۹.
  2. حسینی طہرانی، مہر تابان، ص۴۱.
  3. ن ک: تاج دینی، علی، یادہا و یادگارہا، ص۲۸.


مآخذ

  • رجایی نژاد، محمد، یار قدوسیان و بانی نظم نوین حوزه، ہفتہ نامہ حریم امام، ۱۳۹۴، شماره ۱۸۳
  • تاج دینی، علی، یادہا و یاگارہا
  • حسینی طہرانی، سید محمد حسین، مہر تابان
  • خبرگزای مہر
  • دار القرآن آیت الله علامہ طباطبائی
  • طباطبائی، سید محمد حسین، بررسی ہای اسلامی، قم: مؤسسہ بوستان کتاب، ۱۳۸۸ش
  • طباطبائی، سید محمد حسین، تفسیر البیان فی الموافقہ بین الحدیث و القرآن
  • نصر، سید حسین، در مقدمہ شیعہ در اسلام