سورہ عادیات

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
زلزال سورۂ عادیات قارعہ
سوره عادیات.jpg
ترتیب کتابت: 100
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 14
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 11
الفاظ: 40
حروف: 169

سوره عادیات یا والعادیات قرآن کی سویں سورت ہے جو گیارہ آیات پر مشتمل ہے۔ اس سورت کی ابتداء قسم سے ہوتی ہے۔ اس کا نام اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے اور اس کے معنی تیز دوڑنے والے(گھوڑوں) کے ہیں۔ اس کے مکی یا مدنی ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہ سورہ قرآن کے آخری یعنی تیسویں پارے میں واقع ہے۔

سورہ عادیات میں مجاہدین اور قیامت کے دن مردوں کے زندہ ہونے نیز انسان کی ناشکری کے بارے میں بحث ہوتی ہے۔ اس کی فضیلت اور تلاوت کے بارے میں آیا ہے کہ جو شخص سورہ عادیات کی تلاوت پر مداومت کرے خداوند عالم قیامت کے دن اسے حضرت علیؑ کے ساتھ محشور کرے گا اور وہ شخص آپؑ اور آپؑ کے دوستوں کے ساتھ ہو گا۔ سورہ عادیات کو نماز جعفر طیار کی دوسری رکعت میں بھی پڑھی جاتی ہے۔

تعارف

سوره عادیات مشبک‌کاری.jpg
  • نام

اس سورت کو عادیات (تیزرفتار گھوڑے) کا نام دیا گیا ہے کیونکہ اس کی پہلی آیت میں خداوند متعال نے ان کی قسم کھائی ہے اور ان کی طرف اشارہ کیا ہے:

"وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا(ترجمہ: قسم ہے ان (گھوڑوں) کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں)

اس سورت کو والعادیات بھی کہا جاتا کیونکہ یہ لفظ سورت کا حرف آغاز ہے۔[1] عادیات "عادیۃ" کا جمع ہے جس کے معنی گذرنے اور جدا ہونے کے ہیں اور اس آیت میں اس لفظ کا معنا تیز دوڑنے کے ہیں۔[2]

  • ترتیب نزول اور محل نزول

سورہ عادیات کے مکی یا مدنی ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ تفسیر نمونہ میں اس کے مدنی ہونے کو ترجیح دی گئی ہے[3] جبکہ آیت اللہ معرفت اس کے مکی ہونے کے قائل تھے۔[4] آیت الله معرفت کے مطابق ترتیب نزول کے اعتبار سے یہ سورہ چودھواں سورہ ہے جو پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئی۔[5] لیکن قرآن کریم کی موجودہ ترتیب کے اعتبار سے اس کا شمار سویں نمبر پر آتا ہے اور قرآن کے آخری یعنی تیسویں پارے میں واقع ہے۔

  • آیات اور کلمات کی تعداد

سورہ عادیات 11 آیات، 40 کلمات اور 169 حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورہ قرآن کریم کی نسبتا چھوٹی سورتوں میں سے ہے اور حجم کے اعتبار سے اس کا شمار مفصلات میں ہوتا ہے۔ سورہ عادیات من جملہ ان سورتوں میں سے ہے جن کا آغاز قسم کے ساتھ ہوتا ہے۔[6]

مفاہیم

اس سورت میں میدان جنگ میں لڑنے والے مجاہدین اور سپاہیوں کی توصیف، اللہ کی نسبت انسان کی ناشکری، زرپرستی کی بنا پر انسان کی کنجوسی اور بخل نیز قیامت کی صورت حال اور روز جزا کی کیفیت سے متعلق بحث کی گئی ہے۔[7]

سورہ عادیات کے مضامین[8]
 
 
اللہ کی بندگی میں انسان کی سستی کا علاج
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا راہ حل: آیہ۹-۱۱
آخرت میں انسان کی حقیقت کے آشکار ہونے پر توجہ دینا
 
پہلا راہ حل: آیہ ۱-۸
اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی جد و جہد پر توجہ دینا
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا نکتہ: آیہ ۹-۱۰
قیامت میں انسان کا باطن آشکار ہونا
 
پہلا نکتہ: آیہ ۱-۵
اللہ کے راستے کے مجاہدوں اور ان کی کوششوں کی قسم
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا نکتہ: آیہ ۱۱
انسان کے باطن سے اللہ کو علم ہونا
 
دوسرا نکتہ: آیہ ۶-۸
جان بوجھ کر عبادت میں سستی

جنگ ذاتُ السَلاسِل اور حضرت علی کی کامیابی

منقول ہے کہ یہ سورہ "جنگ ذاتُ السَلاسِل" کے بعد نازل ہوئی۔ آٹھویں سنہ ہجری میں رسول خداؐ کو خبر دی گئی کہ "یابس" نامی مقام پر 12 ہزار افراد جمع ہو کر ایک دوسرے سے عہد کئے ہیں کہ جب تک پیغمبر اسلامؐ اور حضرت علیؑ کو قتل اور مسلمانوں کو متلاشی نہیں کریں گے، چین سے نہیں بیٹھیں گے! پیغمبر اكرمؐ نے اپنے اصحاب کو بعض صحابہ کی سرکردگی میں ان کی طرف بھیجا لیکن مذاکرات کے بعد بغیر نتیجے کے واپس لوٹ آئے۔ آخر کار پیغمبر اكرمؐ نے حضرت علیؑ کو مہاجرین اور انصار کے ایک لشکر کے ساتھ ان کافروں کی طرف بھیجا۔ لشکر اسلام نے رات کو دشمن کی طرف حرکت کیا اور نہایت تیز رفتاری کے ساتھ صبح ہوتے ہی دشمن کو محاصرے میں لے لیا۔ سب سے پہلے انہیں اسلام کی دعوت دی لیکن جب انہوں نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا تو ان پر حملہ آور ہوئے اور ان کو شکست دی، بعض اسیر ہوئے اور بہت سارا مال غنیمت کے طور پر ملا۔

امام علیؑ اور آپ کے ساتھی مدینہ واپس لوٹنے سے پہلے "سورہ عادیات" نازل ہوئی۔ پیغمبر خداؐ نے اسی دن اس سورت کو صبح کی نماز میں قرائت فرمائی۔ نماز ختم ہونے کے بعد اصحاب نے عرض کیا: یا رسول اللہ ہم نے ابھی تک اس سورت کو نہیں سنا تھا! پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: "ہاں، جب علیؑ کو دشمنوں پر فتح نصیب ہوئی تو کل رات جبرئیل نے اس سورت کے ذریعے مجھے اس کامیابی کی بشارت دی"۔ اس کے چند دن بعد حضرت علی مال غنیمت‌ اور دشمن کے گرفتار سپاہیوں کے ساتھ مدینہ میں داخل ہوئے۔[9]

فضیلت اور خواص

اس سورت کی فضیلت اور تلاوت کے حوالے سے پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوئی ہے کہ جو شخص اس سورت کی تلاوت کرے گا خدا عید قربان کی رات مزدلفہ میں قیام کرنے والے حجاج میں سے ہر ایک کے بدلے اس شخص کو دس نیکیاں عطا کرے گا۔ امام صادقؑ سے بھی نقل ہوئی ہے کہ جو شخص سورہ عادیات کی تلاوت پر مداومت کرے گا خداوند قیامت کے دن اسے حضرت علیؑ کے ساتھ محشور کرے گااور یہ شخص آپؑ اور آپؑ کے دوستوں کے ساتھ رہے گا۔[10] بعض احادیث میں سورہ عادیات کو نصف قرآن کے برابر قرار دی ہے۔[11]

نماز جعفر طیار کی دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ عادیات پڑھنے کی تاکید ہوئی ہے۔[12]

متن اور ترجمہ

سوره عادیات
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا ﴿1﴾ فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا ﴿2﴾ فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا ﴿3﴾ فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا ﴿4﴾ فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا ﴿5﴾ إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ ﴿6﴾ وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ ﴿7﴾ وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ ﴿8﴾ أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ ﴿9﴾ وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ ﴿10﴾ إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ ﴿11﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

قَسم ہے ان گھوڑوں کی جو پھنکارے مارتے ہوئے دوڑتے ہیں۔ (1) پھر اپنی ٹاپوں کی ٹھوکر سے (پتھر سے) چنگاریاں نکا لتے ہیں۔ (2) پھر صبح کے وقت (اچانک) چھاپہ مارتے ہیں۔ (3) تو اس طرح گَرد و غبار اڑاتے ہیں۔ (4) پھر اسی حالت میں (دشمن کی) جماعت (لشکر) میں گھس جاتے ہیں۔ (5) بےشک انسان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔ (6) اور وہ خود اس پر گواہ ہے۔ (7) اور وہ مال و دولت کی محبت میں بڑا سخت (گرفتار) ہے۔ (8) کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب قبروں سے نکال لیا جائے گا جو کچھ ان میں (دفن) ہے۔ (9) اور جو کچھ سینوں میں (چھپا ہوا) ہے وہ ظاہر کر دیا جائے گا۔ (10) اس دن ان کا پروردگار ان کے حالات سے بڑا باخبر ہوگا۔ (11)

پچھلی سورت: سورہ زلزال سورہ عادیات اگلی سورت:سورہ قارعہ

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۷.
  2. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۷، ص۲۴۱.
  3. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۷، ص۲۳۶.
  4. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۱۹۰.
  5. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۱۶۶.
  6. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۷.
  7. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج2 ص1267۔
  8. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  9. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۷، ص۲۴۰.
  10. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۷، ص۲۳۷؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۸۰۱.
  11. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۷، ص۲۳۷.
  12. قمی، مفاتیح الجنان، ۱۳۸۶ش، ص۶۶، نماز جعفر طیار.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی
  • دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ج۲، بہ کوشش بہاء الدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، با مقدمہ محمدجواد بلاغی، تہران، انتشارات ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲ش۔
  • قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنان، تہران، نشر مشعر، ۱۳۸۶ش۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چاپ اول، ۱۳۷۱ش۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلاميۃ، ۱۳۷۴ش۔

بیرونی روابط