سورہ انعام

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مائدہ سورۂ انعام اعراف
سوره انعام.jpg
ترتیب کتابت: 6
پارہ : 7 و 8
نزول
ترتیب نزول: 55
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 165
الفاظ: 3057
حروف: 12227

سورہ اَنعام قرآن کریم کی چھٹی اور مکی سورتوں میں سے ہے جو ساتویں اور آٹھویں پارے میں واقع ہے۔ اس سورت کی 15ویں آیت میں چوپایوں کے متعلق گفتگو کی گئی ہے اسی مناسبت سے اس کا نام "اَنعام" رکھا گیا ہے جس کے معنی چوپایوں کے ہیں۔ سورہ انعام کا محوری گفتگو اصول دین، یعنی توحید، نبوت اور معاد کے بارے میں ہے۔ اس سورت میں سورج اور چاند ستاروں کی عبادت و پرستش سے متعلق کافروں کے ساتھ ہونے والی حضرت ابراہیم کی گفتگو بھی نقل ہوئی ہے۔

آیت نمبر 20 اور 164 اس سورت کی مشہور آیات میں سے ہیں آیت نمبر 20 میں پیغمبر اکرمؐ کی خصوصیات سے متعلق اہل کتاب کی آشنائی جبکہ آیت نمبر 164 آیت وزر کے نام سے مشہور ہے۔ سورہ انعام کی بعض آیات میں آیات الاحکام میں سے ہیں جن میں قتل اور کافروں کو گالی دینا، خدا اور پیغمبرؐ کی طرف جھوٹ کی نسبت دینا اور ایسے حیوان کا گوشت کھانا جسے خدا کا نام لئے بغیر ذبح کیا گیا ہو کا حرام ہونا شامل ہیں۔

بعض احادیث کے مطابق یہ سورت ایک ہی دفعہ پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئی جس کے ساتھ خدا کی تسبیح میں مشغول ستر ہزار فرشتے بھی نازل ہوئے، جو شخص اس سورت کی تلاوت کرے گا یہ فرشتے قیامت تک اس شخص کے لئے تسبیح پڑھیں گے۔

مجلس ختم انعام ایران میں لوگوں کے درمیان رائج مجالس میں سے ہے جس میں سوره انعام کو حاجت روائی کی غرض سے پڑھی جاتی ہے۔

اجمالی تعارف

وجہ تسمیہ

اس سورت کا نام "اَنعام" رکھا گیا ہے چونکہ اس کی 15 آیتوں (آیت نمبر 136 سے 150 تک) میں چوپایوں کا ذکر آیا ہے۔ اس سورت میں لفظ انعام چھ مرتبہ تکرار ہوا ہے۔[1]

محل اور ترتیب نزول

سورہ انعام مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے 55ویں جبکہ مُصحَف کی موجودہ ترتیب کے اعتبار سے چھٹا سورہ ہے۔[2] یہ سورہ قرآن کے ساتویں اور آٹھویں پارے میں واقع ہے۔

آبات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ انعام 165 آیات اور 3055 کلمات پر مشتمل ہے۔ حجم کے اعتبار سے اس کا شمار سَبعُ طِوال (طولانی سورتوں) میں ہوتا ہے اور تقریبا ایک پارے کے حجم کے برابر ہے۔[3] سورہ انعام جمعیُ النزول سورتوں میں سے ہے کیونکہ ایک حدیث کے مطابق یہ سورت ایک ساتھ پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئی ہے۔[4] اسی طرح چونکہ اس کا آغاز خدا کی حمد و ثنا سے ہوتی ہے اس لئے سور حامدات میں بھی اس کا شمار ہوتا ہے۔[5]

مفاہیم

علامہ طباطبایی کے مطابق اس سورے کا اصلی موضوع دوسرے مکی سورتوں کی طرح اصول دین، یعنی توحید، نبوت اور معاد ہے اور خاص کر یکتا پرستی کی تأکید کرتا ہے۔ تفسیر المیزان کے مطابق اس سورے کی اکثر آیتوں میں توحید، نبوت اور معاد کے بارے میں مشرکین کے خلاف استدلال کی گئی ہے۔ اس سورت میں بعض فقہی احکام خاص کر مُحَرّمات کو بیان کیا گیا ہے۔[6]

سورہ انعام کے مضامین[7]
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پیغمبر کی رسالت کے بارے میں کافروں کے شبہات کے جوابات
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مقدمہ: آیہ ۱-۷
اللہ کا دین قبول کرنے میں کافروں کی ضد
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
خاتمہ: آیہ ۱۶۱-۱۶۵
پیغمبر کی توحیدی آئین کی حقانیت
 
ساتواں شبہہ: آیہ ۱۴۸-۱۶۰
خدا نہ کرے کہ ہم مشرک ہوجائیں اور کھانے کی چیزوں کو حرام کریں
 
چھٹا شبہہ: آیہ ۱۳۶-۱۴۷
اللہ کا دین مشرکوں کے درمیان رائج وہی بدعتیں ہیں
 
پانچواں شبہہ: آیہ ۱۲۴-۱۳۵
قرآنی آیات کیوں ہم پر نازل نہیں ہوتیں؟
 
چوتھا شبہہ: آیہ ۱۰۹-۱۲۳
جو معجزہ ہم چاہتے ہیں اگر پیغمبر لائے تو ان پر ایمان لاینگے
 
تیسرا شبہہ: آیہ ۹۱-۱۰۸
اللہ کوئی کتاب نازل نہیں کرتا ہے
 
دوسرا شبہہ: آیہ ۳۷-۹۰
اللہ کیوں پیغمبر کی حقانیت پر کوئی علامت نازل نہیں کرتا ہے؟
 
پہلا شبہہ: آیہ ۸-۳۶
پیغمبر پر نازل ہونے والا فرشتہ ہمیں نظر کیوں نہیں آتا ہے؟
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب: آیہ ۱۶۱
پیغمبر کا آئیں وہی حضرت ابراہیم کا آئین ہے
 
پہلا جواب: آیہ ۱۴۸-۱۴۹
اللہ کسی کو زبردستی ہدایت یا گمراہ نہیں کرتا ہے
 
آیہ ۱۳۶ - ۱۳۹
کھانے والی چیزوں کو حرام کرنے میں مشرکوں کی بدعتوں کے بعض نمونے
 
پہلا جواب: آیہ ۱۲۴
رسالت کے منصب کے لئے قابلیت چاہیے
 
پہلا جواب: آیہ ۱۰۹-۱۱۳
پیغمبر جو بھی معجزہ لائے مشرک ایمان نہیں لاینگے
 
پہلا جواب: آیہ ۹۱-۹۲
تورات اور قرآن کو اللہ نے نازل کیا ہے
 
پہلا جواب: آیہ ۳۷-۴۶
اللہ کسی نشانی کو دکھانے کی طاقت رکھتا ہے
 
پہلا جواب: آیہ ۸
اگر ہر شخص فرشتے کو دیکھے تو قیامت ہوجائے گی
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب: آیہ ۱۶۲-۱۶۳
پیغمبر کے آئین میں شرک کی کوئی گنجائش نہیں
 
دوسرا جواب: آیہ ۱۵۰
اگر کہتے ہو کہ اللہ نے کسی چیز کو حرام قرار دیا ہے تو دلیل پیش کرو
 
پہلا جواب: آیہ ۱۴۰-۱۴۴
اللہ نے ان کھانے والی چیزوں کی حرمت کا حکم نہیں دیا ہے
 
دوسرا جواب: آیہ۱۲۵-۱۲۷
بے ایمان افراد کی روح خبیث ہے
 
دوسرا جواب؛ آیہ ۱۱۴-۱۱۵
قرآن کے ہوتے ہوئے کسی اور معجزے کی ضرورت نہیں
 
دوسرا جواب: آیہ ۹۳
یہ جھوٹ اور اللہ پر تہمت ہے
 
دوسرا جواب: آیہ ۴۷-۴۹
منکروں پر عذاب پیغمبر کی حقانیت کی علامت ہے
 
دوسرا جواب: آیہ ۸
اگر سب انسان فرشتوں کو دیکھیں تو قیامت ہوجائے گی
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۱۶۴-۱۶۵
پیغمبر کا شرک کی طرف رغبت کے لیے کوئی دلیل نہیں
 
تیسرا جواب: آیہ ۱۵۱-۱۵۲
دین کے محرمات معین ہیں
 
دوسرا جواب: آیہ ۱۴۵-۱۴۷
دین میں کھانے والی چیزوں میں سے حرام معین ہیں
 
تیسرا جواب: آیہ ۱۲۸-۱۳۰
تم شیاطین کی پیروی کرتے ہو
 
تیسرا جواب: آیہ ۱۱۶-۱۱۷
گمراہ لوگوں کے مطالبات پر توجہ نہ دیا جائے
 
تیسرا جواب: آیہ ۹۴-۱۰۸
کائنات کا مدبر انسان کی ہدایت کے لیے کتاب بھیجتا ہے
 
تیسرا جواب: آیہ ۵۰
معجزہ دکھانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں
 
تیسرا جواب: آیہ ۱۰
تم پیغمبر کا مذاق اڑانا چاہتے ہو
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا جواب: آیہ ۱۵۳-۱۵۵
صرف پیغمبر کے آئین کی پیروی کریں
 
 
 
 
 
چوتھا جواب؛ آیہ ۱۳۱-۱۳۴
اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے
 
چوتھا جواب: آیہ ۱۱۸-۱۲۳
اگر الہی معجزوں پر عقیدہ ہے تو دینی احکام پر عمل کرو
 
 
 
 
 
چوتھا جواب: آیہ ۵۱-۵۶
فقیر مومنین کو دھتکارنا پیغمبر کی حقانیت کی نشانی نہیں ہے
 
چوتھا جواب: آیہ ۱۲-۱۳
تم معاد کا انکار کرنا چاہتے ہو
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچواں جواب: آیہ ۱۵۶-۱۵۷
نزولِ قرآن کے ساتھ تم پر اتما حجت ہوئی
 
 
 
 
 
پانچواں جواب: آیہ ۱۳۵
ظالم کبھی سعادت تک نہیں پہنچ سکتے
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچواں جواب: آیہ ۵۷
قرآن بہترین نشانی اور معجزہ ہے
 
پانچواں جواب: آیہ ۱۹-۲۰
تم اللہ کے فرمانے کے مقابلے میں نافرمانی کرنا چاہتے ہو
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چھٹا جواب: آیہ ۱۵۸-۱۶۰
عذاب آنے سے پہلے ایمان لے آؤ
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چھٹا جواب: آیہ ۵۸-۵۹
اگر تمہارا مطلوبہ معجزہ لائے تو تم سب ہلاک ہوجاؤ گے
 
چھٹا جواب: آیہ ۱۹-۲۰
اللہ پیغمبر کی حقانیت کی گواہی دیتا ہے
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
ساتواں جواب: آیہ ۶۰-۹۰
توحید کی نشانیاں پیغمبر کی حقانیت کی دلیل ہیں
 
نتیجہ‌گیری: آیہ ۲۱-۳۶
کافروں کی باتیں ضد کی وجہ سے ہیں منطقی نہیں

تاریخی واقعات اور داستانیں

  • حضرت ابراہیم اور آزر کی گفتگو(آیت نمبر 74)۔
  • سورج اور چاند ستاروں کی پرستش کے بارے میں حضرت ابراہیم اور مشرکین کی گفتگو(آیت نمبر 76-81)۔

مشہور آیات

آیت نمبر 17، 20، 59، 160 اور 164 اس سورت کی مشہور آیات میں سے ہیں۔

آیت نمبر 17

وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّـهُ بِضُرٍّ‌ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ‌ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌
(ترجمہ: گر خدا تمہیں کوئی ضرر و زیاں پہنچانا چاہے تو اس کے پاس اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں ہے۔ اور اگر کوئی بھلائی پہنچانا چاہے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔)

سورہ انعام کا بنیادی مقصد شرک کے عوامل کا خاتمہ قرار دیا گیا ہے؛ اسی وجہ سے اس آیت میں غیرخدا کی طرف رجوع کرنے کی مذمت کرتے ہوئے مشکلات کے حل، نقصان سے بچنے اور منفعت کے حصول کے لئے خودساختہ خداؤوں کی طرف رجوع کرنے سے منع کی گئی ہے؛ کیونکہ اگر انسان پہنچنے والے چھوٹے سے چھوٹے نقصان کا بھی ازالہ کرنے والے خدا کے سوا کوئی اور نہیں ہے اسی طرح انسان کو حاصل ہونے والی تمام خوبیوں اور خیر و برکات کا منبع بھی صرف اور صرف خدا کی ذات ہے۔[8] اس آیت میں تمام ارادوں پر خدا کے ارادے کی حاکمیت کو بیان کرتے ہوئے صراحت کے ساتھ ثنویت (جس میں خیر اور شر کے لئے علیحدہ علیحدہ خدا کے قائل ہیں) کے عقیدے کو رد کیا گیا ہے۔۔[9]

اس آیت میں خدا کی طرف نسبت دی جانے والے شرور کو سلب نعمت سے تعبیر کی گئی ہے جو در حقیقت خیر کے مصادیق میں سے ہے؛ کیونکہ کبھی کبھار تنبہ، تعلیم و تربیت اور غرور و تکبر کے ازالے کے لئے یہ چیز لازمی ہوا کرتی ہے۔[10]

آیت نمبر 20

الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمُ...
(ترجمہ: جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ ان (پیغمبر(ص)) کو اس طرح پہنچاتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہنچاتے ہیں۔)

یہ آیت ایک دفعہ سورہ بقرہ کی آیت نمیر 146 میں بھی بھی تکرار ہوئی ہے[11] اور یہ آیت حقیقت میں ان مشرکین کا جواب ہے جو اس بات کے مدعی تھے کہ اہل کتاب پیغمبر اسلامؐ کے متعلق کوئی گواہی نہیں دیتے ہیں۔ قرآن اس آیت کے ذیل میں یہ پیغام دے رہا ہے کہ اہل کتاب نہ تنہا پیغمبر اکرمؐ کی آمد اور آپ کی دعوت سے آگاہ تھے، بلکہ وہ آپ کی خصوصیات سے بھی بطور دقیق آگاہ تھے۔[12] چنانچہ عبداللہ بن سلام جو یہودی علماء میں سے تھے، اسلام لانے کے بعد نقل ہوا ہے: من میں حضرت محمدؐ کو اپنی اولاد سے بھی بہتر طور پر جانتا ہوں۔[13]

آیہ مفاتح الغیب (59)

وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ‌ وَالْبَحْرِ‌ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَ‌قَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْ‌ضِ وَلَا رَ‌طْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ
(ترجمہ: اور اس (اللہ) کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، جنہیں اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اور وہ اسے بھی جانتا ہے جو خشکی میں ہے۔ اور اسے بھی جانتا ہے جو تری میں ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے۔ اور زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ نہیں ہے اور نہ کوئی تر ہے اور نہ کوئی خشک ہے مگر یہ کہ وہ کتابِ مبین میں موجود ہے۔)

کہا جاتا ہے کہ "خشک و تر" سے مراد تمام اشیاء ہے اور یہ عموم کا معنی دیتا ہے۔ "کتاب مبین" سے کیا مراد ہے اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف‌ نظر پایا جاتا ہے۔[14] تفسیر المیزان کے مطابق کتاب مبین سے جو بھی مراد لیا جائے اس اس میں یہ دنیا ـ جس میں موجودات شامل ہیں ـ شامل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں تمام موجودات کے بارے میں مکمل معلومات اس میں درج ہیں اور یہ تمام موجودات پر مقدم ہے اور ان کے فنا کے بعد بھی یہ کتاب باقی رہے گی۔[15] تفسیر نمونہ میں بھی آیا ہے کہ "کتاب مبین" سے پروردگار عالم کا مقام علم مراد ہے؛ یعنی تمام موجودات خدا کے بے پناہ علم میں درج ہیں اور کتاب مبین سے لوح محفوظ[16] بھی مراد لی جاتی ہے؛ کیونکہ بعید نہیں ہے کہ لوح محفوظ سے مراد بھی علم خداندی ہو۔[17]

آیت نمبر 160

مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ‌ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
(ترجمہ: جو شخص ایک نیکی لے کر (اللہ کی بارگاہ میں) آئے گا اس کو دس گنا (اجر) ملے گا۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔)

شیعہ اور اہل سنت منابع میں بہت ساری احادیث اس آیت کے بارے میں نقل ہوئی ہیں۔[18] ان میں سے بعض احادیث کے مطابق جب آیت مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِّنْهَا وَهُم مِّن فَزَعٍ يَوْمَئِذٍ آمِنُونَ (ترجمہ: جو شخص نیکی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر ملے گا اور اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے۔)[19] نازل ہوئی تو پیغمبر اسلامؐ نے خدا سے زیادہ ثواب کا تقاضا فرمایا۔ خداوندعالم نے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی: مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ‌ أَمْثَالِهَا۔ پیغمبر اکرمؐ نے دوبارہ تقاضا فرمایا تو خدا نے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی: مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً (ترجمہ: ہے کوئی ایسا جو خدا کو قرض حسنہ دے تاکہ خدا اسے کئی گُنا کرکے واپس کرے۔)[20]

سورہ انعام آیت نمبر 164 خط نسخ میں

آیہ وِزر (164)

وَلَا تَزِرُ‌ وَازِرَ‌ةٌ وِزْرَ‌ أُخْرَ‌ىٰ
(ترجمہ: اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا)

مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ آیت بدکاروں کو ان کے کئے کی سزا دینے میں خدا کی عدالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ کسی شخص کو کسی اور کے گناہ کی وجہ سے سزا نہیں دی جائے گی۔ اسی طرح سورہ نجم کی آیت نمبر 37 اور 38 کے مطابق یہ حکم دوسرے ادیان میں بھی موجود تھا۔[21]

اس آیت کا سورہ نحل کی آیت نمبر 25[22] کے ساتھ ارتباط کے بارے میں کہا گیا ہے کہ: گمراہ‌ کرنے والوں کا دوسروں کے گناہوں کے بوجھ کا ایک حصہ تحمل کرنے کی علت یہ ہے کہ یہ لوگ دوسروں کی گمراہی کا باعث بنا ہے اس لئے ان کے گناہوں کے بوجھ کا ایک حصہ ان کے گردن پر بھی ڈالا جائے گا۔[23]

آیات الاحکام

فقہا سورہ انعام کی 15 آیتوں سے زیادہ آیات سے فقہی احکام استخراج کرنے میں مدد لیتے ہیں۔[24] وہ آیات جن میں شرعی حکم بیان ہوا ہو یا ان سے شرعی حکم استنباط کیا جاتا ہو، آیات الاحکام کہا جاتا ہے۔[25] درج ذیل جدول میں سورہ انعام میں موجود آیات الاحکام کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

آیت متن باب موضوع
۲۱ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَ‌ىٰ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ خدا کی طرف جھوٹی نسبت دینے کی حرمت
۷۲ وَأَنْ أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَاتَّقُوهُ عبادات نماز کا واجب ہونا
۱۰۸ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَيَسُبُّوا اللَّـهَ عَدْوًا بِغَيْرِ‌ عِلْمٍ کفار کو گالی دینے کی حرمت
۱۱۸ فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ‌ اسْمُ اللَّـهِ عَلَيْهِ اطعمہ و اشربہ بسم اللہ کے ذریعے حیوانات کا تذکیہ
۱۲۱ وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ‌ اسْمُ اللَّـهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ اطعمہ و اشربہ غیر مذکی حیوان کے گوشت کا حرام ہونا
۱۴۱ وَهُوَ الَّذِي أَنشَأَ جَنَّاتٍ مَّعْرُ‌وشَاتٍ ... كُلُوا مِن ثَمَرِ‌هِ إِذَا أَثْمَرَ‌ وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ زکات زرعی پیداوار پر زکات کا وجوب
۱۴۵ قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّ‌مًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً ... فَمَنِ اضْطُرَّ‌ غَيْرَ‌ بَاغٍ وَلَا عَادٍ اطعمہ و اشربہ اضطرار کی حالت میں مردار وغیرہ کا حلالا ہونا
۱۵۱ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّ‌مَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ حدود و دیات کسی انسان کو ناحق قتل کرنے کی حرمت
۱۵۲ وَلَا تَقْرَ‌بُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ارث یتیم کے اموال میں مصلحت کے بغیر تصرف کرنے کی حرمت
۱۵۲ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ خرید و فروش ناپ تول میں عدالت کی رعایت کی ضرورت
۱۶۲ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ عبادات عبادات خاص کر نماز میں ریا سے پرہیز کی ضرورت

فضیلت اور خواص

تفصیلی مضمون: فضائل سور

احادیث میں سورہ انعام کی بہت زیادہ اہمیت بیان کی گئی ہے۔ تفسیر نور الثقلین میں امام رضاؑ سے نقل کرتے ہیں کہ سورہ انعام تسبیح و تہلیل (لاحول و لاقوة اِلّا بالله) اور تکبیر میں مشغول ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ دفعی طور پر نازل ہوا نازل ہوا۔ جو شخص سورہ انعام کی تلاوت کرے یہ فرشتے قیامت تک اس کی طرف سے تسبیح پڑھتے رہیں گے۔[26] اس سے ملتی جلتی ایک حدیث پیغمبرؐ سے بھی نقل ہوئی ہے۔[27]

کتاب ثواب الاَعمال میں امام صادقؑ سے یوں نقل ہوا ہے: سورہ انعام ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ دفعی طور پر حضرت محمدؐ پر نازل ہوا۔ پس اس کی اہمیت کو درک اور اس کی قدر کرو؛ کیونکہ اس سورت میں ستر جگہوں پر خدا کا اسم اعظم آیا ہے، اگر لوگوں کو اس سورت کی صحیح معرفت ہوتی ہو ہرگز اس کی تلاوت کو ترک نہ کرتے۔[28]

مونوگرافی

  • ابوالفضل بہرام‌پور، تفسیر سورہ انعام، نشر ہجرت، ۱۳۲صفحہ۔

متن اور ترجمہ

سورہ انعام
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

الْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِم يَعْدِلُونَ ﴿1﴾ هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٍ ثُمَّ قَضَى أَجَلاً وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ ثُمَّ أَنتُمْ تَمْتَرُونَ ﴿2﴾ وَهُوَ اللّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الأَرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ ﴿3﴾ وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ آيَةٍ مِّنْ آيَاتِ رَبِّهِمْ إِلاَّ كَانُواْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ ﴿4﴾ فَقَدْ كَذَّبُواْ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءهُمْ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنبَاء مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِؤُونَ ﴿5﴾ أَلَمْ يَرَوْاْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ مَّكَّنَّاهُمْ فِي الأَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّن لَّكُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاء عَلَيْهِم مِّدْرَارًا وَجَعَلْنَا الأَنْهَارَ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمْ فَأَهْلَكْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ وَأَنْشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِينَ ﴿6﴾ وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَابًا فِي قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِينٌ ﴿7﴾ وَقَالُواْ لَوْلا أُنزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الأمْرُ ثُمَّ لاَ يُنظَرُونَ ﴿8﴾ وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنَاهُ رَجُلاً وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ ﴿9﴾ وَلَقَدِ اسْتُهْزِىءَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُواْ مِنْهُم مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِؤُونَ ﴿10﴾ قُلْ سِيرُواْ فِي الأَرْضِ ثُمَّ انظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ ﴿11﴾ قُل لِّمَن مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ قُل لِلّهِ كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لاَ رَيْبَ فِيهِ الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ ﴿12﴾ وَلَهُ مَا سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿13﴾ قُلْ أَغَيْرَ اللّهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلاَ يُطْعَمُ قُلْ إِنِّيَ أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكَينَ ﴿14﴾ قُلْ إِنِّيَ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ﴿15﴾ مَّن يُصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ ﴿16﴾ وَإِن يَمْسَسْكَ اللّهُ بِضُرٍّ فَلاَ كَاشِفَ لَهُ إِلاَّ هُوَ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدُيرٌ ﴿17﴾ وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ ﴿18﴾ قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادةً قُلِ اللّهِ شَهِيدٌ بِيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللّهِ آلِهَةً أُخْرَى قُل لاَّ أَشْهَدُ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ ﴿19﴾ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءهُمُ الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ ﴿20﴾ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ﴿21﴾ وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُواْ أَيْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ ﴿22﴾ ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ ﴿23﴾ انظُرْ كَيْفَ كَذَبُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ ﴿24﴾ وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ وَجَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا وَإِن يَرَوْاْ كُلَّ آيَةٍ لاَّ يُؤْمِنُواْ بِهَا حَتَّى إِذَا جَآؤُوكَ يُجَادِلُونَكَ يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَذَآ إِلاَّ أَسَاطِيرُ الأَوَّلِينَ ﴿25﴾ وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ وَإِن يُهْلِكُونَ إِلاَّ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ﴿26﴾ وَلَوْ تَرَىَ إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿27﴾ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّواْ لَعَادُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ﴿28﴾ وَقَالُواْ إِنْ هِيَ إِلاَّ حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ ﴿29﴾ وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى رَبِّهِمْ قَالَ أَلَيْسَ هَذَا بِالْحَقِّ قَالُواْ بَلَى وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوقُواْ العَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ ﴿30﴾ قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِلِقَاء اللّهِ حَتَّى إِذَا جَاءتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُواْ يَا حَسْرَتَنَا عَلَى مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَى ظُهُورِهِمْ أَلاَ سَاء مَا يَزِرُونَ ﴿31﴾ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلاَّ لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَلَلدَّارُ الآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ ﴿32﴾ قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ فَإِنَّهُمْ لاَ يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللّهِ يَجْحَدُونَ ﴿33﴾ وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَى مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّى أَتَاهُمْ نَصْرُنَا وَلاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللّهِ وَلَقدْ جَاءكَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ ﴿34﴾ وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاء فَتَأْتِيَهُم بِآيَةٍ وَلَوْ شَاء اللّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْجَاهِلِينَ ﴿35﴾ إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ ﴿36﴾ وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ قُلْ إِنَّ اللّهَ قَادِرٌ عَلَى أَن يُنَزِّلٍ آيَةً وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ ﴿37﴾ وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُكُم مَّا فَرَّطْنَا فِي الكِتَابِ مِن شَيْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ ﴿38﴾ وَالَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِي الظُّلُمَاتِ مَن يَشَإِ اللّهُ يُضْلِلْهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿39﴾ قُلْ أَرَأَيْتُكُم إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿40﴾ بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَاء وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ ﴿41﴾ وَلَقَدْ أَرْسَلنَآ إِلَى أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَاهُمْ بِالْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ ﴿42﴾ فَلَوْلا إِذْ جَاءهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ ﴿43﴾ فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ أَخَذْنَاهُم بَغْتَةً فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ ﴿44﴾ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿45﴾ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَى قُلُوبِكُم مَّنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللّهِ يَأْتِيكُم بِهِ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الآيَاتِ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ ﴿46﴾ قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللّهِ بَغْتَةً أَوْ جَهْرَةً هَلْ يُهْلَكُ إِلاَّ الْقَوْمُ الظَّالِمُونَ ﴿47﴾ وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ فَمَنْ آمَنَ وَأَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿48﴾ وَالَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُواْ يَفْسُقُونَ ﴿49﴾ قُل لاَّ أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَآئِنُ اللّهِ وَلا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَيَّ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَفَلاَ تَتَفَكَّرُونَ ﴿50﴾ وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ لَيْسَ لَهُم مِّن دُونِهِ وَلِيٌّ وَلاَ شَفِيعٌ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ﴿51﴾ وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِم مِّن شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ ﴿52﴾ وَكَذَلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لِّيَقُولواْ أَهَؤُلاء مَنَّ اللّهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ ﴿53﴾ وَإِذَا جَاءكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَن عَمِلَ مِنكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿54﴾ وَكَذَلِكَ نفَصِّلُ الآيَاتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ ﴿55﴾ قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ قُل لاَّ أَتَّبِعُ أَهْوَاءكُمْ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُهْتَدِينَ ﴿56﴾ قُلْ إِنِّي عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي وَكَذَّبْتُم بِهِ مَا عِندِي مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلّهِ يَقُصُّ الْحَقَّ وَهُوَ خَيْرُ الْفَاصِلِينَ ﴿57﴾ قُل لَّوْ أَنَّ عِندِي مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِيَ الأَمْرُ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَاللّهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ ﴿58﴾ وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَا إِلاَّ هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلاَ حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الأَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ ﴿59﴾ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَى أَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿60﴾ وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُم حَفَظَةً حَتَّىَ إِذَا جَاء أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لاَ يُفَرِّطُونَ ﴿61﴾ ثُمَّ رُدُّواْ إِلَى اللّهِ مَوْلاَهُمُ الْحَقِّ أَلاَ لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ ﴿62﴾ قُلْ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَهُ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً لَّئِنْ أَنجَانَا مِنْ هَذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ ﴿63﴾ قُلِ اللّهُ يُنَجِّيكُم مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِكُونَ ﴿64﴾ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ ﴿65﴾ وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍ ﴿66﴾ لِّكُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ﴿67﴾ وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ﴿68﴾ وَمَا عَلَى الَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَيْءٍ وَلَكِن ذِكْرَى لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ﴿69﴾ وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُواْ دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَذَكِّرْ بِهِ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللّهِ وَلِيٌّ وَلاَ شَفِيعٌ وَإِن تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لاَّ يُؤْخَذْ مِنْهَا أُوْلَئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُواْ بِمَا كَسَبُواْ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ ﴿70﴾ قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللّهِ مَا لاَ يَنفَعُنَا وَلاَ يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَى أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللّهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنَا قُلْ إِنَّ هُدَى اللّهِ هُوَ الْهُدَىَ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿71﴾ وَأَنْ أَقِيمُواْ الصَّلاةَ وَاتَّقُوهُ وَهُوَ الَّذِيَ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ﴿72﴾ وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ بِالْحَقِّ وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّوَرِ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ ﴿73﴾ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلاَلٍ مُّبِينٍ ﴿74﴾ وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ ﴿75﴾ فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَى كَوْكَبًا قَالَ هَذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لا أُحِبُّ الآفِلِينَ ﴿76﴾ فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِي رَبِّي لأكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ ﴿77﴾ فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَذَا رَبِّي هَذَآ أَكْبَرُ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ ﴿78﴾ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿79﴾ وَحَآجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللّهِ وَقَدْ هَدَانِ وَلاَ أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلاَّ أَن يَشَاء رَبِّي شَيْئًا وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلاَ تَتَذَكَّرُونَ ﴿80﴾ وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالأَمْنِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿81﴾ الَّذِينَ آمَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُوْلَئِكَ لَهُمُ الأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ ﴿82﴾ وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاء إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ ﴿83﴾ وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ كُلاًّ هَدَيْنَا وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَى وَهَارُونَ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴿84﴾ وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى وَإِلْيَاسَ كُلٌّ مِّنَ الصَّالِحِينَ ﴿85﴾ وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا وَكُلاًّ فضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ ﴿86﴾ وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿87﴾ ذَلِكَ هُدَى اللّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاء مِنْ عِبَادِهِ وَلَوْ أَشْرَكُواْ لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ ﴿88﴾ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَؤُلاء فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُواْ بِهَا بِكَافِرِينَ ﴿89﴾ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ قُل لاَّ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرَى لِلْعَالَمِينَ ﴿90﴾ وَمَا قَدَرُواْ اللّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُواْ مَا أَنزَلَ اللّهُ عَلَى بَشَرٍ مِّن شَيْءٍ قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْكِتَابَ الَّذِي جَاء بِهِ مُوسَى نُورًا وَهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُواْ أَنتُمْ وَلاَ آبَاؤُكُمْ قُلِ اللّهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ ﴿91﴾ وَهَذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَهُمْ عَلَى صَلاَتِهِمْ يُحَافِظُونَ ﴿92﴾ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوْحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثْلَ مَا أَنَزلَ اللّهُ وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلآئِكَةُ بَاسِطُواْ أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُواْ أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ ﴿93﴾ وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُم مَّا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاء ظُهُورِكُمْ وَمَا نَرَى مَعَكُمْ شُفَعَاءكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاء لَقَد تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمْ تَزْعُمُونَ ﴿94﴾ إِنَّ اللّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ذَلِكُمُ اللّهُ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ ﴿95﴾ فَالِقُ الإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ﴿96﴾ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُواْ بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ قَدْ فَصَّلْنَا الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴿97﴾ وَهُوَ الَّذِيَ أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ قَدْ فَصَّلْنَا الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ ﴿98﴾ وَهُوَ الَّذِيَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاء مَاء فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا وَمِنَ النَّخْلِ مِن طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَجَنَّاتٍ مِّنْ أَعْنَابٍ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ انظُرُواْ إِلِى ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ إِنَّ فِي ذَلِكُمْ لآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ﴿99﴾ وَجَعَلُواْ لِلّهِ شُرَكَاء الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ وَخَرَقُواْ لَهُ بَنِينَ وَبَنَاتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَصِفُونَ ﴿100﴾ بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ أَنَّى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿101﴾ ذَلِكُمُ اللّهُ رَبُّكُمْ لا إِلَهَ إِلاَّ هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ ﴿102﴾ لاَّ تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ﴿103﴾ قَدْ جَاءكُم بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمْ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا وَمَا أَنَاْ عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ ﴿104﴾ وَكَذَلِكَ نُصَرِّفُ الآيَاتِ وَلِيَقُولُواْ دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴿105﴾ اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ لا إِلَهَ إِلاَّ هُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ ﴿106﴾ وَلَوْ شَاء اللّهُ مَا أَشْرَكُواْ وَمَا جَعَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ ﴿107﴾ وَلاَ تَسُبُّواْ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ فَيَسُبُّواْ اللّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ ﴿108﴾ وَأَقْسَمُواْ بِاللّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءتْهُمْ آيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ إِنَّمَا الآيَاتُ عِندَ اللّهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءتْ لاَ يُؤْمِنُونَ ﴿109﴾ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُواْ بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ﴿110﴾ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلآئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلاً مَّا كَانُواْ لِيُؤْمِنُواْ إِلاَّ أَن يَشَاء اللّهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ ﴿111﴾ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نِبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاء رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ ﴿112﴾ وَلِتَصْغَى إِلَيْهِ أَفْئِدَةُ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُواْ مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ ﴿113﴾ أَفَغَيْرَ اللّهِ أَبْتَغِي حَكَمًا وَهُوَ الَّذِي أَنَزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلاً وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ ﴿114﴾ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلاً لاَّ مُبَدِّلِ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿115﴾ وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللّهِ إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلاَّ يَخْرُصُونَ ﴿116﴾ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ﴿117﴾ فَكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُمْ بِآيَاتِهِ مُؤْمِنِينَ ﴿118﴾ وَمَا لَكُمْ أَلاَّ تَأْكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ وَإِنَّ كَثِيرًا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِينَ ﴿119﴾ وَذَرُواْ ظَاهِرَ الإِثْمِ وَبَاطِنَهُ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُواْ يَقْتَرِفُونَ ﴿120﴾ وَلاَ تَأْكُلُواْ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَآئِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ ﴿121﴾ أَوَ مَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ ﴿122﴾ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجَرِمِيهَا لِيَمْكُرُواْ فِيهَا وَمَا يَمْكُرُونَ إِلاَّ بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ﴿123﴾ وَإِذَا جَاءتْهُمْ آيَةٌ قَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللّهِ اللّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُواْ صَغَارٌ عِندَ اللّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُواْ يَمْكُرُونَ ﴿124﴾ فَمَن يُرِدِ اللّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلاَمِ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاء كَذَلِكَ يَجْعَلُ اللّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ ﴿125﴾ وَهَذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًا قَدْ فَصَّلْنَا الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ ﴿126﴾ لَهُمْ دَارُ السَّلاَمِ عِندَ رَبِّهِمْ وَهُوَ وَلِيُّهُمْ بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ ﴿127﴾ وَيَوْمَ يِحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِّنَ الإِنسِ وَقَالَ أَوْلِيَآؤُهُم مِّنَ الإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِيَ أَجَّلْتَ لَنَا قَالَ النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِينَ فِيهَا إِلاَّ مَا شَاء اللّهُ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَليمٌ ﴿128﴾ وَكَذَلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّالِمِينَ بَعْضًا بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَ ﴿129﴾ يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاء يَوْمِكُمْ هَذَا قَالُواْ شَهِدْنَا عَلَى أَنفُسِنَا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَشَهِدُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُواْ كَافِرِينَ ﴿130﴾ ذَلِكَ أَن لَّمْ يَكُن رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا غَافِلُونَ ﴿131﴾ وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُواْ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ ﴿132﴾ وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِن بَعْدِكُم مَّا يَشَاء كَمَآ أَنشَأَكُم مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ آخَرِينَ ﴿133﴾ إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لآتٍ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ ﴿134﴾ قُلْ يَا قَوْمِ اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدِّارِ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ﴿135﴾ وَجَعَلُواْ لِلّهِ مِمِّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُواْ هَذَا لِلّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَآئِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلاَ يَصِلُ إِلَى اللّهِ وَمَا كَانَ لِلّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَآئِهِمْ سَاء مَا يَحْكُمُونَ ﴿136﴾ وَكَذَلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلاَدِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُواْ عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ وَلَوْ شَاء اللّهُ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ ﴿137﴾ وَقَالُواْ هَذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لاَّ يَطْعَمُهَا إِلاَّ مَن نّشَاء بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَامٌ لاَّ يَذْكُرُونَ اسْمَ اللّهِ عَلَيْهَا افْتِرَاء عَلَيْهِ سَيَجْزِيهِم بِمَا كَانُواْ يَفْتَرُونَ ﴿138﴾ وَقَالُواْ مَا فِي بُطُونِ هَذِهِ الأَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَى أَزْوَاجِنَا وَإِن يَكُن مَّيْتَةً فَهُمْ فِيهِ شُرَكَاء سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ إِنَّهُ حِكِيمٌ عَلِيمٌ ﴿139﴾ قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُواْ أَوْلاَدَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُواْ مَا رَزَقَهُمُ اللّهُ افْتِرَاء عَلَى اللّهِ قَدْ ضَلُّواْ وَمَا كَانُواْ مُهْتَدِينَ ﴿140﴾ وَهُوَ الَّذِي أَنشَأَ جَنَّاتٍ مَّعْرُوشَاتٍ وَغَيْرَ مَعْرُوشَاتٍ وَالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ كُلُواْ مِن ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُواْ حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ ﴿141﴾ وَمِنَ الأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا كُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ﴿142﴾ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ مِّنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الأُنثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الأُنثَيَيْنِ نَبِّؤُونِي بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿143﴾ وَمِنَ الإِبْلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الأُنثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الأُنثَيَيْنِ أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاء إِذْ وَصَّاكُمُ اللّهُ بِهَذَا فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِبًا لِيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴿144﴾ قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلاَّ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿145﴾ وَعَلَى الَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَلِكَ جَزَيْنَاهُم بِبَغْيِهِمْ وِإِنَّا لَصَادِقُونَ ﴿146﴾ فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ وَلاَ يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ ﴿147﴾ سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُواْ لَوْ شَاء اللّهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلاَ آبَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن شَيْءٍ كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم حَتَّى ذَاقُواْ بَأْسَنَا قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَا إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إَلاَّ تَخْرُصُونَ ﴿148﴾ قُلْ فَلِلّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاء لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ ﴿149﴾ قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاءكُمُ الَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ اللّهَ حَرَّمَ هَذَا فَإِن شَهِدُواْ فَلاَ تَشْهَدْ مَعَهُمْ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاء الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ ﴿150﴾ قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلاَّ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَكُم مِّنْ إمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿151﴾ وَلاَ تَقْرَبُواْ مَالَ الْيَتِيمِ إِلاَّ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَأَوْفُواْ الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ لاَ نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُواْ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى وَبِعَهْدِ اللّهِ أَوْفُواْ ذَلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ﴿152﴾ وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴿153﴾ ثُمَّ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ تَمَامًا عَلَى الَّذِيَ أَحْسَنَ وَتَفْصِيلاً لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُم بِلِقَاء رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ ﴿154﴾ وَهَذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴿155﴾ أَن تَقُولُواْ إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَى طَآئِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ ﴿156﴾ أَوْ تَقُولُواْ لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَى مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُواْ يَصْدِفُونَ ﴿157﴾ هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن تَأْتِيهُمُ الْمَلآئِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لاَ يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا قُلِ انتَظِرُواْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ ﴿158﴾ إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمْ وَكَانُواْ شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَفْعَلُونَ ﴿159﴾ مَن جَاء بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَمَن جَاء بِالسَّيِّئَةِ فَلاَ يُجْزَى إِلاَّ مِثْلَهَا وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ ﴿160﴾ قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿161﴾ قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿162﴾ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ﴿163﴾ قُلْ أَغَيْرَ اللّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَلاَ تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَيْهَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلَى رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ﴿164﴾ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿165﴾۔

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

سب تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں اور روشنی کو بنایا پھر بھی جو کافر ہیں وہ دوسروں کو اپنے پروردگار کے برابر ٹھہراتے ہیں۔ (1) وہ وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر (زندگی کی) ایک مدت مقرر کی اور ایک مقررہ مدت اور بھی ہے جو اسی کے پاس ہے پھر بھی تم شک کرتے ہو۔ (2) اور وہی (ایک) اللہ ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی، جو تمہارے باطن و ظاہر اور جو کچھ تم بھلائی و برائی کرتے ہو سب کو جانتا ہے۔ (3) ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان کے پاس نہیں آتی مگر یہ کہ وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ (4) چنانچہ انہوں نے اس حق (قرآن) کو بھی جھٹلایا جب وہ ان کے پاس آیا۔ سو عنقریب ان باتوں کی خبریں ان کے پاس آجائیں گی جن کا وہ مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ (5) کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنے دوروں کے لوگوں کو ہلاک و برباد کر دیا جنہیں ہم نے زمین میں وہ اقتدار دیا تھا جو تمہیں بھی نہیں دیا ہے اور ہم نے ان پر آسمان سے موسلادھار بارش برسائی۔ اور ہم نے ان کے نیچے نہریں بہائیں (انجامِ کار) ہم نے ان کے گناہوں (اور کفرانِ نعمت) کی پاداش میں ہلاک کر دیا اور ان کے بعد دوسرے دور کی نسلیں پیدا کیں۔ (6) (اے رسول(ص)) اگر ہم کاغذ میں لکھی لکھائی کتاب بھی آپ پر اتارتے جسے یہ اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے۔ جب بھی کافر یہی کہتے کہ یہ نہیں ہے مگر کھلا ہوا جادو۔ (7) اور وہ کہتے ہیں کہ اس (نبی(ص)) پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ حالانکہ اگر ہم (کھلم کھلا) فرشتہ اتارتے تو پھر فیصلہ ہو چکا ہوتا پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی۔ (8) اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو اسے بھی آدمی کی شکل میں اتارتے اور اس طرح گویا ہم انہیں وہ شبہ کرنے کا موقع دیتے جو اب وہ کر رہے ہیں۔ (9) آپ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبروں کا مذاق اڑایا جاتا رہا ہے تو (آخرکار) ان کا مذاق اڑانے والوں کو اسی عذاب نے آکر گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ (10) اے رسول(ص) ان سے کہیے کہ زمین میں چلو پھرو اور پھر دیکھو۔ کہ جھٹلانے والوں کا کیا (بھیانک) انجام ہوا۔ (11) (اے رسول(ص)) ان سے کہیے (پوچھئے) کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ کس کا ہے؟ کہو سب کچھ اللہ ہی کا ہے اس نے مخلوق پر رحمت کرنا اپنے اوپر لازم کر لی ہے (اس لئے جلدی سزا نہیں دیتا) وہ قیامت تک جس میں کوئی شک نہیں ہے تم سب کو اکٹھا کرتا رہے گا (پھر یکجا کرکے لائے گا) جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے اور نقصان میں ڈال دیا ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (12) اور اسی (اللہ تعالیٰ) کا ہے جو کچھ رات اور دن میں سکونت پذیر ہے وہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔ (13) (اے رسول(ص)) کہو کیا میں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا سرپرست بناؤں؟ جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے جو (ساری مخلوق کو) روزی دیتا ہے (کھلاتا ہے) مگر اس کو کوئی روزی نہیں دیتا (اسے کوئی نہیں کھلاتا)۔ کہو۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان (خدا کے سامنے سر تسلیم جھکانے والا) بن کر رہوں اور یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ شرک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔ (14) کہیے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں۔ تو میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ (15) اس دن جس شخص سے عذاب ٹال دیا گیا اس پر اس (خدا) نے بڑا رحم کیا ہے۔ اور یہ بڑی نمایاں کامیابی ہے۔ (16) اگر خدا تمہیں کوئی ضرر و زیاں پہنچانا چاہے تو اس کے پاس اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں ہے۔ اور اگر کوئی بھلائی پہنچانا چاہے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (17) وہ اپنے بندوں پر مکمل اختیار اور قابو رکھنے والا ہے اور وہ بڑا حکمت والا بڑا باخبر ہے۔ (18) (اے رسول(ص)) کہو کہ گواہی میں سب سے بڑھ کر کون سی چیز ہے؟ کہہ دیجیے کہ اللہ! جو میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے۔ اور یہ قرآن بذریعہ وحی میری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعہ سے تمہیں اور جس تک یہ پہنچے سب کو ڈراؤں۔ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہیں؟ کہیے کہ میں تو یہ گواہی نہیں دیتا۔ کہو وہ واحد و یکتا ہے۔ اور میں تمہارے شرک سے بری و بیزار ہوں۔ (19) جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ ان (پیغمبر(ص)) کو اس طرح پہنچاتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہنچاتے ہیں۔ مگر جن لوگوں نے اپنے آپ کو خسارے و نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (20) اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹا بہتان باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ یقینا ظالم لوگ کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔ (21) اور جس دن ہم سب کو (میدانِ حشر میں) اکٹھا کریں گے۔ اور جو لوگ (دنیا میں) شرک کرتے رہے ہیں ان سے کہیں گے کہ کہاں ہیں تمہارے وہ (معبود) جن کو تم خدا کا شریک گمان کرتے تھے۔ (22) اس وقت ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی عذر نہ ہوگا کہ وہ کہیں گے ہمیں اپنے پروردگار اللہ کی قسم کہ ہم مشرک نہ تھے۔ (23) دیکھو وہ کس طرح اپنے ہی برخلاف جھوٹ بولنے لگے؟ اور ان کی وہ تمام افترا پردازیاں گم ہوگئیں جو وہ کیا کرتے تھے۔ (24) اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو آپ کی بات غور سے سنتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اسے سمجھتے نہیں ہیں اور کانوں میں گرانی ڈال دی ہے کہ سنتے نہیں ہیں۔ اور اگر وہ سارے کے سارے معجزے دیکھ لیں جب بھی ان پر ایمان نہیں لائیں گے۔ یہاں تک کہ جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے بھی بحث و تکرار کرتے ہیں اور جو کافر ہیں (اور جنہوں نے بہرحال نہ ماننے کا فیصلہ کر لیا ہے) وہ سب کچھ سن کر بھی کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) نہیں ہے مگر اگلے لوگوں کی (جھوٹی) داستانیں۔ (25) یہ ایسے (ناہنجار) ہیں کہ دوسروں کو بھی اس (پیغمبرِ اسلام یا قرآن) سے روکتے ہیں۔ اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں اور وہ (اپنی اس روش سے کسی اور کو نہیں) اپنے آپ کو تباہ کر رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ (26) اور کاش تم (ان کی وہ حالت) دیکھو جب وہ آتشِ دوزخ پر کھڑے کئے جائیں گے۔ اور وہ کہیں گے کہ کاش ہم واپس (دنیا میں) بھیج دیئے جائیں اور اپنے پروردگار کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں سے ہو جائیں۔ (27) (یہ اسے لئے کہیں گے کہ) ان پر وہ بات واضح و عیاں ہوگئی ہے جسے وہ پہلے چھپایا کرتے تھے (وہ ایسے ناہنجار ہیں کہ) اگر انہیں واپس بھیج دیا جائے تو پھر بھی وہی کریں گے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور یقینا وہ باکل جھوٹے ہیں۔ (28) اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ زندگی تو بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے اور ہم (قبروں سے) دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ (29) اور کاش تم وہ منظر دیکھو جب وہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ ان سے پوچھے گا کیا یہ (قیامت) حق نہیں ہے؟ یہ کہیں گے ہاں حق ہے ہمیں اپنے رب کی قسم فرمائے گا تو اب اپنے کفر و انکار کی وجہ سے عذاب کا مزا چکھو۔ (30) بے شک ان لوگوں نے گھاٹا اٹھایا ہے جنہوں نے اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو جھٹلایا۔ یہاں تک کہ جب اچانک قیامت آجائے گی تو وہ لوگ کہیں گے ہائے افسوس ہم سے اس کے بارے میں کیسی کوتاہی ہوئی؟ اور وہ اپنے (گناہوں کے) بوجھ اپنی پشتوں پر اٹھائے ہوں گے۔ کیا برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائے ہوئے ہیں؟ ۔ (31) اور دنیا کی زندگی نہیں ہے مگر کھیل تماشا اور بے شک آخرت والا گھر پرہیزگاروں کے لئے بہت اچھا ہے کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ (32) ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں وہ بے شک آپ کو رنج پہنچاتی ہیں۔ (لیکن امر واقع یہ ہے کہ) یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم لوگ (دراصل) اللہ کی آیتوں کا انکار کر رہے ہیں۔ (33) بے شک آپ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبروں کو جھٹلایا گیا۔ تو انہوں نے جھٹلائے جانے اور اذیت پہنچائے جانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ہماری مدد ان کے پاس آئی اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں ہے اور پیغمبروں کی کچھ خبریں تو آپ کو پہنچ ہی چکی ہیں۔ (34) اور اگر حق سے ان کی روگردانی کرنا آپ پر بہت گراں ہے تو پھر اگر ہو سکتا ہے تو زمین میں کوئی سرنگ لگا کر یا آسمان میں کوئی سیڑھی لگا کر ان کے پاس کوئی معجزہ لاؤ۔ مگر وہ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے اور اگر اللہ (زبردستی) چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا۔ لہٰذا آپ ناواقف لوگوں میں سے نہ بنیں۔ (35) دعوتِ حق صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور جو مردے ہیں ان کو بس اللہ ہی (قیامت کے دن) اٹھائے گا پھر وہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (36) اور وہ کفار کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی معجزہ کیوں نازل نہیں ہوتا؟ کہہ دیجیے کہ بے شک اللہ تو کوئی بھی معجزہ نازل کرنے پر قادر ہے لیکن ان میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں۔ (37) کوئی زمین میں چلنے والا جانور اور اپنے دونوں پروں سے اڑنے والا پرندہ نہیں ہے مگر تمہاری ہی طرح مختلف اقسام اور گروہ ہیں ہم نے کتاب میں کوئی کمی و کوتاہی نہیں کی ہے پھر وہ سب کے سب اپنے رب کے پاس محشور (جمع) کئے جائیں گے۔ (38) بہرے اور گونگے ہیں جوکہ طرح طرح کے اندھیروں میں پڑے ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے اسے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے راستے پر لگا دیتا ہے۔ (39) اے رسول(ص) کہو کہ تم غور کرکے بتاؤ کہ اگر تمہارے پاس اللہ کا عذاب آجائے یا (اچانک) قیامت آجائے تو اللہ کے سوا کسی اور کو پکاروگے؟ بتاؤ اگر سچے ہو۔ (40) بلکہ اسی کو ہی پکاروگے اور اگر وہ چاہے گا تو (مصیبت) کو دور کر دے گا جس کے لئے تم نے اسے پکارا ہے اور تم انہیں بھول جاؤگے جن کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ (41) بلکہ اے رسول(ص) بے شک ہم نے آپ سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے اور ان کی نافرمانی پر پہلے تو ہم نے ان کو تنگدستی اور تکلیف میں مبتلا کیا۔ تاکہ تضرع و زاری کریں۔ (42) جب ان کے پاس ہماری طرف سے سختی آئی تو آخر انہوں نے تضرع و زاری کیوں نہ کی؟ لیکن ان کے دل تو اور بھی سخت ہوگئے اور شیطان نے (ان کی نظروں میں) ان کاموں کو جو وہ کرتے تھے آراستہ کرکے پیش کیا۔ (43) اور جب انہوں نے اس نصیحت کو بھلا دیا جو انہیں کی گئی تھی تو ہم نے (ابتلا و امتحان کے طور پر) ان کے لئے ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ وہ عطا کردہ چیزوں (نعمتوں) سے خوب خوش ہوگئے اور اترانے لگے تو ہم نے اچانک انہیں پکڑ لیا۔ تو وہ ایک دم مایوس ہوگئے۔ (44) پس ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی (ان کی نسل قطع ہوگئی) اور سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ (45) اے رسول کہیے غور کرکے بتاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں لے لے (یعنی قوت شنوائی اور بینائی چھین لے) اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو اللہ کے سوا اور کون خدا ہے جو تمہیں یہ چیزیں لا دے؟ دیکھئے ہم کس طرح الٹ پلٹ کر اپنی توحید کی نشانیاں واضح کرتے ہیں پھر بھی وہ روگردانی کرتے ہیں۔ (46) کہیے ذرا غور کرکے بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب اچانک یا علانیہ آجائے تو ظالم لوگوں کے سوا اور کون ہلاک و برباد ہوگا؟ (47) اور ہم پیغمبروں کو نہیں بھیجتے مگر نیکوکاروں کو خوشخبری دینے والا اور بدکاروں کو ڈرانے والا بنا کر جو ایمان لے آئیں اور اپنی اصلاح کر لیں نیک عمل کریں۔ تو نہ ان کے لئے کوئی خوف ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔ (48) اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے عذاب پہنچے گا۔ (49) اے رسول کہہ دیجیے میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھے کی جاتی ہے آپ کہیے! کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہے؟ تم غور و فکر کیوں نہیں کرتے؟ (50) اور آپ اس (وحی شدہ قرآن) کے ذریعہ سے ان لوگوں کو ڈرائیں۔ جنہیں خوف (اندیشہ) ہے کہ وہ اپنے پروردگار کی طرف محشور ہوں گے کہ اس (اللہ) کے سوا ان کا نہ کوئی سرپرست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی شاید کہ وہ متقی و پرہیزگار بن جائیں۔ (51) (اے رسول(ص)) ان لوگوں کو اپنے پاس سے نہ دھتکارو۔ جو اپنے پروردگار کی رضا جوئی کی خاطر صبح و شام اسے پکارتے ہیں۔ ان کا کچھ بھی حساب کتاب آپ کے ذمہ نہیں ہے اور نہ ہی آپ کا کچھ بھی حساب کتاب ان کے ذمہ ہے اور اگر آپ نے پھر بھی انہیں دھتکار دیا تو آپ بے انصافی کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ (52) اس طرح ہم نے بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈال رکھا ہے تاکہ وہ کہیں کہ کیا یہی وہ ہیں جن کو ہم میں سے اللہ نے اپنے (خاص) احسان سے نوازا ہے؟ کیا اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو (ان سے) زیادہ نہیں جانتا ہے؟ (53) اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے ہیں تو ان سے کہو سلامٌ علیکم (تم پر سلامتی ہو)۔ تمہارے پروردگار نے اپنے اوپر رحمت لازم قرار دی ہے (لہٰذا) اگر تم میں سے کوئی شخص جہالت و نادانی کی وجہ سے کوئی برائی کرے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور اپنی اصلاح کرلے تو بےشک وہ (اللہ) بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (54) اور اسی طرح ہم اپنی آیتوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں تاکہ مجرموں کا راستہ بالکل واضح ہو جائے۔ (55) اے رسول(ص) کہہ دیجیے! کہ مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان (معبودانِ باطل) کی عبادت کروں جن کو تم اللہ کے سوا خدا کہہ کر پکارتے ہو میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا۔ اس صورت میں تو میں گمراہ ہو جاؤں گا۔ اور ہدایت یافتہ لوگوں سے نہ رہوں گا۔ (56) کہہ دیجیے! کہ میں اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر قائم ہوں۔ اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے جس (عذاب) کی تم جلدی کرتے ہو وہ میرے پاس نہیں ہے فیصلہ کرنے کا اختیار اللہ کے پاس ہے وہ حق بیان کرتا ہے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ (57) کہہ دیجیے! کہ جس عذاب کے لئے تم جلدی کرتے ہو اگر وہ میرے پاس ہوتا تو میرے اور تمہارے درمیان کب کا فیصلہ ہو چکا ہوتا۔ اور اللہ ظالموں کو زیادہ بہتر جانتا ہے۔ (58) اور اس (اللہ) کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، جنہیں اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اور وہ اسے بھی جانتا ہے جو خشکی میں ہے۔ اور اسے بھی جانتا ہے جو تری میں ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے۔ اور زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ نہیں ہے اور نہ کوئی تر ہے اور نہ کوئی خشک ہے مگر یہ کہ وہ کتابِ مبین میں موجود ہے۔ (59) وہی (اللہ) ہے جو رات کے وقت تمہاری روحیں قبض کر لیتا ہے۔ اور تم دن میں جو کچھ کرتے ہو اسے جانتا ہے پھر تمہیں اس (دن) میں اٹھاتا ہے۔ تاکہ (زندگی کی) مقررہ مدت پوری ہو پھر تمہاری بازگشت اسی کی طرف ہے پھر وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ (بھلا یا برا) تم کرتے تھے۔ (60) اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے (اور پوری قدرت رکھتا ہے) اور وہ تم پر حفاظت (نگرانی) کرنے والے (فرشتے) بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوتاہی نہیں کرتے۔ (61) پھر وہ اللہ کے پاس جو ان کا حقیقی مالک ہے لوٹائے جاتے ہیں۔ خبردار فیصلہ کرنے کا اختیار اسی کو حاصل ہے اور وہ سب سے زیادہ جلدی حساب لینے والا ہے۔ (62) (اے رسول(ص)) کہیے کہ تمہیں صحرا و سمندر کے اندھیروں سے (مصیبتوں سے) کون نجات دیتا ہے؟ جب تم اسے گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارتے ہو۔ (اور دل میں کہتے ہو) کہ اگر وہ ہمیں ان (خطرات) سے نجات دے دے تو ہم شکر گزاروں میں سے ہوں گے۔ (63) (اے رسول(ص)) کہیئے اللہ تمہیں ان سے اور ہر رنج و غم سے نجات دیتا ہے پھر بھی تم شرک کرتے ہو۔ (64) کہہ دو وہ (اللہ) اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب نازل کرے تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے (بھیج دے)۔ یا تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کرکے اور باہم خلط ملط کرکے ٹکرا دے اور تم میں سے بعض کو بعض کی طاقت و سختی کا مزا چکھا دے۔ دیکھیے ہم کس طرح الٹ پھیر کرکے اپنی آیات (دلیلوں) اور نشانیوں کو بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھ جائیں۔ (65) اور آپ کی قوم نے اس (قرآن) کو جھٹلایا حالانکہ وہ حق ہے کہہ دیجیے کہ میں تمہارا وکیل (نگہبان) نہیں ہوں۔ (66) اور ہر خبر (کے وقوع) کا ایک وقت مقرر ہے۔ اور عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔ (67) اور جب دیکھو کہ لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں نکتہ چینی اور بے ہودہ بحث کر رہے ہیں تو تم ان سے کنارہ کش ہو جاؤ۔ یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہو جائیں اور (اے مخاطب) اگر کبھی شیطان تجھے بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے پاس مت بیٹھ۔ (68) ان (غلط کار لوگوں) کے حساب و کتاب کی ذمہ داری پرہیزگار لوگوں پر نہیں ہے (جو ان برے کاموں سے بچتے رہتے ہیں) ہاں البتہ (ان کے ذمہ صرف) نصیحت کرنا ہے تاکہ وہ (برے لوگ) پرہیزگاری اختیار کریں۔ (69) چھوڑو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین و مذہب کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکہ و فریب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اور ان کو اس (قرآن) کے ذریعہ سے نصیحت کرو۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص اپنے کئے کے وبال میں پھنس جائے حالانکہ اللہ کے سوا اس کا نہ کوئی سرپرست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی۔ اور اگر وہ اپنے چھٹکارے کے لیے معاوضہ دینا چاہے گا تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے کرتوتوں کے وبال میں پھنسے ہوئے ہیں ان کے کفر کی وجہ سے ان کے پینے کے لیے کھولتا ہوا گرم پانی ہوگا اور دردناک عذاب۔ (70) کہیے! کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان اور بعد اس کے کہ خدا ہم کو سیدھا راستہ دکھا چکا ہے ہم الٹے پاؤں پھر جائیں اس شخص کی طرح جسے شیطانوں (بھوتوں پریوں) نے (کہیں) زمین میں بے راہ اور سرگردان کر دیا جبکہ اس کے کچھ ساتھی اسے سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہوں کہ ہماری طرف آؤ مگر اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا کہو ہدایت و راہنمائی تو بس اللہ کی ہدایت و راہنمائی ہے۔ اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم تمام جہانوں کے پروردگار کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں۔ (71) اور (ہم سے کہا گیا ہے کہ) نماز ادا کرو۔ اور اس سے (اس کی نافرمانی سے) ڈرو اور وہی وہ ہے جس کی بارگاہ میں تم محشور ہوگے۔ (72) وہی تو وہ (خدا) ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا۔ جس دن وہ کہے گا کہ ہوجا بس وہ ہو جائے گا۔ اس کا قول حق اور سچ ہے اسی کی حکومت ہوگی جس دن صور پھونکا جائے گا وہ غیب اور حاضر سب کا جاننے والا ہے اور وہ بڑا حکمت والا، بڑا باخبر ہے۔ (73) (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم (ع) نے اپنے باپ (یعنی چچا) آزر سے کہا۔ کیا تم بتوں کو خدا بناتے ہو؟ میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی ہوئی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔ (74) اور اسی طرح ہم ابراہیم(ع) کو آسمانوں اور زمین کی سلطنت دکھا رہے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔ (75) چنانچہ جب ان (ابراہیم) پر رات کی تاریکی چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ کو دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے؟ تو جب وہ ڈوب گیا تو کہا۔ میں ڈوب جانے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ (76) اور جب چاند کو چمکتے ہوئے دیکھا تو کہا یہ میرا پروردگار ہے؟ لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا۔ تو کہا کہ اگر میرا پروردگار میری ہدایت و راہنمائی نہ کرتا رہا تو میں گمراہ لوگوں میں سے ہو جاؤں گا۔ (77) پھر جب سورج کو چمکتے دیکھا تو کہا یہ میرا پروردگار ہے؟ یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہا اے میری قوم! میں اس شرک سے بری و بیزار ہوں جو تم کرتے ہو۔ (78) میں ہر طرف سے ہٹ کر اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ (79) اور ان کی قوم ان سے بحث کرنے لگی۔ فرمایا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں بحث کرتے ہو؟ حالانکہ وہ مجھے ہدایت دے چکا ہے اور میں ان سے نہیں ڈرتا جنہیں تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار کوئی بات چاہے میرا پروردگار علم کے اعتبار سے ہر چیز پر حاوی اور محیط ہے کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے؟ (80) اور میں بھلا ان سے کس طرح ڈروں جن کو تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو۔ جب کہ تم اس سے نہیں ڈرتے کہ تم نے ایسی چیزوں کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے۔ جن کے متعلق اس نے تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں بھیجی ہے۔ سو دونوں گروہوں میں سے کون امن و اطمینان کا زیادہ حقدار ہے (بتاؤ) اگر تم کچھ علم رکھتے ہو؟ (81) جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہیں کیا انہی کے لئے امن و امان ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔ (82) یہ تھی ہماری وہ دلیل جو ہم نے ابراہیم (ع) کو ان کی قوم کے مقابلہ میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں آپ کا پروردگار بڑا حکمت والا، بڑا جاننے والا ہے۔ (83) اور ہم نے انہیں اسحاق جیسا (بیٹا) اور یعقوب (جیسا پوتا) عطا فرمایا۔ ہر ایک کو ہم نے ہدایت دی اور ان سے پہلے نوح کو ہدایت دی۔ اور ان (نوح یا ابراہیم) کی اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ، ہارون کو (بھی ہدایت دی) اور اسی طرح ہم نیکوکاروں کو جزا دیا کرتے ہیں۔ (84) اور زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس کو (بھی ہم نے ہدایت دی) جو سب صالحین میں سے تھے۔ (85) اور اسماعیل، یسع، یونس اور لوط کو (بھی ہدایت دی) اور ان سب کو ہم نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ (86) اور ان کے آباء و اجداد اور اولاد اور بھائیوں میں سے بھی (کچھ کو ہدایت دی) اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور سیدھے راستے کی ہدایت دی۔ (87) یہ اللہ کی خاص ہدایت ہے جس کے ذریعے سے وہ بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے راہنمائی کرتا ہے اور اگر انہوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کے وہ سب عمل برباد ہو جاتے جو وہ کیا کرتے تھے۔ (88) یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب کا حکم اور نبوت عطا کی اب اگر یہ (مکہ والے) لوگ ان چیزوں کا انکار کرتے ہیں تو کوئی پروا نہیں ہے ہم نے ان چیزوں کا ذمہ دار ان لوگوں کو بنایا ہے جو انکار کرنے والے نہیں ہیں۔ (89) یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے سو آپ بھی ان کے راستہ اور طریقہ پر چلیں۔ کہہ دیجئے کہ میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا وہ (قرآن) تو تمام عالمین کے لئے نصیحت ہے۔ (90) ان لوگوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جس طرح قدر کرنے کا حق تھا۔ جب انہوں نے یہ کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی ان سے کہیے کہ وہ کتاب کس نے نازل کی تھی جسے موسیٰ لے کر آئے تھے؟ جو لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت (کا ذریعہ) تھی؟ جسے تم نے ورق ورق کر رکھا ہے۔ اس کا کچھ حصہ تو تم ظاہر کرتے ہو (مگر) بہت سا حصہ چھپاتے ہو۔ حالانکہ تمہیں وہ باتیں سکھائی گئیں ہیں جو نہ تمہیں معلوم تھیں اور نہ تمہارے باپ دادا کو کہیے اللہ نے (وہ کتاب نازل کی تھی)۔ پھر ان کو چھوڑ دیجیے کہ وہ اپنی بے ہودہ نکتہ چینی میں کھیلتے رہیں۔ (91) اور یہ وہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے جو اپنے سے پہلے والی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے (اس لئے نازل کی ہے) کہ تم مکہ اور اس کے اطراف و جوانب والے لوگوں کو ڈراؤ۔ اور جو لوگ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں (اسے برحق) مانتے ہیں وہ اس (قرآن) پر بھی ایمان لاتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں پر پابندی کرتے ہیں۔ (92) اور اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو خدا پر جھوٹا بہتان باندھے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے حالانکہ اس پر کوئی وحی نہ کی گئی ہو اور (اس سے بڑا ظالم کون ہے) جو کہے کہ جیسا کلام اللہ نے نازل کیا ہے ایسا میں بھی نازل کروں گا۔ (یعنی نازل کر سکتا ہوں) اے کاش! تم وہ منظر دیکھو جب کہ ظالم لوگ موت کے سکرات (سختیوں) میں ہوں گے اور موت والے فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں گے (اور کہیں گے) اپنی روحوں کو ان (سکرات) سے نکالو۔ آج تمہیں ذلت آمیز عذاب کیا جائے گا تمہارے خدا کے بارے میں غلط باتیں کرنے اور اس کی آیتوں کے مقابلہ میں تکبر کرنے کی پاداش میں۔ (93) اور تم اسی طرح ہماری بارگاہ میں تن تنہا آئے ہو جس طرح ہم نے پہلی بار تمہیں پیدا کیا تھا۔ اور اپنے پیچھے چھوڑ آئے جو کچھ ساز و سامان ہم نے تمہیں عطا کیا تھا۔ اور (آج) ہم تمہارے ساتھ وہ سفارشی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم گمان کرتے تھے کہ وہ تمہارے معاملہ میں ہمارے شریک ہیں؟ (آج) تمہارے باہمی تعلقات منقطع ہوگئے اور جو تمہارا گمان فاسد تھا وہ غائب ہوگیا۔ (94) بے شک اللہ ہی ہے جو دانہ اور گھٹلی کو شگافتہ کرنے والا ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے یہ ہے اللہ تم کدھر بہکے جاتے ہو؟ (95) وہ (رات کے اندھیرے سے) صبح کا برآمد کرنے والا ہے۔ اور اسی نے رات کو سکون و راحت کے لئے بنایا اور سورج و چاند کو (ماہ و سال کے) حساب کے لئے بنایا۔ یہ غالب اور بڑے علم والے (خدا) کا مقرر کردہ نظام ہے۔ (96) اور وہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ تم ان کے ذریعہ سے خشکی اور تری کے اندھیروں میں راہنمائی حاصل کرو۔ بے شک ہم نے علم رکھنے والوں کے لئے دلائل کھول کر بیان کر دیے ہیں۔ (97) اور وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے تم (سب) کو ایک شخص (آدم(ع)) سے پیدا کیا ہے پھر ہر ایک کے لیے ایک قرارگاہ ہے (باپ کی پشت) اور ایک سونپے جانے کا مقام ہے (رحم مادر) اور ہم نے سمجھ بوجھ رکھنے والوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانیاں تفصیل سے بیان کر دی ہیں۔ (98) وہ وہی تو ہے جس نے آسمان کی (بلندی) سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے ہر قسم کے نباتات اگائے پھر اس سے ہری بھری شاخیں نکالیں کہ ہم اس سے تہہ بہ تہہ (گھتے ہوئے) دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے درختوں سے یعنی ان کے شگوفوں سے گچھے نکالتے ہیں جو زمین کی طرف جھکے ہوئے ہیں اور ہم نے انگور، زیتون اور انار کے باغات پیدا کئے جو باہم مشابہ بھی ہیں اور غیر مشابہ بھی اور اس کے پھل کو دیکھو جب وہ پھلتا ہے اور اس کے (پکنے کی کیفیت) کو دیکھو اور بے شک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے (اللہ کی توحید و قدرت کی) نشانیاں ہیں۔ (99) اور ان لوگوں نے جنات کو اللہ کا شریک بنایا ہے حالانکہ اس نے انہیں پیدا کیا ہے اور انہوں نے اس کے لئے جہالت کی وجہ سے بیٹے اور بیٹیاں تراش کر رکھی ہیں۔ وہ پاک ہے اور برتر ہے اس سے جو وہ اس کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔ (100) وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اس کے لئے اولاد کیونکر ہو سکتی ہے حالانکہ اس کی کوئی بیوی ہی نہیں ہے۔ اور اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔ (101) یہ ہے اللہ جو تمہارا پروردگار ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے وہی ہر چیز کا خالق ہے لہٰذا اسی کی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیز کا وکیل و کفیل ہے۔ (102) نگاہیں اسے نہیں پا سکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے اور وہ لطیف (جسم و جسمانیات سے مبرا ہے) اور خبیر (بڑا باخبر) ہے۔ (103) تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے بصیرتیں (روشن دلیلیں) آچکیں اب جو بصیرت سے کام لے گا وہ اپنا فائدہ کرے گا۔ اور جو اندھا بنا رہے گا وہ اپنا نقصان کرے گا۔ اور میں تمہارے اوپر نگران نہیں ہوں۔ (104) اور ہم اپنی آیتیں یونہی الٹ پھیر کر بیان کرتے ہیں اور اس لئے کرتے ہیں کہ یہ لوگ کہیں کہ آپ نے (کسی سے) پڑھا ہے اور تاکہ ہم اسے علم رکھنے والوں کے لئے واضح کر دیں۔ (105) آپ اس وحی کی پیروی کریں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ کو کی جاتی ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ اور مشرکوں سے بےتوجہی اختیار کریں۔ (106) اور اگر خدا (زبردستی) چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو ان پر نگہبان مقرر نہیں کیا اور نہ ہی آپ ان کے ذمہ دار ہیں۔ (107) اور (خبردار) تم ان کو گالیاں نہ دو جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ورنہ یہ لوگ اپنی جہالت و ناسمجھی کی بنا پر حد سے گزر کر اللہ کو گالیاں دیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے عمل کو (اس کی نظروں میں) آراستہ کیا ہے۔ پھر ان کی بازگشت ان کے پروردگار کی طرف ہے پھر وہ انہیں بتائے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔ (108) اور انہوں نے اللہ کے نام کی بڑی سخت قسمیں کھائی ہیں کہ اگر ان کی مرضی کے مطابق کوئی معجزہ ان کے پاس آجائے تو وہ ضرور ایمان لائیں گے۔ کہہ دیجیے کہ معجزہ تو بس اللہ ہی کے پاس ہے جب کوئی ایسا معجزہ آبھی جائے گا تو یہ جب بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ (109) (تمہیں کیا خبر کہ) ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پھیر دیں گے (تہہ و بالا کر دیں گے) لہٰذا جس طرح وہ اس قرآن پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے تھے اب بھی نہیں لائیں گے اور ہم انہیں چھوڑ دیں گے تاکہ یہ اپنی سرکشی میں اندھے بنے پھرتے رہیں۔ (110) اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے بھی نازل کر دیں اور ان سے مردے بھی کلام کریں اور خواہ ہم ہر چیز کو ان کے سامنے لاکھڑا کر دیں تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں مگر یہ کہ اللہ (اپنی قدرتِ قاہرہ سے) چاہے۔ لیکن اکثر لوگ جاہل ہیں۔ (111) اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے شیطانوں کو دشمن قرار دیا ہے جو ایک دوسرے کو دھوکہ و فریب دینے کے لیے بناوٹی باتوں کی سرگوشی کرتے ہیں اور اگر آپ کا پروردگار (زبردستی) چاہتا، تو یہ ایسا نہ کرتے پس آپ انہیں اور جو کچھ وہ افترا کر رہے ہیں اسے چھوڑ دیں۔ (112) تاکہ ان (بناوٹی باتوں) کی طرف ان لوگوں کے دل مائل ہوں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور تاکہ وہ اسے پسند کریں اور تاکہ وہ ان (برائیوں) کا ارتکاب کریں جن کے یہ مرتکب ہو رہے ہیں۔ (113) کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو فیصل اور منصف تلاش کروں؟ حالانکہ وہ وہی ہے جس نے تمہاری طرف مفصل اور واضح کتاب نازل کی ہے۔ اور ہم نے جن کو (آسمانی) کتاب دی وہ (اہل کتاب) جانتے ہیں کہ یہ (قرآن) آپ کے پروردگار کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوا ہے پس آپ ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔ (114) اور آپ کے پروردگار کی بات صدق و سچائی اور عدل و انصاف کے لحاظ سے مکمل ہے اور اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں ہے اور وہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔ (115) (اے رسول(ص)) اگر آپ زمین کے رہنے والوں کی اکثریت کی اطاعت کریں گے (ان کا کہنا مانیں گے) تو وہ آپ کو اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے یہ لوگ پیروی نہیں کرتے مگر گمان کی اور وہ محض تخمینے لگاتے اور اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں۔ (116) بے شک آپ کا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی راہ سے بھٹکا ہوا کون ہے؟ اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت یافتہ لوگوں کو۔ (117) پس جس (ذبیحہ) پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اس میں سے کھاؤ۔ اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو۔ (118) اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اس (ذبیحہ) میں سے نہیں کھاتے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے؟ حالانکہ اس نے جن (جانوروں) کو تم پر حرام قرار دیا ہے ان کو تمہارے لئے تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ سوائے اس کے جس کے کھانے کی طرف تم مضطر و مجبور ہو جاؤ (تو پھر حرام بھی کھا سکتے ہو) اور یقیناً بہت سے لوگ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کرتے ہیں بے شک آپ کا پروردگار حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔ (119) اور (اے لوگو) تمام گناہوں کو چھوڑ دو خواہ علانیہ ہوں اور خواہ خفیہ بے شک جو لوگ گناہ کما (کر) رہے ہیں عنقریب ان کو بدلہ دیا جائے گا اس کا جس کا وہ ارتکاب کرتے ہیں۔ (120) اور اس (جانور) کو نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ کہ یہ (کھانا) فسق (نافرمانی) ہے اور بے شک شیطان اپنے دوستوں کو خفیہ اشارے کرتے ہیں (پٹی پڑھاتے ہیں) تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم نے ان کی اطاعت کر لی (ان کا کہنا مانا) تو یقینا تم مشرک ہو جاؤ گے۔ (121) اور کیا وہ شخص جو (پہلے) مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لئے ایک نور بنایا جس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہے اور ان سے نکل نہیں سکتا۔ جس طرح مؤمن کی نگاہ میں ایمان آراستہ کیا گیا ہے اسی طرح کافروں کی نگاہ میں ان کے اعمال آراستہ کر دیئے گئے ہیں۔ (122) اور (جس طرح ہم نے مکہ کے فاسقوں کو بڑا بنایا) اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے مجرمین کو بڑا سردار بنایا ہے تاکہ وہ وہاں مکر و فریب کیا کریں حالانکہ وہ فریب نہیں دیتے مگر اپنے آپ کو لیکن انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ (123) اور جب ان کے پاس کوئی معجزہ آتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس وقت تک ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم کو بھی وہی نہ دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کہاں رکھے؟ (اس کا اہل کون ہے؟) عنقریب مجرموں کو اللہ کے یہاں ذلت نصیب ہوگی اور سخت عذاب بھی ہوگا ان کی ان مکاریوں کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے۔ (124) پس جب اللہ کسی کو ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے سینہ کو اسلام کیلئے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہی میں چھوڑنا چاہتا ہے تو اس کے سینہ کو تنگ کر دیتا ہے جیسے کہ وہ زبردستی آسمان پر چڑھ رہا ہے (اس کی طرف اونچا ہو رہا ہے) اسی طرح اللہ ان لوگوں پر کثافت مسلط کر دیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ (125) یہ تمہارے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے۔ ہم نے نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے آیتوں کو تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ (126) ان کیلئے سلامتی کا گھر ہے ان کے پروردگار کے ہاں اور ان کے اچھے اعمال کی وجہ سے جو وہ کرتے ہیں اللہ ان کا سرپرست ہے۔ (127) اور (وہ دن یاد کرو) جس دن وہ (اللہ) سب (جن و انس) کو محشر میں جمع کرے گا (اور جنات سے خطاب کرکے فرمائے گا) کہ اے گروہِ جن! تم نے بہت انسانوں کو گمراہ کیا (اس وقت) وہ آدمی جو ان (جنات) کے دوست و رفیق ہوں گے کہیں گے اے ہمارے پروردگار! ہم سب نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا اور اب ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے ہیں جو تو نے ہمارے لئے مقرر کی تھی۔ اللہ فرمائے گا اب تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے جس میں تم ہمیشہ رہوگے۔ سوائے اس کے جسے اللہ (بچانا) چاہے گا۔ بے شک تمہارا پروردگار حکیم و علیم ہے (بڑی حکمت اور بڑے علم والا ہے)۔ (128) اور اسی طرح ہم بعض ظالموں کو ان کے اعمال (کرتوتوں) کی وجہ سے بعض کا سرپرست بناتے ہیں (یا ایک دوسرے پر مسلط کرتے ہیں)۔ (129) اے گروہِ جن و انس! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے (میرے) کچھ رسول نہیں آئے تھے جو تمہیں میری آیتیں سناتے تھے۔ اور تمہیں اس دن کی پیشی سے ڈراتے تھے؟ وہ جواب میں کہیں گے کہ ہم اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں ان کو دنیوی زندگی نے دھوکہ میں مبتلا کر دیا تھا اور اب وہ اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ بے شک کافر تھے۔ (130) یہ (رسولوں کا بھیجنا) اس لئے ہے کہ تمہارا پروردگار بستیوں کو ظلم و جور سے ہلاک نہیں کرتا۔ جبکہ ان کے رہنے والے بے خبر ہوں۔ (131) اور ہر ایک کے لیے اس کے عمل کے مطابق درجے ہیں۔ اور جو کچھ لوگ کرتے رہتے ہیں آپ کا پروردگار اس سے غافل نہیں ہے۔ (132) آپ کا پروردگار بے نیاز ہے، رحمت والا ہے، وہ اگر چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور تمہاری جگہ تمہارے بعد جن کو چاہے لے آئے جس طرح اس نے تمہیں پیدا کیا اور لوگوں کی نسل سے۔ (133) بے شک جو کچھ تم سے وعدہ وعید کیا گیا ہے وہ بے شک آکر رہے گا۔ اور تم (خدا کو) عاجز نہیں کر سکتے۔ (134) (اے رسول(ص)) کہہ دیجئے! اے میری قوم تم اپنے مرتبہ و مقام کے مطابق عمل کرتے رہو میں بھی اپنے مرتبہ کے مطابق عمل کر رہا ہوں عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجامِ کار کس کے حق میں بہتر ہے جو ظالم ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔ (135) ان لوگوں نے اللہ کے لیے اسی کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مویشیوں میں ایک حصہ مقرر کر رکھا ہے اور اپنے خیال کے مطابق کہتے ہیں کہ یہ حصہ اللہ کا ہے اور یہ ہمارے شریکوں (دیوتاؤں) کا ہے۔ جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا اور جو حصہ اللہ کا ہے وہ ان کے شریکوں تک پہنچ جاتا ہے یہ لوگ کیا ہی برا فیصلہ کرتے ہیں۔ (136) اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے ان کی اولاد کے قتل کرنے کو خوشنما بنا رکھا ہے تاکہ (انجامِ کار) انہیں تباہ کریں اور ان کے دین و مذہب کو ان پر مشتبہ کریں اگر اللہ (اپنی قدرتِ قاہرہ سے) چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے لہٰذا انہیں چھوڑیے اور ان کی افترا پردازیوں کو۔ (تاکہ وہ ان میں لگے رہیں) (137) اور وہ اپنی خام خیالی سے کہتے ہیں کہ یہ چوپائے اور کھیت ممنوع ہیں انہیں کوئی نہیں کھا سکتا مگر وہ جسے ہم چاہیں اور جو کچھ چوپائے ہیں جن کی پشت پر سواری اور باربرداری کو حرام قرار دے دیا گیا ہے اور کچھ چوپائے ایسے ہیں جن پر وہ اللہ کا نام نہیں لیتے اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افترا پردازی کرتے ہوئے کیا ہے عنقریب اللہ انہیں ان کی افترا پردازی کا بدلہ دے گا۔ (138) اور وہ کہتے ہیں کہ جو ان چوپاؤں کے پیٹ میں ہے وہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے اور اگر وہ مردار ہوں تو وہ سب اس میں شریک ہیں عنقریب اللہ ان کو اس بات بنانے کا بدلہ دے گا۔ (139) یقینا وہ لوگ بڑے گھاٹے میں ہیں جنہوں نے علم کے بغیر محض جہالت اور حماقت کی وجہ سے اپنی اولاد کو قتل کیا۔ اور اللہ پر افترا پردازی کرکے اللہ کے دیے ہوئے رزق کو حرام قرار دیا بے شک وہ گمراہ ہوئے اور ہدایت یافتہ اور راہ یاب نہیں ہیں۔ (140) اور وہ (اللہ) وہی ہے۔ جس نے طرح طرح کے باغات پیدا کیے (ٹیٹوں پر) چڑھائے ہوئے بھی اور بغیر چڑھائے ہوئے بھی اور کھجور کے درخت اور طرح طرح کی کھیتی جس کے مزے مختلف ہیں اور زیتون اور انار جو مشابہ بھی ہیں اور غیر مشابہ بھی اس کے پھلوں میں سے کھاؤ جب وہ پھلیں اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو اور اسراف مت کرو کیونکہ وہ (خدا) اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (141) اور اللہ وہی ہے جس نے چوپاؤں میں سے کچھ ایسے پیدا کیے ہیں جن سے سواری اور باربرداری کا کام لیا جاتا ہے اور کچھ وہ ہیں جو (کھانے اور) بچھانے کے کام آتے ہیں جو کچھ اللہ نے تمہیں روزی عطا کی ہے اس سے کھاؤ اور شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو کیونکہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ (142) (خدا نے) آٹھ قسم کے جوڑے پیدا کیے ہیں دو قسمیں بھیڑ سے اور دو قسمیں بکری سے آپ کہیے کہ آیا اس نے ان دونوں قسم کے نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں قسم کے ماداؤں کو؟ یا جو دونوں، ماداؤں کے پیٹ میں ہے؟ مجھے علم کی بنیاد پر بتاؤ۔ اگر تم سچے ہو۔ (143) اور اس طرح دو قسمیں اونٹ سے اور دو قسمیں گائے سے۔ کہو اس (اللہ) نے دونوں قسموں کے نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں قسم کی ماداؤں کو؟ یا جو دونوں ماداؤں کے پیٹ میں ہے؟ کیا تم اس وقت موجود تھے جب اللہ نے تمہیں اس بات کا حکم دیا تھا؟ تو اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹا الزام لگائے تاکہ کسی علم کے بغیر لوگوں کو گمراہ کرے بے شک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا (اسے منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا)۔ (144) کہہ دیجئے جو وحی میرے پاس آئی ہے میں اس میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کھانے والے پر حرام ہو سوا اس کے کہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون ہو یا سور کا گوشت ہو یہ سب رجس اور گندگی ہے یا پھر فسق ہو (نافرمانی کا ذریعہ ہو یعنی) جو اللہ کے سوا کسی اور نام پر ذبح کیا گیا ہو (یا غیر اللہ کے لیے نامزد کیا گیا ہو) ہاں البتہ اگر کوئی مجبور ہو جائے جبکہ وہ نہ باغی و سرکش ہو اور نہ ہی حد سے تجاوز کرنے والا ہو تو یقینا تمہارا پروردگار بڑا بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (145) اور جو لوگ یہودی ہوئے ہم نے ان پر تمام کھر والے جانور حرام کر دیئے تھے۔ اور گائے بیل اور بھیڑ بکری کی چربی بھی حرام کر دی۔ سوا اس کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی آنتڑیوں سے لگی ہوئی یا ہڈی سے ملی ہوئی ہو ہم نے ان کو بغاوت و سرکشی کی سزا دی تھی اور یقینا ہم بالکل سچے ہیں۔ (146) سو اگر یہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ کہہ دیجئے! کہ آپ کا پروردگار بڑی وسیع رحمت والا ہے اور مجرموں سے اس کا عذاب ٹالا نہیں جا سکتا۔ (147) عنقریب مشرک لوگ کہیں گے کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہی ہم کسی چیز کو حرام قرار دیتے اسی طرح ان لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا۔ آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے پاس کوئی علمی دلیل ہے تو اسے ہمارے سامنے ظاہر کرو۔ تم تو محض گمان کی پیروی کر رہے ہو اور صرف اٹکل پچو باتیں کرتے ہو۔ (148) کہہ دیجئے! کہ اللہ کی دلیل زبردست ہے۔ اگر اللہ (اپنی مشیت قاہرہ سے) چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔ (149) کہہ دیجئے! لاؤ اپنے ان گواہوں کو جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ نے اس کو حرام کیا ہے؟ اور اگر وہ (جھوٹی) گواہی دے بھی دیں تو آپ نہ ان کے ساتھ گواہی دیجئے اور نہ ہی ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کیجئے۔ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے۔ اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ اپنے پروردگار کے برابر دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔ (150) (اے رسول) ان سے کہو۔ آؤ میں تمہیں سناؤں وہ چیزیں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کی ہیں: (۱) یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ (۲) اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ (۳) اور اپنی اولاد کو فقر و فاقہ کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ ہم تمہیں بھی روزی دیتے ہیں اور انہیں بھی (دیں گے)۔ (۴) اور بے شرمی و بے حیائی کے کاموں (جیسے جنسی غلط کاری) کے قریب بھی نہ جاؤ۔ خواہ وہ علانیہ ہوں اور خواہ پوشیدہ۔ (۵) اور نہ قتل کرو کسی ایسی جان کو جس کے قتل کو خدا نے حرام قرار دیا ہے مگر (شرعی) حق (جیسے قصاص وغیرہ) کے ساتھ۔ یہ وہ ہے جس کی اللہ نے تمہیں وصیت کی ہے۔ تاکہ تم عقل سے کام لو۔ (151) (۶) اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ سے جو بہترین ہو یہاں تک کہ وہ اپنے سنِ رشد و کمال تک پہنچ جائے۔ (۷) اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری کرو۔ ہم کسی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ (۸) اور جب کوئی بات کہو تو عدل و انصاف کے ساتھ۔ اگرچہ وہ (شخص) تمہارا قرابتدار ہی کیوں نہ ہو۔ (۹) اور اللہ کے عہد و پیمان کو پورا کرو۔ یہ وہ ہے جس کی اس (اللہ) نے تمہیں وصیت کی ہے شاید کہ تم عبرت حاصل کرو۔ (152) (۱۰) اور (یہ بھی کہو) یہ ہے میرا سیدھا راستہ اسی کی پیروی کرو۔ اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمہیں اس (اللہ) کے راستہ سے جدا کر دیں گے یہ ہے جس کی اللہ نے تمہیں وصیت کی ہے شاید کہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ (153) پھر ہم نے موسیٰ کو وہ کتاب عطا کی جو نیک عمل کرنے والے پر نعمت کی تکمیل ہے۔ اور اس میں ہر چیز کی تفصیل ہے اور (لوگوں کے لیے) سراسر ہدایت و رحمت ہے تاکہ وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری و حضوری پر ایمان لائیں۔ (154) اور یہ (قرآن) بڑی بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے پس تم اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو۔ شاید کہ تم پر رحم کیا جائے۔ (155) (اور اس لیے بھی نازل کی ہے کہ) تم یہ (نہ) کہو کہ ہم سے پہلے دو گروہوں (یہود و نصاریٰ) پر تو کتاب (تورات و انجیل) نازل کی گئی۔ اور ہم تو (عرب ہونے کی وجہ سے) ان کے پڑھنے پڑھانے سے غافل و بے خبر تھے۔ (156) یا یہ (نہ) کہو کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم ان لوگوں سے زیادہ راہِ راست پر ہوتے۔ تو اب (تمہارے تمام عذر بہانے قطع کرنے کے لیے) تمہارے پروردگار کی طرف سے کھلی ہوئی دلیل اور ہدایت و رحمت (قرآن کی صورت میں) آگئی ہے سو اب اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو آیاتِ الٰہی کو جھٹلائے اور ان سے روگردانی کرے۔ ہم عنقریب ان لوگوں کو جو ہماری آیات سے روگردانی کرتے ہیں۔ بڑے عذاب کی سزا دیں گے۔ (157) کیا یہ لوگ اب صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں؟ یا تمہارا پروردگار بذات خود آجائے یا تمہارے پروردگار کی بعض خاص نشانیاں آجائیں۔ یہ تب (ایمان لائیں گے)۔ تو پھر (یاد رکھو) جس دن تمہارے پروردگار کی بعض مخصوص نشانیاں آجائیں گی تو اس دن ایسے شخص کو ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اور اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہوگی۔ ان سے کہو کہ تم بھی انتظار کرو۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ (158) بے شک جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور گروہ گروہ بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے ان کا معاملہ بس اللہ کے حوالہ ہے۔ پھر وہ انہیں بتلائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے؟ (159) جو شخص ایک نیکی لے کر (اللہ کی بارگاہ میں) آئے گا اس کو دس گنا (اجر) ملے گا۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (160) آپ کہیں! بے شک میرے پروردگار نے مجھے بڑے سیدھے راستہ کی طرف راہنمائی کر دی ہے یعنی اس صحیح اور راست دین کی طرف جو باطل سے ہٹ کر صرف حق کی طرف راغب ابراہیم (ع) کی ملت ہے اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھے۔ (161) (اے رسول(ص)) کہو میری نماز اور میری تمام (مختلف) عبادتیں اور میری زندگی اور میری موت صرف اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ (162) اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سرِ تسلیم خم کرنے والا ہوں۔ (163) (اے رسول(ص)) کہہ دیجیے! کیا میں اللہ کے علاوہ کوئی اور رب تلاش کروں؟ حالانکہ وہ ہر چیز کا پروردگار ہے اور ہر نفس جو کچھ کماتا ہے اس کا وبال اسی پر ہے۔ اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم سب کی بازگشت تمہارے پروردگار کی طرف ہے سو وہی تمہیں بتائے گا جس جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے۔ (164) وہ (خدا) وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں (پہلوں) کا خلیفہ اور جانشین بنایا اور تم سے بعض کو بعض پر درجات کے اعتبار سے بلندی عطا فرمائی تاکہ جو کچھ تمہیں عطا کیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔ بے شک تمہارا پروردگار بہت جلد سزا دینے والا اور بے شک وہ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا بھی ہے۔ (165)

پچھلی سورت: سورہ مائدہ سورہ انعام اگلی سورت:سورہ اعراف

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. خرمشاہی، «سورہ انعام»، ص۱۲۳۷۔
  2. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۶۔
  3. خرمشاہی، «سورہ انعام»، ص۱۲۳۷، ۱۲۳۸۔
  4. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۵، ص۱۴۳۔
  5. سخاوی، جمال القراء و کمال الاقراء، بیروت، ج۱، ص ۱۷۹
  6. علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۵۔
  7. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  8. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۵، ص۱۷۴۔
  9. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۵، ص۱۷۵۔
  10. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۵، ص۱۷۵۔
  11. البتہ اس آیت کا مضمون دیگر آیات میں بھی مختلف الفاظ کے ساتھ بیان ہوا ہے، مثلا سورہ اعراف آیت نمبر ۱۵۷، سورہ فتح آیت نمبر ۲۹، سورہ شعراء آیت نمبر ۱۹۷ (طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۷، ص۴۱)۔
  12. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۵، ص۱۸۲۔
  13. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۴۹۹۔
  14. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۵، ص۲۷۱۔
  15. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۷، ص۱۲۶۔
  16. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۴، ص۴۸۱۔ ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۷، ص۳۱۵۔
  17. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۵، ص۲۷۱۔
  18. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۳۹۳۔
  19. سورہ نمل، آیت 89
  20. سورہ بقرہ، آیہ ۲۴۵۔ عیاشی، کتاب التفسیر، ۱۳۸۰ق، ج۱، ص۱۳۱۔
  21. قرائتی، تفسیر نور، ۱۳۸۳ش، ج۳، ص۳۹۶۔
  22. لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۙ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ (ترجمہ: س کا انجام یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ اپنے گناہوں کا بھی پورا پورا بوجھ اٹھائیں گے اور کچھ بوجھ ان کا بھی اٹھائیں گے جنہیں یہ بے سمجھے گمراہ کر رہے ہیں (دیکھو) کیا ہی برا بوجھ ہے وہ جو یہ اٹھا رہے ہیں؟)
  23. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۶، ص۶۵؛ قرائتی، تفسیر نور، ۱۳۸۳ش، ج۳، ص۳۹۷۔
  24. رجوع کریں: ایروانی، دروس تمہیدیہ فی تفسیر آیات الاحکام، ۱۴۲۳ق، ج۲، ص۱۰۵۳.
  25. معینی، «آیات الاحکام»، ص۱.
  26. عروسی حویزی، نورالثقلین، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۶۹۶.
  27. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۴، ص۴۲۱.
  28. شیخ صدوق، ثواب الأعمال، ۱۴۰۶ق، ص۱۰۵.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • ابوالفتوح رازی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، تصحیح: محمدمہدی ناصح و محمدجعفر یاحقی، مشہد، آستان قدس رضوی، بنیاد پژوہش‌ہای اسلامی، چ۱، ۱۴۰۸ق۔
  • ایروانی، باقر، دروس تمہیدیہ فی تفسیر آیات الاحکام، قم، دار الفقہ، ۱۴۲۳ق۔
  • دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، بہ کوشش بہاءالدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • سعدی شیرازی، مصلح بن عبداللہ، شرح بوستان، شرح: محمد خزائلی، تہران، جاویدان، ۱۳۵۶ش۔
  • صدوق، محمد بن علی، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال‏، قم، دار الشریف رضی، ۱۴۰۶ق۔
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیرالقرآن، قم، انتشارات اسلامی، ۱۴۱۷ق۔
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیرالقرآن، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، چ۲، ۱۳۹۰ق۔
  • طبرسى، فضل بن حسن، مجمع البيان فى تفسير القرآن، تہران: ناصرخسرو، ۱۳۷۲ش۔
  • عروسى حويزى، عبد على بن جمعہ، تفسير نور الثقلين، تحقيق سيدہاشم رسولى محلاتى، قم، انتشارات اسماعيليان، چاپ چہارم، ۱۴۱۵ق۔
  • قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، مرکز فرہنگی درس‌ہایی از قرآن، چاپ یازدہم، ۱۳۸۳ش۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چ۱، ۱۳۷۱ش۔
  • مكارم شيرازى، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الكتب الإسلاميۃ، چاپ اول، ۱۳۷۴ش۔
  • مكارم شيرازى، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الكتب الإسلاميۃ، چ۱۰، ۱۳۷۱ش۔
  • از قديم الايام ختم سورہ انعام در جلسات معمول بودہ و در بين...، مرکز مطالعات و پاسخگویی بہ شبہات، تاریخ بازدید: ۲۸ فروردین ۱۳۹۸ش۔
  • «مراسم ختم انعام»، گل ختمی، تاریخ بازدید: ۲۸ فروردین ۱۳۹۸ش۔

بیرونی روابط