سورہ بینہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
قدر سورۂ بینہ زلزال
سوره بینه.jpg
ترتیب کتابت: 98
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 100
مکی/ مدنی: مدنی
اعداد و شمار
آیات: 8
الفاظ: 94
حروف: 404

سوره بَیِّنہ یا لَم یَکُن یا قَیِّمہ قرآن کی 98ویں سورہ ہے۔ یہ سورہ مدنی سورتوں میں سے ہے اور قرآن کے تیسویں پارے میں واقع ہے۔ اس کا نام اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے جس کے معنی گواہ کے ہیں۔

سورہ بینہ میں اسلام حقانیت اور پیغمبر اسلامؐ کی رسالت کو قبول کرنے کے حوالے سے اہل کتاب میں سے کافروں کی دشمنی اور لجاجت کے بارے میں بحث کی گئی ہے اور ان کو اور مشرکوں کو بدترین مخلوقات اور جہنم کے مستحق قرار دیا گیا ہے۔ دوسری طرف سے مؤمنوں اور نیک انسانوں کو ہمیشہ رہنے والی بہشت کی بشارت دی گئی ہے۔ اس کی ساتویں آیت آیہ خیرُ البریہ کے نام سے مشہور ہے اور شیعہ اور اہل سنت دونوں فریقوں کی احادیث کے مطابق یہ آیت امام علیؑ اور آپ کے پیروکاروں کی شان میں نازل ہوئی ہے۔

اس سورت کی فضیلت اور تلاوت کے بارے میں پیغمبر اکرمؑ سے نقل ہوئی ہے: "اگر لوگوں کو اس سورت کی برکتوں کا علم ہوتا تو وہ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ کر اسے سیکھنے لگ جاتے..."۔

تعارف

  • نام

اس سورت کا مشہور نام بیّنہ (روشن و آشکار دلیل) ہے جسے اس کی پہلی اور چوتھی آیت سے لیا گیا ہے۔ پرانے منابع میں اس سورت کو "لم یَکُن" یا "لم یکن الذین کَفَرو" کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ "اہل الکتاب"، "قَیِّمه"، "مُنفَکّین" اور "اِنفِکاک" اس سورت کے دوسرے اسامی ہیں۔ [1] دوسرے اسامی میں "لم یکن" اور "قیّمہ" بھی نسبتا مشہور اسامی ہیں۔[2]

  • محل نزول اور ترتیب نزول

سورہ بینہ مدنی[نوٹ 1] سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے سویں جبکہ موجودہ ترتیب کے اعتبار سے 98ویں[3] سورہ ہے۔ یہ سورت قرآن کریم کے آخری پارے میں واقع ہے۔[4]

  • آیات اور کلمات کی تعداد

سورہ بینہ 8 آیتوں، 94 کلمات اور 404 حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورہ قرآن کی چھوتی سورتوں میں سے ہے اور اس کا شمار مُفَصّلات میں ہوتا ہے۔[5]

مضامین

سورہ بیّنہ پیغمبر اکرمؐ کی رسالت کے جہانی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے روشن اور واضح دلائل سے ثابت کرتی ہے۔[6] اس سورہ میں دو فقہی احکام یعنی نماز اور زکات کے وجوب کو بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح اس سورت میں اسلام کی حقانیت، وحی اور پیغمبر اسلام کی رسالت کو قبول کرنے سے انکار کرنے والے اہل کتاب کی دشمنی کو بیان کرتے ہوئے ان کافروں اور مشرکین کو بدترین مخلوق اور جہنم کا مستحق قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف مؤمنوں اور نیک لوگوں کو بہترین مخلوق قرار دیتے ہوئے انہیں ہمیشہ رہنے والی بہشت کی بشارت دیتے ہیں۔[7]

سورہ بینہ کے مضامین[8]
 
 
پیغمبر کے دشمنوں پر اتمام حجت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا گفتار: آیہ ۶-۸
پیغمبر کے دشمنوں کو عذاب اور ان کے ماننے والوں کو جزا
 
پہلا گفتار: آیہ ۱-۵
پیغمبر کی توحیدی دعوت اور اہل کتاب و مشرکیں کی مخالفت
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب: آیہ ۶
پیغمبر کے دشمنوں پر ابدی عذاب
 
پہلا مطلب: آیہ ۱-۳
پیغمبر کی بعثت کے بعد اہل کتاب اور مشرکوں کی اپنے کفر پر اصرار
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب: آیہ ۷-۸
پیغمبر کے ماننے والوں کے لیے ہمیشگی نعمتیں
 
دوسرا مطلب: آیہ ۴-۵
پیغمبر کی توحیدی دعوت کی اہل کتاب جان بوجھ کر مخالفت کرنا


مشہور آیتیں

  • إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَـٰئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ(آیت 7) ترجمہ:اور بےشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہی بہترینِ خلائق ہیں۔
اصل مضمون: آیت خیر البریہ

سورہ بینہ کی آیت نمبر 7 "آیہ خیر البریہ" کے نام سے مشہور ہے۔ شیعہ اور اہل سنت منابع میں اس آیت کی تفسیر میں وارد ہونے والی متعدد احادیث کے مطابق یہ آیت امام علیؑ اور آپ کے پیروکاروں کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ مثلا علامہ طباطبایی کتاب تفسیر الدر المنثور[9] سے نقل کرتے ہیں: رسول خداؐ کی خدمت میں تھے جب علی ابن ابی طالبؑ وارد ہوئے تو آپؐ نے فرمایا: اس خدا کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، قیامت کے دن صرف اور صرف یہ شخص اور اس کے پیروکار فلاح پانے والے ہیں۔ یہ کہنا تھا کہ سورہ بینہ کی یہ آیت نازل ہوئی: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ أُولئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد سے جب بھی صحابہ علی ابن ابی طالب کو دیکھتے تو کہتے "خَيْرُ الْبَرِيَّۃ" آ گئے۔[10]

آیات الاحکام

سورہ بینہ کی آیت نمیر 5 کو آیات الاحکام میں شمار کیا جاتا ہے۔[11] فاضل مقداد (متوفی: سنہ 826 ہجری قمری) لکھتے ہیں اس آیت کی رو سے نماز اور روزہ جیسی عبادتوں میں نیت کرنا واجب ہے۔[12] لیکن مقدس اردبیلی (متوفی: سنہ 993 ہجری قمری) اسے قبول نہیں کرتے اور لکھتے ہیں کہ مذکورہ آیت سے صرف اتنا ظاہر ہوتا ہے کہ عبادات میں اخلاص ہونا چاہئے۔[13] اسی طرح کہا جاتا ہے کہ اس آیت کی رو سے ریا ایک قسم کی شِرک محسوب ہوتی ہے۔[14]

فضیلت اور خواص

پیغمبر اکرمؑ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: "اگر لوگوں کو اس سورت کی برکتوں کا علم ہوتا تو وہ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ کر اسے سیکھنے لگ جاتے..."۔ قبیلہ خُزاعہ سے ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس سورت کی تلاوت کا کیا اجر و ثواب ہے؟ حضورؐ نے فرمایا: "کوئی منافق اسے تلاوت نہیں کرے گا اور نہ وہ شخص جس کے دل میں شک اور تردید ہو وہ اس کی تلاوت کرے گا۔ خدا کی قسم خدا کے مقرب فرشتے جب سے زمین اور آسمان بنی ہے اس سورت کی تلاوت کرتے آئے ہیں اور اس کی تلاوت کرنے سے ایک لحظہ بھی کوتاہی نہیں کرتے۔ اسی طرح فرماتے ہیں کہ جو بھی رات کو سوتے وقت اس کی تلاوت کرے گا، خدا فرشتوں کو اس کے دین و دنیا کی حفاظت، اس کی مغفرت اور اس پر رحمت کے نزول کی درخواست پر مامور کرتا ہے اور اگر کوئی دن کے وقت اس کی تلاوت کرے تو اس شخص کو ان چیزوں کے برابر ثواب دیا جائے جن کو دن کی روشنی روشن کرتا ہے اور رات کی تاریکی تاریک کرتا ہے۔"[15]


متن اور ترجمہ

سوره بینہ
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ ﴿1﴾ رَسُولٌ مِّنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُّطَهَّرَةً ﴿2﴾ فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ ﴿3﴾ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءتْهُمُ الْبَيِّنَةُ ﴿4﴾ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ ﴿5﴾ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أُوْلَئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ ﴿6﴾ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ ﴿7﴾ جَزَاؤُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ ﴿8﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اہلِ کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے وہ (اپنے کفر سے) باز آنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس ایک واضح دلیل نہ آجائے۔ (1) یعنی اللہ کا ایک رسول(ع) جو انہیں پاک و پاکیزہ صحیفے پڑھ کر سنا ئے۔ (2) جن میں بالکل درست باتیں لکھی ہوئی ہوں۔ (3) اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی (اور وہ اہلِ کتاب تھے) وہ تو واضح دلیل کے آجانے کے بعد ہی تفرقہ میں پڑے۔ (4) حالانکہ انہیں تو بس یہی حکم دیا گیا تھا کہ دین کو اسی کیلئے خالص کرتے ہوئے اللہ کی عبادت کریں بالکل یکسُو ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی نہایت (صحیح اور) درست دین ہے۔ (5) بےشک جو اہلِ کتاب اور مشرکین کفر میں مبتلا ہیں وہ جہنم کی آگ میں پڑیں گے (اور) ہمیشہ اس میں رہیں گے یہی لوگ بدترینِ خلائق ہیں۔ (6) اور بےشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہی بہترینِ خلائق ہیں۔ (7)ان کی جزا ان کے پروردگار کے ہاں ہمیشگی کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں (یہ سب کچھ) اس کے لئے ہے جو اپنے پروردگار (کی حکم عدولی) سے ڈرتا ہے۔ (8)


پچھلی سورت:
سورہ قدر
قرآن کریم اگلی سورت:
سورہ زلزال
سورہ 98

١.فاتحہ ٢.بقرہ ٣.آل‌عمران ٤.نساء ٥.مائدہ ٦.انعام ٧.اعراف ٨.انفال ٩.توبہ ١٠.یونس ١١.ہود ١٢.یوسف ١٣.رعد ١٤.ابراہیم ١٥.حجر ١٦.نحل ١٧.اسراء ١٨.کہف ١٩.مریم ٢٠.طہ ٢١.انبیاء ٢٢.حج ٢٣.مؤمنون ٢٤.نور ٢٥.فرقان ٢٦.شعراء ٢٧.نمل ٢٨.قصص ٢٩.عنکبوت ٣٠.روم ٣١.لقمان ٣٢.سجدہ ٣٣.احزاب ٣٤.سبأ ٣٥.فاطر ٣٦.یس ٣٧.صافات ٣٨.ص ٣٩.زمر ٤٠.غافر ٤١.فصلت ٤٢.شوری ٤٣.زخرف ٤٤.دخان ٤٥.جاثیہ ٤٦.احقاف ٤٧.محمد ٤٨.فتح ٤٩.حجرات ٥٠.ق ٥١.ذاریات ٥٢.طور ٥٣.نجم ٥٤.قمر ٥٥.رحمن ٥٦.واقعہ ٥٧.حدید ٥٨.مجادلہ ٥٩.حشر ٦٠.ممتحنہ ٦١.صف ٦٢.جمعہ ٦٣.منافقون ٦٤.تغابن ٦٥.طلاق ٦٦.تحریم ٦٧.ملک ٦٨.قلم ٦٩.حاقہ ٧٠.معارج ٧١.نوح ٧٢.جن ٧٣.مزمل ٧٤.مدثر ٧٥.قیامہ ٧٦.انسان ٧٧.مرسلات ٧٨.نبأ ٧٩.نازعات ٨٠.عبس ٨١.تکویر ٨٢.انفطار ٨٣.مطففین ٨٤.انشقاق ٨٥.بروج ٨٦.طارق ٨٧.اعلی ٨٨.غاشیہ ٨٩.فجر ٩٠.بلد ٩١.شمس ٩٢.لیل ٩٣.ضحی ٩٤.شرح ٩٥.تین ٩٦.علق ٩٧.قدر ٩٨.بینہ ٩٩.زلزلہ ١٠٠.عادیات ١٠١.قارعہ ١٠٢.تکاثر ١٠٣.عصر ١٠٤.ہمزہ ١٠٥.فیل ١٠٦.قریش ١٠٧.ماعون ١٠٨.کوثر ١٠٩.کافرون ١١٠.نصر ١١١.مسد ١١٢.اخلاص ١١٣.فلق ١١٤.ناس


حوالہ جات

  1. دائرۃ المعارف قرآن کریم، ۱۳۸۲ش، ج۶، ص۴۳۰.
  2. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۷، ص۱۹۶.
  3. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۱۶۸.
  4. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۶.
  5. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۶.
  6. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۷، ص۱۹۶.
  7. دانش نامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۶.
  8. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  9. سیوطی، الدر المنثور، ۱۴۰۴ق، ج۶، ص۳۷۹.
  10. طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج۲۰، ص۳۴۱.
  11. فاضل مقداد، کنز العرفان، نشر مرتضوی، ج۱، ص۳۲؛ مقدس اردبیلی، زبدة البیان، مکتبۃ المرتضویہ، ص۲۸؛ استرآبادی، آیات الاحکام، نشر معراجی، ج۱، ص۵۴.
  12. فاضل مقداد، کنز العرفان، نشر مرتضوی، ج۱، ص۳۲.
  13. مقدس اردبیلی، زبدۃ البیان، مکتبۃ المرتضویہ، ص۲۸.
  14. استرآبادی، آیات الاحکام، نشر معراجی، ج۱، ص۵۴.
  15. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۷، ص۱۹۶؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۷۹۱.


نوٹ

  1. بعض اسے مکی سورتوں میں شمار کرتے ہیں؛ لیکن اس کا مدنی ہونا حقیقت کے زیادہ نزدیک ہے معرفت، آموزش علوم قرآن، ج۱، ص۱۸۹؛ طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج۲۰، ص۳۳۶.)

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • استرآبادی، محمد بن علی، آیات الاحکام، بہ تصحیح محمدباقر شریف‌زادہ، تہران، نشر معراجی، چاپ اول، [بی‌تا]۔
  • دائرۃ المعارف قرآن کریم، تہیہ و تدوین: پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، مرکز فرہنگ و معارف قرآن، قم، مؤسسہ بوستان کتاب، ۱۳۸۲ش۔
  • دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، بہ کوشش بہاءالدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • سیوطی، جلال‌الدین عبدالرحمن، الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، قم، کتابخانہ آیت‌اللہ مرعشی نجفی، چاپ اول، ۱۴۰۴ق۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، چاپ دوم، ۱۹۷۴م۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، با مقدمہ محمدجواد بلاغی، تہران، انتشارات ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲ش۔
  • فاضل مقداد، مقداد بن عبداللہ، کنز العرفان فی فقہ القرآن، بہ تصحیح محمدباقر شریف‌زادہ و محمدباقر بہبودی، تہران، نشر مرتضوی، چاپ اول، [بی‌تا]۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چاپ اول، ۱۳۷۱ش۔
  • مقدس اردبیلی، احمد بن محمد، زبدۃ البیان فی احکام القرآن، بہ تحقیق محمدباقر بہبودی، تہران، نشر مکتبۃ المرتضویہ، چاپ اول، [بی‌تا]۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، درالکتب الاسلامیہ، چاپ دہم، ۱۳۷۱ش۔

بیرونی روابط