سورہ بلد

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
فجر سورۂ بلد شمس
سوره بلد.jpg
ترتیب کتابت: 90
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 35
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 20
الفاظ: 82
حروف: 343

سوره بلد قرآن کی 90ویں اور مکی سورتوں میں سے ہے جو 30ویں پارے میں واقع ہے۔ اس سورت کا آغاز بلد یعنی سرزمین مکہ کی قسم سے شروع ہوتا ہے؛ اور اسی وجہ سے اسے بَلَد نام دیا ہے۔ اللہ تعالی سورہ بلد میں فرماتا ہے کہ انسان کو دنیا میں ہمیشہ رنج و آلم ہے اور پھر بعض نعمتوں کو بیان کرنے کے بعد ان کے مقابلے میں انسان کی ناشکری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سورہ بلد میں سب سے اہم عمل انسان کے لیے غلام آزاد کرنے، فقیروں کی مدد کرنے کو بیان کیا ہے۔ اس سورت کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ جو بھی سورہ بلد کی تلاوت کرے اللہ تعالی اسے قیامت کے دن اپنی غضب سے محفوظ رکھے گا۔

تعارف

سورہ بلد کی معرق کاری
  • نام

سورہ بلد «بَلَد» کی قسم سے شروع ہوتی ہے اور اسی وجہ سے اس کا نام بلد رکھا گیا ہے۔[1] بلد، سرزمین کے معنی میں ہے[2]اور یہاں اس سے مراد مکہ کی سرزمین ہے۔[3]

  • ترتیب اور محلِ نزول

سورہ بلد مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے 35ویں سورت ہے جو پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئی ہے۔ اور قرآن مجید کے مصحف میں 90ویں سورت ہے جو 30ویں پارے میں واقع ہے۔[4]

  • آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ بلد کی 20 آیات، 82 کلمات اور 343 حروف ہیں۔ یہ سورہ، مفصلات سورتوں میں سے ہے اور ان سورتوں میں سے ہے جن کی ابتدا قسم سے ہوتی ہے۔[5]

مضمون

  • مکہ کی عظمت و قداست بیان کرنے کے عنوان سے اس شہر کی قسم کھانے پر اس سورت کا آغاز ہوتا ہے۔
  • بعدازاں انسان کی خلقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا جاتا ہے کہ انسان کی زندگی رنج و مشقت کے ہمراہ ہے۔
  • مشکل ترین مگر بہترین اور باوقعت ترین اعمال ـ غلاموں کی آزادی، بینواؤں کو کھانا کھلانے اور مدد پہنچانے ـ کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور نیک اعمال کے عاملین کو "اصحاب میمنہ" (اصحاب یمین) اور (جنتی) قرار دیا جاتا ہے اور منکرین اور بدکاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں "اصحاب مشئمہ" (اصحاب شمال، اور دوزخی) قرار دیا جاتا ہے۔[6]
سورہ بلد کے مضامین[7]
 
 
اللہ کی بندگی میں انفاق کی اہمیت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا گفتار؛ آیہ۱۱-۲۰
اللہ کی بندگی اور انسان کی سعادت میں انفاق کا مقام
 
پہلا گفتار؛ آیہ ۱-۱۰
اللہ کی بندگی میں رنج و الم کو تحمل کرنا
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا نکتہ؛ آیہ۱۱-۱۷
ضرورت کے وقت انفاق کرنا اللہ کی بندگی کی شرط
 
پہلا مطلب آیہ؛ ۱-۴
اللہ کے راہ میں سختیاں جھیلنے والوں کی قسم
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا نکتہ؛ آیہ۱۸-۲۰
انسان کی سعادت میں بندگی کا اثر
 
دوسرا مطلب؛ آیہ۵-۱۰
اللہ کے راہ میں سختیاں تحمل نہ کرنے کے عوامل


شأن نزول

تفسیر مقاتل بن سلیمان میں آیا ہے کہ سورہ بلد کی چوتھی آیت،«لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسانَ فِي كَبَدٍ»حارث بن عمرو بن نوفل بن عبدمناف قرشی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ جب مدینہ میں تھا تو کسی گناه کا مرتکب ہوا؛ پھر پیغمبر اکرمؐ کے پاس آیا اور گناہ کے کفارے کے بارے میں پوچھا: آنحضرتؐ نے فرمایا: جاؤ ایک غلام آزاد کرو یا 60 مسکینوں کو کھانا دو۔ حارث نے پوچھا ان کے علاوہ کچھ نہیں ہے؟ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: جو تھا وہ کہدیا۔ حارث مغموم ہوا اور چلا گیا پھر اپنے دوستوں کے پاس جاکر کہا خدا کی قسم مجھے نہیں پتہ تھا کہ محمد کے دین میں داخل ہوجاؤں تو میرا مال کفارے اور اللہ کی راہ میں انفاق میں خرچ ہوجاتا ہے۔ محمد سوچتا ہے کہ یہ مال ہمیں مفت میں ملا ہے، بلکہ میں نے بہت سارا مال خرچ کیا ہے۔ پھر آیت مجیدہ «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسانَ فِي كَبَدٍ» نازل ہوئی۔[8]

فضائل اور خواص

ابوبصير امام صادقؑ سے روایت کرتے ہیں کہ جو بھی واجب نماز میں پڑھے گا وہ دنیا میں صالح ہونے میں مشہور ہوگا اور آخرت میں اللہ کے ہاں خاص مقام سے مشہور ہوگا اور انبیا، شہداء اور صالحین کے دوستوں میں سے ہوگا[9] ابی بن کعب نے رسول خداؐ سے نقل کیا ہے کہ جو بھی سورہ بلد کی تلاوت کرے گا اللہ تعالی اسے قیامت کے دن اپنی غضب سے محفوظ رکھے گا اور سفر آخرت کے خطرناک موڈ سے انہیں نجات دے گا۔[10]

تفسیر برہان میں اس سورت کی تلاوت کے بارے میں بعض خواص ذکر کیا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ بچے کی حفاظت کے لیے اس سورت کو لکھ کر اس کے ہمراہ رکھیں۔[11]اسی طرح اگر سانس کی بیماریوں کے لیے بھی اسے لکھیں اور پھر پانی سے دھو کر اس پانی کو ناک میں ڈالنے کا کہا گیا ہے۔[12]

متن سورہ

سوره بلد
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ ﴿1﴾ وَأَنتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ ﴿2﴾ وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ ﴿3﴾ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ ﴿4﴾ أَيَحْسَبُ أَن لَّن يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ ﴿5﴾ يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا ﴿6﴾ أَيَحْسَبُ أَن لَّمْ يَرَهُ أَحَدٌ ﴿7﴾ أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ ﴿8﴾ وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ ﴿9﴾ وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ ﴿10﴾ فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ﴿11﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ ﴿12﴾ فَكُّ رَقَبَةٍ ﴿13﴾ أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ ﴿14﴾ يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ ﴿15﴾ أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ ﴿16﴾ ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ ﴿17﴾ أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ ﴿18﴾ وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا هُمْ أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ ﴿19﴾ عَلَيْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ ﴿20﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

نہیں! میں قَسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔ (1) درآنحالیکہ آپ(ص) اس شہر میں قیام پذیر ہیں۔ (2) اور قَسم کھاتا ہوں باپ (آدم(ع)) کی اوراس کی اولاد کی۔ (3) یقیناً ہم نے انسان کو محنت و مشقت کیلئے پیدا کیا ہے۔ (4) کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پاسکے گا۔ (5) وہ کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال اڑادیا۔ (6) کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا۔ (7) کیا ہم نے اس کیلئے دو آنکھیں نہیں بنائیں؟ (8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟ (9) اور ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے ہیں۔ (10) مگر وہ (نیکی کی) دشوار گزار گھاٹی سے نہیں گزرا۔ (11) اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ دشوار گزار گھاٹی کیا ہے؟ (12) وہ کسی گردن کو (غلامی یا قرض سے) چھڑانا۔ (13) یا بھوک کے دن۔ (14) کسی یتیم رشتہ دار کو۔ (15) یاخاکسار مسکین کو کھانا کھلانا۔ (16) پھر وہ ان لوگوں میں سے بھی ہوتا جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو صبر کرنے اور رحم کرنے کی وصیت کی۔ (17) یہی لوگ داہنے (ہاتھ) والے ہیں۔ (18) اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا وہ بائیں (ہاتھ والے ہیں)۔ (19) ان پر چَو طرفہ بند کی ہوئی آگ محیط ہوگی۔ (20)


پچھلی سورت: سورہ فجر سورہ بلد اگلی سورت:سورہ شمس

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۴.
  2. قرشی بنابی، قاموس قرآن، «بلد» کے ذیل میں.
  3. طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج۲۰، ص۲۸۹.
  4. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۱۶۶.
  5. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۴.
  6. دانش نامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج2، ص1264۔
  7. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  8. مقاتل بن سلیمان، تفسیر مقاتل، ۱۴۲۳ق، ج۴، ص۷۰۱.
  9. شیخ صدوق، ثواب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ص۱۲۳.
  10. بحرانی،البرهان٬ ۱۴۱۷ق، ج۵، ص۶۵۹.
  11. بحرانی،البرهان٬ ۱۴۱۷ق، ج۵، ص۶۵۹.
  12. بحرانی،البرهان٬ ۱۴۱۷ق، ج۵، ص۶۵۹.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • بحرانی، سیدہاشم، البرہان فی تفسیر القرآن، قم، مؤسسة البعثة، چاپ اول، ۱۴۱۷ق.
  • دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، بہ کوشش بہاءالدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش.
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، تحقیق: صادق حسن زادہ، تہران، ارمغان طوبی، ۱۳۸۲ش.
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان في تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسة الأعلمي للمطبوعات، چاپ دوم، ۱۹۷۴م.
  • قَرَشی بُنابی، سید علی‌اکبر، قاموس قرآن، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ ششم، ۱۳۷۱ش.
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چ۱، ۱۳۷۱ش.
  • مقاتل بن سلیمان، تفسیر مقاتل، تحقیق عبداللہ محمود شحاتہ، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ اول، ۱۴۲۳ق.

بیرونی روابط