سورہ قصص

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
نمل سورۂ قصص عنکبوت
سوره قصص.jpg
ترتیب کتابت: 28
پارہ : 20
نزول
ترتیب نزول: 49
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 88
الفاظ: 1443
حروف: 5933

سورہ قَصَصْ قرآن کی بائیسویں اور مکی سورتوں میں سے ہے۔ یہ سورہ قرآن کے بیسویں پارے میں واقع ہے۔ اس سورت میں بعض انبیاء کی داستان کی طرف اشارہ ہوا ہے اسی مناسب سے اس کا نام "سورہ قصص" رکھا گیا ہے۔ حضرت موسی کی ولادت، حضرت شعیب کی بیٹی سے ان کی شادی اور فرعون کے ساتھ مقابلہ کی داستان اسی طرح قارون داستان اور مشرکین مکہ کا پیغمبر اکرمؐ پر ایمان نہ لانے کے بہا­­نوں کے بارے میں اس سورت میں گفتگو ہوئی ہے۔

سورہ قصص کی پانچویں آیت اس سورت کی مشہور آیات میں سے ہے جو مستضعفین جہان کی فتح اور زمین پر ان کی حکومت کے بارے میں ہے اور مہدویت کے موضوعات میں اس آیت سے استناد کیا جاتا ہے۔ سورہ قصص کی تلاوت کے بارے میں آیا ہے کہ جو شخص شب جمعہ کو سورہ نمل، سورہ شعرا اور سورہ قصص کی تلاوت کرے، وہ خدا کا دوست قرار پائے گا اور خدا اپنی رحمت کے سایے میں اس کا حامی ہوگا ایسا شخص دینا میں کبھی بھی مشکلات اور سختیوں کا شکار نہیں ہو گا اور آخرت میں اس کی اپنی مرضی یا اس سے بھی بالاتر بہشت نصیب ہو گا۔

تعارف

نامگذاری

اس سورہ میں بعض انبیاء خاص کر حضرت موسی کی داستان بیان ہوئی ہے اسی مناسبت سے اس کا نام "سورہ قصص" رکھا گیا ہے۔[1] حضرت شعیب کے گھر میں گزرے ہوئے حضرت موسی کی زندگی کی داستان کو بیان کرتے ہوئے اس سورہ کی 25ویں آیت میں لفظ "القصص" استعمال ہوا ہے۔[2] اس سورہ کو سورہ موسی و فرعون بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی داستان اس سورت کی آیت نمبر 3 سے 43 تک میں بیان ہوئی ہے۔[3]

محل اور ترتیب نزول

سورہ قصص مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے انچاسواں اور مُصحَف کی موجودہ ترتیب کے اعتبار سے اٹھائیسواں سورہ ہے جو پارہ نمبر 20 میں واقع ہے۔[4]

آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ قصص 88 آیات، 1443 کلمات اور5933 حروف پر مشتمل ہے۔ حجم کے اعتبار سے اس کا شمار متوسط سورتوں میں ہوتا ہے اور ایک پارے کے نصف کے برابر اس کا حجم ہے۔[5] سورہ قصص حروف مقطعہ سے شروع ہونے والی سورتوں میں سے چودھواں سورہ ہے[6] اس بنا پر اسے "سورہ طسم" بھی کہا جاتا ہے اور سور طَواسین میں بھی شامل ہے۔[7]

مفاہیم

علامہ طباطبایی کے مطابق سورہ قصص کا اصل مقصد ہجرت مدینہ سے پہلے مکہ میں موجود مسلمانوں کا وہ مختصر گروہ جو سخت‌ ترین حالات میں زندگی گزار رہے تھے، کو خدا کے لطف و کرم سے زمانے کے فرعون پر غلبہ حاصل ہونے اور زمین پر ان کی حکمرانی کی نوید ہے۔ اسی مناسبت سے حضرت موسی کی ولادت سے لے کر فرعون پر فتح ملنے تک کی داستان بیان کی گئی ہے۔[8]

سورہ قصص کے دوسرے حصے میں قارون کی داستان بیان کرتے ہیں جو اپنے مال و دولت اور علم حکمت پر فخر و مباحات اور غرور و تکبر کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے اس کا انجام بھی فرعون کے طرح ہوا۔ تفسیر نمونہ میں فرعون اور قارون کی نابودی کی داستان سے مکہ کے مسلمانوں کو اس بات کی یقین دہانی کرانے چاہتے ہیں کہ مال دولت اور طاقت کے نشے میں مست مشرکین مکہ خدا کے اس ارادے کا مقابلہ نہیں کر سکتے جو اس نے کمزور لوگوں کو زمین کا وارث بنانے کا ارادہ کیا ہے۔[9]

اسی طرح اس سورت کے باقی حصوں میں توحید، معاد، قرآن کی اہمیت، قیامت کے دن مشرکین کا انجام اور ہدایت و ضلالت سے گفتگو نیز پیغمبر اکرمؐ پر ایمان نہ لانے والے افراد کے بہانہ تراشیوں کا جواب بھی دیا گیا ہے۔[10]

سورہ قصص کے مضامین[11]
 
 
 
 
 
 
 
انبیاء کی دشمن پر کامیابی تک اللہ کی حمایت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا گفتار؛ آیہ ۸۵ - ۸۸
کافروں کے مقابلے میں ثابت قدمی کے لیے پیغمبر کی حوصلہ افزائی
 
 
 
دوسرا گفتار؛ آیہ ۴۷ - ۸۴
پیغمبر کی مخالفت کےلیے مشرکوں کے بہانے
 
 
 
پہلا گفتار؛ آیہ ۳ - ۴۶
حضرت موسی کی پیدائش سے کامیابی تک اللہ کی حمایت کی داستان
 
مقدمہ؛ آیہ ۱ - ۲
قرآن حقائق بیان کرنے والا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۸۵ - ۸۶
پیغمبر کی کامیابی تک اللہ کی حمایت
 
بہانہ دوم؛ آیہ ۵۷ - ۸۴
اگر پیغمبر پر ایمان لائیں تو ہمارا امن خطرے میں پڑوں گا
 
پہلا بہانہ؛ آیہ ۴۷ - ۵۷
قرآن کیوں تورات کی طرح ایک ہی دفعے میں نازل نہیں ہوا ہے
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۳ - ۶
فرعون پر بنی اسرائیل کی کامیاب کے لیے اللہ کا ارادہ
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۸۷
مخالفتوں پر توجہ کئے بغیر لوگوں کو اللہ کی طرف بلاؤ
 
پہلا جواب؛ آیہ ۵۷
مکہ کا امن اللہ کا لطف ہے
 
پہلا جواب؛ آیہ ۴۸ - ۴۹
کافر تورات پر بھی عقیدہ نہیں رکھتے
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۷ - ۱۳
موسی کی پیدائش کے بعد ان کی جان کی حفاظت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۸۸
عبادت صرف اللہ کی
 
دوسرا جواب؛ آیہ ۵۸ - ۵۹
ایمان، امن کا عامل ہے
 
دوسرا جواب؛ آیہ ۵۰
کافر خواہشات نفس کے اسیر ہیں
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۱۴ - ۲۱
فرعونیوں کی دھمکیوں سے حضرت موسی کو نجات
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا جواب؛ آیہ ۶۰ - ۶۷
آپ کا فائدہ ایمان میں ہے عیاشی میں نہیں
 
تیسرا جواب؛ آیہ ۵۱
قرآن کے تدریجی نزول کا راز
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۲۲ - ۲۸
حضرت موسی کو مدین میں اللہ کی حمایت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا جواب؛ آیہ ۶۸ - ۷۵
ایک خدا پر ایمان لانا سب کا فرض ہے
 
چوتھا جواب؛ آیہ ۵۲ - ۵۶
اہل کتاب کا ایمان لانا قرآن کی حقانیت کی دلیل ہے
 
پانچواں مطلب؛ آیہ ۲۹ - ۳۵
حضرت موسی کا رسالت پر مبعوث ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچواں جواب؛ آیہ ۷۶ - ۸۴
قارون کے خزانے بھی اس کو امان نہ دے سکے
 
 
 
 
 
چھٹا مطلب؛آیہ ۳۶ - ۳۹
حضرت موسی کی رسالت کا اعلان اور فرعونیوں کی مخالفت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
ساتواں مطلب؛ آیہ ۴۰ - ۴۲
فرعون اور لشکر پر حضرت موسی کی کامیابی
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آٹھواں مطلب؛ آیہ ۴۳ - ۴۶
حضرت موسی کے صحیح حالات کا بیان پیغمبر کی حقانیت کی نشانی


تاریخی واقعات اور داستانیں

  • حضرت موسی اور فرعون کی داستان: آیت ۳-۴۳
    • حضرت موسی کا فرعون کے گھر میں پرورش پانا: فرعون کی سرکشی اور لوگوں پر ظلم و ستم، حضرت موسی کی ولادت اور ان کی والدہ کا انہیں دریا نیل میں ڈال دینا،‌ فرعون کے گھر والوں کا حضرت موسی کو دریا سے نکال لانا، فرعون کی زوجہ کا حضرت موسی کی پرورش کی درخواست، حضرت موسی کا دوبارہ اپنی ماں کی گود میں لوٹ آنا۔ (آیت ۴-۱۴)
    • حضرت موسی کا جھگڑا: حضرت موسی کا کسی جھگڑے میں مداخلت اور دشمن کو قتل کرنا، حضرت موسی کا اپنے قتل کے نقشے سے باخبر ہونا، حضرت موسی کا شہر سے نکل جانا۔ (آیت ۱۵-۲۱)
    • حضرت موسی کا مدین چلا جانا: حضرت شعیب کی بیٹیوں کی مدد کرنا، حضرت موسی اور حضرت شعیب کی گفتگو، حضرت شعیب کی بیٹی کا حضرت موسی کام کے لئے گھر میں رکھنے کی درخواست، حضرت شعیب اور حضرت موسی کی قرارداد جس میں یہ طے پایا کہ حضرت شعیب کی بیٹیوں میں سے کسی ایک کے ساتھ شادی کے بدلے حضرت موسی آٹھ سال تک حضرت شعیب کے گھر کام کرے گا، مقررہ مدت کا اختتام اور حضرت موسی کی واپسی۔ (آیت ۲۲-۲۹)
    • کوہ طور پر حضرت موسی کا خدا سے گفتگو: کوہ طور پر آگ کا مشاہدہ، خدا کا حضرت موسی سے ہمکلام ہونا، عصا کا سانپ میں تبدیل ہونے اور ید بیضا کا معجزہ، حضرت موسی کی طرف سے حضرت ہارون کی ہمراہی کی درخواست، خدا کی طرف سے حضرت موسی اور آپ کے پیروکاروں کی کامیابی کے نوید۔‌ (آیت ۲۹-۳۵)
    • حضرت موسی کا فرعون کو ایمان لانے کی دعوت: حضرت موسی پر سحر اور جادو کی تہمت، فرعون کا خدا ہونے کا دعوا، فرعون کی طرف سے ہامان کو مینار بنانے کا حکم، فرعون کی سرکشی اور غرور، فرعون کا دریائے نیل میں غرق ہونا۔ (آیت ۳۶-۴۲)
    • حضرت موسی پر تورات کا نزول، فرعونیوں کی ہلاکت۔ (آیہ ۴۳)
  • قارون کی داستان: قارون کا قوم موسی پر ظلم، قارون کی کثیر دولت، قوم کا قارون کو نصیحت، قارون کا قوم کو جواب، قارون کا قوم کے درمیان زینت نمائی، بعض لوگوں کی طرف سے مال دولت میں قارون کی طرح بننے کی خواہش، قارون پر عذاب خداوندی اور اس کا اپنے گھر میں زمین کے اندر دھنس جانا اور اس کے مال و دولت کی خواہش کرنے والوں کے لئے عبرت۔ (آیت ۷۶-۸۲)

بعض آیات کی شأن نزول

ہدایت فقط خدا کے ہاتھ میں ہے

بعض اہل سنت اس بات کے قائل ہیں کہ سورہ قصص کی آیت نمبر 56: إِنَّک لَا تَهْدِی مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَٰکنَّ اللَّهَ یهْدِی مَن یشَاءُ...؛(ترجمہ: (اے رسول(ص)) آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں کر سکتے لیکن اللہ جسے چاہتا ہے اسے ہدایت دے دیتا ہے۔) حضرت ابوطالب کی موت کے وقت نازل ہوئی جب پیغمبر اسلامؐ نے ابوطالب سے لا الہ الا اللہ کہنے کی تاکید تاکہ آپ اس کی شفاعت کر سکیں، لیکن ابوطالب نے ابوجہل اور عبداللہ بن ابی‌امیہ کی طرف سے عبدالمطلب کی شریعت پر باقی رہنے کی اصرار پر کہا کہ میں عبدالمطلب کی شریعت پر باقی رہوں گا۔[12] اس کے مقابلے میں تفسیر مجمع البیان میں اہل سنت کے اس حدیث کو صحیح نہیں مانتے کیونکہ اگر اہل سنت کا نظریہ درست ہو تو حقیقت میں خدا اور پیغمبر اکرمؐ کے ارادے میں تناقض لازم آتا ہے کیونکہ خدا ابوطالب کے کفر کا ارادہ رکھتے تھے جبکہ پیغمبر اکرمؐ انہیں مسلمان بنانا چاہتے تھے، یہ بات پیغبر اکرمؐ کی شأن کے ساتھ سازگار نہیں ہے؛ اس کے علاوہ اہل بیتؑ کا اجماع ہے کہ ابوطالب مؤمن ہو کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے اور پیغمبر اکرمؐ کو کفار اور مشرکین کے مکر و فریب اور ان کے گزند سے محفوظ رکھنے اور مشرکین کی اصلاح کے لئے واسطہ بننے کی خاطر اپنا ایمان چھپائے رکھا تھا۔[13]

تفسیر کی دوسری کتابوں میں بھی یہ آیت پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے اپنی قوم خاص کر بعض رشتہ داروں کی ہدایت پر اصرار کرنے کے موقع پر نازل ہوئی ہے اور اس آیت کو حضرت ابوطالب کے بارے میں نازل ہونے کو ان کی ایمان کے بارے میں موجود احادیث کی بنا پر مردود قرار دیتے ہیں۔[14]

آوارہ ہونے کا خوف ایمان لانے میں مانع

سورہ قصص کی آیت نمبر 57: وَقَالُوا إِن نَّتَّبِعِ الْهُدَیٰ مَعَک نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْ‌ضِنَا...(ترجمہ: اور وہ (کفارِ مکہ) کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو ہمیں اپنی سر زمین سے اچک لیا جائے گا (یہاں سے نکال دیا جائے گا)) کے بارے میں آیا ہے کہ حرث بن نوفل یا عثمان بن عبد مناف نے پیغمبر اکرمؐ سے کہا کہ ہمیں آپ کی صداقت پر یقین ہے؛ لیکن اگر ہم آپ کی پیروی کرینگے تو ممکن ہے پورا عرب آپ کے خلاف متحد ہو اور ہمیں مکہ سے نکال دیں، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی اور اور خدا کی طرف سے آپؐ اور آپ کے پیروکاروں کو دی گئی امنیت اور نعمتتوں کی یاد دلاتے ہوئے ان کے اس بہانے کو رد کر دیا۔[15]

عہد خدا کا حتمی ہونا

سورہ قصص کی آیت نمبر 61: أَفَمَن وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیهِ کمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَیاةِ الدُّنْیا...؛(ترجمہ: کیا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہے اور وہ اسے پانے والا بھی ہے۔ اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جسے ہم نے صرف دنیوی زندگانی کا (چند روزہ) سامان دیا ہے۔) کو حضرت علیؑ اور حضرت حمزه کے مقابلے میں ابوجہل[16] عمار کے مقابلے میں ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔[17]

مشہور آیات

آیت نمبر 5

وَنُرِ‌یدُ أَن نَّمُنَّ عَلَی الَّذِینَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْأَرْ‌ضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِ‌ثِینَ
(ترجمہ: اور ہم چاہتے ہیں کہ ان لوگوں پر احسان کریں جنہیں زمین میں کمزور کر دیا گیا تھا اور انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں (زمین کا) وارث قرار دیں۔)

مہدویت کی بحث میں اس آیت سے استدلال کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگرچہ یہ آیت فرعنیوں کے مقابلے میں بنی‌ اسرائیل کی فتح اور کامیابی کے بارے میں نازل ہوئی ہے؛ لیکن حقیقت میں یہ آیت خدا کی ایک سنت کی طرف اشارہ کرتی ہے جو پوری تاریخ انسانیت میں چلی آرہی ہے؛ اس بنا پر یہ آیت امام زمانہ کے ظہور کے بعد آپ کی جہانی حکومت کو بھی شامل کرت ہے۔[18] تفسیر نمونہ کے مطابق یہ آیت تمام انسانوں کو یہ بشارت دیتی ہے حق ہمیشہ باطل پر فاتح قرار پائے گا اور آخر کار معاشرے کے کمزور اور مستضعف لوگ ہی زمین کے وارث قرار پائیں گے۔[19] امام علیؑ سے منقول ایک حدیث کے مطابق اس آیت کی بشارت میں اہل بیتؑ بھی شامل ہیں۔[20]

آیت نمبر 83

تِلْكَ الدَّارُ‌ الْآخِرَ‌ةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِ‌يدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْ‌ضِ وَلَا فَسَادًا ۚ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ
(ترجمہ: یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کیلئے قرار دیتے ہیں جو زمین میں تکبر و سرکشی اور فساد برپا کرنے کا ارادہ بھی نہیں کرتے اور (نیک) انجام تو پرہیزگاروں کے ہی لئے ہے۔)

یہ اور اس کے بعد والی آیت کو قارون کی داستان کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔[21] پرہیزگار اور متقی لوگوں کا نیک انجام جو لوگوں کو غیر خدا کی پیروی کرنے کی طرف دعوت نہیں دیتے، اس آیت کا اصل موضوع ہے جس میں قدرت و طاقت رکھنے کی باوجود تواضع سے پیش آنے والے لوگ بھی شامل ہیں۔[22]

آیت نمبر 88

وَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ‌ ۘ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ ۚ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْ‌جَعُونَ
(ترجمہ: و با خدا معبودی دیگر مخوان. خدایی جز او نیست. جز ذات او همه چیز نابودشونده است. فرمان از آنِ اوست. و به سوی او بازگردانیده می‌شوید.)

یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس دنیا میں خدا کے علاوہ ہر چیز کو موت کا مزا چکھنا ہے لیکن جو کام خدا کے لئے انجام دیا گیا ہو اس کا ثواب ختم نہیں ہو گا۔[23] علامہ طباطبایی اس آیت سے یہ نتیجہ لیتے ہیں کہ خدا کے علاوہ ہر چیز ممکن الوجود ہے جسے خدا نے وجود کی دولیت سے مالا مال کیا ہے ورگرنہ یہ اپنی ذات میں معدوم اور کچھ بھی نہیں تھی واحد ذات جس میں فنا اور نیستی کا کوئی تصور نہیں وہ خدا کی ذات ہے جو واجب الوجود بالذات ہے۔[24]

آیات الاحکام

سورہ قصص کی آیت نمبر 27: قَالَ إِنِّي أُرِ‌يدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَىٰ أَن تَأْجُرَ‌نِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ...؛(ترجمہ: اس (شعیب) نے (موسیٰ سے) کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی دو بیٹیوں میں سے ایک کا عقد نکاح تمہارے ساتھ اس شرط پر کر دوں کہ تم آٹھ سال تک میری خدمت کرو ..۔) کو اس سورت کے آیات الاحکام میں شمار کرتے ہیں۔ اس آیت سے اسلام میں اجارہ کی مشروعیت پر استدلال کیا جاتا ہے اور دوسری طرف سے اس آیت سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ شوہر کے کام کو بیوی کا حق مہر بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔[25]

فضیلت اور خواص

تفصیلی مضمون: فضائل سور

سورہ قصص کی تلاوت کے بارے میں امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ جو شخص شب جمعہ کو سورہ نمل، سورہ شعرا اور سورہ قصص کی تلاوت کرے، وہ خدا کا دوست قرار پائے گا اور خدا اپنی رحمت کے سایے میں اس کا حامی ہوگا، ایسا شخص دینا میں کبھی مشکلات اور سختیوں کا شکار نہیں ہو گا اور آخرت میں اس کی اپنی مرضی یا اس سے بھی بالاتر بہشت نصیب ہو گا۔[26] مجمع البیان میں پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوا ہے کہ: جو شخص سورہ قصص کی تلاوت کرے اس شخص کے لئے حضرت موسی کی تصدیق یا تکذیب کرنے والوں کی تعداد کے برابر ثواب دیا جائے گا۔[27]

متن اور ترجمہ

سورہ قصص
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

طسم ﴿1﴾ تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿2﴾ نَتْلُوا عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَى وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ﴿3﴾ إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءهُمْ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ ﴿4﴾ وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ ﴿5﴾ وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ ﴿6﴾ وَأَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّ مُوسَى أَنْ أَرْضِعِيهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ ﴿7﴾ فَالْتَقَطَهُ آلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًا إِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا كَانُوا خَاطِئِينَ ﴿8﴾ وَقَالَتِ امْرَأَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍ لِّي وَلَكَ لَا تَقْتُلُوهُ عَسَى أَن يَنفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ﴿9﴾ وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَى فَارِغًا إِن كَادَتْ لَتُبْدِي بِهِ لَوْلَا أَن رَّبَطْنَا عَلَى قَلْبِهَا لِتَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿10﴾ وَقَالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ فَبَصُرَتْ بِهِ عَن جُنُبٍ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ﴿11﴾ وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِن قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ يَكْفُلُونَهُ لَكُمْ وَهُمْ لَهُ نَاصِحُونَ ﴿12﴾ فَرَدَدْنَاهُ إِلَى أُمِّهِ كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿13﴾ وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَى آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴿14﴾ وَدَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلَى حِينِ غَفْلَةٍ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَذَا مِن شِيعَتِهِ وَهَذَا مِنْ عَدُوِّهِ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِن شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ فَوَكَزَهُ مُوسَى فَقَضَى عَلَيْهِ قَالَ هَذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِينٌ ﴿15﴾ قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴿16﴾ قَالَ رَبِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِّلْمُجْرِمِينَ ﴿17﴾ فَأَصْبَحَ فِي الْمَدِينَةِ خَائِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا الَّذِي اسْتَنصَرَهُ بِالْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُ قَالَ لَهُ مُوسَى إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِينٌ ﴿18﴾ فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَى أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ ﴿19﴾ وَجَاء رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَسْعَى قَالَ يَا مُوسَى إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَاخْرُجْ إِنِّي لَكَ مِنَ النَّاصِحِينَ ﴿20﴾ فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ﴿21﴾ وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاء مَدْيَنَ قَالَ عَسَى رَبِّي أَن يَهْدِيَنِي سَوَاء السَّبِيلِ ﴿22﴾ وَلَمَّا وَرَدَ مَاء مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ امْرَأتَيْنِ تَذُودَانِ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا قَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّى يُصْدِرَ الرِّعَاء وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ ﴿23﴾ فَسَقَى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّى إِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ ﴿24﴾ فَجَاءتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاء قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا فَلَمَّا جَاءهُ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ﴿25﴾ قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ ﴿26﴾ قَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَى أَن تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِندِكَ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ سَتَجِدُنِي إِن شَاء اللَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ ﴿27﴾ قَالَ ذَلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ وَاللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ ﴿28﴾ فَلَمَّا قَضَى مُوسَىالْأَجَلَ وَسَارَ بِأَهْلِهِ آنَسَ مِن جَانِبِ الطُّورِ نَارًا قَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي آنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّي آتِيكُم مِّنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ جَذْوَةٍ مِنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ ﴿29﴾ فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِي مِن شَاطِئِ الْوَادِي الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَى إِنِّي أَنَا اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ﴿30﴾ وَأَنْ أَلْقِ عَصَاكَ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّى مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ يَا مُوسَى أَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ إِنَّكَ مِنَ الْآمِنِينَ ﴿31﴾ اسْلُكْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاء مِنْ غَيْرِ سُوءٍ وَاضْمُمْ إِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذَانِكَ بُرْهَانَانِ مِن رَّبِّكَ إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ ﴿32﴾ قَالَ رَبِّ إِنِّي قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ ﴿33﴾ وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِي إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ ﴿34﴾ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَانًا فَلَا يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا بِآيَاتِنَا أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَالِبُونَ ﴿35﴾ فَلَمَّا جَاءهُم مُّوسَى بِآيَاتِنَا بَيِّنَاتٍ قَالُوا مَا هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَمَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي آبَائِنَا الْأَوَّلِينَ ﴿36﴾ وَقَالَ مُوسَى رَبِّي أَعْلَمُ بِمَن جَاء بِالْهُدَى مِنْ عِندِهِ وَمَن تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّارِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ﴿37﴾ وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ مَا عَلِمْتُ لَكُم مِّنْ إِلَهٍ غَيْرِي فَأَوْقِدْ لِي يَا هَامَانُ عَلَى الطِّينِ فَاجْعَل لِّي صَرْحًا لَّعَلِّي أَطَّلِعُ إِلَى إِلَهِ مُوسَى وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ مِنَ الْكَاذِبِينَ ﴿38﴾ وَاسْتَكْبَرَ هُوَ وَجُنُودُهُ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ إِلَيْنَا لَا يُرْجَعُونَ ﴿39﴾ فَأَخَذْنَاهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَ ﴿40﴾ وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يُنصَرُونَ ﴿41﴾ وَأَتْبَعْنَاهُمْ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ هُم مِّنَ الْمَقْبُوحِينَ ﴿42﴾ وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِن بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَى بَصَائِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ﴿43﴾ وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَى مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ ﴿44﴾ وَلَكِنَّا أَنشَأْنَا قُرُونًا فَتَطَاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ وَمَا كُنتَ ثَاوِيًا فِي أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا وَلَكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ ﴿45﴾ وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا وَلَكِن رَّحْمَةً مِّن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أَتَاهُم مِّن نَّذِيرٍ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ﴿46﴾ وَلَوْلَا أَن تُصِيبَهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَيَقُولُوا رَبَّنَا لَوْلَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَنَتَّبِعَ آيَاتِكَ وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿47﴾ فَلَمَّا جَاءهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا لَوْلَا أُوتِيَ مِثْلَ مَا أُوتِيَ مُوسَى أَوَلَمْ يَكْفُرُوا بِمَا أُوتِيَ مُوسَى مِن قَبْلُ قَالُوا سِحْرَانِ تَظَاهَرَا وَقَالُوا إِنَّا بِكُلٍّ كَافِرُونَ ﴿48﴾ قُلْ فَأْتُوا بِكِتَابٍ مِّنْ عِندِ اللَّهِ هُوَ أَهْدَى مِنْهُمَا أَتَّبِعْهُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿49﴾ فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ فَاعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَاءهُمْ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴿50﴾ وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ﴿51﴾ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿52﴾ وَإِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ ﴿53﴾ أُوْلَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَؤُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿54﴾ وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ ﴿55﴾ إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاء وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ﴿56﴾ وَقَالُوا إِن نَّتَّبِعِ الْهُدَى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَا أَوَلَمْ نُمَكِّن لَّهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ رِزْقًا مِن لَّدُنَّا وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿57﴾ وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا فَتِلْكَ مَسَاكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَن مِّن بَعْدِهِمْ إِلَّا قَلِيلًا وَكُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِينَ ﴿58﴾ وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِي أُمِّهَا رَسُولًا يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا وَمَا كُنَّا مُهْلِكِي الْقُرَى إِلَّا وَأَهْلُهَا ظَالِمُونَ ﴿59﴾ وَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى أَفَلَا تَعْقِلُونَ ﴿60﴾ أَفَمَن وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ ﴿61﴾ وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَائِيَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ ﴿62﴾ قَالَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هَؤُلَاء الَّذِينَ أَغْوَيْنَا أَغْوَيْنَاهُمْ كَمَا غَوَيْنَا تَبَرَّأْنَا إِلَيْكَ مَا كَانُوا إِيَّانَا يَعْبُدُونَ ﴿63﴾ وَقِيلَ ادْعُوا شُرَكَاءكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَرَأَوُا الْعَذَابَ لَوْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَهْتَدُونَ ﴿64﴾ وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِينَ ﴿65﴾ فَعَمِيَتْ عَلَيْهِمُ الْأَنبَاء يَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا يَتَسَاءلُونَ ﴿66﴾ فَأَمَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَعَسَى أَن يَكُونَ مِنَ الْمُفْلِحِينَ ﴿67﴾ وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاء وَيَخْتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴿68﴾ وَرَبُّكَ يَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ ﴿69﴾ وَهُوَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ وَلَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴿70﴾ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُم بِضِيَاء أَفَلَا تَسْمَعُونَ ﴿71﴾ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُم بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ﴿72﴾ وَمِن رَّحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿73﴾ وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَائِيَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ ﴿74﴾ وَنَزَعْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا فَقُلْنَا هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوا أَنَّ الْحَقَّ لِلَّهِ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ ﴿75﴾ إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَى فَبَغَى عَلَيْهِمْ وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ ﴿76﴾ وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ ﴿77﴾ قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَى عِلْمٍ عِندِي أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِ مِنَ القُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَأَكْثَرُ جَمْعًا وَلَا يُسْأَلُ عَن ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِمُونَ ﴿78﴾ فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ فِي زِينَتِهِ قَالَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ الْحَيَاةَ الدُّنيَا يَا لَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِيَ قَارُونُ إِنَّهُ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍ ﴿79﴾ وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ لِّمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الصَّابِرُونَ ﴿80﴾ فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ فَمَا كَانَ لَهُ مِن فِئَةٍ يَنصُرُونَهُ مِن دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ المُنتَصِرِينَ ﴿81﴾ وَأَصْبَحَ الَّذِينَ تَمَنَّوْا مَكَانَهُ بِالْأَمْسِ يَقُولُونَ وَيْكَأَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاء مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَوْلَا أَن مَّنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَا وَيْكَأَنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ ﴿82﴾ تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ﴿83﴾ مَن جَاء بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِّنْهَا وَمَن جَاء بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى الَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿84﴾ إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ قُل رَّبِّي أَعْلَمُ مَن جَاء بِالْهُدَى وَمَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿85﴾ وَمَا كُنتَ تَرْجُو أَن يُلْقَى إِلَيْكَ الْكِتَابُ إِلَّا رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ ظَهِيرًا لِّلْكَافِرِينَ ﴿86﴾ وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ آيَاتِ اللَّهِ بَعْدَ إِذْ أُنزِلَتْ إِلَيْكَ وَادْعُ إِلَى رَبِّكَ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿87﴾ وَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴿88﴾۔

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

طا۔ سین۔ میم۔ (1) یہ کتابِ مبین کی آیتیں ہیں۔ (2) ہم اہلِ ایمان کے فائدہ کیلئے موسیٰ و فرعون کی کچھ خبریں سچائی کے ساتھ آپ کے سامنے پڑھ کر سناتے ہیں۔ (3) بےشک فرعون زمین (مصر) میں سرکش ہوگیا تھا اور اس کے باشندوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا اور اس نے ان میں سے ایک گروہ کو کمزور بنا رکھا تھا (چنانچہ) ان کے بیٹوں کو ذبح کر دیتا تھا اور ان کی عورتوں (لڑکیوں) کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ بےشک وہ (زمین میں) فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔ (4) اور ہم چاہتے ہیں کہ ان لوگوں پر احسان کریں جنہیں زمین میں کمزور کر دیا گیا تھا اور انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں (زمین کا) وارث قرار دیں۔ (5) اور انہیں زمین میں اقتدار عطا کریں اور فرعون، ہامان اور ان کی فوجوں کو ان (کمزوروں) کی جانب سے وہ کچھ دکھلائیں جس سے وہ ڈرتے تھے۔ (6) اور ہم نے مادر موسیٰ کو وحی کی کہ اس (بچہ) کو دودھ پلا۔ اور جب اس کے متعلق خطرہ محسوس ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور (کسی قسم کا) خوف اور غم نہ کر، بلاشبہ ہم اسے تیری طرف واپس لوٹا دیں گے اور اسے رسولوں میں سے بنائیں گے۔ (7) چنانچہ فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے) اٹھا لیا تاکہ وہ ان کیلئے دشمن اور رنج و غم (کا باعث) بنے۔ بیشک فرعون، ہامان اور دونوں کے لشکر والے خطاکار (اور غلط کار) تھے۔ (8) اور فرعون کی بیوی نے (اس سے) کہا کہ یہ (بچہ) تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اسے قتل نہ کرو۔ ممکن ہے کہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لین اور انہیں (انجام کی) کچھ خبر نہ تھی۔ (9) اور مادرِ موسیٰ کا دل بے چین ہوگیا اور قریب تھا کہ وہ اس (بچہ) کا حال ظاہر کر دے۔ اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کرتے تاکہ وہ (ہمارے وعدہ پر) ایمان لانے والوں میں سے ہو۔ (10) اور ہم نے اس (بچہ) کی بہن سے کہا کہ تو اس کے پیچھے پیچھے جا۔ چنانچہ وہ دور سے اسے دیکھتی رہی جبکہ ان لوگوں کو خبر بھی نہ ہوئی۔ (11) اور ہم نے اس (بچہ) پر دائیوں کو پہلے سے حرام کر دیا تھا تو اس (بچہ کی بہن) نے کہا کیا میں تم لوگوں کو ایک ایسے گھرانے کا پتہ بتاؤں جو تمہارے لئے اس کی پرورش کرے؟ اور وہ اس کے خیرخواہ بھی ہوں؟ (12) اس طرح ہم نے وہ (بچہ) اس کی ماں کی طرف لوٹا دیا۔ تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی اور غمناک نہ ہو اور یہ بھی جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے لیکن اکثر لوگ (یہ بات) نہیں جانتے۔ (13) اور جب وہ (بچہ) اپنے پورے شباب کو پہنچ گیا اور (قد و قامت) پورا درست ہوگیا تو ہم نے اس کو (خاص) حکمت و علم عطا کیا اور ہم اسی طرح نیکوکاروں کو صلہ دیتے ہیں۔ (14) وہ (جوان) ایسے وقت شہر میں داخل ہوا جب کہ اس شہر کے باشندے بے خبر تھے۔ تو اس نے وہاں دو آدمیوں کو آپس میں لڑتے ہوئے پایا۔ یہ ایک ان کے گروہ میں سے تھا۔ اور یہ دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا پس جو اس کے گروہ میں سے تھا اس نے (موسیٰ) کو اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا مدد کیلئے پکارا تو موسیٰ نے اسے ایک مکا مارا۔ بس اس کا کام تمام کر دیا اور کہا یہ (ان کی لڑائی) شیطان کی کاروائی تھی۔ بےشک وہ کھلا ہوا گمراہ کرنے والا دشمن ہے۔ (15) کہا اے میرے پروردگار میں نے اپنے اوپر ظلم کیا تو مجھے بخش دے تو خدا نے اسے بخش دیا۔ بےشک وہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (16) (پھر) کہا اے میرے پروردگار تو نے مجھے اپنی نعمت سے نوازا ہے۔ میں کبھی مجرموں کا پشت پناہ نہیں بنوں گا۔ (17) پھر موسیٰ نے شہر میں اس حال میں صبح کی کہ وہ خوف زدہ اور منتظر تھا (کہ کیا ہوتا ہے؟) کہ اچانک دیکھا کہ وہی شخص جس نے کل اس سے مدد طلب کی تھی (آج پھر چیخ کر( اس کو مدد کیلئے پکار رہا ہے موسیٰ نے اس سے کہا کہ تو کھلا ہوا بد راہ ہے۔ (18) پھر جب موسیٰ نے اس شخص پر سخت ہاتھ ڈالنا چاہا جو ان دونوں کا دشمن تھا تو اس نے کہا اے موسیٰ تو (آج) مجھے اسی طرح قتل کرنا چاہتا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کیا؟ تو بس یہی چاہتا ہے کہ زمین میں سرکش بن جائے اور یہ نہیں چاہتا کہ اصلاح کرنے والوں میں سے ہو۔ (19) اور شہر کے آخری حصہ سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا (اور) کہا اے موسیٰ! قوم کے بڑے لوگ تمہارے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ تجھے قتل کر دیں۔ (لہٰذا) یہاں سے نکل جا یقیناً میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں۔ (20) چنانچہ موسیٰ وہاں سے خوفزدہ ہوکر نتیجہ کا انتظار کرتا ہوا نکلا (اور) کہا اے میرے پروردگار! مجھے ظالم لوگوں سے نجات عطا فرما۔ (21) اور جب موسیٰ نے (مصر سے نکل کر) مدین کا رخ کیا تو کہا امید ہے کہ میرا پروردگار سیدھے راستہ کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔ (22) اور جب وہ مدین کے پانی (کنویں) پر پہنچا تو وہاں لوگوں کا ایک مجمع پایا جو (اپنے مویشیوں کو) پانی پلا رہا ہے اور ان لوگوں سے الگ دو عورتوں کو پایا کہ وہ (اپنے ریوڑ کو) روکے ہوئے کھڑی ہیں۔ موسیٰ نے کہا تمہارا کیا معاملہ ہے؟ ان دونوں نے کہا ہم اس وقت تک (اپنے جانوروں کو) پانی نہیں پلاتیں جب تک (یہ) چرواہے اپنے مویشیوں کو (پانی پلا کر) نہ لے جائیں اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں۔ (23) (یہ سن کر) موسیٰ نے (ان کے ریوڑ کو) پانی پلا دیا اور پھر وہاں سے ہٹ کر سایہ میں آگیا اور کہا اے میرے پروردگار! تو جو خیر (نعمت) بھی مجھ پر اتارے میں اس کا محتاج ہوں۔ (24) پس ان دو عورتوں مین سے ایک شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی (اور) کہا میرے والد تمہیں بلاتے ہیں تاکہ تمہیں اس کا معاوضہ دیں جو تم نے ہماری خاطر پانی پلایا تو جب موسیٰ اس کے پاس پہنچا اور اسے سارا اپنا قصہ سنایا تو اس (بزرگ) نے (تسلی دیتے ہوئے) کہا خوف نہ کر اب تم ظالم لوگوں سے نجات پا گئے ہو۔ (25) تو ان دو میں سے ایک لڑکی نے کہا اے ابا! اس کو اجرت پر رکھ لیجئے کیونکہ اچھا مزدور جسے آپ اجرت پر رکھیں وہی ہے جو طاقت ور بھی ہو اور امانت دار بھی۔ (26) اس (شعیب) نے (موسیٰ سے) کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی دو بیٹیوں میں سے ایک کا عقد نکاح تمہارے ساتھ اس شرط پر کر دوں کہ تم آٹھ سال تک میری خدمت کرو اور اگر دس سال پورے کرو تو یہ تمہاری طرف سے (احسان) ہے اور میں تم پر کوئی سختی نہیں کرنا چاہتا۔ ان شاء اللہ تم مجھے نیکوکار لوگوں میں سے پاؤگے۔ (27) موسیٰ نے کہا (اچھا) یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی۔ ان دونوں میں سے میں جو مدت بھی پوری کر دوں (اس کے بعد) مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہوگی اور ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے۔ (28) پھر جب موسیٰ نے (مقررہ) مدت پوری کر دی اور اپنے اہل و (عیال) کو ساتھ لے کر مصر روانہ ہوئے تو طور کی جانب سے آگ محسوس کی تو گھر والوں سے کہا کہ تم ٹھہرو میں نے آگ محسوس کی ہے شاید میں تمہارے پاس (وہاں سے) کوئی خبر لاؤں یا آگ کا کوئی انگارہ لاؤں تاکہ تم تاپو۔ (29) تو جب آپ وہاں گئے تو اس وادی کے داہنے کنارے سے اس مبارک مقام پر درخت سے انہیں ندا دی گئی اے موسیٰ! میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔ (30) اور یہ کہ تم اپنا عصا پھینک دو تو جب اسے دیکھا کہ اس طرح حرکت کر رہا ہے جیسے وہ سانپ ہے تو وہ منہ موڑ کر الٹے مڑے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (آواز آئی) اے موسیٰ! آگے آؤ۔ اور ڈرو نہیں تم (ہر طرح) امن میں ہو۔ (31) (اور) اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ بغیر کسی تکلیف (اور بیماری) کے سفید چمکتا ہوا نکلے گا اور رفع خوف کیلئے اپنا بازو اپنی طرف سمیٹ لو یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے دو نشانیاں ہیں فرعون اور اس کے سرداروں کے سامنے پیش کرنے کیلئے۔ بیشک وہ (بڑے) نافرمان لوگ ہیں۔ (32) موسیٰ نے کہا اے میرے پروردگار! میں نے ان کا ایک آدمی قتل کیا تھا ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔ (33) اور میرا بھائی ہارون جو مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے تو اسے میرا مددگار بنا کر میرے ساتھ بھیج تاکہ وہ میری تصدیق کرے کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے۔ (34) ارشاد ہوا: ہم تمہارے بازو کو تمہارے بھائی کے ذریعہ سے مضبوط کریں گے اور ہم تم دونوں کو غلبہ عطا کریں گے کہ وہ تم تک پہنچ بھی نہیں سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کی برکت سے تم اور تمہارے پیروکار ہی غالب آئیں گے۔ (35) تو جب موسیٰ ان لوگوں کے پاس کھلی ہوئی نشانیوں کے ساتھ آئے تو انہوں نے کہا یہ نہیں ہے مگر گھڑا ہوا جادو اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ داداؤں کے زمانہ میں بھی نہیں سنیں۔ (36) اور موسیٰ نے کہا میرا پروردگار بہتر جانتا ہے کہ اس کی طرف سے کون ہدایت لے کر آیا ہے اور کس کیلئے دار آخرت کا انجام بخیر ہے؟ بیشک ظالم لوگ کبھی فلاح نہیں پاتے۔ (37) اور فرعون نے کہا اے سردارو! میں تو اپنے سوا تمہارے لئے کوئی خدا نہیں جانتا تو اے ہامان! تو میرے لئے مٹی کو آگ میں پکا (مٹی کو کچی اینٹوں کو پکوا) پھر میرے لئے ایک بلند عمارت بنوا۔ تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) موسیٰ کے خدا کا کوئی سراغ لگا سکوں اور میں تو اسے (اس دعویٰ میں) جھوٹا ہی خیال کرتا ہوں۔ (38) اور فرعون اور اس کی فوجوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے۔ (39) سو ہم نے اسے اور اس کی فوجوں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا تو دیکھو ظالموں کا کیسا انجام ہوا؟ (40) اور ہم نے انہیں ایسا پیشوا قرار دیا ہے جو (لوگوں کو) آتش (دوزخ) کی طرف بلاتے ہیں اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہ کی جائے گی۔ (41) اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے اور قیامت کے دن قبیح المنظر لوگوں میں سے ہوں گے۔ (42) اور پہلی امتوں کو ہلاک کرنے کے بعد بالیقین ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی جو لوگوں کیلئے بصیرتوں کا مجموعہ اور سراپا ہدایت و رحمت تھی تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (43) اور (اے رسول(ص)) آپ (کوہِ طور کی) مغربی جانب موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ سے (نبوت و رسالت) کا معاملہ طے کیا تھا اور نہ ہی آپ وہاں حاضرین میں سے تھے۔ (44) لیکن ہم نے (اس اثناء میں) کئی نسلیں پیدا کیں اور ان پر زمانہ دراز گزر گیا ہے (اور ہمارے عہد و پیمان کو بھلا دیا) اور نہ ہی آپ مدین والوں میں مقیم تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے لیکن ہم (آپ کو) رسول بنا کر بھیجنے والے تھے (اس لئے ان کے حالات سے آپ کو آگاہ کیا)۔ (45) اور نہ آپ کوہ طور کے دامن میں موجود تھے جب ہم نے (موسیٰ کو) ندا دی تھی لیکن یہ (آپ کا مبعوث برسالت ہونا) آپ کے پروردگار کی رحمت ہے تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جس کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (46) (اور شاید ہم رسول نہ بھیجتے) اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اگر ان کے کرتوتوں کی پاداش میں انہیں کوئی مصیبت پہنچے تو وہ یہ نہ کہنے لگ جائیں کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ہم ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔ (47) جب ہماری طرف سے ان کے پاس حق آگیا (آخری برحق رسول آگیا) تو کہنے لگے اس (رسول) کو وہ کچھ کیوں نہ دیا گیا جو موسیٰ کو دیا گیا تھا کیا انہوں نے اس کا انکار نہیں کیا تھا؟ وہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں جادوگر ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور کہتے تھے کہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں۔ (48) آپ کہیے! کہ تم سچے ہو تو اللہ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لاؤ جو ان دونوں (توراۃ، قرآن) سے زیادہ ہدایت کرنے والی ہو تو میں اسی کی پیروی کروں گا۔ (49) اور اگر وہ آپ کی یہ بات قبول نہ کریں تو پھر سمجھ لیں کہ وہ صرف اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش نفس کی پیروی کرے؟ بےشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا۔ (50) اور ہم نے ان کیلئے کلام (ہدایت نظام) کا تسلسل جاری رکھا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (51) جن کو ہم نے اس (نزولِ قرآن) سے پہلے کتاب عطا کی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ (52) اور جب یہ (قرآن) ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے بےشک یہ ہمارے پروردگار کی طرف سے حق ہے اور ہم تو اس سے پہلے ہی مسلم (اسے ماننے والے) ہیں۔ (53) یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر و ثبات کی وجہ سے دوہرا اجر عطا کیا جائے گا اور وہ برائی کا دفعیہ بھلائی سے کرتے ہیں اور ہم نے انہیں جو رزق دے رکھا ہے وہ اس میں سے (راہِ خدا میں) خرچ کرتے ہیں۔ (54) اور وہ جب کوئی فضول بات سنتے ہیں تو اس سے روگردانی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے! تم کو سلام! ہم جاہلوں کو پسند نہیں کرتے۔ (55) (اے رسول(ص)) آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں کر سکتے لیکن اللہ جسے چاہتا ہے اسے ہدایت دے دیتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو بہتر جانتا ہے۔ (56) اور وہ (کفارِ مکہ) کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو ہمیں اپنی سر زمین سے اچک لیا جائے گا (یہاں سے نکال دیا جائے گا) کیا ہم نے ان کو ایسے امن والے محترم مقام میں جگہ نہیں دی؟ جہاں ہماری طرف سے رزق کے طور پر ہر قسم کے پھل لائے جاتے ہیں مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ (57) اور ہم نے کتنی ہی ایسی بستیاں ہلاک کر دیں جو اپنی معیشت (خوشحالی) پر اترا گئی تھیں (دیکھو) یہ ان کے مکانات ہیں جو (اجڑے) پڑے ہیں جو ان کے بعد کم ہی آباد ہوئے ہیں آخرکار ہم ہی وارث ہیں۔ (58) اور آپ کا پروردگار بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں ہے جب تک ان کے مرکزی مقام میں کوئی رسول نہ بھیج دے جو ہماری آیتوں کی تلاوت کرے اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں ہیں جب تک ان کے باشندے ظالم نہ ہوں۔ (59) اور تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے یہ محض زندگانی دنیا کا سرمایہ ہے اور اسی کی زیب و زینت اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور زیادہ پائیدار بھی تم عقل سے کیوں کام نہیں لیتے۔ (60) کیا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہے اور وہ اسے پانے والا بھی ہے۔ اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جسے ہم نے صرف دنیوی زندگانی کا (چند روزہ) سامان دیا ہے۔ اور پھر قیامت کے دن (سزا کیلئے پکڑ کر) حاضر کیا جائے گا۔ (61) اور (وہ دن یاد رکھو) جس دن اللہ انہیں پکارے گا اور فرمائے گا (آج) کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کو تم (میرا شریک) گمان کرتے تھے۔ (62) جن پر خدا کا حکم (عذاب) نافذ ہو چکا ہوگا۔ کہیں گے اے ہمارے پروردگار! یہ ہیں وہ لوگ جنہیں ہم نے گمراہ کیا تھا ہم نے انہیں اسی طرح گمراہ کیا تھا جیسے ہم خود گمراہ تھے (اب) ہم تیری بارگاہ میں (ان سے) برأت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ہماری پرستش نہیں کیا کرتے تھے۔ (63) پھر (ان سے) کہا جائے گا کہ اپنے (مزعومہ) شریکوں کو بلاؤ چنانچہ وہ انہیں پکاریں گے مگر وہ انہیں کوئی جواب نہیں دیں گے۔ اور عذاب کو دیکھیں گے (اس پر وہ تمنا کریں گے کہ) کاش وہ ہدایت یافتہ ہوتے۔ (64) اور (وہ دن یاد کرو) جس دن اللہ انہیں پکارے گا اور کہے گا کہ تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا تھا؟ (65) اس دن ان پر خبریں تاریک ہو جائیں گی (کوئی جواب نہ بن پڑے گا) اور نہ ہی یہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ گچھ کر سکیں گے۔ (66) البتہ جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو امید ہے کہ وہ فلاح پانے والوں میں سے ہوگا۔ (67) اور (اے رسول) آپ کا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) منتخب کرتا ہے لوگوں کو کوئی اختیار نہیں ہے اللہ پاک ہے اور جو وہ شرک کرتے ہیں وہ اس سے بلند و برتر ہے۔ (68) اور آپ کا پروردگار جانتا ہے وہ جو کچھ ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں اور وہ بھی جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ (69) وہی (ایک) اللہ ہے اس کے سوا کوئی اللہ نہیں ہے اسی کیلئے ہر قسم کی تعریف ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اسی کی حکومت (فرمانروائی) ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔ (70) آپ کہئے آیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر رات مقرر (مسلط) کر دے تو اللہ کے سوا کون الہ ہے جو تمہارے پاس روشنی لائے؟ کیا تم سنتے نہیں ہو؟ (71) اور کہئے! آیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ اگر قیامت تک تم پر دن مقرر (مسلط) کر دے تو اللہ کے سوا کون الٰہ ہے جو تمہارے پاس رات لائے جس میں تم آرام کرو کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ (72) اور اس نے اپنی (خاص) رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے تاکہ (رات میں) آرام کرو۔ اور (دن میں) اس کا فضل (روزی) تلاش کرو اور تاکہ تم شکر گزار بنو۔ (73) اور (یاد کرو) وہ دن جس میں اللہ ان (مشرکین) کو پکارے گا اور کہے گا کہاں ہیں میرے شریک جن کے متعلق تم گمان فاسد کیا کرتے تھے۔ (74) اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکال کر لائیں گے پھر ان سے کہیں گے کہ اپنی دلیل و برہان لاؤ تب انہیں معلوم ہوگا کہ حق اللہ ہی کیلئے ہے اور وہ جو افتراء پردازیاں کیا کرتے تھے وہ سب ان سے غائب ہو جائیں گی۔ (75) بےشک قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا پھر وہ ان کے خلاف سرکش ہوگیا۔ اور ہم نے اسے اتنے خزانے عطا کئے تھے کہ اس کی چابیاں ایک طاقتور جماعت کو بھی گرانبار کر دیتی تھیں (اس سے مشکل سے اٹھتی تھیں) جبکہ اس کی قوم نے اس سے کہا کہ (اپنی منزلت پر) مت اترا بےشک اللہ اترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (76) اور اللہ نے تجھے جو کچھ (مال و زر) دیا ہے۔ اس سے آخرت کے گھر کی جستجو کر اور دنیا سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔ اور جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی اسی طرح (اس کے بندوں کے ساتھ) احسان کر۔ اور زمین میں فساد برپا کرنے کی خواہش نہ کر یقیناً اللہ فساد برپا کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (77) قارون نے کہا کہ مجھے جو کچھ (مال و منال) ملا ہے وہ اس (خاص) علم کی بدولت ملا ہے جو میرے پاس ہے کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ اللہ نے اس سے پہلے بہت سی ایسی نسلوں کو ہلاک کر دیا ہے جو قوت میں اس سے سخت تر اور جمعیت میں زیادہ تھیں اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں سوال نہیں کرنا پڑتا۔ (78) وہ (ایک دن) اپنی قوم کے سامنے اپنی زیب و زینت کے ساتھ نکلا تو جو لوگ دنیاوی زندگی کے طلبگار تھے وہ کہنے لگے کہ کاش ہمیں بھی وہ (ساز و سامان) ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ بیشک وہ بڑا نصیب والا ہے۔ (79) اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا انہوں نے کہا وائے ہو تم پر! جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرے اس کیلئے اللہ کا صلہ و ثواب اس سے بہتر ہے اور یہ (حکمت و منزلت) صرف صبر و ثبات کرنے والوں کو مرحمت کی جاتی ہے۔ (80) پھر ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا سو نہ اس کے حامیوں کی کوئی جماعت تھی جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتی اور نہ ہی وہ اپنی مدد آپ کر سکا۔ (81) اور وہ لوگ جو کل اس کے جاہ و مرتبہ کی تمنا کر رہے تھے اب کہنے لگے افسوس (اب پتہ چلا) کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کر دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ اگر اللہ ہم پر (تنگدست بنا کر) احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا اور کافر کبھی فلاح نہیں پاتے۔ (82) یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کیلئے قرار دیتے ہیں جو زمین میں تکبر و سرکشی اور فساد برپا کرنے کا ارادہ بھی نہیں کرتے اور (نیک) انجام تو پرہیزگاروں کے ہی لئے ہے۔ (83) جو کوئی بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر صلہ ملے گا اور جو کوئی برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگوں کو جو برائیاں کرتے ہیں تو انہیں بدلہ بھی اتنا ہی ملے گا جتنا وہ (برائی) کرتے تھے۔ (84) (اے رسول(ص)) جس (خدا) نے آپ پرقرآن (کا پہنچانا) فرض کیا ہے وہ آپ کو واپسی کی منزل (مکہ) تک پھر پہنچا کر رہے گا۔ آپ کہئے! میرا پروردگار بہتر جانتا ہے کہ ہدایت لے کر کون آیا ہے اور کھلی ہوئی گمراہی میں کون ہے؟ (85) اور آپ کو اس بات کی امید نہیں تھی کہ آپ پر (یہ) کتاب نازل کی جائے گی۔ یہ تو بس آپ کے پروردگار کی رحمت ہے۔ لہٰذا آپ بھی کافروں کے پشت پناہ نہ بنئے گا۔ (86) اور (خیال رکھنا) کہ یہ لوگ آپ کو اللہ کی آیتوں (کی تبلیغ) سے کہیں روک نہ دیں بعد اس کے کہ وہ آپ پر نازل ہو چکی ہیں اور آپ اپنے پروردگار کی طرف (لوگوں کو) بلائیں اور ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہونا۔ (87) اور اللہ کے ساتھ کسی اور الٰہ کو نہ پکاریں اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ہر شئ ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کے وجہ (ذات) کے اسی کی حکومت (اور فرمانروائی) ہے اور اسی کی طرف تم (سب) لوٹائے جاؤگے۔ (88)

پچھلی سورت: سورہ نمل سورہ قصص اگلی سورت:سورہ عنکبوت

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. خرمشاہی، «سورہ قصص»، ص۱۲۴۵۔
  2. صفوی، «سورہ قصص»، ص۷۸۸۔
  3. صفوی، «سورہ قصص»، ص۷۸۸۔
  4. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۶۔
  5. خرمشاہی، «سورہ قصص»، ص۱۲۴۵۔
  6. صفوی، «سورہ قصص»، ص۷۸۸۔
  7. رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۸۷ش، ص۵۹۷۔
  8. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۶، ص۶۔
  9. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۶، ص۶۔
  10. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۶، ص۶-۷؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۶، ص۶۔
  11. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  12. واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱، ص۳۴۷.
  13. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ح۷، ص۴۰۶.
  14. طوسی، التبیان،‌دار احیا التراث العربی، ج۸، ص۱۶۴؛ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۶، ص۵۷؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۶، ص۱۲۰-۱۲۵
  15. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۷، ص۴۰۶؛ واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ق، ص۳۴۸.
  16. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۷، ص۴۰۸؛ واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ق، ص۳۴۸.
  17. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ح۷، ص۴۰۸.
  18. رضایی اصفہانی، آیات مہدویت در قرآن از منظر احادیث تفسیری، ۱۳۸۹ش، ص۱۳۱.
  19. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۶، ص۱۷.
  20. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۷، ۳۷۵.
  21. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۶، ص۸۱.
  22. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۷،‌ ص۴۲۰.
  23. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۷، ص۴۲۱.
  24. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۶، ص۹۰-۹۱.
  25. اردبیلی، زبدۃ البیان فی احکام القرآن، مکتبۃ المرتضویہ، ص۴۶۵.
  26. صدوق، ثواب الأعمال، ۱۴۰۶ق، ص۱۰۹.
  27. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۷، ص۳۷۳.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • اردبیلی، احمد بن محمد، زبدۃ البیان فی احکام القرآن، محقق محمدباقر بہبودی، تہران، مکتبہ المرتضویہ، بی تا۔
  • خرمشاہی، بہاء الدین، دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، تہران: دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • راميار، محمود، تاريخ قرآن،تہران، انتشارات امير کبير،۱۳۸۷ش
  • رضایی اصفہانی، محمدعلی، «آیات مہدویت در قرآن از منظر احادیث تفسیری»، مطالعات تفسیری، ش۴، ۱۳۸۹ش۔
  • صدوق، ابن بابویہ، محمد بن علی، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال‏، قم: دار الشریف رضی، ۱۴۰۶ق۔
  • صفوی، سلمان، «سورہ قصص»، در دانشنامہ معاصر قرآن کریم، قم، انتشارات سلمان آزادہ، ۱۳۹۶ش۔
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۰ق۔
  • طبرسى، فضل بن حسن، مجمع البيان فى تفسير القرآن، تہران: ناصرخسرو، ۱۳۷۲ش۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبيان في تفسير القرآن‏، بیروت، دار احیا التراث العربی، بی تا۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چ۱، ۱۳۷۱ش۔
  • مكارم شيرازى، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران: دار الكتب الإسلاميۃ، ۱۳۷۱ش۔
  • واحدی، علی بن احمد، اسباب نزول القرآن‏، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۱ق۔

بیرونی روابط