سورہ نازعات

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
نباء سورۂ نازعات عبس
سوره نازعات.jpg
ترتیب کتابت: 79
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 81
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 46
الفاظ: 185
حروف: 815

سورہ نازعات قرآن کریم کی 79ویں اور مَکّی سورتوں میں سے ہے اور یہ تیسویں پارے میں واقع ہے۔ اس سورہ کی ابتداء میں خدا نے "نازعات" کی قسم کھائی ہے اسی مناسبت سے اس کا نام "نازعات" رکھا گیا ہے۔ نازعات سے مراد جان لینے والے فرشتوں کے ہیں۔ سورہ نازعات میں قیامت اور اس کے ہولناک مناظر نیز اس دن نیکوکاروں اور بدکاروں کے انجام سے متعلق گفتگو ہوتی ہے۔ اسی ضمن میں حضرت موسی اور فرعون کےانجام کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے۔ اس سورت کے آخر میں اس بات پر تاکید کی جاتی ہے کہ قیامت کب واقع ہو گی اس بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں ہے۔ سورہ نازعات میں دَحْوُ الارض (زمین کے پھیلاؤ) کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ احادیث میں آیا ہے کہ جس جگہ سے زمین کا پھیلاؤ شروع ہوا وہ مکہ یا کعبہ تھا۔ اس سورت کی تلاوت کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوئی ہے کہ جو شخص سورہ نازعات کی تلاوت کرے قیامت کے دن حساب و کتاب کیلئے اسے ٹہرانے کا وقت صرف ایک واجب نماز کے وقت کے برابر ہو گا۔

تعارف

  • نام

اس سورہ کی ابتداء میں خدا نے "نازعات" کی قسم کھائی ہے اسی مناسبت سے اس کا نام "نازعات" رکھا گیا ہے۔[1] نازعات سے مراد جان لینے والے فرشتوں کے ہیں۔[2]

  • ترتیب اور محل نزول

سورہ نازعات مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے 81ویں جبکہ مُصحَف کی موجودہ ترتیب کے اعتبار سے 7ویں سورہ ہے[3] جو قرآن کے تیسویں پارے میں واقع ہے۔

  • آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ نازعات 46 آیات، 133 کلمات اور 553 حروف پر مشتمل ہے۔ حجم اور آیتوں کے اختصار کے اعتبار سے اس کا شمار مفصلات میں ہوتا ہے۔ یہ سورت قسم سے شروع ہونے والی سورتوں میں سے ہے اور اس میں پے در پے پانچ قسمیں کھائی گئی ہیں۔[4]

مضامین

تفسیر نمونہ کے مطابق سورہ نازعات کے مضامین کو چھ(6) حصوں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے:

  1. قیامت کے واقع ہونے پر متعدد قسموں کے ذریعے تاکید؛
  2. قیامت کے ہولناک اور وحشتناک مناظر کی طرف اشاره؛
  3. حضرت موسی کی داستان اور فرعون کے انجام کی طرف مختصر اشارہ جو پیغمبر اکرمؐ اور مؤمنین کی تسلی اور مشرکین کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے اور اس بات کی طرف بھی اشاره ہے کہ معاد کا انکار انسان کو مختلف گناہوں میں مبتلا کر دیتا ہے؛
  4. زمین و آسمان میں خدا کی قدرت کی نشانیوں کا بیان جو معاد اور موت کے بعد کی زندگی پر واضح دلیل ہے؛
  5. قیامت کے بعض اور حوادث، طغیان‌گروں کے انجام اور نیکوکاروں کے انعامات کی طرف اشارہ؛
  6. قیامت کب واقع ہوگی، اس بارے میں کسی کو حتمی علم نہ ہونے پر تاکید لیکن یہ بات مسلم ہے کہ اس کا وقوع بہت قریب ہے۔[5]
سورہ نازعات کے مضامین[6]
 
 
 
 
 
 
 
 
قیامت کے دن کے بارے میں کافروں کے شبہات کے جوابات
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا شبہہ: آیہ ۴۲-۴۶
قیامت کب ہوگی؟
 
تیسرا شبہہ: آیہ ۲۷-۴۱
یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان دوبارہ خلق ہوجائے؟
 
دوسرا شبہہ: آیہ ۱۵-۲۶
فرعون جیسے طاقتور لوگوں کو عذاب دینا کیسے ممکن ہے؟
 
پہلا شبہہ: آیہ ۱۰-۱۴
بوسیدہ ہڈیاں کیسے زندہ ہونگی؟
 
مقدمہ: آیہ ۱-۹
قیامت کا وقوع اور کافروں کی ذلت کا حتمی ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا جواب: آیہ ۴۲-۴۵
قیامت کے بارے میں صرف خدا کو علم ہے
 
پہلا مطلب: آیہ ۲۷-۳۳
انسان کو خلق کرنا آسمان اور زمین خلق کرنے سے زیادہ مشکل نہیں
 
پہلا مطلب: آیہ ۱۵-۲۰
فرعون کو موسی کی طرف سے اللہ کی بندگی کی دعوت
 
پہلا مطلب: آیہ: ۱۰-۱۲
بوسیدہ ہڈیوں کی دوبارہ حیات سے انکار
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پاسخ دوم: آیہ ۴۶
قیامت کے بارے میں کافر جو سوچتے ہیں اس سے جلدی واقع ہوگی
 
دوسرا مطلب: آیہ ۳۴-۴۱
قیامت میں کافروں کو سزا اور مومنوں کو اجر دینا حتمی ہے
 
دوسرا مطلب: آیہ ۲۱-۲۴
موسی کی دعوت سے فرعون کی سرکشی فرعون در برابر دعوت موسی
 
دوسرا مطلب: آیہ ۱۳-۱۴
اللہ کے ایک ہی حکم سے انسان کی دوبارہ حیات
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب: آیہ ۲۵-۲۶
فرعون کو دنیوی اور اخروی عذاب


زمین کا پھیلاؤ(دَحْوُ الارض)

تفصیلی مضمون: دحو الارض

سورہ نازعات کی تیسویں آیت میں زمین کے پھیلائے جانے (دَحْوُ الارض) کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ زمین کے پھیلائے جانے سے مراد خشکی کا پانی کے اندر سے باہر نکل آنے کے ہیں۔[7] بعض احادیث اور قدیم اسلامی منابع کے مطابق زمین شروع میں پانی کے اندر تھی؛ اس کے بعد خشکی‌ پانی کے اندر سے باہر آگئی۔[8] بعض احادیث اور تاریخی کتابوں میں آیا ہے کہ زمین کا وہ حصہ جو سب سے پہلے پانی کے اندر سے باہر آیا وہ مکہ یا کعبہ تھا۔[9] احادیث اور فقہی کتابوں کے مطابق دحو الارض کی تاریخ 25 ذی‌القعدہ ہے جس دن روزہ رکھنا مستحب ہے۔[10]

آیات مشہورہ

  • فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ(ترجمہ: پس جس شخص نے سرکشی کی ہوگی۔ اور (آخرت پر) دنیٰوی زندگی کو ترجیح دی ہوگی۔ تو اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا۔ اور جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری سے ڈرتا رہا ہوگا اور (اپنے) نفس کو (اس کی) خواہش سے روکا ہوگا۔ تو اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔) (آیت نمبر 37-41)

ان آیات میں جہنمیوں اور بہشتیوں کے اوصاف اور انجام بیان ہوئی ہیں۔ ان آیات کی تفسیر میں آیا ہے کہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا اور ہوای نفس کی پیروی کرنا خداوند عالم کے مقابلے میں سرکشی کی علامت ہے اور ہوای نفس سے مقابلہ کرنا خدا کے مقام و منزلت سے ترس اور خوف کی علامت ہے۔[11] اسی طرح کہا گیا ہے کہ خدا کی نافرمانی کی عمدہ دلیل انسان کا غرور اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنا ہے جس کی علت خدا کی شناخت سے عاری ہونا ہے۔ اس کے مقابلے میں خدا کی معرفت خدا سے خوف و ترس اور ہوای نفس پر تسلط کا موجب بنتا ہے۔[12] امام صادقؑ سے مروی احادیث میں آیت "مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ" کے بارے میں آیا ہے: جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ وہ انجام دیتا ہے اسے خدا دیکھ رہا ہوتا ہے اور جو کچھ وہ کہتا ہے اسے خدا سن رہا ہوتا ہے، یہی چیز اسے برائی کی انجام دہی سے روکنے کیلئے کافی ہے، یہ وہی شخص ہے جو خدا وندعالم سے ڈرتا ہے۔[13]

فضیلت اور خواص

احادیث میں سورہ تازعات کی تلاوت کیلئے بہت زیادہ فضیلت نقل ہوئی ہے من جملہ یہ کہ قیامت کے دن سورہ نازعات کی تلاوت کرنے والے کا بہشت میں جانے کیلئے حساب و کتاب کیلئے کا وقت صرف ایک واجب نماز کے وقت کے برابر ہو گا،[14] یہ شخص قبر اور قیامت کے دن تنہا نہیں ہو گا اور یہ سورہ اس کا مونس ہو گا یہاں تک کہ یہ شخص بہشت میں داخل ہوگا،[15] یہ شخص اس دنیا سے سیراب ہو کر مرے گا، سیراب مبعوث ہوگا اور سیراب بہشت میں داخل ہو گا۔[16] اسی طرح بعض احادیث میں اس سورت کے بعض خواص بیان ہوئی ہیں مثلا یہ کہ دشمن کے ساتھ رویارویی کے وقت دشمن کی دید سے مخفی رہنا، اشرار کی شر سے محفوظ رہنا[17] اور بدن سے زہر کا دفع ہونا وغیره ہیں۔[18]

متن اور ترجمہ

سورہ نازعات
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا ﴿1﴾ وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا ﴿2﴾ وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا ﴿3﴾ فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا ﴿4﴾ فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا ﴿5﴾ يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ ﴿6﴾ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ ﴿7﴾ قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ ﴿8﴾ أَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ ﴿9﴾ يَقُولُونَ أَئِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ ﴿10﴾ أَئِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً ﴿11﴾ قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ ﴿12﴾ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ ﴿13﴾ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ ﴿14﴾ هَلْ أتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى ﴿15﴾ إِذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ﴿16﴾ اذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى ﴿17﴾ فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَى أَن تَزَكَّى ﴿18﴾ وَأَهْدِيَكَ إِلَى رَبِّكَ فَتَخْشَى ﴿19﴾ فَأَرَاهُ الْآيَةَ الْكُبْرَى ﴿20﴾ فَكَذَّبَ وَعَصَى ﴿21﴾ ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَى ﴿22﴾ فَحَشَرَ فَنَادَى ﴿23﴾ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى ﴿24﴾ فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَى ﴿25﴾ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَى ﴿26﴾ أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاء بَنَاهَا ﴿27﴾ رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا ﴿28﴾ وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا ﴿29﴾ وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا ﴿30﴾ أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءهَا وَمَرْعَاهَا ﴿31﴾ وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا ﴿32﴾ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ ﴿33﴾ فَإِذَا جَاءتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَى ﴿34﴾ يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ مَا سَعَى ﴿35﴾ وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِمَن يَرَى ﴿36﴾ فَأَمَّا مَن طَغَى ﴿37﴾ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ﴿38﴾ فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَى ﴿39﴾ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى ﴿40﴾ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى ﴿41﴾ يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ﴿42﴾ فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا ﴿43﴾ إِلَى رَبِّكَ مُنتَهَاهَا ﴿44﴾ إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَاهَا ﴿45﴾ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا ﴿46﴾


(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

قَسم ہے ان (فرشتوں) کی جو (جسم میں ڈوب کر) سختی سے (جان) کھینچتے ہیں۔ (1) اور قَسم ہے آہستگی اور آسانی سے (جان) نکالنے والوں کی۔ (2) اور قَسم ہے (فضاؤں کے اندر) تیر نے پھرنے والوں کی۔ (3) پھر قَسم ہے (تعمیلِ حکم میں) ایک دوسرے پر سبقت لے جانے والوں کی۔ (4) پھر قَسم ہے ہر امر کا بندوبست کرنے والوں کی (کہ قیامت برحق ہے)۔ (5) جس دن تھرتھرانے والی (زمین وغیرہ) تھرتھرائے گی۔ (6) اس کے پیچھے ایک اور آنے والی (مصیبت) آئے گی۔ (7) کچھ دل اس دن کانپ رہے ہوں گے۔ (8) ان کی آنکھیں (شدتِ خوف سے) جھکی ہوئی ہوں گی۔ (9) وہ (کافر لوگ) کہتے ہیں کیا ہم پہلی حالت میں (الٹے پاؤں) واپس لائے جائیں گے؟ (10) کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے؟ (11) کہتے ہیں یہ (واپسی) تو بڑے گھاٹے کی ہوگی۔ (12) حالانکہ اس (واپسی) کیلئے ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی۔ (13) پھر وہ کھلے ہوئے میدان (قیامت) میں موجود ہوں گے۔ (14) (اے رسول(ص)) کیا آپ(ص) کو موسیٰ(ع) کے قصہ کی خبر پہنچی ہے؟ (15) جب ان کے پروردگار نے طویٰ کی مقدس وادی میں انہیں پکارا تھا۔ (16) کہ جاؤ فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔ (17) پس اس سے کہو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے؟ (18) اور (کیا تو چاہتا ہے کہ) میں تیرے پروردگار کی طرف تیری راہنمائی کروں تو تُو (اس سے) ڈرے؟ (19) پس موسیٰ(ع) نے (وہاں جا کر) اسے ایک بہت بڑی نشانی دکھائی۔ (20) تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی۔ (21) پھر وہ پلٹا (اور مخالفانہ سرگرمیوں میں) کوشاں ہو گیا۔ (22) یعنی (لوگوں کو) جمع کیا اور پکار کر کہا۔ (23) کہ میں تمہارا سب سے بڑا پرورگار ہوں۔ (24) پس اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے (دوہرے) عذاب میں پکڑا۔ (25) بےشک اس (قصہ) میں بڑی عبرت ہے ہر اس شخص کیلئے جو (خدا سے) ڈرے۔ (26) کیا تم لوگوں کا (دوبارہ) پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے؟ یا آسمان کا؟ اللہ نے اس کو بنایا۔ (27) اور اس کی چھت کو بلند کیا پھر اس کو درست کیا۔ (28) اور اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو ظاہر کیا۔ (29) اس کے بعد زمین کو بچھایا۔ (30) اور اس سے اس کا پانی اور چارہ نکالا۔ (31) اور پہاڑوں کو اس میں گاڑا۔ (32) تمہارے اور تمہارے مو یشیوں کے لئے سامانِ زندگی کے طور پر۔ (33) پس جب بڑی آفت (قیامت) آئے گی۔ (34) جس دن انسان یاد کرے گا جو کچھ اس نے کیا ہوگا۔ (35) اور (ہر) دیکھنے والے کیلئے دوزخ ظاہر کر دی جائے گی۔ (36) پس جس شخص نے سرکشی کی ہوگی۔ (37) اور (آخرت پر) دنیٰوی زندگی کو ترجیح دی ہوگی۔ (38) تو اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا۔ (39) اور جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری سے ڈرتا رہا ہوگا اور (اپنے) نفس کو (اس کی) خواہش سے روکا ہوگا۔ (40) تو اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔ (41) یہ لوگ آپ(ص) سے سوال کرتے ہیں کہ قیامت کب کھڑی (برپا) ہوگی۔ (42) آپ(ص) کا اس کے وقت بتانے سے کیا تعلق؟ (43) اس کی انتہا تو بس آپ(ص) کے پروردگار پر ہے۔ (44) آپ(ص) تو بس ڈرانے والے ہیں اس شخص کو جو اس سے ڈرے۔ (45) جس دن یہ لوگ اس (قیامت) کو دیکھیں گے تو (انہیں ایسا محسوس ہوگا کہ) وہ (دنیا میں) نہیں ٹھہرے تھے۔ مگر ایک شام یا اس کی ایک صبح۔ (46)

پچھلی سورت: سورہ نباء سورہ نازعات اگلی سورت:سورہ عبس

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۱۔
  2. راغب اصفہانی، مفردات الفاظ قرآن، ذیل واژہ نزع۔
  3. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۶۔
  4. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۱۔
  5. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۶، ص۷۱۔
  6. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  7. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۶، ص۱۰۰ ـ ۱۰۱۔
  8. مرزوقى اصفہانى‏، کتاب الازمنۃ و الامکنہ، ۱۴۱۷ق، ص۳۵۔
  9. ابن حیون، شرح الاخبار، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۴۷۷؛ شیخ صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۴۱؛ فرات کوفی، تفسیر فرات، ۱۴۱۰ق، ص۱۸۵؛ فاکہی، أخبار مكہ فى قديم الدہر و حديثہ، ۱۴۲۴ق، ج‏۲، ص۲۹۵؛ قزوینی، آثار البلاد و اخبار العباد، ۱۹۹۸ م، ص۱۱۴۔
  10. شیخ طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ص۶۶۹؛ شیخ طوسی، النہایۃ، بیروت، ص۱۶۹۔
  11. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۲۰، ص۱۹۲۔
  12. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۶، ص۱۲۶۔ ۔
  13. بحرانی، البرہان، ۱۴۱۵ق، ج۵، ص۵۷۸۔
  14. طبرسی،مجمع البیان، ۱۳۹۰ش، ج۱۰، ص۲۵۰
  15. محدث نوری، مستدرک الوسائل، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۳۵
  16. شیخ صدوق، ثواب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ص۱۲۱
  17. طبرسی، مکارم‌الاخلاق، ۱۳۷۰ش، ص۳۶۵
  18. طبرسی، مکارم الاخلاق، ۱۳۷۰ش، ص۳۶۵


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • ابن حیون، نعمان بن محمد، شرح الاخبار فی فضائل الائمۃ الاطہار علیہم السلام، بہ تحقیق و تصحیح محمدحسین حسینی جلالی، قم، جامعہ مدرسین، چاپ اول، ۱۴۰۹ق۔
  • بحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، بہ تحقیق بنیاد بعثت، قم، نشر موسسہ بعثت، چاپ اول، ۱۴۱۵ق۔
  • دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، بہ کوشش بہاءالدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، تحقیق: صادق حسن زادہ، تہران، ارمغان طوبی، ۱۳۸۲ش۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، من لا یحضر الفقیہ، بہ تحقیق و تصحیح علی‌اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ دوم، ۱۴۱۳ق۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن ، مصباح المتہجد، بیروت، مؤسسہ فقہ الشيعہ، ۱۴۱۱ق-۱۹۹۱م۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، النہایۃ فی مجرد الفقہ و الفتاوی، بیروت؛ دارالاندلس، [بی تا]، چاپ افست قم [بی تا]۔
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، چاپ دوم، ۱۳۹۰ق۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ترجمہ: بیستونی، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۳۹۰ش۔
  • طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الاخلاق، قم، شریف رضی، چاپ چہارم، ۱۳۷۰ش۔
  • فاکہی، محمد بن اسحاق، أخبار مکۃ فی قدیم الدہر و حدیثہ، محقق / مصحح: ابن دہیش، عبد الملک، مکتبہ الاسدی، مکہ مکرمہ، ۱۴۲۴ق۔
  • قزوینی،آثار البلاد و اخبار العباد،‌دار صادر، بیروت، ۱۹۹۸ م۔
  • کوفی، فرات بن ابراہیم، تفسیر فرات الکوفی، بہ تحقیق محمد کاظم، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، چاپ اول، ۱۴۱۰ق۔
  • مرزوقى اصفہانى، احمد بن محمد، كتاب الأزمنۃ و الأمكنۃ، محقق و مصحح: منصور، خليل عمران، ‏دار الكتب العلميۃ، بیروت، لبنان، ۱۴۱۷ق۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآنی، ترجمہ ابومحمد وکیلی، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، ۱۳۷۱ش۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، چاپ دہم، ۱۳۷۱ش۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، برگزیدہ تفسیر نمونہ، احمد علی‌بابایی، تہران،‌دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۸۲ش۔
  • نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسائل، بیروت، مؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث، ۱۴۰۸ ہ‍۔ق۔

بیرونی روابط