عزائم

ویکی شیعہ سے

عَزائِمُ یا عَزائِمُ السُجود قرآن کی ان سورتوں کو کہا جاتا ہے جن میں مخصوص آیات کے پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔ ان سورتوں کی تعداد چار ہیں جو یہ ہیں سورہ سجدہ، فُصِّلَت، نَجم اور عَلَق۔ ان سورتوں کے مخصوص احکام بھی ہیں من جملہ ان میں مجنب اور حائض پر ان کا پڑھنا حرام ہے اور واجب نمازوں میں ان کا پڑھنا جائز نہیں ہے۔

اگرچہ قرآن کے واجب سجدوں کے لئے مخصوص ذکر نقل ہوا ہے، لیکن ان سجدوں کے لئے وضو، غسل، اور رو بقبلہ ہونا نیز مخصوص ذکر کا پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ البتہ سجدے کی حالت میں پیشانی کو ایسی چیز پر رکھنا ضروری ہے جس پر سجدہ صحیح ہے۔

وجہ تسمیہ

عزائم یا عزائم السجود قرآن کی ان چار سورتوں کو کہا جاتا ہے جن کے مخصوص آیات کے پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔ ان سورتوں میں سورہ سجدہ، فصلیت، نجم اور علق شامل ہیں۔[1] بعض منابع میں سورہ فصلت کی جگہ سورہ لقمان کا نام لیا گیا ہے۔[2] عزائم عزیمہ کا جمع ہے اور لغت میں کسی کام کی انجام دہی کے قطعی ارادے کو کہا جاتا ہے۔[3] اسی طرح خدا کی طرف سے واجب کردہ فرایض کو بھی عزائم کہا جاتا ہے؛[4] اسی مناسبت سے جن سورتوں میں سجدہ والی آیات ہیں ان کو بھی عزائم کہا جاتا ہے۔[5]

سجدہ والی آیتیں

شیعہ فقہاء کے مطابق سورہ سجدہ کی آیت نمبر 15، سورہ فصلت کی آیت نمبر 37، سورہ نجم کی آیت نمبر 62 اور سورہ علق کی آیت نمبر 19 واجب سجدہ والی آیتیں ہیں۔[6] اسی طرح صاحب جواہر کے مطابق 11 سورتوں میں مستحب سجدہ والی آیتیں ہیں۔[7] مستحب سجدہ والی آیتیں یہ ہیں: سورہ اعراف آیت نمبر 206، سورہ رعد آیت نمبر 15، سورہ نحل آیت نمبر 49 اور 50، سورہ اسراء آیت نمبر 109، سورہ مریم آیت نمبر 58، سورہ حج آیت نمبر 18 اور 77، سورہ فرقان آیت نمبر 60، سورہ نمل آیت نمبر 26، سورہ ص آیت نمبر 24 اور سورہ انشقاق آیت نمبر 21۔[8] شیخ صدوق سے منسوب ہے کہ جس آیت میں لفظ "سجدہ" آیا ہو وہ بھی مستحب سجدہ کے حامل ہے۔[9]

شیعہ فقہاء امام صادقؑ سے منسوب ایک حدیث سے تمسک کرتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ فقط مذکورہ چار سورتیں واجب سجدہ کے حامل ہیں۔[10] اہل سنت کے شافعی، حنبلی اور حنفی فقہاء واجب اور مستحب کی تمیز کے بغیر سجدہ والی آیات کی تعداد 14 جبکہ مالکی فقہاء ان کی تعداد 15 بتاتے ہیں۔[11]

احکام

قرآن کے واجب سجدے کا ذکر

«لا اِلهَ اِلَّا اللهُ حَقًّا حَقًّا، لا اِلهَ اِلَّا اللهُ ایماناً وَ تَصْدیقاً، لا اِلهَ اِلَّا اللهُ وَ عُبُودِیةً، وَرِقّاً سَجَدْتُ لَک یا رَبِّ تَعَبَّداً وَرِقّاً، لا مُسْتَنْکفاً وَ لا مُسْتَکبِراً، بَلْ اَنَا عَبْدٌ ذَلیلٌ ضَعیفٌ خائفٌ مُسْتَجیرٌ»

یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۸۴

فقہی کتابوں میں سور عزائم اور ان سے مربوط احکام طہارت[12] اور نماز[13] کے ابواب میں بحث کی جاتی ہے۔ فقہاء کے مطابق ان سورتوں کے مخصوص احکام ہیں وہ درج ذیل ہیں:

  • مجنب[14] اور حائض[15] پر ان کا پڑھنا حرام ہے۔ آیا ان تمام سورتوں کو پڑھنا حرام ہے یا صرف سجدہ والی آیات کا پڑھنا حرام ہے؟ اس سلسلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف‌ نظر پایا جاتا ہے۔[16] اگر مجنب اور حائض سجدہ‌ والی آیتوں کو سنے تو ان پر بھی سجدہ کرنا واجب ہے۔[17] علامہ حلی کہتے ہیں کہ ان سورتوں میں سے حتی ایک حرف بھی پڑھنا ان پر حرام ہے۔[18]
  • شیعہ فقہاء کے مطابق سجدہ والی سورتوں کو واجب نمازوں میں پڑھنا نماز کے باطل ہونے کا سبب ہے۔ اگر کوئی شخص ان سورتوں میں سے کسی ایک کو واجب نمازوں میں پڑھے تو سجدہ والی آیت سے پہلے یاد آئے تو ضروری ہے کہ اسے چھوڑ کر کوئی اور سورت پڑھے لیکن اگر سجدہ والی آیت کے بعد یاد آئے تو نماز کے صحیح ہونے اور سجدہ قرآن کی کیفیت کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔[19]
  • قرآن کا واجب سجدہ فورا واجب ہے؛ اس بنا پر ان آیتوں کے پڑھنے یا سننے کی صورت میں فورا بغیر فاصلہ سجدہ کرنا واجب ہے۔[20]
  • قرآن کے واجب سجدے میں وضو، غسل، رو بقبلہ ہونا اور مخصوص ذکر پڑھنا واجب نہیں ہے لیکن سجدہ کی حالت میں پیشانی کو ایسی چیز پر رکھنا واجب ہے جس پر سجدہ صحیح ہو۔[21] البتہ قرآن کے واجب سجدوں کے لئے مخصوص ذکر بھی نقل ہوا ہے۔[22]

حوالہ جات

  1. طریحی، مجمع‌البحرین، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۱۱۴ (ذیل واژہ عزم)۔
  2. طوسی، الخلاف، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۱۰۰۔
  3. فیروزآبادی، القاموس المحیط، ۱۴۱۵ق، ج۴، ص۱۱۲(ذیل واژہ عزم)؛ طریحی، مجمع‌البحرین، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۱۱۴ (ذیل واژہ عزم)۔
  4. فیروزآبادی، القاموس المحیط، ۱۴۱۵ق، ج۴، ص۱۱۲(ذیل واژہ عزم)؛ طریحی، مجمع‌البحرین، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۱۱۴ (ذیل واژہ عزم)۔
  5. طریحی، مجمع‌البحرین، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۱۱۴ (ذیل واژہ عزم)۔
  6. یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۷۷۔
  7. نجفی، جواہرالکلام، ۱۳۶۲ش، ج۱۰، ص۲۱۷۔
  8. یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۷۷-۵۷۸۔
  9. نجفی، جواہرالکلام، ۱۳۶۲ش، ج۱۰، ص۲۱۷۔
  10. ملاحظہ کریں: شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۲۹۱، ح۲۶و۲۷۔
  11. جزیری، الفقہ علی المذاہب الاربعہ، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۴۲۵۔
  12. ملاحظہ کریں: یزدی، عروۃ الوثقی، ج۱، ص۵۱۰ و ص۶۰۳
  13. ملاحظہ کریں: یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۷۸۔
  14. یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۱، ص۵۱۰۔
  15. یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۱، ص۶۰۳۔
  16. یزدی، عروۃ الوثقی، ج۱، ص۵۱۰ و ص۶۰۳؛ بنی‌ہاشمی، توضیح المسائل مراجع، ۱۳۷۸ش، مسألہ ۳۵۵، ج۱، ص۲۲۵-۲۲۷؛ مسالہ ۴۵۰، ج۱، ص۲۷۶۔
  17. یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۸۳۔
  18. علامہ حلی، مختلف الشیعہ، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۳۳۔
  19. یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۸۰۔
  20. یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۷۸۔
  21. یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۸۲-۵۸۳۔
  22. یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۸۴۔

مآخذ

  • بنی‌ہاشمی خمینی، سید محمدحسن، توضیح المسائل مراجع، قم، دفتر نشر اسلامی، ۱۳۷۸ش۔
  • جزیری، عبدالرحمن بن محمد عوض، الفقہ علی المذاہب الاربعہ، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۲۴ق/۲۰۰۳م۔
  • طریحی، فخرالدین، مجمع‌البحرین، تحقیق سید احمد حسینی، تہران، کتاب‌فروشی مرتضوی، ۱۴۱۶ق۔
  • طوسی، محمد بن حسن، تہذیب‌الاحکام، تحقیق حسن خرسان موسوی، تہران، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۰۷ق۔
  • طوسی، محمد بن حسن، الخلاف، تصحیح علی خراسانی و دیگران، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ حوزہ علمیہ قم، ۱۴۰۷ق۔
  • فیروزآبادی، محمد بن یعقوب، القاموس المحیط، بیروت، دارالکتب العلمیہ منشورات محمدعلی بیضون، ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵م۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، مختلف‌الشیعہ فی احکام‌الشریعہ، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۴۱۳ق۔
  • نجفی، محمدحسن، جواہرالكلام فی شرح شرائع‎الاسلام، تحقیق عباس قوچانی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۳۶۲ش۔
  • یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ‌الوثقی، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ۱۴۱۹ق۔