سورہ حج

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
انبیاء سورۂ حج مؤمنون
سوره حج.jpg
ترتیب کتابت: 22
پارہ : 17
نزول
ترتیب نزول: 103
مکی/ مدنی: مدنی
اعداد و شمار
آیات: 78
الفاظ: 1282
حروف: 5315

سورہ حج قرآن کریم کی 22ویں اور مدنی سورتوں میں سے ہے اور 17ویں پارے میں واقع ہے۔ اس سورت کی آیت نمبر 25 سے 37 تک میں حج کے احکام اور مسائل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اسی مناسبت سے اس کا نام "سورہ حج" رکھا گیا ہے۔

اس سورت میں حج کے مختلف فقہی احکام جیسے حج کا وجوب، قربانی کے احکام، حیوانات کے گوشت کا حلال ہونا، خانہ کعبہ کے طواف کا واجب ہونا وغیرہ۔ اس سورت کی فضیلت کے بارے میں آیا ہے کہ اس کی تلاوت کرنے والے کو حج اور عمرہ بجا لانے کا ثواب دیا جائے گا۔

اجمالی تعارف

نام

حج کا نام اس سورت کی آیت نمبر 27 سے لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حج کی اہمیت اور اس سورت کی بعض آیتوں(25 سے 37 تک) میں حج کے مختلف احکام اور مسائل کا بیان نیز آیت نمبر 27 میں حج کا عمومی اعلان اس نام کے انتخاب میں دخیل ہیں۔[1]

محل اور ترتیب نزول

سورہ حج مدنی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے 103ویں جبکہ مُصحَف کی موجودہ ترتیب کے اعتبار سے 22ویں سورت اور پارہ نمبر 17 میں واقع ہے۔[2]
تاریخ قرآن کے مورخین کے درمیا اس سورت کے مکی اور مدنی ہو­نے میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ بعض اس کی بعض آیتوں کے علاوہ باقی آیتوں کو مکی قرار دیتے ہیں جبکہ بعض اس سورت کے مضامین کا مدینہ میں مسلمانوں کی زندگی کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھنے نیز بعض آیات میں جہاد اور حج کے احکام کا ذکر ہونے کی وجہ سے اس سورت کی بعض آیتوں کے علاوہ باقی آیات کو مدنی قرار دیتے ہیں۔[3] علامہ طباطبایی کے مطابق اس سورت کے سیاق و سباق سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ سورت مدینے میں پیغمبر اکرمؐ کی ہجرت کے اوائل اور غزوہ بدر سے پہلے نازل ہوئی ہے۔[4]

آیا تکی آیات اور دوسری خصوصیات

سورہ حج 78 آیات،[نوٹ 1] 1282 کلمات اور 5315 حروف پر مشتمل ہے۔ حجم کے اعتبار سے اس کا شمار سور مثانی میں ہوتا ہے اور ایک پارے کے نصف کے برابر ہے۔[5]
سورہ حج کی آیت نمبر 18 اور 77 میں مستحب سجدہ ہے اور یہ سجدہ والی 14 سورتوں میں اس کا شمار چھٹے نمبر پر آتا ہے۔

مفاہیم

سورہ حج میں اصول دین کو تفصیلی طور پر بیان کیا گیا ہے جس سے موحد اور مشرک دونوں بہرہ مند ہو سکتے ہیں جبکہ فروع دین کے بعض ارکان کو بھی بیان کیا گیا ہے لیکن اس سے صرف مؤمنین بہرہ مند ہو سکتے ہیں۔[6]
اس سورت میں توحید اور ایک خدا کی پرستش کی ضرورت، شرک اور اس کے برے آثار سے پرہیز کرنے نیز قیامت اور اس کے خوفناک حوادث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس سورت میں بعض فروع دین جیسے حج، جہاد، نماز، زکات اور دوسرے مالی وجوہات، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر وغیرہ سے بھی گفتگو کی گئی ہے۔[7] بعض اخلاقی فضائل جیسے توکل اور خدا پر اعتماد، گناہ اور خدا کی نافرمانی سے دوری نیز تقوا، عمل صالح اور نصرت الہی وغیرہ بھی اس سورت میں مورد بحث واقع ہونے والے مضامین میں سے ہیں۔[8]
سورہ حج میں علم اور معرفت کے بغیر خدا کے بارے میں میں بحث و مباحثہ اور شیطان کی پیروی کرنے سے منع کی گئی ہے۔ اس سورت میں خدا کی اطاعت کرنے والوں اور طاغوت کی پیروی کرنے والوں کو ایک دوسرے کے مد مقابل قرار دتے ہوئے کافروں کی عجز و ناتوانی کو ایک ضرب‌المثل کے ضمن میں بیان کیا ہے۔[9]

سورہ حج کے مضامین[10]
 
 
 
 
 
 
 
 
اللہ کے فرمان پر عمل اور مخالفوں سے مقابلے کی دعوت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا گفتار؛ آیہ ۶۷-۷۸
کافروں کے مقابلے میں پیغمبر اور مؤمنوں کی ذمہ داریاں
 
تیسرا گفتار؛ آیہ ۳۸-۶۶
کافروں کے مقابلے میں پیغمبر اور مومنوں کو اللہ کی نصرت
 
دوسرا گفتار؛ آیہ ۲۵-۳۷
مناسب حج کی اہمیت اور منع کرنے والوں سے مقابلہ
 
پہلا گفتار؛ آیہ ۳-۲۴
دینِ خدا کی پیروی میں انسانوں کی تقسیم بندی
 
مقدمہ؛ آیہ ۱-۲
تقوی کی رعایت کی اہمیت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلی ذمہ داری؛ آیہ ۶۷-۷۱
کافروں کی مخالفت کی طرف توجہ کئے بغیر لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۳۸-۴۱
جہاد کے حکم کے ذریعے مؤمنوں کو اللہ کی حمایت
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۲۵-۲۶
حج کی انجام دہی سے منع کرنے والوں کا مقابلہ
 
پہلا گروہ؛ آیہ ۳-۷
اللہ کی قدرت کے منکر اور جاہل افراد
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسری ذمہ داری؛ آیہ ۷۲
کافروں کا توہین آمیز رویہ پر عذاب کی تأکید
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۴۲-۵۱
منکروں کے مقابلے میں پیغمبر کو اللہ کی حمایت
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۲۷-۳۹
مناسک حج کو صحیح انجام دینے کا اہتمام
 
دوسرا گروہ؛ آیہ ۸-۱۰
باطل پیشوا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسری ذمہ داری؛ آیہ ۷۳-۷۶
الله کے ارادے کے مقابلے میں کفار کی عاجزی کی یاد آوری
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۵۲-۵۴
شیطانی چالوں کے مقابلے میں پیغمبر کو اللہ کی حمایت
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۳۰-۳۲
حج میں گناہ سے پرہیز
 
تیسرا گروہ؛ آیہ ۱۱-۱۳
بے ایمان مفادپرست
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھی ذمہ داری؛ آیہ ۷۷
اللہ کی بندگی اور نیک اعمال کا انجام
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۵۵-۵۹
قیامت میں پیغمبر کے ماننے والوں کو اللہ کی حمایت
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۳۰-۳۲
حج میں قربانی کے احکام کی رعایت
 
چوتھا گروہ؛ آیہ ۱۴-۱۶
اہلِ ایمان اور عمل صالح
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچویں ذمہ داری؛ آیہ ۷۸
اللہ کی راہ میں جہاد
 
پانچواں مطلب؛ آیہ ۶۰-۶۶
مظلوم مؤمنوں کو اللہ کی نصرت
 
 
 
 
 
انتباہ؛ آیہ ۱۷-۲۴
قیامت کے دن اللہ مختلف گروہوں کے فیصلے کریں گے
 
 
 
 


داستانیں اور تاریخی واقعات

سورہ حج میں بیان ہونے والی بعض داستانیں اور تاریخی واقعات درج ذیل ہیں:

  • حضرت ابراہیم کے ہاتھوں خانہ کعبہ کی افتتاح (آیت نمبر 26)
  • جنگ بدر میں خدا کے دو گروہوں کا خدا کے بارے میں مجادلہ (آیت نمبر 19 سے 24)
  • گذشتہ انبیاء کی تکذیب اور ان کی قوم پر عذاب کا نزول (آیت نمبر 42 سے 48)

بعض آیات کی شأن نزول

سورہ حج کی دو آیتوں کے متعدد شأن نزول‌ نقل ہوئی ہیں:

موسمی دینداری

سورہ حج کی آیت نمبر 11 و منَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّـهَ عَلَىٰ حَرْ‌فٍ ۖ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ‌ اطْمَأَنَّ بِهِ ۖ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِ خَسِرَ‌ الدُّنْيَا وَالْآخِرَ‌ةَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَ‌انُ الْمُبِينُ؛ (ترجمہ: اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو کنارہ پر رہ کر خدا کی عبادت کرتا ہے۔ سو اگر اسے کوئی فائدہ پہنچ جائے تو وہ اس سے مطمئن ہو جاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش پیش آجائے (یا کوئی مصیبت پہنچ جائے) تو فوراً (اسلام سے) منہ موڑ لیتا ہے۔ اس نے دنیا و آخرت کا گھاٹا اٹھایا اور یہ کھلا ہوا خسارہ ہے۔) کے بارے میں دو شأن نزول بیان ہوئی ہیں:

  • بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت ایک اعرابی کے بارے میں نازل ہوئی جو بیابان سے مدینہ آیا اور اسلام قبول کیا اور جب تک اس کی زندگی آرام دہ اور پرسکون گزرتی، ایمان پر باقی رہتے اور جب زندگی میں مشکلات سے دوچار ہوتے یا زکات میں سے ان کا حصہ دیر سے ان تک پہچتے تو شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ پیدا کرتا کہ خدا کے اس دین سے انہیں بدبختی اور بدی کے کچھ نہیں ملا ہے، یہ کہ کر وہ اسلام سے م­نہ پھیر کر دوبارہ جاہلیت کی طرف لوٹ جاتے تھے۔[11]
  • عطیہ بن ابی سعید خدری کہتے ہیں کہ یہ آیت ایک یہودی کے بارے میں نازل ہوئی جو تازہ مسلمان ہوا تھا، اسلام لانے کے بعد وہ نابینا ہو گیا، اس کی جمع پونجی بھی اس کے ہاتھ سے نکل گئی اور اس کا بیٹا بھی مر گیا؛ اس بنا پر اس نے اسلام کو نحس اور بدشگون قرار دیتے ہوئے پیغمبر اسلامؐ کے پاس آکر اس کی گردن سے بیعت اٹھانے کی درخواست کی۔ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: اسلام کی بیعت نہیں توڑے جا سکتی، اس پر اس یہودی نے کہا: میں نے اس دین سے کوئی اچھائی نہیں دیکھی۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا: جس طرح آگ لوہے اور سونے کو لگی ہوئی زنگ ختم کر کے انہیں خالص بنا دیتی ہے اسی طرح اسلام بھی امتحانات اور آزمائشوں کے ذریعے انسان کو خالص بنا دیتا ہے۔ اس گفتگو کے بعد سورہ حج کی یہ آیت نازل ہوئی۔[12]

خدا کے بارے میں مجادلہ

اس سورت کی آیت نمبر 19: هَـٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَ‌بِّهِمْ ۖ فَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارٍ‌ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُ‌ءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ؛ (ترجمہ: یہ دو فریق ہیں جو اپنے پروردگار کے بارے میں باہم جھگڑ رہے ہیں تو ان میں سے جو لوگ کافر ہیں ان کیلئے آگ کے کپڑے کاٹے جا چکے ہیں ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا۔) کی شأن نزول کے بارے میں آیا ہے کہ خدا کے بارے میں دو گروہ مجادلہ کر رہے تھے؛ ایک طرف حمز، ابوعبیدہ بن الحرث اور علی بن ابی طالب جبکہ دوسری طرف عتبہ، شیبہ اور ولید بن عقبہ تھے۔ بعض مفسرین امام علی سے منقول ایک حدیث سے استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں سورہ حج کی آیت نمبر 12 سے 19 تک جنگ بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔[13] ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ یہ آیت یہودیوں اور مسیحیوں کا مسلمانوں کے ساتھ اپنے آپ، اپنے نبی اور اپنی کتاب کے مقدم ہونے سے متعلق مجادلہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔[14]

آیات مشہورہ

سورہ حج کی مشہور آیات درج ذیل ہیں۔

آیت حج (27)

وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِ‌جَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ‌ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ
(ترجمہ: واور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ کہ لوگ (آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے) آپ کے پاس آئیں گے۔ پیادہ پا اور ہر لاغر سواری پر کہ وہ سواریاں دور دراز سے آئی ہوں گی۔)

حج کے معنی کے ہیں۔ بیت الحرام میں انجام پانے والے مخصوص اعمال جس کی ابتداء حضرت ابراہیم سے ہوئی تشریع کو بھی حج کہا جاتا ہے کیونکہ جو شخص ان اعمال کو انجام دینا چاہتا ہے وہ خانہ کعبہ کی قصد سے نکلتے ہیں۔[15] اکثر مفسرین حضرت ابراہیم کو اس آیت کا مخاطب قرار دیتے ہیں جس میں حج کے اعمال بجا لانے اور اس کے وجوب کی طرف لوگوں کو بلند آواز کے ساتھ دعوت دینے کا حکم دیا گیا ہے۔[16] بعض مفسرین پیغمبر اسلامؐ کو اس آیت کا مخاطب قرار دیتے ہیں لیکن علامہ طباطبایی کے مطابق یہ نظریہ اس آیت کے سیاق و سباق کے ساتھ سازگار نہیں کیونکہ آپ کی نظر میں "اذن فی الناس..." کا جملہ "لا تشرک بی شیئا" والے جملے پر عطف ہے جس کا مخاطب حضرت ابراہیم ہے۔[17]

آیت تعظیم شعائر (32)

ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ‌ اللَّـهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ
(ترجمہ: یہ ہے حقیقت حال! اور جو کوئی شعائر اللہ کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔)

شعائر الہی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں خداوندعالم نے اپنی اطاعت و بندگی کی نشانی قرار دیا ہے۔[18] مفسرین تمام الہی ادیان کے بنیادی عقائد اور تعلیمات جو انسان کو خدا کی یاد دلاتی ہیں، کو شعائر الہی میں شمار کرتے ہیں۔ مناسک حج من جملہ قربانی کرنا انہی شعائر میں سے ہیں؛ اس بنا پر شعائر اللہ کی تعظیم صرف قربانی کے ساتھ مختص کرنے پر کوئی خاص دلیل موجود نہیں بلکہ اس میں دوسرے شعائر بھی شامل ہیں۔[19] شعائر اللہ کی تعظیم اور دل کی پرہزگاری کے درمیان گہرا رابطہ پایا جاتا ہے کیونکہ تقوا اور گناہ سے دوری در حقیقت ایک معنوی امر ہے جس کا سرچشمہ انسان کا دل ہے؛[20] جیسا کہ پیغمبر اکرمؐ سے منقول ایک حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے اپنے سینہ اقدس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تقوی کی حقیقت یہاں پر ہے۔[21]

آیت مؤمنین کا دفاع(38)

إِنَّ اللَّـهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُورٍ‌
(ترجمہ: اللہ ایمان والوں کا یقینا دفاع کرتا ہے اور اللہ کسی قسم کے خیانت کار ناشکرے کو یقینا پسند نہیں کرتا۔)

یہ آیت خدا کی طرف سے مشرکین کے ہاتھوں ستم دیده مؤمنین کی پشت پناہی کی طرف اشارہ کرتی ہے؛ کیونکہ مشرکین کے خرافات کا مقابلہ کرنا ان کے غم و غصے میں اضافے کا باعث بن سکتا تھا اسی لئے خدا مؤمنین کو یہ تسلی دے رہا ہے کہ میں تمہارا حامی و ناصر ہوں۔ مفسرین کے مطابق خدا کا یہ وعدہ صرف پیغمبر اکرمؐ کی حیات مبارکہ تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسا تخلف ناپذیر وعدہ ہے جو ہر زمان کو شامل کرتا ہے۔[22]

آیات الاحکام

بر وہ آیات جس میں کسی حکم شرعی کا بیان ہو یا اس کے استنباط میں مورد استناد واقع ہو آیت الاحکام کہا جاتا ہے۔[23] فقہا سورہ حج کی بعض آیات من جملہ آیت نمبر 27، 29 اور 36 کو بعض فقہی احکام جیسے مناسک حج اور اس کے وجوب میں مورد استناد قرار دیتے ہیں۔

آیت متن باب موضوع
۳۰ وَأُحِلَّتْ لَكُمُ الْأَنْعَامُ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ ۖ اطعمہ و اشربہ حیوانات حلال گوشت
۳۶ وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ اللَّـهِ حج احکام قربانی حج
۲۸ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۖ فَكُلُوا مِنْهَا و .. حج احکام قربانی حج
۲۷-۲۹ ووَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا ... حج وجوب حج
۳۶ وَالْبُدْنَ ..مِّن شَعَائِرِ اللَّـهِ... فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ حج احکام قربانی حج
۶۰ وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوقِبَ بِهِ ثُمَّ بُغِيَ عَلَيْهِ لَيَنصُرَنَّهُ اللَّـهُ ۗ قصاص قصاص
۷۷ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ نماز عبادت

فضیلت اور خواص

اصل مضمون: فضائل سور

سورہ حج کی تلاوت کے خاص فضائل اور خواص نقل ہوئے ہیں؛ من جملہ یہ کہ: اس کی تلاوت کرنے والے کو حج اور عمرہ بجا لانے کا ثواب دیا جائے گا اسی طرح گذشتہ اور آئنده حج اور عمرہ ادا کرنے والوں کی تعداد کے برابر اسے ثواب دیا جائے گا۔[24] امام صادقؑ سے بھی منقول ہے کہ: جو شخص ہر تیسرے دن ایک دفعہ سورہ حج کی تلاوت کرے وہ شخص اسی سال خانہ کعبہ کی زیارت سے مشرف ہو گا اور اگر اس سفر کے دوران دنیا سے چلا جائے تو وہ بہشت میں داخل ہو گا۔[25]

متن اور ترجمہ

سورہ حج
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ ﴿1﴾ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُم بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ﴿2﴾ وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّبِعُ كُلَّ شَيْطَانٍ مَّرِيدٍ ﴿3﴾ كُتِبَ عَلَيْهِ أَنَّهُ مَن تَوَلَّاهُ فَأَنَّهُ يُضِلُّهُ وَيَهْدِيهِ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ ﴿4﴾ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاء إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّى وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاء اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ﴿5﴾ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْتَى وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿6﴾ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَن فِي الْقُبُورِ ﴿7﴾ وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُّنِيرٍ ﴿8﴾ ثَانِيَ عِطْفِهِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ لَهُ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَنُذِيقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابَ الْحَرِيقِ ﴿9﴾ ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدَاكَ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ ﴿10﴾ وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ﴿11﴾ يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُ وَمَا لَا يَنفَعُهُ ذَلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ ﴿12﴾ يَدْعُو لَمَن ضَرُّهُ أَقْرَبُ مِن نَّفْعِهِ لَبِئْسَ الْمَوْلَى وَلَبِئْسَ الْعَشِيرُ ﴿13﴾ إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ ﴿14﴾ مَن كَانَ يَظُنُّ أَن لَّن يَنصُرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَلْيَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَى السَّمَاء ثُمَّ لِيَقْطَعْ فَلْيَنظُرْ هَلْ يُذْهِبَنَّ كَيْدُهُ مَا يَغِيظُ ﴿15﴾ وَكَذَلِكَ أَنزَلْنَاهُ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ وَأَنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يُرِيدُ ﴿16﴾ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا إِنَّ اللَّهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ﴿17﴾ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاء ﴿18﴾ هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارٍ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُؤُوسِهِمُ الْحَمِيمُ ﴿19﴾ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ ﴿20﴾ وَلَهُم مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ ﴿21﴾ كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ ﴿22﴾ إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ ﴿23﴾ وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ وَهُدُوا إِلَى صِرَاطِ الْحَمِيدِ ﴿24﴾ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِي جَعَلْنَاهُ لِلنَّاسِ سَوَاء الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿25﴾ وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ ﴿26﴾ وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ﴿27﴾ لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ ﴿28﴾ ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ ﴿29﴾ ذَلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ عِندَ رَبِّهِ وَأُحِلَّتْ لَكُمُ الْأَنْعَامُ إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ﴿30﴾ حُنَفَاء لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاء فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ ﴿31﴾ ذَلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ ﴿32﴾ لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ ﴿33﴾ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ ﴿34﴾ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَالصَّابِرِينَ عَلَى مَا أَصَابَهُمْ وَالْمُقِيمِي الصَّلَاةِ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿35﴾ وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ كَذَلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿36﴾ لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ ﴿37﴾ إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُورٍ ﴿38﴾ أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ ﴿39﴾ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿40﴾ الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ ﴿41﴾ وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَثَمُودُ ﴿42﴾ وَقَوْمُ إِبْرَاهِيمَ وَقَوْمُ لُوطٍ ﴿43﴾ وَأَصْحَابُ مَدْيَنَ وَكُذِّبَ مُوسَى فَأَمْلَيْتُ لِلْكَافِرِينَ ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ ﴿44﴾ فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ ﴿45﴾ أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ ﴿46﴾ وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ﴿47﴾ وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَيَّ الْمَصِيرُ ﴿48﴾ قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ ﴿49﴾ فَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ ﴿50﴾ وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آيَاتِنَا مُعَاجِزِينَ أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ﴿51﴾ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿52﴾ لِيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ ﴿53﴾ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَيُؤْمِنُوا بِهِ فَتُخْبِتَ لَهُ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ اللَّهَ لَهَادِ الَّذِينَ آمَنُوا إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿54﴾ وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِّنْهُ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً أَوْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيمٍ ﴿55﴾ الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ ﴿56﴾ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأُوْلَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ ﴿57﴾ وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ قُتِلُوا أَوْ مَاتُوا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللَّهُ رِزْقًا حَسَنًا وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ ﴿58﴾ لَيُدْخِلَنَّهُم مُّدْخَلًا يَرْضَوْنَهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَعَلِيمٌ حَلِيمٌ ﴿59﴾ ذَلِكَ وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوقِبَ بِهِ ثُمَّ بُغِيَ عَلَيْهِ لَيَنصُرَنَّهُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ ﴿60﴾ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَأَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ ﴿61﴾ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ ﴿62﴾ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاء مَاء فَتُصْبِحُ الْأَرْضُ مُخْضَرَّةً إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ ﴿63﴾ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ ﴿64﴾ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ وَالْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَيُمْسِكُ السَّمَاء أَن تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ ﴿65﴾ وَهُوَ الَّذِي أَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ إِنَّ الْإِنسَانَ لَكَفُورٌ ﴿66﴾ لِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْأَمْرِ وَادْعُ إِلَى رَبِّكَ إِنَّكَ لَعَلَى هُدًى مُّسْتَقِيمٍ ﴿67﴾ وَإِن جَادَلُوكَ فَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿68﴾ اللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ﴿69﴾ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاء وَالْأَرْضِ إِنَّ ذَلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ ﴿70﴾ وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَمَا لَيْسَ لَهُم بِهِ عِلْمٌ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِن نَّصِيرٍ ﴿71﴾ وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ تَعْرِفُ فِي وُجُوهِ الَّذِينَ كَفَرُوا الْمُنكَرَ يَكَادُونَ يَسْطُونَ بِالَّذِينَ يَتْلُونَ عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا قُلْ أَفَأُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِّن ذَلِكُمُ النَّارُ وَعَدَهَا اللَّهُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ﴿72﴾ يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ ﴿73﴾ مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿74﴾ اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ ﴿75﴾ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأمُورُ ﴿76﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿77﴾ وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلَاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ ﴿78﴾۔

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اے لوگو! اپنے پروردگار (کی ناراضی) سے ڈرو۔ بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی شے ہے۔ (1) جس دن تم اسے دیکھوگے کہ ہر دودھ پلانے والی (ماں) اس (بچہ) سے غافل ہو جائے گی جسے وہ دودھ پلاتی ہے اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔ اور تم لوگوں کو نشہ میں مدہوش دیکھوگے۔ حالانکہ وہ نشہ میں مدہوش نہیں ہوں گے۔ مگر اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوگا۔ (2) اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں کہ جو اللہ کے بارے میں علم کے بغیر کج بحثی کرتے ہیں اور سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔ (3) جس (مردود) کے بارے میں لکھا جا چکا ہے کہ جو کوئی اس کو دوست بنائے گا وہ ضرور اسے گمراہ کرے گا۔ اور اسے بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا راستہ دکھائے گا۔ (4) اے لوگو! اگر تمہیں (دوبارہ) اٹھائے جانے میں شک ہے تو (اس میں تو کوئی شک نہیں کہ) ہم نے تمہیں مٹي سے پیدا کیا ہے پھر نطفہ سے، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو متشکل (مکمل تخلیق والا) بھی ہوتا ہے اور غیر متشکل (نامکمل تخلیق والا) بھی۔ اور یہ اس لئے ہے کہ ہم تم پر (اپنی قدرت کی کار فرمائی) واضح کریں اور ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک مقررہ مدت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تمہیں بچے کی صورت میں باہر نکالتے ہیں پھر (تمہاری پرورش کرتے ہیں) تاکہ اپنی پوری قوت کی منزل (جوانی) تک پہنچو۔ پھر تم میں سے بعض کو تو (بڑھاپے سے پہلے) اٹھا لیا جاتا ہے اور بعض کو پست ترین عمر کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے تاکہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے اور تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک پڑی ہے تو جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ لہلہانے اور ابھرنے لگتی ہے اور ہر قسم کی خوشنما نباتات اگاتی ہے۔ (5) یہ (سب کچھ) اس لئے ہے کہ اللہ ہی کی ذات حق ہے۔ اور بےشک وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (6) اور قیامت ضرور آنے والی ہے۔ جس میں کوئی شک نہیں ہے اور یقیناً اللہ انہیں زندہ کرے گا جو قبروں میں ہیں۔ (7) اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم کے، بغیر کسی راہنمائی کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے کج بحثی کرتے ہیں۔ (8) (غرور سے) اپنے شانے کو موڑے ہوئے (اور گردن اکڑائے ہوئے) تاکہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے گمراہ کریں ان کیلئے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم انہیں جلانے والی آگ کے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ (9) تب اسے بتایا جائے گا کہ یہ سب کچھ سزا ہے اس کی جو تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور خدا ہرگز اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ (10) اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو کنارہ پر رہ کر خدا کی عبادت کرتا ہے۔ سو اگر اسے کوئی فائدہ پہنچ جائے تو وہ اس سے مطمئن ہو جاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش پیش آجائے (یا کوئی مصیبت پہنچ جائے) تو فوراً (اسلام سے) منہ موڑ لیتا ہے۔ اس نے دنیا و آخرت کا گھاٹا اٹھایا اور یہ کھلا ہوا خسارہ ہے۔ (11) وہ اللہ کو چھوڑ کر اس کو پکارتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچاتا ہے اور نہ نفع۔ یہی تو انتہائی گمراہی ہے۔ (12) وہ ایسے کو پکارتا ہے جس کا ضرر اس کے فائدہ سے زیادہ قریب ہے۔ کیا ہی برا ہے آقا اور کیا ہی برا ہے ساتھی۔ (13) بےشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل بھی کئے ان بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ بیشک اللہ وہ کرتا ہے جو کچھ وہ چاہتا ہے۔ (14) جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ خدا دنیا اور آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا تو اسے چاہیے کہ ایک رسی کے ذریعہ آسمان تک پہنچ کر شگاف لگائے۔ پھر دیکھے کہ آیا اس کی یہ تدبیر اس چیز کو دور کر سکتی ہے جو اسے غصہ میں لا رہی تھی۔ (15) اور اسی طرح ہم نے اس (قرآن) کو نازل کیا ہے روشن دلیلوں کی صورت میں اور بےشک اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (16) بےشک جو اہلِ ایمان ہیں، جو یہودی ہیں، جو صابی ہیں، جو عیسائی ہیں، جو مجوسی ہیں اور جو مشرک ہیں یقیناً قیامت کے دن اللہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ (17) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہر چیز اللہ کو سجدہ کر رہی ہے خواہ وہ آسمانوں میں ہے یا زمین میں۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور بہت سارے انسان بھی اور بہت سے انسان وہ ہیں جن پر عذاب مقرر ہو چکا ہے اور جس کو اللہ ذلیل کر دے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں ہے بیشک اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ (18) یہ دو فریق ہیں جو اپنے پروردگار کے بارے میں باہم جھگڑ رہے ہیں تو ان میں سے جو لوگ کافر ہیں ان کیلئے آگ کے کپڑے کاٹے جا چکے ہیں ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا۔ (19) (اور) جس سے ان کے پیٹ کے اندر کی چیزیں اور کھالیں گل جائیں گی۔ (20) اور ان کے لئے لوہے کے گرز ہوں گے۔ (21) جب بھی چاہیں گے کہ اس (جہنم) سے نکل کر رنج و غم سے چھٹکارا پائیں تو پھر اسی میں لوٹا دئیے جائیں گے اور (ان سے کہا جائے گا کہ) جلانے والی آگ کا مزہ چکھو۔ (22) جو لوگ ایمان لائے اور اس کے ساتھ نیک عمل بھی کئے بےشک اللہ ان کو ان بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہاں ان کو سونے کے کنگن اور موتی (کے ہار) پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کے لباس ریشم کے ہوں گے۔ (23) (یہ اس لئے ہے کہ) انہیں پاکیزہ گفتگو کی طرف ہدایت دی گئی اور انہیں لائق ستائش (خدا) کی راہ کی طرف راہنمائی کی گئی۔ (24) جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور (لوگوں) کو خدا کے راستے سے روکتے ہیں اور اس مسجد سے جسے ہم نے (بلا امتیاز) سب لوگوں کیلئے (عبادت گاہ) بنایا ہے جس میں وہاں کے رہنے والے اور باہر سے آنے والے برابر ہیں اور جو بھی اس میں ظلم و زیادتی کے ساتھ غلط روی کا ارادہ کرے تو ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ (25) اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے ابراہیم (ع) کیلئے خانہ کعبہ کی جگہ معین کر دی۔ (اور حکم دیا کہ) میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کیلئے پاک رکھنا۔ (26) اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ کہ لوگ (آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے) آپ کے پاس آئیں گے۔ پیادہ پا اور ہر لاغر سواری پر کہ وہ سواریاں دور دراز سے آئی ہوں گی۔ (27) تاکہ وہ اپنے فائدوں کیلئے حاضر ہوں اور مقررہ (دنوں میں خدا کا نام لیں) ان چوپایوں پر (ذبح کے وقت) جو اللہ نے انہیں عنایت فرمائے۔ پس خود بھی ان سے کھاؤ اور حاجت مند فقیر کو بھی کھلاؤ۔ (28) پھر لوگوں کو چاہیئے کہ اپنی میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور قدیم گھر (خانہ کعبہ) کا طواف کریں۔ (29) یہ ہے حج اور اس کے مناسک کی بات! جو اللہ کی محترم چیزوں کی تعظیم کرتا ہے۔ تو یہ اس کے پروردگار کے ہاں بہتر ہے اور تمہارے لئے چوپائے حلال ہیں۔ بجز ان کے جو تم سے بیان کئے جاتے رہتے ہیں۔ پس تم بتوں کی گندگی سے پرہیز کرو۔ اور راگ گانے کی مجلس سے اجتناب کرو۔ (30) صرف اللہ ہی کیلئے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے۔ اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گرا تو اسے کسی پرندہ نے اچک لیا یا ہوا نے اسے کسی دور دراز جگہ پر پھینک دیا۔ (31) یہ ہے حقیقت حال! اور جو کوئی شعائر اللہ کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔ (32) تمہارے ان جانوروں میں ایک مقررہ مدت تک فائدے ہیں۔ پھر ان کے ذبح کرنے کا مقام اسی قدیم گھر کی طرف ہے۔ (33) اور ہم نے ہر قوم کیلئے قربانی کا ایک طور طریقہ مقرر کیا ہے۔ تاکہ وہ ان چوپایوں پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیں، جو اس نے انہیں عطا کئے ہیں (الغرض) تمہارا اللہ ایک ہی ہے لہٰذا تم اس کی بارگاہ میں سر جھکاؤ اور ان عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔ (34) کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل دھل جاتے ہیں۔ اور جو ان مصائب و آلام پر صبر کرنے والے ہیں جو انہیں پہنچتے ہیں اور جو پابندی سے نماز ادا کرتے ہیں۔ اور ہم نے انہیں جو کچھ عطا کیا ہے اس میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرتے رہتے ہیں۔ (35) اور ہم نے قربانی کے اونٹوں کو تمہارے لئے شعائر اللہ سے قرار دیا ہے۔ ان میں تمہارے لئے بھلائی ہے پس تم ان کو صف بستہ کھڑا کرکے خدا کا نام لو۔ اور جب وہ کروٹ کے بل گر پڑیں تو ان میں سے خود بھی کھاؤ اور بے سوال اور سوالی کو بھی کھلاؤ اسی طرح ہم نے ان جانوروں کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے تاکہ تم شکرگزار (بندے) بن جاؤ۔ (36) نہ ان کا گوشت اللہ تک پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون ہاں البتہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اسی طرح ہم نے انہیں تمہارے لئے مسخر کیا ہے تاکہ تم اس کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی کبریائی و بڑائی بیان کرو۔ اور (اے رسول) احسان کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔ (37) بےشک اللہ اہلِ ایمان کی طرف سے دفاع کرتا ہے۔ یقیناً اللہ کسی خیانت کار کفرانِ نعمت کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔ (38) ان مظلوموں کو (دفاعی جہاد کی) اجازت دی جاتی ہے جن سے جنگ کی جا رہی ہے اس بناء پر کہ ان پر ظلم کیا گیا ہے۔ اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے۔ (39) یہ وہ (مظلوم) ہیں جو ناحق اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے صرف اتنی بات پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اور اگر خدا بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا رہتا تو نصرانیوں کی خانقاہیں اور گرجے اور (یہود کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں بکثرت ذکر خدا ہوتا ہے۔ سب گرا دی جاتیں جو کوئی اللہ (کے دین) کی مدد کرے گا اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ بیشک وہ طاقت والا (اور) غالب آنے والا ہے۔ (40) یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار عطا کریں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ (اختیار) میں ہے۔ (41) (اے رسول(ص)) اگر لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو (یہ کوئی نئی بات نہیں ہے) ان سے پہلے (کئی قومیں اپنے نبیوں کو جھٹلا چکی ہیں جیسے) قوم نوح نے، عاد و ثمود نے۔ (42) اور قوم ابراہیم (ع) نے اور قوم لوط نے (جھٹلایا)۔ (43) اور اہل مدین نے بھی۔ اور موسیٰ کو بھی جھٹلایا گیا۔ سو پہلے میں نے کافروں کو (کچھ) مہلت دی اور پھر انہیں پکڑ لیا۔ تو (دیکھو) میرا عذاب کیسا تھا؟ (44) غرض کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تباہ و برباد کر دیا کیونکہ وہ ظالم تھیں (چنانچہ) وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور کتنے کنویں ہیں جو بیکار پڑے ہیں اور کتنے مضبوط محل ہیں (جو کھنڈر بن گئے ہیں)۔ (45) کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں تاکہ( یہ منظر دیکھ کر) ان کے دل ایسے ہو جاتے کہ جن سے وہ (حق کو) سمجھ سکتے اور کان ایسے ہو جاتے جن سے (آواز حق) سن سکتے۔ مگر (حقیقت یہ ہے کہ) آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ (46) (اے رسول(ص)) یہ لوگ آپ سے عذاب کے مطالبہ میں جلدی کر رہے ہیں اور اللہ کبھی اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرے گا اور آپ کے پروردگار کے نزدیک ایک دن تم لوگوں کے شمار کئے ہوئے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ (47) اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جن کو میں نے مہلت دی۔ حالانکہ وہ ظالم تھیں۔ پھر میں نے انہیں پکڑ لیا اور (آخرکار) میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ (48) (اے رسول(ص)) آپ کہہ دیجئے! اے لوگو! میں تو صرف تمہیں ایک کھلا ہوا (عذاب خدا سے) ڈرانے والا ہوں۔ (49) سنو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کیلئے (گناہوں کی) بخشش بھی ہے اور عزت کی روزی بھی۔ (50) اور جو لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں (ہمیں) عاجز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہی لوگ (دوزخی) ہیں۔ (51) اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور کوئی نبی نہیںبھیجا مگر یہ کہ جب اس نے (اصلاح احوال کی) آرزو کی تو شیطان نے اس کی آرزو میں خلل اندازی کی۔ پس شیطان جو خلل اندازی کرتا ہے خدا اسے مٹا دیتا ہے اور اپنی نشانیوں کو زیادہ مضبوط کر دیتا ہے اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔ (52) (یہ سب اس لئے ہے) تاکہ اللہ شیطانوں کی خلل اندازی کو ان لوگوں کیلئے آزمائش کا ذریعہ بنائے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں بےشک ظالم لوگ بڑی گہری مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔ (53) اور اس میں (یہ مصلحت بھی ہے) کہ وہ لوگ جنہیں علم عطا کیا گیا ہے۔ جان لیں کہ یہ (وحی) آپ کے پروردگار کی طرف سے حق ہے تاکہ وہ اس پر ایمان لائیں اور ان کے دلوں میں اس کیلئے عجز و نیاز پیدا ہو جائے۔ بےشک اللہ ایمان لانے والوں کو سیدھے راستہ تک پہنچانے والا ہے۔ (54) اور جو کافر ہیں وہ تو ہمیشہ اس کی طرف سے شک میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ اچانک قیامت ان پر آجائے۔ یا پھر منحوس دن کا عذاب ان پر آجائے۔ (55) اس دن بادشاہی صرف اللہ ہی کی ہوگی (لہٰذا) وہی لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ پس جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ نعمتوں والے بہشتوں میں ہوں گے۔ (56) اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کیلئے رسوا کن عذاب ہے۔ (57) اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر قتل کر دیئے گئے۔ یا اپنی موت مر گئے (دونوں صورتوں میں) اللہ ضرور انہیں اچھی روزی عطا فرمائے گا (کیونکہ) وہ بہترین روزی عطا کرنے والا ہے۔ (58) (اور) وہ ضرور انہیں ایسی جگہ داخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے۔ بےشک وہ بڑا جاننے والا، بڑا بردبار ہے۔ (59) یہ بات تو ہو چکی۔ اور جو شخص ویسی ہی سزا دے جیسی اسے سزا ملی ہے پھر اس پر زیادتی کی جائے تو اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ بےشک اللہ بڑا معاف کرنے والا، بڑا بخشنے والا ہے۔ (60) یہ اس لئے ہے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور بےشک اللہ بڑا سننے والا، بڑا دیکھنے والا ہے۔ (61) اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ ہی حق ہے۔ اور اس کے علاوہ جسے وہ پکارتے ہیں وہ باطل ہے۔ اور بےشک اللہ ہی بلند (مرتبہ والا) بزرگ ہے۔ (62) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا آسمان سے پانی برساتا ہے تو (خشک) زمین سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ بےشک اللہ بڑا لطف و کرم کرنے والا (اور) بڑا خبر رکھنے والا ہے۔ (63) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور بےشک اللہ سب سے بے نیاز (اور) ہر تعریف کا حقدار ہے۔ (64) کیا تم نہیں دیکھتے کہ جو کچھ زمین میں ہے۔ اللہ نے وہ سب کچھ تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے اور کشتی کو بھی جو سمندر میں اس کے حکم سے چلتی ہے۔ اور وہی آسمان کو روکے ہوئے ہے کہ اس کے حکم کے بغیر زمین پر نہ گر پڑے۔ بےشک اللہ لوگوں پر بڑا شفقت والا، بڑا رحمت والا ہے۔ (65) وہ وہی ہے جس نے تمہیں زندگی عطا کی ہے پھر وہی تمہیں موت دے گا۔ اور پھر (دوبارہ) زندہ کرے گا۔ بےشک انسان بڑا ناشکرا ہے۔ (66) (اے رسول(ص)) ہم نے ہر قوم کیلئے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کر دیا ہے جس کے مطابق وہ عبادت کر رہی ہے۔ اس لئے انہیں آپ سے جھگڑا نہیں کرنا چاہیے اور آپ اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہیے! یقیناً آپ ہدایت کے سیدھے راستہ پر ہیں۔ (67) اور اگر وہ لوگ (خواہ مخواہ) آپ سے بحث کریں تو آپ کہہ دیجئے! کہ اللہ بہتر جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔ (68) قیامت کے دن اللہ تمہارے درمیان ان باتوں کے بارے میں فیصلہ کر دے گا جن میں تم باہم اختلاف کرتے ہو۔ (69) کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں ہے۔ بےشک یہ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے۔ اور یہ بات اللہ پر آسان ہے۔ (70) اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کی عبادت کرتے ہیں جن کیلئے نہ تو اللہ نے کوئی دلیل (سند) نازل کی ہے اور نہ ہی انہیں ان کے بارے میں کوئی علم ہے اور (ان) ظالموں کیلئے کوئی مددگار نہیں ہے۔ (71) اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو تم کافروں کے چہروں پر ناگواری کے آثار واضح محسوس کرتے ہو۔ قریب ہے وہ ان پر حملہ کر دیں جو ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں۔ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ اس سے بڑھ کر ناگوار چیز کیا ہے؟ وہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس کا اللہ نے کافروں سے وعدہ کر رکھا ہے۔ اور وہ بڑا برا ٹھکانہ ہے۔ (72) اے لوگو! ایک مثال دی جاتی ہے اسے غور سے سنو۔ اللہ کو چھوڑ کر تم جن معبودوں کو پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے۔ اگرچہ وہ سب کے سب اس کام کے لئے اکٹھے ہو جائیں۔ اور اگر ایک مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اسے اس (مکھی) سے چھڑا نہیں سکتے۔ طالب و مطلوب دونوں ہی کمزور و ناتواں ہیں۔ (73) (آہ) ان لوگوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جس طرح قدر کرنی چاہیے۔ بےشک اللہ بڑا طاقتور ہے (اور) سب پر غالب ہے۔ (74) اللہ پیغام پہنچانے والے فرشتوں میں سے منتخب کر لیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ بیشک اللہ بڑا سننے والا، بڑا دیکھنے والا ہے۔ (75) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور سب معاملات کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے۔ (76) اے ایمان والو! رکوع و سجود کرو۔ اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ اور نیک کام کرو۔ تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (77) اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ جیساکہ جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں منتخب کیا ہے۔ اور دین کے معاملہ میں اس نے تمہارے لئے کوئی تنگی روا نہیں رکھی۔ اپنے باپ (مورث اعلیٰ) ابراہیم (ع) کی ملت کی پیروی کرو۔ اسی (اللہ) نے اس سے پہلے بھی تمہارا نام مسلمان رکھا اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ پیغمبر تم پر گواہ ہوں۔ اور تم لوگوں پر گواہ ہو۔ پس تم نماز قائم کرو۔ اور زکوٰۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہو جاؤ۔ وہی تمہارا مولا ہے سو کیسا اچھا مولا ہے اور کیسا اچھا مددگار ہے۔ (78)

پچھلی سورت: سورہ انبیاء سورہ حج اگلی سورت:سوره مؤمنون

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. صفوی، «سورہ حج»، ص۷۱۸؛ خرمشاہی، «سورہ حج»، ص۱۲۴۳.
  2. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۸.
  3. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۴، ص۴.
  4. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۴، ص۳۳۸
  5. خرمشاہی، «سورہ حج»، ص۱۲۴۳.
  6. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۴، ص۳۳۸.
  7. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۴، ص۴.
  8. صفوی، «سورہ حج»، ص۷۱۸.
  9. خرمشاہی، «سورہ حج»، ج۲، ص۱۲۴۳.
  10. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  11. واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ق، ص۳۱۶.
  12. واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ق، ص۳۱۷.
  13. واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ق، ص۳۱۷-۳۱۸.
  14. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۷، ص۱۲۴.
  15. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰، ج۱۴، ص۳۶۹.
  16. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۷، ص۱۲۸.
  17. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰، ج۱۴، ص۳۶۹.
  18. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۴، ص۳۷۳.
  19. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج۱۴، ص۹۷.
  20. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۴، ص۳۷۴.
  21. قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ۱۳۶۴ش، ج۱۲، ص۵۶.
  22. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۴، ص۱۱۱.
  23. معینی، «آیات الاحکام»، ص۱.
  24. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۷، ص۱۰۹
  25. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۷، ص۱۰۹
  1. سورہ حج کی آیات کی تعداد کوفہ کے قراء کے نزدیک 78، مکہ کے قراء کے نزدیک 86 بصرہ کے قراء کے نزدیک 75 اور شام کے قراء کے نزدیک 74 ہیں اور مشہور قول اول ہے

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • خرمشاهی، قوام الدین، «سوره حج»، در دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، تهران، دوستان-ناهید، ۱۳۷۷ش.
  • صفوی، سلمان، «سوره حج»، در دانشنامه معاصر قرآن کریم، قم، انتشارات سلمان آزاده، ۱۳۹۶ش.
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسه الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۰ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمه محمدجواد بلاغی‏، تهران، ناصر خسرو، ۱۳۷۲ش.
  • قرطبى، محمد بن احمد، الجامع لأحكام القرآن‏، تهران، ناصر خسرو، ۱۳۶۴ش.
  • معرفت، محمدهادی، آموزش علوم قرآن، تهران، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، ۱۳۷۱ش.
  • معینی، محسن، «آیات الاحکام»، در مجله تحقیقات اسلامی، سال دوازدهم، شماره ۱ و ۲، تهران، ۱۳۷۶ش.
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دار الکتب الإسلامیة، ۱۳۷۱ش.
  • واحدی، علی بن احمد، اسباب نزول القرآن‏، بیروت، دار الکتب العلمیه، ۱۴۱۱ق.

بیرونی روابط