سورہ شمس

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بلد سورۂ شمس لیل
سوره شمس.jpg
ترتیب کتابت: 91
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 26
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 15
الفاظ: 54
حروف: 253

سورہ شمس [سُوْرَةُ الشَّمْسِ] قرآن کریم کی مکی سورتوں میں سے ہے جو ترتیب مصحف کے لحاظ سے اکانوےویں اور ترتیب نزول کے لحاظ سے چھبیسویں سورت ہے۔ اس نام اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے جس میں شمس(سورج) کی قسم کھائی گئی ہے۔ اس سورت میں تزکیہ اور تہذیب نفس جیسے اخلاقی موضوعات پر تاکید کی گئی ہے۔ اسی طرح اس میں حضرت صالح، ان کی اونٹنی، قوم ثمود کے ہاتھوں اس اونٹنی کے مار ڈالنے نیز قوم ثمود کے انجام پر مشتمل داستان بیان ہوئی ہے۔

اس سورت کی فضلیت اور تلاوت کے بارے میں نقل ہوئی ہے کہ "جو شخص اس کی تلاوت کرے گا اسے ان چیزوں کے برابر صدقہ دینے کا ثواب عطا کرے گا جن چیزوں پر سورج اور چاند کی روشنی پڑتی ہے۔"

تعارف

علاء الدین تبریزی کے قلم سے خط ریحان میں قرآن کا ایک حصہ، سنہ978ھ، مشہد، حرم امام رضاؑ
  • نام

اس سورت کو اس لئے سورہ شمس کہا جاتا ہے کہ اس کے آغاز میں خداوند متعال نے شمس(سورج) کی قسم کھائی ہے: " وَالشَّمْسِ وَضُحَاہَا" ترجمہ: قسم ہے سورج اور اس کی پھیلتی ہوئی شعاعوں کی۔ اس سورت کا دوسرا نام ناقۂ صالح ہے کیونکہ اس میں حضرت صالح اور ان کی اونٹنی کی داستان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[1]

  • محل اور ترتیب نزول

سورہ شمس مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے تحت 28ویں جبکہ موجودہ ترتیب کے اعتبار سے 91ویں سورہ ہے جو قرآن کے آخری پارے میں موجود ہے۔[2]

  • آیات تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ شمس 15 آیات، 54 کلمات اور 253 حروف پر مشتمل ہے۔ اس سورہ کا شمار مُفَصَّلات میں ہوتا ہے اور قسم سے شروع ہونے والی سورتوں میں سے ایک ہے۔[3] سورہ شمس میں قسموں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور گیارہ مرتبہ اس میں خدا نے قسم کھائی ہے۔[4]

مضامین

  • یہ سورت تزکیہ اور تہذیب نفس پر تاکید کرتی ہے اور نفس کی پاکیزگی کو نجات کا سرمایہ اور نفس کی ناپاکی کو ناامیدی کا سبب سمجھتی ہے۔
  • اس سورت کے آخر میں حضرت صالح، ان کی اونٹنی اور قوم ثمود کے ہاتھوں اس اونٹنی کے مارے جانے کی داستان کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔[5]
سورہ شمس کے مضامین[6]
 
 
تزکیہ نفس نہ کرنے کے آثار
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
اجتماعی آثار: آیہ ۱۱-۱۵
معاشرے کی ہلاکت اور بگاڑ
 
فردی آثار: آیہ ۱-۱۰
سعادت سے محرومی
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب: آیہ ۱۱-۱۳
پیروی قوم ثمود از فردی پلید
 
پہلا مطلب: آیہ ۱-۸
نفس کے متضاد حالات اور متضاد چیزوں کی قسم
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب: آیہ ۱۴-۱۵
قوم ثمود کی ہلاکت اور نابودی
 
دوسرا مطلب: آیہ ۹-۱۰
انسانی کی سعادت میں تزکیہ نفس کا اثر


گیارہ قسموں پر مشتمل سورہ

سورہ شمس کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ اس سورت میں خدا نے پی در پی گیارہ دفعہ قسم کھائی ہے اس لحاظ سے یہ سورت قرآن کی سب سے زیادہ قسم کھانے والی سورت کے طور پر مشہور ہو گئی ہے۔ خداوند عالم کا اتنی دفعہ قسم کھانا اس بات کی علامت ہے کہ جو مطالب اس سورت میں بیان ہو رہی ہے وہ نہایت ہی اہم مطالب ہیں۔ قرآن میں عموما دو مقصد کی خاطر قسم کھائی جاتی ہیں: ایک یہ کہ جس مطلب کو بیان کرنے کیلئے قسم کھائی جاتی ہے اس کی اہمیت اور عظمت کو بیان کرنا۔ دوسرا یہ کہ جن چیزوں کی قسم کھائی جا رہی ہے ان کی اہمیت اور عظمت کو بیان کرنا۔[7]

امامزادہ اظہر بن علی کے مزار پر موجود صندوقچے پر تحریر سورہ شمس

فضیلت اور خواص

پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے: "جو شخص اس کی تلاوت کرے گا اسے ان چیزوں کے برابر صدقہ دینے کا ثواب عطا کرے گا جن چیزوں پر سورج اور چاند کی روشنی پڑتی ہے۔"[8] اسی طرج ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ اپنے اصحاب کو نمازوں میں سورہ شمس پڑھنے کی سفارش فرماتے تھے۔[9] امام صادقؑ سے بھی ایک حدیث میں آیا ہے: "جو شخص سورہ شمس کی تلاوت کرے گا قیامت کے دن اس کے بدن کے تمام اعضاء اور اس کے آس پاس موجود تمام اشیاء اس کے حق میں گواہی دیں گے اس وقت خدا فرمائے گا: میرے اس بندے کے بارے میں تمہاری گواہی کو قبول کرتا ہوں اور اسے جزا عطا کرتا ہوں۔ اسے بہشت تک ہمراہی کریں اور جو کچھ بھی پسند ہے اسے لے لیں بہشت کی نعمتیں اس پر گوارا ہوں۔"[10]


  • خاص مواقع پر اس کی قرائت‌

سورہ شمس عید فطر اور قربان کی نماز کی دوسری اور بعض کے مطابق پہلی رکعت میں پڑھنا مستحب ہے۔[11] اسی طرح مستحب ہے کہ دَحوُ الاَرض (25 ذیقعدہ) کو سورج نکلتے وقت دو رکعت پڑھی جائے جی کی دونوں رکعتوں میں حمد کے بعد 5 مرتبہ سورہ شمس پڑھی جاتی ہے۔[12]

متن اور ترجمہ

سوره شمس
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ﴿1﴾ وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا ﴿2﴾ وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا ﴿3﴾ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا ﴿4﴾ وَالسَّمَاء وَمَا بَنَاهَا ﴿5﴾ وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَا ﴿6﴾ وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ﴿7﴾ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ﴿8﴾ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ﴿9﴾ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴿10﴾ كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا ﴿11﴾ إِذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا ﴿12﴾ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ نَاقَةَ اللَّهِ وَسُقْيَاهَا ﴿13﴾ فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا ﴿14﴾ وَلَا يَخَافُ عُقْبَاهَا ﴿15﴾


(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

قَسم ہے سورج اور اس کی ضیاء و شعا ع کی۔ (1) اور چاند کی جب وہ اس (سورج) کے پیچھے آئے۔ (2) دن کی جب وہ اس (سورج) کو خوب روشن کر دے۔ (3) اور رات کی جب کہ وہ اسے ڈھانپ لے۔ (4) اور آسمان کی اور اس (ذات) کی جس نے اسے بنایا۔ (5) اور زمین کی اور جس نے اسے بچھایا۔ (6) اور انسانی نفس کی اور اس کی جس نے اسے درست بنایا۔ (7) پھر اسے اس کی بدکاری اور پرہیزگاری کا الہام (القاء) کیا۔ (8) بےشک وہ شخص فلاح پاگیا جس نے اس (نفس) کا تزکیہ کیا۔ (9) اور وہ شخص نامراد ہوا جس نے (گناہ سے آلودہ کر کے) اسے دبا دیا۔ (10) قومِ ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (اپنے پیغمبر(ص) کو) جھٹلایا۔ (11) جب ان کا سب سے زیادہ بدبخت (آدمی) اٹھ کھڑا ہوا۔ (12) تو اللہ کے رسول(ع) (صالح(ع)) نے ان لوگوں سے کہا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے سے خبر دار رہنا (اس کا خیال رکھنا)۔ (13) پس ان لوگوں نے ان (رسول(ع)) کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہ (عظیم) کی پاداش میں ان پر ہلاکت نازل کی اور اسی (بستی) کو زمین کے برابر کر دیا۔ (14) اور اللہ کو اس واقعہ کے انجام کا کوئی خوف نہیں ہے۔ (15)


پچھلی سورت:
سورہ بلد
قرآن کریم اگلی سورت:
سورہ لیل
سورہ 91

١.فاتحہ ٢.بقرہ ٣.آل‌عمران ٤.نساء ٥.مائدہ ٦.انعام ٧.اعراف ٨.انفال ٩.توبہ ١٠.یونس ١١.ہود ١٢.یوسف ١٣.رعد ١٤.ابراہیم ١٥.حجر ١٦.نحل ١٧.اسراء ١٨.کہف ١٩.مریم ٢٠.طہ ٢١.انبیاء ٢٢.حج ٢٣.مؤمنون ٢٤.نور ٢٥.فرقان ٢٦.شعراء ٢٧.نمل ٢٨.قصص ٢٩.عنکبوت ٣٠.روم ٣١.لقمان ٣٢.سجدہ ٣٣.احزاب ٣٤.سبأ ٣٥.فاطر ٣٦.یس ٣٧.صافات ٣٨.ص ٣٩.زمر ٤٠.غافر ٤١.فصلت ٤٢.شوری ٤٣.زخرف ٤٤.دخان ٤٥.جاثیہ ٤٦.احقاف ٤٧.محمد ٤٨.فتح ٤٩.حجرات ٥٠.ق ٥١.ذاریات ٥٢.طور ٥٣.نجم ٥٤.قمر ٥٥.رحمن ٥٦.واقعہ ٥٧.حدید ٥٨.مجادلہ ٥٩.حشر ٦٠.ممتحنہ ٦١.صف ٦٢.جمعہ ٦٣.منافقون ٦٤.تغابن ٦٥.طلاق ٦٦.تحریم ٦٧.ملک ٦٨.قلم ٦٩.حاقہ ٧٠.معارج ٧١.نوح ٧٢.جن ٧٣.مزمل ٧٤.مدثر ٧٥.قیامہ ٧٦.انسان ٧٧.مرسلات ٧٨.نبأ ٧٩.نازعات ٨٠.عبس ٨١.تکویر ٨٢.انفطار ٨٣.مطففین ٨٤.انشقاق ٨٥.بروج ٨٦.طارق ٨٧.اعلی ٨٨.غاشیہ ٨٩.فجر ٩٠.بلد ٩١.شمس ٩٢.لیل ٩٣.ضحی ٩٤.شرح ٩٥.تین ٩٦.علق ٩٧.قدر ٩٨.بینہ ٩٩.زلزلہ ١٠٠.عادیات ١٠١.قارعہ ١٠٢.تکاثر ١٠٣.عصر ١٠٤.ہمزہ ١٠٥.فیل ١٠٦.قریش ١٠٧.ماعون ١٠٨.کوثر ١٠٩.کافرون ١١٠.نصر ١١١.مسد ١١٢.اخلاص ١١٣.فلق ١١٤.ناس


حوالہ جات

  1. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۴.
  2. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۱۶۷.
  3. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۴.
  4. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۷، ص۳۸.
  5. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج2، ص1264۔
  6. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  7. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج۲۷، ص۳۸ـ۳۹.
  8. طبرسی، مجمع البیان، ۱۹۹۵م، ج۱۰، ص۳۶۷.
  9. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۸۹، ص۳۲۵.
  10. شیخ صدوق، ثواب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ص۱۲۳.
  11. نجفی، جواہرالکلام، ۲۰۰۰م، ج۱۱، ص۳۵۸.
  12. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۱۴ق، ج۸، ص۱۸۲.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • حرّ عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعۃ، قم، آل البیت، ۱۴۱۴ق۔
  • دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، بہ کوشش بہاءالدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، تحقیق: صادق حسن زادہ، تہران، ارمغان طوبی، ۱۳۸۲ش۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمي للمطبوعات، چاپ اول، ۱۹۹۵م۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالأنوار الجامعۃ لدرر الأخبار الأئمۃ الأطہار، بیروت،‌ مؤسسۃ الوفاء، چاپ دوم، ۱۴۰۳ق۔
  • مصطفوی، محمدتقی، ہ‍گ‍م‍ت‍ان‍ہ‌: آث‍ار ت‍اری‍خ‍ی‌ ہ‍م‍دان‌ و ف‍ص‍ل‍ی‌ درب‍ارہ‌ اب‍وع‍ل‍ی‌ س‍ی‍ن‍ا، ت‍ہ‍ران‌، بی‌نا، ۱۳۳۲ش۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چاپ اول، ۱۳۷۱ش۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۱ش۔
  • نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام‌ فی‌ ثوبہ‌ الجدید، ج‌۱، قم‌، مؤسسہ دائرہ معارف‌ الفقہ‌ الاسلامی‌،۲۰۰۰م/۱۴۲۱ق۔
  • نوروزی، علیرضا، «مسجد شیخ لطف‌اللہ»، در مجلہ گلستان قرآن، شمارہ ۹۹، آذر ۱۳۸۰ش۔

بیرونی روابط