سورہ کافرون

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
کوثر سورۂ کافرون نصر
سوره کافرون.jpg
ترتیب کتابت: 109
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 18
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 6
الفاظ: 27
حروف: 99

سورہ کافرون [سُورةُ الْكَافِرُونَ] قرآن کریم کی مکی سورتوں میں سے ہے جس میں خداوند متعال نے پیغمبر اسلام(ص) سے ارشاد فرمایا ہے کہ فیصلہ کن اور دوٹوک انداز سے کافروں سے کہہ دیں کہ "میں اپنے دین میں ثابت قدم اور استوار ہوں اور اس سلسلہ میں کسی کے ساتھ ساز باز کے لئے تیار نہيں ہوں"۔

سورہ کافرون

سورہ کافرون حجم و کمیت کے لحاظ سے قصار السور کے زمرے میں آتی ہے اور پارہ 30 کی سورتوں میں شمار ہوتی ہے جو اس پارے کے چوتھے حزب میں مندرج ہے۔ سور نداء و مخاطبات میں گیارہوں اور آخری نمبر پر ہے۔ نیز یہ سور قل (کہہ دو) سے شروع ہونے والی پانچ سورتوں میں دوسری سورت ہے۔ اس سورت اور تین دیگر سورتوں (اخلاص، فلق، ناس) کو ملا کر چار قل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سورت کافروں پر اتمام حجت کرنے کے علاوہ واضح کرتی کہ ہے کہ دین توحید اور شرک و بت پرستی کے درمیان کوئی جوڑ اور آمیزش ممکن نہیں ہے۔[1]

شان نزول

مفسرین (منجملہ: طبری، طوسی، میبدی، زمخشری، طبرسی اور ابوالفتوح رازی) نے اس سورت کے شان نزول میں لکھا ہے کہ قریش کے بعض اکابرین ـ جو کفر اور گمراہی و ضلالت کے پیشوا تھے ـ منجملہ ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، امیہ بن خلف، اسود بن عبدالمطلب اور حارث بن قیس پیغمبر اکرم(ص) کے پاس آئے تھے اور دوطرفہ ساز باز اور بظاہر مصالحت کی تجویز دے رہے تھے؛ وہ تجویز دے رہے تھے کہ "کچھ مدت (ایک سال) آپ ہمارے دین کی پابندی کیا کریں اور ہمارے بتوں اور معبودوں کی پرستش کریں اور کچھ مدت (ایک سال) ہم آپ کے دین کی پابندی کریں اور آپ کے خدا کی پرستش کریں۔ رسول اللہ(ص) نے ان کی تجویز دو ٹوک انداز میں مسترد کردی اور یہ سورت نازل ہوئی۔[2]

ایک تفسیری نکتہ

علامہ طباطبائی، اس سورت کی چھٹی آیت [لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينٌِ (ترجمہ: تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین) [ سورہ کافرون–6] ] کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

"یہ آیت معنی کے لحاظ سے سابقہ موضوع یعنی پیغمبر(ص) اور مشرکین کے درمیان عدم اشتراک، پر تاکید ہے اور "لکم" اور "لی" میں "لام" لامِ اختصاص ہے؛ یعنی تمہارا دین ـ جو بتوں کی پرستش سے عبارت ہے ـ تمہارے لئے مختص ہے اور مجھ تک نہیں سرایت نہیں کرتا اور میرا دین بھی میرے لئے مختص ہے اور تمہارے شامل حال نہیں ہوتا"۔[3]

یہاں ذہن اس بات کی طرف متبادر ہو سکتا ہے کہ یہ آیت لوگوں کو دین کے انتخاب کی آزادی دیتی ہے اور کہتی ہے کہ انسان کا جی چاہے تو شرک کے راستے پر چلے اور جو چاہے توحید کی راہ پر گامزن ہو۔ یا یہ بات ذہن میں ابھر سکتی ہے کہ یہ آیت حکم دینا چاہتی ہے کہ "رسول اللہ(ص) مشرکین کے کام سے کام نہ رکھیں لیکن اس آیت کے لئے ہمارے [علامہ طباطبائی] پیش کردہ معنی اس توہم کا خاتمہ کر دیتے ہیں کیونکہ ہم نے کہا کہ آیت یہ کہنا چاہتی ہے کہ "تم میرے دین کی طرف مائل نہ ہوگے اور میں بھی تمہاری طرف مائل نہ ہونگا" اور حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی دعوت حق اس توہم کا ازالہ کرتی ہے۔[4]

بعض مفسرین نے اس توہم کے ازالے کے لئے کہا ہے: "اس آیت میں لفظ "دین" کے معنی مذہب اور روش کے نہیں ہیں بلکہ اس کے معنی "جزا" کے ہیں یعنی تمہاری جزا تمہارے لئے اور میری جزا میرے لئے"،[5] بعض دیگر کا کہنا ہے کہ "اس آیت میں ایک "مضاف" حذف ہوا ہے اور تقدیر میں یہ آیت کچھ یوں ہے: "لكُم جزاءُ دينِكم ولى جزاءُ دينى" تمہارے دین کی جزا تمہارے لئے اور میرے دین کی جزا میرے لئے" لیکن یہ دونوں صورتیں دور از ذہن ہیں۔[6]

نام

سورہ کافرون کے مضامین[7]
 
 
 
 
پیغمبر کا عقیدہ اور شریعت کافروں کے آئین سے مختلف ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب: آیہ ۶
پیغمبر کی شریعت اور کافروں کے آئین میں فرق
 
پہلا مطلب: آیہ ۲-۵
پیغمبر اور کافروں کے معبود میں فرق
 
مقدمہ: آیہ ۱
کافروں سے برائت پر پیغمبر کو مامور کرنا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا نکتہ: آیہ ۶
کافر خود ساختہ آئین کے پیروکار
 
پہلا نکتہ: آیہ ۲-۳
کبھی بھی پیغمبر اور کافروں کا معبود ایک نہیں ہوگا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا نکتہ: آیہ ۶
پیغمبر، الہی دین اور شریعت کا پیروکار ہے
 
دوسرا نکتہ: آیہ ۴-۵
ماضی میں بھی پیغمبر اور کافروں کا معبود ایک نہیں تھا
 
  • اس کو سورہ کافرون کہا جاتا ہے کیونکہ یہ کافروں کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے اور اس کے آغاز میں ان سے خطاب کرنے کا حکم دیا گیا ہے:

["قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ (ترجمہ: کہئے اے کافر لوگو) [ سورہ کافرون–1] "]

  • اس کو سورہ جحد (=انکار) کہتے ہیں کیونکہ اس سورت کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو دین خدا کا انکار کرتے ہیں۔
  • اس سورت کو سورہ عبادت کہتے ہیں کیونکہ یہ لفظ (مختلف مشتقات کی صورت میں) اس سورت میں آٹھ بار دہرایا گیا ہے۔
  • اس سورت کو سورہ مُشَقشَقہ کہتے ہیں کیونکہ یہ سورت نفاق، شرک اور آلودگی سے بچاتی اور پاک کر دیتی ہے اور دو ٹوک انداز سے بتوں اور غیر اللہ کی عبادت کو رد کر دیتی ہے اور انسان کو شرک و نفاق سے دور اور پاک و بری کر دیتی ہے۔[8]

متن سورہ

سوره کافرون مکیہ ۔ نمبر 109 ۔ آیات 6 ترتیب نزول 18
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ﴿1﴾ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ﴿2﴾ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ﴿3﴾ وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ ﴿4﴾ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ﴿5﴾ لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ ﴿6﴾

اللہ کے نام سے جو بہت رحم والا نہایت مہربان ہے

کہئے اے کافر لوگو! (1) میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو (2) اور نہ تم اس کی عبادت کرتے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں (3) اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے (4) اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں (5) تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین (6)


پچھلی سورت:
سورہ کوثر
سورہ 109 اگلی سورت:
سورہ نصر
قرآن کریم

(1) سورہ فاتحہ (2) سورہ بقرہ (3) سورہ آل عمران (4) سورہ نساء (5) سورہ مائدہ (6) سورہ انعام (7) سورہ اعراف (8) سورہ انفال (9) سورہ توبہ (10) سورہ یونس (11) سورہ ہود (12) سورہ یوسف (13) سورہ رعد (14) سورہ ابراہیم (15) سورہ حجر (16) سورہ نحل (17) سورہ اسراء (18) سورہ کہف (19) سورہ مریم (20) سورہ طہ (21) سورہ انبیاء (22) سورہ حج (23) سورہ مؤمنون (24) سورہ نور (25) سورہ فرقان (26) سورہ شعراء (27) سورہ نمل (28) سورہ قصص (29) سورہ عنکبوت (30) سورہ روم (31) سورہ لقمان (32) سورہ سجدہ (33) سورہ احزاب (34) سورہ سباء (35) سورہ فاطر (36) سورہ یس (37) سورہ صافات (38) سورہ ص (39) سورہ زمر (40) سورہ غافر (41) سورہ فصلت (42) سورہ شوری (43) سورہ زخرف (44) سورہ دخان (45) سورہ جاثیہ (46) سورہ احقاف (47) سورہ محمد (48) سورہ فتح (49) سورہ حجرات (50) سورہ ق (51) سورہ ذاریات (52) سورہ طور (53) سورہ نجم (54) سورہ قمر (55) سورہ رحمن (56) سورہ واقعہ (57) سورہ حدید (58) سورہ مجادلہ (59) سورہ حشر (60) سورہ ممتحنہ (61) سورہ صف (62) سورہ جمعہ (63) سورہ منافقون (64) سورہ تغابن (65) سورہ طلاق (66) سورہ تحریم (67) سورہ ملک (68) سورہ قلم (69) سورہ حاقہ (70) سورہ معارج (71) سورہ نوح (72) سورہ جن (73) سورہ مزمل (74) سورہ مدثر (75) سورہ قیامہ (76) سورہ انسان (77) سورہ مرسلات (78) سورہ نباء (79) سورہ نازعات (80) سورہ عبس (81) سورہ تکویر (82) سورہ انفطار (83) سورہ مطففین (84) سورہ انشقاق (85) سورہ بروج (86) سورہ طارق (87) سورہ اعلی (88) سورہ غاشیہ (89) سورہ فجر (90) سورہ بلد (91) سورہ شمس (92) سورہ لیل (93) سورہ ضحی (94) سورہ شرح (95) سورہ تین (96) سورہ علق (97) سورہ قدر (98) سورہ بینہ (99) سورہ زلزال (100) سورہ عادیات (101) سورہ قارعہ (102) سورہ تکاثر (103) سورہ عصر (104) سورہ ہمزہ (105) سورہ فیل (106) سورہ قریش (107) سورہ ماعون (108) سورہ کوثر (109) سورہ کافرون (110) سورہ نصر (111) سورہ مسد (112) سورہ اخلاص (113) سورہ فلق (114) سورہ ناس


متعلقہ مآخذ

پاورقی حاشیے

  1. دیکھیں: دانش نامہ قرآن و قرآن‌ پژوہی، ج2، ص1270-1269۔
  2. قرآن کریم، ترجمہ، توضیحات و واژه‌ نامہ: بہاءالدین خرم شاہی، ذیل سوره کافرون.
  3. طباطبائی، تفسیر المیزان، ج20، ذیل سوره کافرون۔
  4. طباطبائی، المیزان، ج20، ذیل تفسیر سوره کافرون.
  5. طباطبائی، وہی ماخذ۔
  6. طباطبائی، المیزان، ج۲۰، ذیل تفسیر سوره کافرون.
  7. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  8. دیکھیں: دانشنامہ قرآن و قرآن‌ پژوہی، ج2، ص1270-1269۔


مآخذ