حروف مقطعہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حروف مقطعات میں سے سورہ مریم کی پہلی آیت

حُروفِ مُقَطًّعہ، ایک یا ایک سے زیادہ ان حروف کو کہا جاتا ہے جو قرآن کریم کے 29 سوروں میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد آیا ہے۔ ان حروف کو جداجدا پڑھا جاتا ہے جیسے "الم" جو سورہ بقرہ کی ابتداء میں آیا ہے، کو "الف، لام، میم" پڑھا جاتا ہے۔

سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کے علاوہ جن سوروں کی ابتداء حروف مقطعہ سے ہوئی ہے، سب کے سب مکی سورتیں ہیں۔ جن سوروں کی ابتداء میں حروف مقطعہ آیا ہے ان میں سے بعض یہ ہیں: اعراف، یونس، ہود، مریم، طہ، قصص، غافر اور قلم۔

علماء اور قرآن پر تحقیق کرنے والے محققین حروف مقطعہ کے مختلف معانی اور تفاسیر بیان کرتے ہوئے ان پر مستقل کتابیں بھی تحریر کی ہیں۔ علامہ طباطبائی کے مطابق حروف مقطعہ خدا اور پیغمبر اکرمؐ کے درمیان ایک قسم کا راز ہے جس سے رسول خداؐ کے علاوہ کوئی آگاہ نہیں ہے۔ حروف مقطعہ کی یہ تفسیر امام صادقؑ سے نقل ہونے والی ایک حدیث میں بھی آیا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن کریم کے معجزہ ہونے کی نشانی، خدا کا اسم اعظم وغیرہ بھی ان کے معانی اور تفاسیر کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے۔

تعارف

حُروفِ مُقَطًّعہ ایک یا ایک سے زیادہ ان حروف کو کہا جاتا ہے جو قرآن کریم کے 29 سوروں میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد آیا ہے۔ ان حروف کو جداجدا پڑھا جاتا ہے جیسے "الم" (الف، لام، میم) "یس" (یا، سین)، "س" (صاد) وغیرہ۔ ان حروف کو مُقَطَّعات[1] اور فَواتحُ السُّوَر بھی کہا جاتا ہے۔[2]

جن سوروں کی ابتداء حروف مقطعہ سے ہوئی ہے، سب کے سب مکی سورتیں ہیں سوائے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کے [3] یہ دو سورتیں بھی مدنی زندگی کے ابتدائی ایام میں نازل ہوئی ہیں۔[4] کوفیوں کے اعداد و شمار کے مطابق جو امام علیؑ سے نقل ہوئی ہے[5]، حروف مقطعہ بعض سورتوں میں ایک مستقل آیت[6] جبکہ بعض سورتوں میں ایک آیت کا جزء ہے۔[7]

حروف مقطعہ یہ ہیں:

قرآن میں حروف مقطعہ
نمبر شمار سورت کا نام حروف مقطعہ نمبر شمار سورت کا نام حروف مقطعہ نمبر شمار سورت کا نام حروف مقطعہ
۱ بقرہ الم ۱۱ طہ طہ ۲۱ غافر حم
۲ آل عمران الم ۱۲ شعراء طسم ۲۲ فصلت حم
۳ اعراف المص ۱۳ نمل طس ۲۳ شوری حم ، عسق
۴ یونس الر ۱۴ قصص طسم ۲۴ زخرف حم
۵ ہود الر ۱۵ عنکبوت الم ۲۵ دخان حم
۶ یوسف الر ۱۶ روم الم ۲۶ جاثیہ حم
۷ رعد المر ۱۷ لقمان الم ۲۷ احقاف حم
۸ ابراہیم الر ۱۸ سجدہ الم ۲۸ ق ق
۹ حجر الر ۱۹ یس یس ۲۹ قلم ن
۱۰ مریم کہیعص ۲۰ ص ص

معانی اور تفسیر

علماء اور قرآن پر تحقیق کرنے والے محققین نے حروف مقطعہ کے مختلف معانی اور تفاسیر بیان کرتے ہوئے ان پر مستقل کتابیں بھی تحریر کی ہیں۔ من جملہ ان کتابوں میں الحروف المقطعۃ فی القرآن تحریر عبدالجبار شرارہ، اوائل السور فی القرآن الکریم تحریر علی ناصوح طاہر اور اعجاز قرآن; حروف مقطّعہ کی عددی تحلیل تحریر رشاد خلیفہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔ ان تمام تحقیقات کے باوجود اب بھی مسلمان دانشوروں کا ایک گروہ بعض احادیث[8] سے استناد کرتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ یہ حروف اسرار الہی میں سے ہیں جن کا علم خدا کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا اس بنا پر یہ لوگ ان کے بارے میں اظہار نظر کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔[9]

لیکن بعض علماء نے ان حروف کیلئے مختلف معانی اور تفاسیر بیان کی ہیں جن میں: خدا اور پیغمبر اکرمؐ کے درمیان راز، قرآن کریم کے متشابہات، سورتوں کا نام، حروف قسم، قرآن کے معجزہ ہونے کی نشانی، خدا کا اسم اعظم اور ادات تنبیہ وغیرہ ان کے معانی کے طور پر ذکر کئے گئے ہیں۔ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں کہ چونکہ ان حروف کے بارے میں صحابہ نے پیغمبر اکرمؐ سے کوئی سوال وغیرہ پوچھے جانے کی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کیلئے حروف مقطعہ کے معانی اور مفاہیم قابل درک اور شناختہ شدہ تھا۔[10] لیکن علامہ طباطبائی مذکورہ معانی کو معتبر نہیں سمجھتے کیونکہ مذکورہ معانی پر کوئی محکم دلائل موجود نہیں بلکہ صرف احتمالات کے سوا کچھ نہیں ہے۔[11]

  • اسرار الہی: علامہ طباطبایی اور سید محمود طالقانی سمیت بعض علماء حروف مقطعہ کو خدا اور پیغمبر کے درمیان ایک راز سمجھتے ہیں جس سے خدا اور پیغمبر کے علاوہ کوئی آگاہ نہیں ہو سکتے ہیں۔[12] اس نظریہ کو امام جعفر صادقؑ کی طرف بھی نسبت دی گئی ہے۔[13]
  • متشابہات قرآن کریم: اہل سنت میں سے فخر رازی اور سیوطی اس بات کے معتقد ہیں کہ حروف مقطعہ قرآن کریم کے متشابہات میں سے ہیں جن کی حقیقت سے متعلق صرف خدا ہی جانتا ہے۔[14] بعض شیعہ محدثین کے توسط سے نقل ہونے والی احادیث بھی اس نظریے کی تائید کرتی ہیں۔[15]
  • سورتوں کا نام: شیخ طوسی، طبرسی اور سیوطی کا نظریہ ہے کہ حروف مقطعہ سورتوں کے ناموں میں سے ہیں اور ہر سورہ کا عنوان وہی حروف ہیں جو ان سورتوں کی ابتداء میں آیا ہے۔[16] شیخ طوسی اور طبرسی اس قول کو حروف مقطعہ کی تفسیر میں بہترین نظریہ قرار دیتے ہیں۔[17] اس قول کو زید بن اسلم کی طرف نسبت دی گئی ہے۔[18] اسی طرح خلیل بن احمد اور سیبویہ بھی اسی قول کو قبول کرتے ہیں۔[19]
  • حروف قسم: ابن عباس اور عِکرمہ حروف مقطعہ کو حروف قسم مانتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ خداوندعالم نے ان حروف کے ذریعے جو خدا کے اسماء حسنی میں سے ہیں، قسم کھایا ہے۔[20] سیوطی اس قول کی توجیہ اور تأیید میں امام علیؑ سے نقل ہونے والی ایک حدیث سے استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں: "یا کہیعص اغفرلی"۔[21]
  • اعجاز قرآن کی نشانی: حروف مقطعہ کی تفسیر کے سلسلے میں سب سے قدیم اور مشہور نظریات میں سے ایک یہ ہے کہ خدا نے قرآن کی 29 سورتوں کو ان حروف کے ذریعے آغاز فرمایا تاکہ زبان عربی کے ماہرین یہ جان لیں کہ یہ قرآن انہی حروف پر مشتمل ہے جن کے ذریعے وہ لوگ ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں اب اگر یہ لوگ قرآن کے معجزہ ہونے کا انکار کرتے ہیں تو وہ خود بھی انہی حروف سے اس قرآن کی طرح کوئی کتاب لکھ دیں۔[22] یہ نظریہ بعض شیعہ منابع میں بھی آیا ہے۔[23] اہل سنت عالم دین سید قطب نے فقط اسی قول کو شایستہ قرار دیا ہے۔[24]
  • اسم اعظم: ابن مسعود[25] اور ابن عباس[26]جو صدر اسلام کے مشہور مفسرین میں سے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ حروف خدا کے اسم اعظم ہیں۔[27] اسی طرح سعید بن جُبَیر بھی معتقد تھے کہ حروف مقطعہ خدا کے اسماء میں سے ہیں جو جداگانہ طور پر لکھا گیا ہے۔[28] یہ نظریہ ائمہ معصومین سے منسوب بعض متون میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔[29]
  • ادات تنبیہ: بعض علماء کے مطابق حروف مقطعہ میں سے ہر ایک ادات تنبیہ (اَلا، اَما، و ہان کی طرح) ہیں؛ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ چونکہ مشرکین قرآن سے اِعراض کرنے کیلئے اس کی تلاوت کے دوران شور شرابہ کر کے اسے لوگوں کے کانوں تک پہنچنے سے روکنا چاہتے تھے،[30] ایسی صورتحال میں خدا بعض سورتوں کو حروف مقطعہ کے ساتھ آغاز فرمایا تاکہ اس طرح مشرکین کو ساکت رہنے پر مجبور کیا جا سکے اور اسے کے ذریعے ان کی توجہ مبزول کیا جا سکے۔[31] اس سوال کا جواب میں کہ کیوں خدا نے مشہور ادات تنبیہ کا استعمال نہیں کیا؟‌، کہا جاتا ہے کہ قرآن ایک ایسا کلام ہے جو عام انسانوں کے کلام کی طرح نہیں ہے اس بنا پر بعض نامتعارف ادوات تنبیہِ سے آغاز کیا گیا تاکہ اس طرح دوسرے کلاموں سے زیادہ فصاحت و بلاغت کا حامل ہو اور زیادہ موثر واقع ہو۔[32]
  • عددی تفسیر: مفسرین کا ایک گروہ ان حروف کو ایسے اسرار و رموز قرار دیتے ہیں جو عربی حروف کے عددی اقدار "عَدُّ اَبی جاد‌" یا "حساب جُمَل" کے معانی پر مشتمل ہیں۔[33] یہ گروہ یہودیوں سے متاثر ہیں جو حروف مقطعہ کی عددی تفسیر کے ذریعے حکومتوں کے عروج و زوال، بعض اقوام کی زندگی اور سرداری کی مدت خاص کر مسلمانوں کے دوام اور بقا کی مدت کی پیشن گوئی کرتے تھے۔[34] ابن حجر عسقلانی ان تأویلوں کے بطلان کو ثابت کرنے کیلئے ابن عباس کے نظریے پر تکیہ کرتے ہوئے کہتے کہ ابن عباس نے "عدّ ابی جاد" سے منع کیا ہے اور اسے سحر و جادو کے زمرے میں قرار دیا ہے جس کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔[35]

حوالہ جات

  1. علامہ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۳ق، ج۸۹، ص۳۷۳.
  2. طبری، تفسیر الطبری، مکتبۃ ابن تیمیۃ، ج۱، ص۲۰۶، ذیل سورہ بقرہ، آیہ ۱.
  3. سخاوی، جمال القراء وكمال الإقراء، ۱۴۱۹ ق، ج۲، ص۵۹۱.
  4. سیوطی، الدر المنثور، دار الفکر، ج۲، ص۷۱۴.
  5. شاطبی، منظومۃ ناظمۃ الزہر، ۱۴۲۷ق، ص۶.
  6. سورہ بقرہ، آل عمران و اعراف.
  7. سورہ یونس و ہود.
  8. شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج۱، ص۴۸؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ذیل سورہ بقرہ، آیہ ۱؛ سیوطی، الإتقان، ۱۹۶۷ق، ج۳، ص۲۴.
  9. شلتوت، تفسیر القرآن الکریم، ۱۳۷۹ق، ص۵۴.
  10. سیوطی، الإتقان، ۱۹۶۷ق، ج۳، ص۳۰-۳۱.
  11. طباطبائی، المیزان، ۱۳۹۰ـ۱۳۹۴، ج۱۸، ص۸.
  12. طالقانی، پرتوی از قرآن، ۱۳۴۵ش، ج۱، ص۴۹؛ طباطبائی، المیزان، ۱۳۹۰ـ۱۳۹۴ق، ج۱۸، ص۹.
  13. علامہ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۳ق، ج۸۹، ص۳۸۴.
  14. فخر رازی، التفسیر الکبیر، ذیل سورہ بقرہ، آیہ ۱؛ سیوطی، الإتقان، ۱۹۶۷ق، ج۳، ص۲۴.
  15. شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج۱، ص۴۸؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۴۰۸ق، ذیل سورہ بقرہ، آیہ ۱.
  16. شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج۱، ص۴۸-۴۹؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۴۰۸ق، ذیل سورہ بقرہ، آیہ ۱؛ سیوطی، الإتقان، ۱۹۶۷ق، ج۱، ص۶۶۲.
  17. شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج۱، ص۴۸ـ۴۹؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۴۰۸ق، ذیل سورہ بقرہ، آیہ ۱.
  18. طبری، تفسیر الطبری، مکتبۃ ابن تیمیۃ، ج۱، ص۲۰۶، ذیل سورہ بقرہ، آیہ ۱.
  19. فخر رازی، التفسیر الکبیر، ذیل سورہ بقرہ، آیہ ۱.
  20. طبری، تفسیر الطبری، مکتبۃ ابن تیمیۃ، ج۱، ص۲۰۷، ذیل سورہ بقرہ، آیہ ۱؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۴۰۸ق، ذیل سورہ بقرہ، آیہ ۱؛ شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج۱، ص۴۷.
  21. سیوطی، الإتقان، ۱۹۶۷م، ج۳، ص۲۷-۲۸.
  22. سیوطی، الإتقان، ۱۹۶۷ق، ج۱، ص۶۶۵.
  23. التفسیر المنسوب الی الامام ابی محمد الحسن بن علی العسکری، ۱۴۰۹ق، ص۶۲؛ علامہ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۳ق، ج۸۹، ص۳۷۷.
  24. سید قطب، فی ظلال القرآن، ۱۳۸۶ق، ج۱، جزء۱، ص۳۸.
  25. سیوطی، الدر المنثور، دار الفکر، ج۱، ص۵۷.
  26. طبری، تفسیر الطبری، مکتبۃ ابن تیمیۃ، ج۱، ص۲۰۶، ذیل سورہ بقرہ، آیہ ۱.
  27. سیوطی، الإتقان، ۱۹۶۷ق، ج۳، ص۲۷.
  28. طبری، تفسیر الطبری، مکتبۃ ابن تیمیۃ، ج۱، ص۲۰۷، ذیل سورہ بقرہ، آیہ ۱.
  29. علامہ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۳ق، ج۸۹، ص۳۷۵.
  30. سورہ فصلت، آیہ ۲۶.
  31. شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج۱، ص۴۸؛ سیوطی، الإتقان، ۱۹۶۷ق، ج۳، ص۳۱.
  32. سیوطی، الإتقان، ۱۹۶۷ق، ج۳، ص۳۱.
  33. طبری، تاریخ الطبری، مکتبۃ ابن تیمیۃ، ج۱، ص۲۰۹-۲۱۰، ذیل سورہ بقرہ، آیہ ۱.
  34. سیوطی، الإتقان، ۱۹۶۷ق، ج۳، ص۲۹ـ۳۰؛ طالقانی، پرتوی از قرآن، ۱۳۴۵ش، ج۱، ص۴۶ـ۴۷.
  35. سیوطی، الإتقان، ۱۹۶۷ق، ج۳، ص۳۰.


مآخذ

  • آلوسی، محمود بن عبداللہ، روح المعانی، مصر، ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ، بی‌تا.
  • التفسیر المنسوب الی الامام ابی محمد الحسن بن علی العسکری علیہم السلام، قم، مدرسۃ الامام المہدی(ع)، ۱۴۰۹ق.
  • سید قطب، ابراہیم حسین، فی ظلال القرآن، بیروت، ۱۳۸۶ق/۱۹۶۷م.
  • سیوطی، عبدالرحمان بن ابی بکر، الإتقان فی علوم القرآن، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، قاہرہ، ۱۹۶۷م.
  • سیوطی، عبدالرحمان بن ابی بکر، الدر المنثور، بیروت، دار الفکر، بی‌تا.
  • شاطبی، قاسم بن فیرہ، منظومۃ ناظمۃ الزُّہر فی عَدِّآی السُّوَر، تحقیق اشرف محمد فؤاد طلعت، مصر، اسماعیلیہ، ۱۴۲۷ق/۲۰۰۶م.
  • شلتوت، محمود، تفسیر القرآن الکریم، تہران، ۱۳۷۹ش.
  • طالقانی، محمود، پرتوی از قرآن، تہران، ۱۳۴۵ش.
  • طباطبائی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، ۱۳۹۰-۱۳۹۴ق/۱۹۷۱-۱۹۷۴م.
  • طبرسی،‌ فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تحقیق ہاشم رسولی محلاتی و فضل‌اللہ یزدی طباطبائی، بیروت، ۱۴۰۸ق/۱۹۸۸م.
  • طبری، محمد بن جریر، تفسیر الطبری: جامع البیان عن تأویل آی القرآن، تحقیق محمود محمد شاکر و احمد محمد شاکر، قاہرہ، مکتبۃ ابن تیمیۃ، بی‌تا.
  • سخاوی، علي بن محمد، جمال القراء وكمال الإقراء، تحقيق: عبد الحق عبد الدايم سيف القاضي، بيروت، مؤسسۃ الكتب الثقافيۃ، ۱۴۱۹ ق.
  • شیخ ‌طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، تحقیق احمد حبیب قصیر عاملی، بیروت، بی‌تا.
  • ‌ فخر رازی، محمد بن عمر، التفسیر الکبیر، قاہرہ، بی‌تا.
  • فیض کاشانی، محمد بن شاہ مرتضی، تفسیر الصافی، تحقیق حسین اعلمی، تہران، ۱۴۱۶ق.
  • علامہ مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار، تحقیق سید ابراہیم میانجی و محمدباقر بہبودی، بیروت، ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳م.