سورہ نساء

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آل عمران سورۂ نساء مائدہ
سوره نساء.jpg
ترتیب کتابت: 4
پارہ : 4 و 5 و 6
نزول
ترتیب نزول: 92
مکی/ مدنی: مدنی
اعداد و شمار
آیات: 176
الفاظ: 3764
حروف: 16328

سورۂ نساء قرآن کی مدنی سورتوں میں سے چوتھی سورہ ہے کہ جو قرآن پاک میں چوتھے سپارے سے شروع ہو کر چھٹے سپارے میں ختم ہوتی ہے۔ اس سورت میں اکثر عورتوں سے متعلق احکام بیان ہونے کی وجہ سے اسے نسا کہا جاتا ہے۔ سورت نساء میں اکثر ارث کے احکام، عائلی احکام نیز انہی کے درمیان نماز، جہاد اور شہادت کے احکام بھی بیان ہوئے ہیں۔ اسی طرح خلاصہ کی صورت میں اہل کتاب، پہلی امتوں کی سرگذشت اور منافقین کے متعلق خدا کی تنبیہ مذکور ہے۔

سورت نساء کی مشہور آیات میں سے ۵۹ویں آیت آیت اولی الامر ہے جس میں اولی الامر کی اطاعت کا حکم مذکور ہے۔ احادیث کے مطابق اولی الامر سے شیعوں کے امام مراد ہیں۔دیگر مشہور آیات میں آیت تیمم اور آیت محارم وغیرہ ہیں۔ اس سورت کی تلاوت کے متعلق رسول اللہ سے منقول ہے: جو بھی اس کی قرات (تلاوت) کرے گا گویا اس نے ہر میراث پانے والے مؤمن کیلئے صدقہ دیا ہے،اس کا صلہ غلام آزاد کرنے کے برابر ہے،اس نے شرک سے برات اختیار کی ہے اور مشیئت الہی کے نزدیک ایسے لوگوں میں شمار ہو گا جن سے خدا نے درگزر کیا ہے۔


تعارف

خط ثلث میں سورۂ نساء کی 78ویں آیت کا کچھ حصہ
  • وجہ تسمیہ

اس سورت میں بیس مرتبہ لفظ نسا کے آنے اور اکثر خواتین سے مربوط احکام بیان ہونے کی وجہ سے اس کا نام سورۂ نساء رکھا گیا۔ اس سورت کا دوسرا نام نساءالکُبری‌ٰ ہے چونکہ اس کے مقابلے میں سورت طلاق کو «‌نساءالصُغری‌ٰ» یا «‌نساءُالقُصری‌ٰ» نام ہے۔[1]

  • مقام و ترتیب نزول

سورت نسا مدنی سورتوں کا جزو ہے نیز رسول اکرم پر نازل ہونے کے اعتبار سےبانوے (92) نمبر پرہے۔ قرآن کی موجودہ ترتیب میں چوتھے(4) نمبرپر ہے[2] اور حجم کے لحاظ سے یہ سورت ڈیڑھ سپارے پر مشتمل ہے جو چوتھے سپارے سے شروع ہو ہوکر چھٹے سپارے میں ختم ہوتی ہے۔

  • تعداد آیات اور دیگر خصوصیات

سورہ نساء ۱۷۶ آیات، ۳۷۶۴ کلمات اور ۱۶۳۲۸ حروف پر مشتمل ہے۔ حجم کے لحاظ سے یہ سورہ سبعُ طِوال کا حصہ ہے اور سورت بقرہ کے بعد طولانی‌ ترین قرآن کا سورہ ہے۔[3]

مضامین

تفسیر میزان کے مطابق سورت نساء میں ازدواج کے احکام جیسے جائز شادیوں کی تعداد اور مَحرم خواتین (جن سے ازدواج کا جائز نہ ہونے) کے احکام بیان کرنا مقصود ہیں۔ اسی طرح یہ سورہ میراث کے احکام اور آیات کے درمیان نماز، جہاد و شہادت وغیرہ کے احکام بیان کرتا ہے نیز خلاصے کی صورت میں اہل کتاب کے متعلق بھی گفتگو ہے۔[4] ایمان و عدالت کی دعوت، چند ایک گذشتہ امتوں کی سرگذشت، معاشرے میں انسانوں کے باہمی حقوق اور فرائض، کفار سے جہاد اور منافقوں کے بارے میں تنبیہ جیسےعناوین زیر بحث آئے ہیں۔[5]

مشہور آیات

آیت قنطار

اصل مضمون: آیت قنطار

سورۂ نسا کی ۲۰ویں آیت طلاق دینے کے بہانے اور مہر کی رقم نہ دینے یا مہر کی رقم واپس لینے کی خاطر خواتین پر عفت کے منافی اعمال کی تہمت لگانے کو سختی سے منع کرتی ہے اور اس فعل کی شدت سے مذمت کرتی ہے۔ [6] اس آیت سے حقوق خواتین کے دفاع کے علاوہ عورت کے حق مالکیت اور زیادہ مہر کے حکم کا بھی استفادہ ہوتا ہے۔ [7]

آیت محارم

اصل مضمون: آیت محارم

سورہ نسا کی تیئسویں آیت میں ان رشتہ دار خواتین کا بیان مذکور ہے جن سے انسان شادی نہیں کر سکتا ہے۔ مَحارِم( مَحرَم کی جمع) اور فقہی کی اصطلاح میں ان رشتے داروں کو کہا جاتا ہے جن سے شادی کرنا حرام ہے۔ محارم کو اسباب محرمیت (نسب، ازدواج و رضاع یا دودھ پلانا) کی بنا پر نسبی، سببی اور رضاعی میں تقسیم کیا جاتا ہے۔[8]

آیت تیمم

اصل مضمون: آیت تیمم

اس سورہ کی ۴۳ویں آیت تیمم کے احکام بیان کرتی ہے۔ اس آیت کے مطابق اگر پانی جسم کیلئے ضرر رکھتا ہو یا پانی تک رسائی ممکن نہ ہو تو وضو یا غسل کے بدلے میں تیمم کر سکتا ہے۔[9]

آیت اولی الامر

اصل مضمون: آیت اولی الامر

۵۹ویں آیت مؤمنین کو خدا، رسول خدا(ص) اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیتی ہے۔ شیعہ مفسرین اور بعض اہل سنت جیسے فخر رازی، قائل ہیں کہ یہ آیت اولی الامر کی عصمت پر دلالت کرتی ہے۔ شیعہ مصادر میں بہت سی روایات ہیں جن میں "اولی الامر" سے مراد ائمہ معصومین ہیں۔[10]

آیات نشوز

اصل مضمون: آیت نشوز

سورت نساء کی آیات ۳۴ اور ۱۲۸ آیات نشور کے نام سے جانی ہیں۔ نشوز ایک فقہی اصطلاح ہے کہ جس میں شوہر کی جنسی خواہشات پورا نہ کرنے اور شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر جانے جانے والی بیوی شامل ہے نیز شوہر کے حقوق کی رعایت نہ کرنا اور اس کے ساتھ رہن سہن میں ناسازگاری کو بھی نشوز میں شامل کیا گیا ہے۔ البتہ روایات میں شوہر کی طرف سے بیوی کو طلاق دینے کے ارادے کو بھی نشوز سے تعبیر کیا گیا ہے۔[11]

آیت نفی سبیل

اصل مضمون: آیت نفی سبیل

سورت نساء کی آخر میں آیت نمبر ۱۴۱ کو آیت نفی سبیل کہتے ہیں۔ یہ آیت کافروں کی مؤمنوں پر ہر طرح کی برتری کی نفی کرتی ہے اور مؤمنوں سے متقاضی ہے کہ کافروں کےتسلط کا مقابلہ کریں۔ [12] علمانے اس آیت سے قاعدۂ نفی سبیل کے اثبات کا استفادہ بھی کیا ہے۔ [13]

آیات احکام

اس سورے کی بیس (20)سے زیادہ آیتیں آیات الاحکام کا حصہ سمجھتے ہیں۔[14] ان آیات کا اکثر حصہ ازدواج، ازدواجی تعلقات،(جیسے آیت ۳، ۲۰ـ۲۵، ۳۴ـ۳۵ و ۱۲۸) اور میراث (جیسے آیت نمبر ۷، ۱۵ـ۱۶، ۲۵، ۳۳ و ۱۷۶) کے احکام کو بیان کرتا ہے۔جیسے مثال کے طور پر اس کی تیسری آیت میں آیا ہے کہ مرد کو چار بیویاں رکھنے کا اختیار ہے یا آیت نمبر ۲۳ و ۲۴ میں ان رشتے داروں کا ذکر ہے جنھیں محارم کہا گیا ہے اور ان سے ازدواج کرناے کا حکم حرام بیان ہوا ہے۔ارث میں بیٹے کو بیٹی کی نسبت دو برابر ملے گا اور باپ،ماں، میاں اور بیوی کی ارث کا حکم مذکور ہے۔ [15]

اس سورت میں آنے والی دیگر احکام درج ذیل ہیں: جیسے حالت جنابت میں نماز کا حکم،حالت جنابت میں مسجد سے گزرنا(آیت ۴۳)، حکم تیمم (آیت ۴۳)، احکام نماز (آیات ۱۰۱ـ۱۰۳)، امانت کا سپرد کرنا(آیت ۵۸)، احکام یتیم اور سفیہ یعنی ناسمجھ لوگ (آیت ۵ـ۶)، قتل سہو کا حکم (آیت ۹۲)، ریا (سود) (آیت ۳۸)، ، سلام کرنےکا حکم (آیت ۸۶)، مؤمنین پر تسلط کافر کا حکم (آیت ۱۴۱)، اجتناب شرک (آیت ۳۶)، والدین کے ساتھ حسن سلوک (آیت ۳۶)، مردوں کا قیم ہونا (آیت ۳۴).[16]

قصص اور تاریخی واقعات

  • انسانوں کو گمراہ کرنے کیلئے شیطان کا قسم اٹھانا (آیت ۱۱۸-۱۲۰).
  • بنی‌اسرائیل کی نافرمانیاں جیسے حضرت موسی سے خدا کے دیدار کا تقاضا، گوسالہ پرستی، میثاق طُور اور ہفتے کے دن سے تجاوز نہ کرنے کا میثاق، قتل انبیاء، حضرت مریم پر تہمت، قتل عیسی کا ادعا (آیات ۱۵۳-۱۵۷).

فضیلت اور خواص

پیغمبرؐ سے مروی ہے کہ اس سورے کی تلاوت کرنے والا ایسے شخص کی مانند ہے جیسے اس نے میراث پانے والے تمام مؤمنین پر صدقہ کیا ہے، ایک غلام آزاد کرنے کے اجر کا مستحق ہو گا، وہ شرک سے دور رہے گا اور وہ مشیت الہی میں ان افراد کے ساتھ شمار ہو گا جن سے خدا نے درگذر کیا ہو گا۔[17] امام علی(ع) سے نیز منقول ہے کہ اگر کوئی اسے جمعہ کے روز تلاوت کرے گا توفشار قبر سے محفوظ رہے گا۔[18]

حدیثی مصادر میں اس سورہ کے خواص بھی مذکور ہیں جیسے خوف کا خاتمہ( اسے کسی برتن میں لکھ کر بارش کے پانی سے دھونا اور پھر اسے پینا)[19] اور اسی طرح تلاش گمشدہ کو پیدا کرنا[20] بھی اس کے خواص میں مذکور ہے۔ شیخ طوسی کی مصباح المتہجد میں آیا ہے کہ جمعہ کے دن نماز صبح کے بعد اس سورے کی تلاوت مستحب ہے۔[21]

متن اور ترجمہ

سورہ نساء
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـتِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَ‌بَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِ‌جَالًا كَثِيرً‌ا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْ‌حَامَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَ‌قِيبًا ﴿١﴾ وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرً‌ا ﴿٢﴾ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُ‌بَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا ﴿٣﴾ وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً ۚ فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِ‌يئًا ﴿٤﴾ وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّـهُ لَكُمْ قِيَامًا وَارْ‌زُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُ‌وفًا ﴿٥﴾ وَابْتَلُوا الْيَتَامَىٰ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُ‌شْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَ‌افًا وَبِدَارً‌ا أَن يَكْبَرُ‌وا ۚ وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرً‌ا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُ‌وفِ ۚ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ حَسِيبًا ﴿٦﴾لِّلرِّ‌جَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَ‌كَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَ‌بُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَ‌كَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَ‌بُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ‌ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُ‌وضًا ﴿٧﴾ وَإِذَا حَضَرَ‌ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْ‌بَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ فَارْ‌زُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُ‌وفًا ﴿٨﴾ وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَ‌كُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّ‌يَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللَّـهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ﴿٩﴾ إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارً‌ا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرً‌ا ﴿١٠﴾ يُوصِيكُمُ اللَّـهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ‌ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَ‌كَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَ‌كَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِ‌ثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُ‌ونَ أَيُّهُمْ أَقْرَ‌بُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِ‌يضَةً مِّنَ اللَّـهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿١١﴾ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَ‌كَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّ‌بُعُ مِمَّا تَرَ‌كْنَ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۚ وَلَهُنَّ الرُّ‌بُعُ مِمَّا تَرَ‌كْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَ‌كْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ وَإِن كَانَ رَ‌جُلٌ يُورَ‌ثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَ‌أَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ ۚ فَإِن كَانُوا أَكْثَرَ‌ مِن ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَ‌كَاءُ فِي الثُّلُثِ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ‌ مُضَارٍّ‌ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ ﴿١٢﴾ تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ ۚ وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿١٣﴾ وَمَن يَعْصِ اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارً‌ا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُّهِينٌ ﴿١٤﴾وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِن نِّسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْ‌بَعَةً مِّنكُمْ ۖ فَإِن شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّـهُ لَهُنَّ سَبِيلًا ﴿١٥﴾ وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنكُمْ فَآذُوهُمَا ۖ فَإِن تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِ‌ضُوا عَنْهُمَا ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ تَوَّابًا رَّ‌حِيمًا ﴿١٦﴾ إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّـهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِ‌يبٍ فَأُولَـٰئِكَ يَتُوبُ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿١٧﴾ وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّىٰ إِذَا حَضَرَ‌ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ‌ ۚ أُولَـٰئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ﴿١٨﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِ‌ثُوا النِّسَاءَ كَرْ‌هًا ۖ وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَعَاشِرُ‌وهُنَّ بِالْمَعْرُ‌وفِ ۚ فَإِن كَرِ‌هْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَ‌هُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّـهُ فِيهِ خَيْرً‌ا كَثِيرً‌ا ﴿١٩﴾ وَإِنْ أَرَ‌دتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارً‌ا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا ۚ أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا ﴿٢٠﴾ وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنكُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا ﴿٢١﴾ وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۚ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَسَاءَ سَبِيلًا ﴿٢٢﴾ حُرِّ‌مَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْ‌ضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّ‌ضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَ‌بَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِ‌كُم مِّن نِّسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا ﴿٢٣﴾ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۖ كِتَابَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَ‌اءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ‌ مُسَافِحِينَ ۚ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَ‌هُنَّ فَرِ‌يضَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَ‌اضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِ‌يضَةِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿٢٤﴾ وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ۚ وَاللَّـهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُم ۚ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ ۚ فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَ‌هُنَّ بِالْمَعْرُ‌وفِ مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ‌ مُسَافِحَاتٍ وَلَا مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ ۚ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنكُمْ ۚ وَأَن تَصْبِرُ‌وا خَيْرٌ‌ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿٢٥﴾ يُرِ‌يدُ اللَّـهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿٢٦﴾وَاللَّـهُ يُرِ‌يدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِ‌يدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ أَن تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًا ﴿٢٧﴾ يُرِ‌يدُ اللَّـهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ ۚ وَخُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِيفًا ﴿٢٨﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَ‌ةً عَن تَرَ‌اضٍ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُمْ رَ‌حِيمًا ﴿٢٩﴾ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارً‌ا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرً‌ا ﴿٣٠﴾ إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ‌ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ‌ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِ‌يمًا ﴿٣١﴾ وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّـهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ لِّلرِّ‌جَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوا ۖ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ ۚ وَاسْأَلُوا اللَّـهَ مِن فَضْلِهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ﴿٣٢﴾ وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَ‌كَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَ‌بُونَ ۚ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا ﴿٣٣﴾ الرِّ‌جَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّـهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّـهُ ۚ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُ‌وهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِ‌بُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرً‌ا ﴿٣٤﴾ وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِ‌يدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّـهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرً‌ا ﴿٣٥﴾ وَاعْبُدُوا اللَّـهَ وَلَا تُشْرِ‌كُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْ‌بَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ‌ ذِي الْقُرْ‌بَىٰ وَالْجَارِ‌ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورً‌ا ﴿٣٦﴾ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُ‌ونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ ۗ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِ‌ينَ عَذَابًا مُّهِينًا ﴿٣٧﴾ وَالَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ رِ‌ئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ ۗ وَمَن يَكُنِ الشَّيْطَانُ لَهُ قَرِ‌ينًا فَسَاءَ قَرِ‌ينًا ﴿٣٨﴾ وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَ‌زَقَهُمُ اللَّـهُ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ بِهِمْ عَلِيمًا ﴿٣٩﴾ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرً‌ا عَظِيمًا ﴿٤٠﴾ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا ﴿٤١﴾ يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا وَعَصَوُا الرَّ‌سُولَ لَوْ تُسَوَّىٰ بِهِمُ الْأَرْ‌ضُ وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّـهَ حَدِيثًا ﴿٤٢﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَ‌بُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَ‌ىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِ‌ي سَبِيلٍ حَتَّىٰ تَغْتَسِلُوا ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْ‌ضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ‌ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورً‌ا ﴿٤٣﴾ أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِّنَ الْكِتَابِ يَشْتَرُ‌ونَ الضَّلَالَةَ وَيُرِ‌يدُونَ أَن تَضِلُّوا السَّبِيلَ ﴿٤٤﴾ وَاللَّـهُ أَعْلَمُ بِأَعْدَائِكُمْ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ وَلِيًّا وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ نَصِيرً‌ا ﴿٤٥﴾ مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّ‌فُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ‌ مُسْمَعٍ وَرَ‌اعِنَا لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّينِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانظُرْ‌نَا لَكَانَ خَيْرً‌ا لَّهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَـٰكِن لَّعَنَهُمُ اللَّـهُ بِكُفْرِ‌هِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿٤٦﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ آمِنُوا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُم مِّن قَبْلِ أَن نَّطْمِسَ وُجُوهًا فَنَرُ‌دَّهَا عَلَىٰ أَدْبَارِ‌هَا أَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّا أَصْحَابَ السَّبْتِ ۚ وَكَانَ أَمْرُ‌ اللَّـهِ مَفْعُولًا ﴿٤٧﴾ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ‌ أَن يُشْرَ‌كَ بِهِ وَيَغْفِرُ‌ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِ‌كْ بِاللَّـهِ فَقَدِ افْتَرَ‌ىٰ إِثْمًا عَظِيمًا ﴿٤٨﴾ أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ اللَّـهُ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا ﴿٤٩﴾ انظُرْ‌ كَيْفَ يَفْتَرُ‌ونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ ۖ وَكَفَىٰ بِهِ إِثْمًا مُّبِينًا ﴿٥٠﴾ أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِّنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُ‌وا هَـٰؤُلَاءِ أَهْدَىٰ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا ﴿٥١﴾ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّـهُ ۖ وَمَن يَلْعَنِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ نَصِيرً‌ا ﴿٥٢﴾ أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَّا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرً‌ا ﴿٥٣﴾ أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ ۖ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَ‌اهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُم مُّلْكًا عَظِيمًا ﴿٥٤﴾ فَمِنْهُم مَّنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُم مَّن صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرً‌ا ﴿٥٥﴾ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارً‌ا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَ‌هَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿٥٦﴾ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ لَّهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَ‌ةٌ ۖ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيلًا ﴿٥٧﴾ إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ‌كُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرً‌ا ﴿٥٨﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ‌ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّ‌سُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ‌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ﴿٥٩﴾ أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِ‌يدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُ‌وا أَن يَكْفُرُ‌وا بِهِ وَيُرِ‌يدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿٦٠﴾ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَإِلَى الرَّ‌سُولِ رَ‌أَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا ﴿٦١﴾ فَكَيْفَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَاءُوكَ يَحْلِفُونَ بِاللَّـهِ إِنْ أَرَ‌دْنَا إِلَّا إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا ﴿٦٢﴾ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ يَعْلَمُ اللَّـهُ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَعْرِ‌ضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُل لَّهُمْ فِي أَنفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِيغًا ﴿٦٣﴾ وَمَا أَرْ‌سَلْنَا مِن رَّ‌سُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُ‌وا اللَّـهَ وَاسْتَغْفَرَ‌ لَهُمُ الرَّ‌سُولُ لَوَجَدُوا اللَّـهَ تَوَّابًا رَّ‌حِيمًا ﴿٦٤﴾ فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ‌ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ﴿٦٥﴾ وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ أَوِ اخْرُ‌جُوا مِن دِيَارِ‌كُم مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌ مِّنْهُمْ ۖ وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرً‌ا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا ﴿٦٦﴾ وَإِذًا لَّآتَيْنَاهُم مِّن لَّدُنَّا أَجْرً‌ا عَظِيمًا ﴿٦٧﴾ وَلَهَدَيْنَاهُمْ صِرَ‌اطًا مُّسْتَقِيمًا ﴿٦٨﴾ وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّ‌سُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَ‌فِيقًا ﴿٦٩﴾ ذَٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّـهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ عَلِيمًا ﴿٧٠﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا خُذُوا حِذْرَ‌كُمْ فَانفِرُ‌وا ثُبَاتٍ أَوِ انفِرُ‌وا جَمِيعًا ﴿٧١﴾ وَإِنَّ مِنكُمْ لَمَن لَّيُبَطِّئَنَّ فَإِنْ أَصَابَتْكُم مُّصِيبَةٌ قَالَ قَدْ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيَّ إِذْ لَمْ أَكُن مَّعَهُمْ شَهِيدًا ﴿٧٢﴾ وَلَئِنْ أَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللَّـهِ لَيَقُولَنَّ كَأَن لَّمْ تَكُن بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ مَوَدَّةٌ يَا لَيْتَنِي كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا ﴿٧٣﴾ فَلْيُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ الَّذِينَ يَشْرُ‌ونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَ‌ةِ ۚ وَمَن يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرً‌ا عَظِيمًا ﴿٧٤﴾ وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّ‌جَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَ‌بَّنَا أَخْرِ‌جْنَا مِنْ هَـٰذِهِ الْقَرْ‌يَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرً‌ا ﴿٧٥﴾ الَّذِينَ آمَنُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ ۖ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا ﴿٧٦﴾ أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِ‌يقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّـهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً ۚ وَقَالُوا رَ‌بَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْ‌تَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِ‌يبٍ ۗ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَ‌ةُ خَيْرٌ‌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا ﴿٧٧﴾ أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِ‌ككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُ‌وجٍ مُّشَيَّدَةٍ ۗ وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِ اللَّـهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِكَ ۚ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ ۖ فَمَالِ هَـٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا ﴿٧٨﴾ مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّـهِ ۖ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِكَ ۚ وَأَرْ‌سَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَ‌سُولًا ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا ﴿٧٩﴾ مَّن يُطِعِ الرَّ‌سُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَا أَرْ‌سَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ﴿٨٠﴾ وَيَقُولُونَ طَاعَةٌ فَإِذَا بَرَ‌زُوا مِنْ عِندِكَ بَيَّتَ طَائِفَةٌ مِّنْهُمْ غَيْرَ‌ الَّذِي تَقُولُ ۖ وَاللَّـهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُونَ ۖ فَأَعْرِ‌ضْ عَنْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ وَكِيلًا ﴿٨١﴾ أَفَلَا يَتَدَبَّرُ‌ونَ الْقُرْ‌آنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ‌ اللَّـهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرً‌ا ﴿٨٢﴾ وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ‌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ ۖ وَلَوْ رَ‌دُّوهُ إِلَى الرَّ‌سُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ‌ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ ۗ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَرَ‌حْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿٨٣﴾ فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ ۚ وَحَرِّ‌ضِ الْمُؤْمِنِينَ ۖ عَسَى اللَّـهُ أَن يَكُفَّ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا ۚ وَاللَّـهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنكِيلًا ﴿٨٤﴾ مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا ﴿٨٥﴾ وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُ‌دُّوهَا ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا ﴿٨٦﴾ اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَ‌يْبَ فِيهِ ۗ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّـهِ حَدِيثًا ﴿٨٧﴾ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّـهُ أَرْ‌كَسَهُم بِمَا كَسَبُوا ۚ أَتُرِ‌يدُونَ أَن تَهْدُوا مَنْ أَضَلَّ اللَّـهُ ۖ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا ﴿٨٨﴾ وَدُّوا لَوْ تَكْفُرُ‌ونَ كَمَا كَفَرُ‌وا فَتَكُونُونَ سَوَاءً ۖ فَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِيَاءَ حَتَّىٰ يُهَاجِرُ‌وا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ ۖ وَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرً‌ا ﴿٨٩﴾ إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَىٰ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ أَوْ جَاءُوكُمْ حَصِرَ‌تْ صُدُورُ‌هُمْ أَن يُقَاتِلُوكُمْ أَوْ يُقَاتِلُوا قَوْمَهُمْ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَاتَلُوكُمْ ۚ فَإِنِ اعْتَزَلُوكُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوكُمْ وَأَلْقَوْا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللَّـهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلًا ﴿٩٠﴾ سَتَجِدُونَ آخَرِ‌ينَ يُرِ‌يدُونَ أَن يَأْمَنُوكُمْ وَيَأْمَنُوا قَوْمَهُمْ كُلَّ مَا رُ‌دُّوا إِلَى الْفِتْنَةِ أُرْ‌كِسُوا فِيهَا ۚ فَإِن لَّمْ يَعْتَزِلُوكُمْ وَيُلْقُوا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ وَيَكُفُّوا أَيْدِيَهُمْ فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ۚ وَأُولَـٰئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا ﴿٩١﴾ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً ۚ وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِ‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا ۚ فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِ‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ وَتَحْرِ‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَ‌يْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿٩٢﴾ وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا ﴿٩٣﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَ‌بْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَ‌ضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِندَ اللَّـهِ مَغَانِمُ كَثِيرَ‌ةٌ ۚ كَذَٰلِكَ كُنتُم مِّن قَبْلُ فَمَنَّ اللَّـهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرً‌ا ﴿٩٤﴾ لَّا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ‌ أُولِي الضَّرَ‌رِ‌ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ فَضَّلَ اللَّـهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَ‌جَةً ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّـهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَفَضَّلَ اللَّـهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرً‌ا عَظِيمًا ﴿٩٥﴾ دَرَ‌جَاتٍ مِّنْهُ وَمَغْفِرَ‌ةً وَرَ‌حْمَةً ۚ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا ﴿٩٦﴾ إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنتُمْ ۖ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْ‌ضِ ۚ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْ‌ضُ اللَّـهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُ‌وا فِيهَا ۚ فَأُولَـٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرً‌ا ﴿٩٧﴾ إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّ‌جَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا ﴿٩٨﴾ فَأُولَـٰئِكَ عَسَى اللَّـهُ أَن يَعْفُوَ عَنْهُمْ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَفُوًّا غَفُورً‌ا ﴿٩٩﴾ وَمَن يُهَاجِرْ‌ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ يَجِدْ فِي الْأَرْ‌ضِ مُرَ‌اغَمًا كَثِيرً‌ا وَسَعَةً ۚ وَمَن يَخْرُ‌جْ مِن بَيْتِهِ مُهَاجِرً‌ا إِلَى اللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ ثُمَّ يُدْرِ‌كْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُ‌هُ عَلَى اللَّـهِ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا ﴿١٠٠﴾ وَإِذَا ضَرَ‌بْتُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُ‌وا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا ۚ إِنَّ الْكَافِرِ‌ينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا ﴿١٠١﴾ وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِّنْهُم مَّعَكَ وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا سَجَدُوا فَلْيَكُونُوا مِن وَرَ‌ائِكُمْ وَلْتَأْتِ طَائِفَةٌ أُخْرَ‌ىٰ لَمْ يُصَلُّوا فَلْيُصَلُّوا مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَ‌هُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ ۗ وَدَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُم مَّيْلَةً وَاحِدَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن كَانَ بِكُمْ أَذًى مِّن مَّطَرٍ‌ أَوْ كُنتُم مَّرْ‌ضَىٰ أَن تَضَعُوا أَسْلِحَتَكُمْ ۖ وَخُذُوا حِذْرَ‌كُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ أَعَدَّ لِلْكَافِرِ‌ينَ عَذَابًا مُّهِينًا ﴿١٠٢﴾ فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُ‌وا اللَّـهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمْ ۚ فَإِذَا اطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ ۚ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا ﴿١٠٣﴾ وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ ۖ إِن تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ ۖ وَتَرْ‌جُونَ مِنَ اللَّـهِ مَا لَا يَرْ‌جُونَ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿١٠٤﴾ إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَ‌اكَ اللَّـهُ ۚ وَلَا تَكُن لِّلْخَائِنِينَ خَصِيمًا ﴿١٠٥﴾ وَاسْتَغْفِرِ‌ اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا ﴿١٠٦﴾ وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنفُسَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا ﴿١٠٧﴾ يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّـهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْ‌ضَىٰ مِنَ الْقَوْلِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا ﴿١٠٨﴾ هَا أَنتُمْ هَـٰؤُلَاءِ جَادَلْتُمْ عَنْهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَمَن يُجَادِلُ اللَّـهَ عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَم مَّن يَكُونُ عَلَيْهِمْ وَكِيلًا ﴿١٠٩﴾ وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ‌ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا ﴿١١٠﴾ وَمَن يَكْسِبْ إِثْمًا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَىٰ نَفْسِهِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿١١١﴾ وَمَن يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْ‌مِ بِهِ بَرِ‌يئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا ﴿١١٢﴾ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّـهِ عَلَيْكَ وَرَ‌حْمَتُهُ لَهَمَّت طَّائِفَةٌ مِّنْهُمْ أَن يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ ۖ وَمَا يَضُرُّ‌ونَكَ مِن شَيْءٍ ۚ وَأَنزَلَ اللَّـهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ ۚ وَكَانَ فَضْلُ اللَّـهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا ﴿١١٣﴾ لَّا خَيْرَ‌ فِي كَثِيرٍ‌ مِّن نَّجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ‌ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُ‌وفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْ‌ضَاتِ اللَّـهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرً‌ا عَظِيمًا ﴿١١٤﴾ وَمَن يُشَاقِقِ الرَّ‌سُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ‌ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرً‌ا ﴿١١٥﴾ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ‌ أَن يُشْرَ‌كَ بِهِ وَيَغْفِرُ‌ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِ‌كْ بِاللَّـهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿١١٦﴾ إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِ إِلَّا إِنَاثًا وَإِن يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَانًا مَّرِ‌يدًا ﴿١١٧﴾ لَّعَنَهُ اللَّـهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُ‌وضًا ﴿١١٨﴾ وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَ‌نَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَ‌نَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُ‌نَّ خَلْقَ اللَّـهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِّن دُونِ اللَّـهِ فَقَدْ خَسِرَ‌ خُسْرَ‌انًا مُّبِينًا ﴿١١٩﴾ يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُ‌ورً‌ا ﴿١٢٠﴾ أُولَـٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَلَا يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًا ﴿١٢١﴾ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ وَعْدَ اللَّـهِ حَقًّا ۚ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّـهِ قِيلًا ﴿١٢٢﴾ لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ ۗ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللَّـهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرً‌ا ﴿١٢٣﴾ وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِن ذَكَرٍ‌ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرً‌ا ﴿١٢٤﴾ وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّـهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَ‌اهِيمَ حَنِيفًا ۗ وَاتَّخَذَ اللَّـهُ إِبْرَ‌اهِيمَ خَلِيلًا ﴿١٢٥﴾ وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيطًا ﴿١٢٦﴾ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ ۖ قُلِ اللَّـهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْ‌غَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْوِلْدَانِ وَأَن تَقُومُوا لِلْيَتَامَىٰ بِالْقِسْطِ ۚ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ‌ فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِهِ عَلِيمًا ﴿١٢٧﴾ وَإِنِ امْرَ‌أَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَ‌اضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۚ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ‌ ۗ وَأُحْضِرَ‌تِ الْأَنفُسُ الشُّحَّ ۚ وَإِن تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرً‌ا ﴿١٢٨﴾ وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَ‌صْتُمْ ۖ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُ‌وهَا كَالْمُعَلَّقَةِ ۚ وَإِن تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا ﴿١٢٩﴾ وَإِن يَتَفَرَّ‌قَا يُغْنِ اللَّـهُ كُلًّا مِّن سَعَتِهِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ وَاسِعًا حَكِيمًا ﴿١٣٠﴾ وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ ۗ وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّـهَ ۚ وَإِن تَكْفُرُ‌وا فَإِنَّ لِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ غَنِيًّا حَمِيدًا ﴿١٣١﴾ وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ وَكِيلًا ﴿١٣٢﴾ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِآخَرِ‌ينَ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ قَدِيرً‌ا ﴿١٣٣﴾ مَّن كَانَ يُرِ‌يدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا فَعِندَ اللَّـهِ ثَوَابُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَ‌ةِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ سَمِيعًا بَصِيرً‌ا ﴿١٣٤﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّـهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَ‌بِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرً‌ا فَاللَّـهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا ۚ وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِ‌ضُوا فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرً‌ا ﴿١٣٥﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَ‌سُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ ۚ وَمَن يَكْفُرْ‌ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُ‌سُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿١٣٦﴾ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُ‌وا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُ‌وا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرً‌ا لَّمْ يَكُنِ اللَّـهُ لِيَغْفِرَ‌ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا ﴿١٣٧﴾ بَشِّرِ‌ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ﴿١٣٨﴾ الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِ‌ينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۚ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّـهِ جَمِيعًا ﴿١٣٩﴾ وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّـهِ يُكْفَرُ‌ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِ‌هِ ۚ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِ‌ينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا ﴿١٤٠﴾الَّذِينَ يَتَرَ‌بَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللَّـهِ قَالُوا أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ وَإِن كَانَ لِلْكَافِرِ‌ينَ نَصِيبٌ قَالُوا أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُم مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ ۚ فَاللَّـهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ وَلَن يَجْعَلَ اللَّـهُ لِلْكَافِرِ‌ينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا ﴿١٤١﴾ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَ‌اءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُ‌ونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿١٤٢﴾ مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ ۚ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا ﴿١٤٣﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِ‌ينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۚ أَتُرِ‌يدُونَ أَن تَجْعَلُوا لِلَّـهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا ﴿١٤٤﴾ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْ‌كِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ‌ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرً‌ا ﴿١٤٥﴾ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّـهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرً‌ا عَظِيمًا ﴿١٤٦﴾ مَّا يَفْعَلُ اللَّـهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْ‌تُمْ وَآمَنتُمْ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ شَاكِرً‌ا عَلِيمًا ﴿١٤٧﴾ لَّا يُحِبُّ اللَّـهُ الْجَهْرَ‌ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ سَمِيعًا عَلِيمًا ﴿١٤٨﴾ إِن تُبْدُوا خَيْرً‌ا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا عَن سُوءٍ فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيرً‌ا ﴿١٤٩﴾ إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُ‌ونَ بِاللَّـهِ وَرُ‌سُلِهِ وَيُرِ‌يدُونَ أَن يُفَرِّ‌قُوا بَيْنَ اللَّـهِ وَرُ‌سُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ‌ بِبَعْضٍ وَيُرِ‌يدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا ﴿١٥٠﴾ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُ‌ونَ حَقًّا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِ‌ينَ عَذَابًا مُّهِينًا ﴿١٥١﴾ وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَرُ‌سُلِهِ وَلَمْ يُفَرِّ‌قُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ أُولَـٰئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَ‌هُمْ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا ﴿١٥٢﴾ يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ‌ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوا أَرِ‌نَا اللَّـهَ جَهْرَ‌ةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَٰلِكَ ۚ وَآتَيْنَا مُوسَىٰ سُلْطَانًا مُّبِينًا ﴿١٥٣﴾ وَرَ‌فَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ‌ بِمِيثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا ﴿١٥٤﴾ فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِ‌هِم بِآيَاتِ اللَّـهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ‌ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ طَبَعَ اللَّـهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِ‌هِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿١٥٥﴾ وَبِكُفْرِ‌هِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْ‌يَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا ﴿١٥٦﴾ وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْ‌يَمَ رَ‌سُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ﴿١٥٧﴾ بَل رَّ‌فَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿١٥٨﴾ وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ﴿١٥٩﴾ فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّ‌مْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ كَثِيرً‌ا ﴿١٦٠﴾ وَأَخْذِهِمُ الرِّ‌بَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِ‌ينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ﴿١٦١﴾ لَّـٰكِنِ الرَّ‌اسِخُونَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ ۚ وَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ ۚ وَالْمُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ أُولَـٰئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرً‌ا عَظِيمًا ﴿١٦٢﴾ إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُ‌ونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورً‌ا ﴿١٦٣﴾ وَرُ‌سُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُ‌سُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا ﴿١٦٤﴾ رُّ‌سُلًا مُّبَشِّرِ‌ينَ وَمُنذِرِ‌ينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّ‌سُلِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿١٦٥﴾ لَّـٰكِنِ اللَّـهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنزَلَ إِلَيْكَ ۖ أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا ﴿١٦٦﴾ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ قَدْ ضَلُّوا ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿١٦٧﴾ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا وَظَلَمُوا لَمْ يَكُنِ اللَّـهُ لِيَغْفِرَ‌ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِ‌يقًا ﴿١٦٨﴾ إِلَّا طَرِ‌يقَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرً‌ا ﴿١٦٩﴾ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّ‌سُولُ بِالْحَقِّ مِن رَّ‌بِّكُمْ فَآمِنُوا خَيْرً‌ا لَّكُمْ ۚ وَإِن تَكْفُرُ‌وا فَإِنَّ لِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿١٧٠﴾ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّـهِ إِلَّا الْحَقَّ ۚ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْ‌يَمَ رَ‌سُولُ اللَّـهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَىٰ مَرْ‌يَمَ وَرُ‌وحٌ مِّنْهُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّـهِ وَرُ‌سُلِهِ ۖ وَلَا تَقُولُوا ثَلَاثَةٌ ۚ انتَهُوا خَيْرً‌ا لَّكُمْ ۚ إِنَّمَا اللَّـهُ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ ۖ سُبْحَانَهُ أَن يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ ۘ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ ۗ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ وَكِيلًا ﴿١٧١﴾ لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّ‌بُونَ ۚ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ‌ فَسَيَحْشُرُ‌هُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا ﴿١٧٢﴾ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَ‌هُمْ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ اسْتَنكَفُوا وَاسْتَكْبَرُ‌وا فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ اللَّـهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرً‌ا ﴿١٧٣﴾ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُم بُرْ‌هَانٌ مِّن رَّ‌بِّكُمْ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورً‌ا مُّبِينًا ﴿١٧٤﴾ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَ‌حْمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَ‌اطًا مُّسْتَقِيمًا ﴿١٧٥﴾ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّـهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ ۚ إِنِ امْرُ‌ؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَ‌كَ ۚ وَهُوَ يَرِ‌ثُهَا إِن لَّمْ يَكُن لَّهَا وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَ‌كَ ۚ وَإِن كَانُوا إِخْوَةً رِّ‌جَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ‌ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۗ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّوا ۗ وَاللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿١٧٦﴾ ۔

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

(اے انسانو!) اپنے اس پروردگار سے ڈرو۔ جس نے تمہیں ایک متنفس سے پیدا کیا اور اس کا جوڑا بھی اسی سے (اس کی جنس سے) پیدا کیا اور پھر انہی دونوں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا۔ اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو۔ اور رشتہ قرابت کے بارے میں بھی ڈرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تم پر حاضر و ناظر ہے۔ (1) اور یتیموں کے مال ان کے سپرد کرو۔ اور پاک مال کے بدلے ناپاک مال حاصل نہ کرو۔ اور ان کے مالوں کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ۔ بے شک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ (2) اور اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تم یتیموں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکوگے۔ تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو دو دو، تین تین، چار چار سے اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ (ان کے ساتھ) عدل نہ کر سکوگے تو پھر ایک ہی (بیوی) کرو۔ یا جو تمہاری ملکیت میں ہوں (ان پر اکتفا کرو) یہ زیادہ قریب ہے اس کے کہ بے انصافی نہ کرو۔ (ایک ہی طرف نہ جھک جاؤ)۔ (3) اور عورتوں کے حق مہر خوشدلی سے ادا کرو اور اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے تمہیں بخش دیں تو تم اسے شوق سے کھا سکتے ہو۔ (4) اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہاری زندگی کا سامان اور اسے قائم رکھنے کا ذریعہ بنایا ہے ناسمجھ لوگوں کے حوالے نہ کرو۔ ہاں البتہ ان کو (کھانا و طعام) کھلاؤ اور (کپڑا) پہناؤ اور ان سے اچھی گفتگو کرو۔ (5) اور یتیموں کی جانچ پڑتال کرتے رہو۔ یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر تک پہنچ جائیں اور تم ان میں اہلیت و سمجھداری بھی پاؤ تو پھر ان کے مال ان کے حوالے کر دو۔ اور فضول خرچی سے کام لے کر اور اس جلد بازی میں کہ وہ کہیں بڑے نہ ہو جائیں ان کا مال مت کھاؤ۔ اور جو سرپرست مالدار ہو تو اسے تو بہرحال ان کے مال سے پرہیز ہی کرنا چاہیے۔ اور جو نادار ہو اسے معروف (مناسب) طریقہ سے کھانا چاہیے۔ پھر جب ان کے مال ان کے حوالے کرو۔ تو ان لوگوں کو گواہ بنا لو۔ اور یوں تو حساب کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔ (6) مردوں کے لیے اس ترکہ سے حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ جائیں۔ اور عورتوں کے لیے بھی حصہ ہے اس ترکہ سے جو ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ جائیں خواہ وہ (ترکہ) تھوڑا ہو یا زیادہ یہ حصہ (خدا کی طرف سے) لازمی مقرر ہے۔ (7) اور جب تقسیم کے موقع پر رشتہ دار، یتیم اور مسکین موجود ہوں تو انہیں بھی اس (مال) میں سے کچھ دے دو اور ان سے درست اور مناسب طریقہ سے بات کرو۔ (8) اور ترکہ تقسیم کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے بے بس و کمزور بچے چھوڑ جاتے۔ تو انہیں ان کی کس قدر فکر ہوتی۔ لہٰذا وہ دوسروں کے یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈریں اور بالکل درست اور سیدھی بات کریں (9) بے شک جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے (واصل جہنم ہوں گے۔) (10) اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ لڑکے کا حصہ برابر ہے دو لڑکیوں کے اب اگر لڑکیاں ہی وارث ہوں اور ہوں بھی دو سے اوپر تو ان کو دو تہائی ترکہ دیا جائے گا اور ایک لڑکی (وارث) ہو تو اسے آدھا ترکہ دیا جائے گا۔ اور اگر میت صاحب اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کے لئے ترکہ کا چھٹا حصہ ہوگا (اور باقی اولاد کا) اور اگر بے اولاد ہو۔ اور اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کو تیسرا حصہ ملے گا (باقی ۳/۲ باپ کو ملے گا) اور اگر اس (مرنے والے) کے بھائی (بہن) ہوں تو پھر اس کی ماں کو چھٹا حصہ ملے گا (باقی ۶/۵ بہن بھائیوں کو ملے گا) مگر یہ تقسیم اس وقت ہوگی، جب میت کی وصیت پوری کر دی جائے۔ جو وہ کر گیا ہو اور اس کا قرضہ ادا کر دیا جائے گا جو اس پر ہو۔ تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ یا تمہاری اولاد میں سے نفع رسانی کے لحاظ سے کون تمہارے زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے اللہ کی طرف سے مقرر ہیں، یقینا اللہ بڑا جاننے والا اور بڑا حکمت والا ہے۔ (11) اور جو ترکہ تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں اس میں سے آدھا تمہارے لئے ہوگا اگر ان کی اولاد نہ ہو اور اگر ان کے اولاد ہو تو پھر تمہیں ان کے ترکہ کا چوتھا حصہ ملے گا۔ یہ تقسیم اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد ہوگی، جو انہوں نے کی ہو اور اس قرضہ کی ادائیگی کے بعد جو ان کے ذمہ ہو۔ اور وہ (بیویاں) تمہارے ترکہ میں سے چوتھے حصہ کی حقدار ہوں گی۔ اگر تمہاری اولاد نہ ہو۔ اور اگر تمہارے اولاد ہو تو پھر ان کا آٹھواں حصہ ہوگا اور (یہ تقسیم) اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد ہوگی جو تم نے کی ہو اور اس قرض کو ادا کرنے کے بعد جو تم نے چھوڑا ہو۔ اور اگر میت (جس کی وراثت تقسیم کی جانے والی ہے) کلالہ ہو یعنی مرد ہو یا عورت بے اولاد ہو اور اس کے ماں باپ نہ ہوں۔ مگر بھائی بہن ہوں تو اگر اس کا صرف ایک بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی یا بہن کو چھٹا حصہ ملے گا۔ اور اگر بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو پھر وہ کل ترکہ کی ایک تہائی میں برابر کے شریک ہوں گے۔ مگر (یہ تقسیم) اس وصیت کو پورا کرنے اور قرضہ کے ادا کرنے کے بعد ہوگی جو کی گئی (جبکہ وصیت کرنے والا وارثوں کو) ضرر پہنچانے کے درپے نہ ہو۔ یہ اللہ کی طرف سے لازمی ہدایت ہے، اور اللہ بڑے علم و حلم والا ہے۔ (12) یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جو خدا اور رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اسے ان بہشتوں میں داخل کرے گا۔ جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ (13) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کردہ حدوں سے تجاوز کرے گا۔ تو اللہ اسے آتش دوزخ میں داخل کرے گا۔ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اس کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ (14) اور جو تمہاری عورتوں میں سے بدکاری کریں تو ان کی بدکاری پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو۔ اور اگر وہ گواہی دے دیں تو انہیں گھروں میں بند کر دو یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ مقرر کرے۔ (15) اور تم میں سے جو دو شخص (مرد و عورت) بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان کو اذیت پہنچاؤ۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کرلیں۔ تو انہیں چھوڑ دو بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔ (16) توبہ قبول کرنے کا حق اللہ کے ذمہ صرف انہی لوگوں کا ہے جو جہالت (نادانی) کی وجہ سے کوئی برائی کرتے ہیں پھر جلدی توبہ کر لیتے ہیں یہ ہیں وہ لوگ جن کی توبہ خدا قبول کرتا ہے۔ اور اللہ بڑا جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔ (17) ان لوگوں کی توبہ (قبول) نہیں ہے۔ جو (زندگی بھر) برائیاں کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے، تو وہ کہتا ہے، اس وقت میں توبہ کرتا ہوں۔ اور نہ ہی ان کے لیے توبہ ہے۔ جو کفر کی حالت میں مرتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے لیے ہم نے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے۔ (18) اے ایمان والو! تمہارے لئے حلال نہیں ہے۔ کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اور نہ یہ جائز ہے۔ کہ ان پر سختی کرو اور روکے رکھو تاکہ جو کچھ تم نے (جہیز وغیرہ) انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ حصہ لے اڑو مگر یہ کہ وہ صریح بدکاری کا ارتکاب کریں (کہ اس صورت میں سختی جائز ہے) اور عورتوں کے ساتھ عمدہ طریقہ سے زندگی گزارو۔ اور اگر تم انہیں ناپسند کرتے ہو تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو۔ مگر اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔ (19) اور اگر تم ایک بیوی کو بدل کر اس کی جگہ دوسری لانا چاہو اور تم ان میں سے ایک کو (جسے فارغ کرنا چاہتے ہو) بہت سا مال دے چکے ہو۔ تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو کیا تم جھوٹا الزام لگا کر اور صریح گناہ کرکے (واپس) لینا چاہتے ہو۔ (20) اور بھلا تم وہ (مال) کیسے واپس لے سکتے ہو۔ جبکہ تم (مقاربت کرکے) ایک دوسرے سے لطف اندوز ہو چکے ہو؟ اور وہ تم سے پختہ عہد و پیمان لی چکی ہیں۔ (21) جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا نکاح کر چکے ہوں۔ ان سے شادی (نکاح) نہ کرو۔ سوا اس کے جو پہلے ہو چکا۔ بے شک یہ کھلی بے حیائی اور (خدا کی) ناراضی کی بات ہے اور بہت برا طریقہ ہے۔ (22) تم پر حرام کر دی گئی ہیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے۔ اور تمہاری رضاعی (دودھ شریک) بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں (خوشدامنیں) اور تمہاری ان بیویوں کی جن سے تم نے مباشرت کی ہے وہ لڑکیاں جو تمہاری گودوں میں پرورش پا رہی ہیں اور اگر صرف نکاح ہوا ہے مگر مباشرت نہیں ہوئی ہے۔ تو پھر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں (بہوؤیں) اور یہ بھی حرام قرار دیا گیا کہ دو بہنوں کو ایک نکاح میں اکھٹا کرو۔ مگر جو پہلے ہو چکا ہے۔ بے شک اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (23) اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں، جو شوہردار ہوں۔ مگر وہ ایسی عورتیں جو (شرعی جہاد میں) تمہاری ملکیت میں آئیں۔ یہ آئین ہے، اللہ کا جو تم پر لازم ہے۔ اور ان کے علاوہ جو عورتیں ہیں وہ تمہارے لئے حلال ہیں کہ اپنے مال (حق مہر) کے عوض ان سے شادی کرلو۔ بدکاری سے بچنے اور پاکدامنی کو قائم رکھنے کے لیے اور ان عورتوں میں سے جن سے تم متعہ کرو۔ تو ان کی مقررہ اجرتیں ادا کر دو۔ اور اگر زرِ مہر مقرر کرنے کے بعد تم آپس میں (کم و بیش پر) راضی ہو جاؤ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بے شک اللہ بہت جاننے والا اور بڑی رحمت والا ہے۔ (24) اور تم میں سے جو شخص مالی حیثیت سے اس کی قدرت نہ رکھتا ہو کہ وہ (خاندانی) مسلمان آزاد عورتوں سے نکاح کر سکے۔ تو وہ ان مسلمان لونڈیوں سے (نکاح کرلے) جو تمہاری ملکیت میں ہوں اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے تم (اسلام کی حیثیت سے) سب ایک دوسرے سے ہو۔ پس ان (لونڈیوں) کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو۔ اور بھلائی کے ساتھ ان کے حق مہر ادا کرو۔ تاکہ وہ (قید نکاح میں آکر) پاکدامن رہیں۔ اور شہوت رانی نہ کرتی پھریں۔ اور نہ ہی چوری چھپے آشنا بناتی پھریں۔ سو جب وہ قید نکاح میں محفوظ ہو جائیں تو اگر اب بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان کے لئے آزاد عورتوں کی نصف سزا ہوگی۔ یہ رعایت (کہ خاندانی مسلمان آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت نہ ہو تو کنیز سے نکاح کرنے کا جواز) اس شخص کے لئے ہے جسے (نکاح نہ کرنے سے) بدکاری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اور اگر ضبط سے کام لو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (25) اللہ چاہتا ہے کہ (تم سے اپنے احکام) کھول کر بیان کر دے اور تمہیں ان لوگوں کے طریقوں پر چلائے جو تم سے پہلے گزرے ہیں اور تمہاری توبہ قبول کرے اللہ بڑا جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔ (26) اور اللہ تو چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول کرے مگر وہ لوگ جو خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم (راہ راست سے بھٹک کر) بہت دور نکل جاؤ۔ (27) اللہ چاہتا ہے کہ تمہارا بوجھ ہلکا کرے (کیونکہ) انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ (28) اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقہ سے نہ کھاؤ۔ مگر یہ کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارتی معاملہ ہو۔ اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ بے شک اللہ تم پر بڑا مہربان ہے۔ (29) اور جو شخص ظلم و تعدی سے ایسا کرے گا۔ تو ہم عنقریب اسے آتش (دوزخ) میں ڈالیں گے۔ اور یہ بات اللہ کے لیے بالکل آسان ہے۔ (30) اگر تم ان بڑے (گناہوں) سے بچتے رہو، جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے۔ تو ہم تمہاری (چھوٹی) برائیاں دور کر دیں گے (معاف کر دیں گے) اور تمہیں ایک معزز (جنت) میں داخل کریں گے۔ (31) اور اللہ نے تم سے بعض کو دوسرے بعض پر جو زیادتی (بڑائی) عطا کی ہے۔ تم اس کی تمنا نہ کرو۔ مردوں کا حصہ ہے (مال و اعمال وغیرہ سے) جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کا حصہ ہے جو کچھ انہوں نے کمایا۔ اور اللہ سے اس کے فضل (مال اور اعمال وغیرہ کا) سوال کرو بے شک اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ (32) اور ہم نے ہر شخص کے لئے وارث مقرر کر دیئے ہیں، جو کچھ ماں، باپ اور قریب ترین رشتہ دار اور جن سے تم نے عہدوپیمان کر رکھا ہے۔ چھوڑ جائیں انہیں (وارثوں کو) ان کا حصہ دو۔ بے شک اللہ ہر چیز پر گواہ (مطلع) ہے۔ (33) مرد عورتوں کے محافظ و منتظم (حاکم) ہیں (ایک) اس لئے کہ اللہ نے بعض (مردوں) کو بعض (عورتوں) پر فضیلت دی ہے اور (دوسرے) اس لئے کہ مرد (عورتوں پر) اپنے مال سے خرچ کرتے ہیں۔ سو نیک عورتیں تو اطاعت گزار ہوتی ہیں اور جس طرح اللہ نے (شوہروں کے ذریعہ) ان کی حفاظت کی ہے۔ اسی طرح پیٹھ پیچھے (شوہروں کے مال اور اپنی ناموس کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں اور وہ عورتیں جن کی سرکشی کا تمہیں اندیشہ ہو انہیں (نرمی سے) سمجھاؤ (بعد ازاں) انہیں ان کی خواب گاہوں میں چھوڑ دو اور (آخرکار)۔ انہیں مارو۔ پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو پھر ان کے خلاف کوئی اور اقدام کرنے کے راستے تلاش نہ کرو۔ یقینا اللہ (اپنی کبریائی میں) سب سے بالا اور بڑا ہے۔ (34) اور اگر تمہیں دونوں (میاں بیوی) کی ناچاقی کا خوف دامنگیر ہو تو ایک ثالث مرد کے کنبے سے اور ایک ثالث عورت کے کنبے سے مقرر کرو۔ اگر دونوں اصلاح کا ارادہ کریں گے تو خدا ان دونوں میں موافقت پیدا کر دے گا۔ بے شک اللہ بڑا جاننے والا بڑا باخبر ہے۔ (35) اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ بناؤ۔ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور قریبی ہمسایہ اور اجنبی ہمسایہ اور پہلو میں بیٹھنے والے رفیق اور مسافر، اپنے مملوکہ (غلاموں کنیزوں) کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ بے شک اللہ مغرور و متکبر اور شیخی بگھارنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (36) جو خود کنجوسی سے کام لیتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کرنے کا حکم (ترغیب) دیتے ہیں۔ اور جو کچھ اللہ نے ان کو اپنے فضل و کرم سے دیا ہے وہ اسے چھپاتے ہیں ہم نے ایسے ناشکروں کے لئے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے۔ (37) اور جو اپنے مال صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں دراصل وہ خدا اور روزِ جزا پر ایمان و یقین نہیں رکھتے (اللہ ایسے لوگوں کو دوست نہیں رکھتا)۔ اور جس کا مصاحب شیطان ہو۔ وہ اس کا بہت بُرا مصاحب ہے۔ (38) اور ان کا کیا نقصان ہوتا اگر وہ اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لاتے اور جو کچھ اللہ نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے کچھ (راہِ خدا میں) خرچ کرتے اور اللہ ان سے خوب واقف ہے۔ (39) بے شک اللہ ذرہ برابر (کسی پر) ظلم نہیں کرتا اور اگر وہ (ذرہ برابر) نیکی ہو تو اسے دوگنا (بلکہ چوگنا) کر دیتا ہے اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔ (40) اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔ (41) اس دن کافر اور پیغمبر کے نافرمان تمنا کریں گے کہ کاش وہ زمین کے برابر کر دیئے جاتے۔ اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔ (42) اے ایمان والو۔ نماز کے قریب مت جاؤ جبکہ نشہ کی حالت میں ہو یہاں تک کہ (نشہ اتر جائے اور) تمہیں معلوم ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ اور نہ ہی جنابت کی حالت میں (نماز کے قریب جاؤ) یہاں تک کہ غسل کر لو۔ الا یہ کہ تم راستے سے گزر رہے ہو (سفر میں ہو)۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی بیت الخلاء سے ہو کے آئے۔ یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پھر پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ کہ (اس سے) اپنے چہروں اور ہاتھوں کے کچھ حصہ پر مسح کرلو۔ بے شک اللہ بڑا معاف کرنے والا ہے، بڑا بخشنے والا ہے۔ (43) کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جن کو کتاب (الٰہی) کا کچھ حصہ دیا گیا کہ وہ گمراہی خرید رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی سیدھے راستے سے بہک جاؤ۔ (44) اور اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور اللہ تمہاری کارسازی و سرپرستی اور مددگاری کے لیے کافی ہے (45) یہودیوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کلموں کو ان کے موقع و محل سے پھیر دیتے ہیں اور زبانوں کو توڑ موڑ کر اور دین پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’سمعنا و عصینا‘‘ (ہم نے سنا مگر مانا نہیں) اور ’’اسمع غیر مسمع‘‘ (اور سنو تمہاری بات نہ سنی جائے) اور ’’راعنا‘‘ (ہمارا لحاظ کرو)۔ اگر وہ اس کی بجائے یوں کہتے ’’سمعنا و اطعنا‘‘ (ہم نے سنا اور مانا) اور ‘‘اسمع‘‘ (اور سنیئے) ‘‘وانظرنا‘‘ (اور ہماری طرف دیکھئے) تو یہ ان کے لئے بہتر اور زیادہ درست ہوتا۔ مگر اللہ نے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کی ہے (اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے) اس لئے وہ بہت کم ایمان لائیں گے۔ (46) اے اہل کتاب اس (قرآن) پر (ایمان لاؤ) اس سے پہلے کہ ہم کچھ چہروں کو بگاڑ دیں اور انہیں ان کی پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ہم نے ہفتہ کے دن والوں پر لعنت کی تھی اور اللہ کا حکم نافذ ہوکر رہتا ہے۔ (47) یقینا اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے سوا (ہر گناہ) جس کے لئے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جس نے کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرایا اس نے بہت بڑے گناہ کے ساتھ بہتان باندھا۔ (48) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی بیان کرتے ہیں (اور خود اپنی تعریف کرتے ہیں) حالانکہ اللہ جسے چاہتا ہے پاکیزگی عطا کرتا ہے (جس کی چاہتا ہے تعریف کرتا ہے)۔ اور ان پر سوت برابر (ذرہ برابر) ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (49) دیکھو کہ یہ کس طرح خدا پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں۔ اور ان کے گنہگار ہونے کے لیے یہی کھلا ہوا گناہ کافی ہے۔ (50) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب (الٰہی) سے کچھ حصہ دیا گیا ہے وہ جبت (بت) اور طاغوت (شیطان) پر ایمان رکھتے ہیں (انہیں مانتے ہیں) اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ ایمان لانے والوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔ (51) یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کر دے تم اس کا ہرگز کوئی یار و مددگار نہیں پاؤگے۔ (52) کیا ان کا سلطنت میں کوئی حصہ ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگوں کو تل بھر بھی نہ دیتے۔ (53) یا پھر وہ لوگوں پر اس لئے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے ان کو اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے۔ (اگر یہ بات ہے) تو ہم نے آلِ ابراہیم (ع) کو کتاب و حکمت عطا کی ہے اور ان کو بہت بڑی سلطنت عطا کی۔ (54) پھر ان میں کچھ تو اس پر ایمان لائے اور کچھ روگردان ہوگئے اور (ایسوں کے لئے) دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ کافی ہے۔ (55) بے شک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا ہم عنقریب انہیں (دوزخ) کی آگ میں جھونکیں گے۔ جب ان کی (پہلی) کھا لیں پک (جل) جائیں گی تو ہم ان کی کھالیں اور کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں بے شک اللہ زبردست ہے اور بڑی حکمت والا ہے ۔ (56) اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ہم عنقریب ان کو ان بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے لئے وہاں پاک و پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور ہم انہیں (اپنی رحمت) کے گنجان سایہ (گھنی چھاؤں) میں اتاریں گے۔ (57) (اے مسلمانو) اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کو ادا کرو۔ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔ بے شک اللہ تمہیں بہت ہی اچھی بات کی نصیحت کرتا ہے۔ بے شک اللہ بڑا سننے والا، بڑا دیکھنے والا ہے۔ (58) اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحبانِ امر ہیں (فرمان روائی کے حقدار ہیں)۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع (یا جھگڑا) ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پلٹاؤ اگر تم اللہ اور آخرت کے روز پر ایمان رکھتے ہو تو یہ طریقہ کار تمہارے لئے اچھا ہے اور انجام کے اعتبار سے عمدہ ہے۔ (59) یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کر دے تم اس کا ہرگز کوئی یار و مددگار نہیں پاؤگے۔ (52) کیا ان کا سلطنت میں کوئی حصہ ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگوں کو تل بھر بھی نہ دیتے۔ (53) یا پھر وہ لوگوں پر اس لئے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے ان کو اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے۔ (اگر یہ بات ہے) تو ہم نے آلِ ابراہیم (ع) کو کتاب و حکمت عطا کی ہے اور ان کو بہت بڑی سلطنت عطا کی۔ (54) پھر ان میں کچھ تو اس پر ایمان لائے اور کچھ روگردان ہوگئے اور (ایسوں کے لئے) دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ کافی ہے۔ (55) بے شک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا ہم عنقریب انہیں (دوزخ) کی آگ میں جھونکیں گے۔ جب ان کی (پہلی) کھا لیں پک (جل) جائیں گی تو ہم ان کی کھالیں اور کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں بے شک اللہ زبردست ہے اور بڑی حکمت والا ہے ۔ (56) اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ہم عنقریب ان کو ان بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے لئے وہاں پاک و پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور ہم انہیں (اپنی رحمت) کے گنجان سایہ (گھنی چھاؤں) میں اتاریں گے۔ (57) (اے مسلمانو) اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کو ادا کرو۔ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔ بے شک اللہ تمہیں بہت ہی اچھی بات کی نصیحت کرتا ہے۔ بے شک اللہ بڑا سننے والا، بڑا دیکھنے والا ہے۔ (58) اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحبانِ امر ہیں (فرمان روائی کے حقدار ہیں)۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع (یا جھگڑا) ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پلٹاؤ اگر تم اللہ اور آخرت کے روز پر ایمان رکھتے ہو تو یہ طریقہ کار تمہارے لئے اچھا ہے اور انجام کے اعتبار سے عمدہ ہے۔ (59) اور اگر ہم ان پر یہ فرض کر دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کرو۔ یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ۔ تو اس پر معدودے چند لوگوں کے سوا اور کوئی عمل نہ کرتا اور اگر یہ اس نصیحت پر عمل کرتے، جو ان کو کی جاتی ہے، تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا۔ اور ثابت قدمی کا زیادہ موجب ہوتا۔ (66) اور اس وقت ہم انہیں اپنی طرف سے بڑا اجر دیتے۔ (67) اور انہیں سیدھے راستہ پر چلنے کی خاص توفیق عطا کرتے۔ (68) جو اللہ اور رسول(ص) کی اطاعت کرے گا۔ تو ایسے لوگ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے خاص انعام کیا ہے۔ یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین اور یہ بہت اچھے رفیق ہیں۔ (69) یہ اللہ کا خاص فضل ہے اور اللہ کا علم کافی ہے۔ (70) اے ایمان والو! اپنی حفاظت کا سامان مکمل رکھو۔ ہر وقت تیار رہو پھر (موقع کی مناسبت سے) دستہ دستہ ہوکر نکلو یا اکھٹے ہوکر نکلو۔ (71) اور تم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو پیچھے رکا رہنا پسند کرتے ہیں پس اگر تم پر کوئی مصیبت نازل ہو تو کہتا ہے کہ یہ مجھ پر اللہ کا احسان تھا کہ ان کے ساتھ حاضر نہ تھا۔ (72) اور اگر تم پر اللہ کا فضل و کرم ہو (فتح ہو اور مالِ غنیمت مل جائے) تو کہتا ہے جیسے اس کے اور تمہارے درمیان کبھی محبت اور دوستی تھی ہی نہیں کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی کامیابی حاصل کرتا۔ (73) اللہ کی راہ میں ان لوگوں کو جنگ کرنا چاہیے جنہوں نے دنیا کی پست زندگی آخرت کے عوض فروخت کر دی ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے، پھر مارا جائے یا غالب آجائے تو ہم ضرور اسے اجر عظیم عطا کریں گے۔ (74) آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ کہ تم جنگ نہیں کرتے راہ خدا میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر جو فریاد کر رہے ہیں۔ پروردگار! ہمیں اس بستی سے نکال دے۔ جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارے لئے کوئی سرپرست اور حامی و مددگار بنا۔ (75) جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ تو اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں جنگ کرتے ہیں۔ پس تم شیطان کے حوالی، موالی (حامیوں) سے جنگ کرو۔ یقینا شیطان کا مکر و فریب نہایت کمزور ہے۔ (76) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رہو اور نماز پڑھو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ پھر جب ان پر جدال و قتال فرض کر دیا گیا۔ تو ان میں سے ایک گروہ انسانوں سے اس طرح ڈرنے لگا، جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی زیادہ۔ اور کہنے لگا پروردگار! تو نے کیوں (اتنا جلدی) ہم پر جہاد فرض کر دیا۔ اور تھوڑی مدت تک ہمیں مہلت کیوں نہ دی؟ (اے نبی) کہہ دیجیے کہ دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے اور جو متقی و پرہیزگار ہے اس کے لئے آخرت بہت بہتر ہے اور تم پر کھجور کی گھٹلی کے ریشہ برابر (ذرہ بھی) ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (77) تم جہاں کہیں بھی ہوگے، موت تمہیں آئے گی اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں کیوں نہ ہو اور جب انہیں بھلائی پہنچتی ہے۔ تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور جب کوئی برائی اور تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ آپ کی وجہ سے ہے۔ کہہ دیجیے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات سمجھتے ہی نہیں ہیں؟ ۔ (78) آپ کو جو بھلائی پہنچتی ہے۔ وہ تو اللہ کی طرف سے ہے اور آپ کو جو تکلیف پہنچتی ہے۔ وہ تمہاری وجہ سے ہے اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور گواہی کے لیے اللہ کافی ہے۔ (79) اور جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے روگردانی کی، تو ہم نے آپ کو ان پر نگران و پاسبان بنا کر نہیں بھیجا۔ (80) اور وہ زبان سے اطاعت و فرمانبرداری کی لفظ کہتے ہیں اور جب آپ کے پاس سے باہر نکلتے ہیں۔ تو ان میں سے ایک گروہ آپ کے فرمان (یا اپنے قول و قرار کے) برعکس رات بھر تدبیریں کرتا ہے جو کچھ وہ رات کے وقت کرتے ہیں۔ اللہ وہ سب کچھ (ان کے صحیفۂ اعمال میں) لکھ رہا ہے۔ آپ ان کی طرف توجہ نہ کریں۔ اور اللہ پر توکل و بھروسہ کریں، کارسازی کے لیے اللہ کافی ہے۔ (81) آخر یہ لوگ قرآن میں غور و فکر کیوں نہیں کرتے۔ اگر یہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے۔ (82) اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی بات پہنچتی ہے تو اسے پھیلا دیتے ہیں حالانکہ اگر وہ اسے رسول اور اولی الامر کی طرف لوٹاتے تو (حقیقت کو) وہ لوگ جان لیتے جو استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی، تو چند آدمیوں کے سوا باقی شیطان کی پیروی کرنے لگ جاتے۔ (83) تو آپ(ص) اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ آپ پر ذمہ داری نہیں ڈالی جاتی۔ سوائے اپنی ذات کے اور اہل ایمان کو (جہاد پر) آمادہ کریں۔ امید ہے کہ اللہ کافروں کا زور روک دے اور اللہ کا زور زبردست اور اس کی سزا بہت سخت ہے۔ (84) اور جو اچھی سفارش کرے گا۔ اسے اس میں سے حصہ ملے گا اور جو کوئی بری سفارش کرے گا۔ اسے بھی اس کا حصہ (وزر و بال) ملے گا۔ اور اللہ ہر شی پر قدرت رکھنے والا ہے۔ (85) اور جب تمہیں سلام کیا جائے (یا کوئی تحفہ پیش کیا جائے) تو اس سے بہتر طریقہ پر جواب دو۔ یا (کم از کم) اسی کو لوٹادو۔ بے شک اللہ ہر چیز کا محاسبہ کرنے والا ہے۔ (86) اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ ضرور تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کرے گا۔ جس میں کوئی شک نہیں ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون بات میں سچا ہے۔ (87) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے ہو۔ حالانکہ اللہ نے انہیں ان کے کرتوتوں کی وجہ سے (ان کے کفر کی طرف) الٹا پھیر دیا ہے۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اسے ہدایت دو جس سے اس کی بدعملی کی وجہ سے خدا نے توفیق ہدایت سلب کر لی ہے۔ اور جس سے اللہ توفیق ہدایت سلب کرے، تم اس کے لیے (ہدایت کا) راستہ نہیں پاؤگے۔ (88) وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کفر اختیار کرو جیسے انہوں نے کفر اختیار کیا ہے۔ تاکہ پھر تم سب برابر ہو جاؤ۔ لہٰذا تم انہیں اپنا حامی و سرپرست نہ بناؤ جب تک اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں اور اگر وہ اس ہجرت کرنے سے روگردانی کریں تو انہیں پکڑو۔ اور جہاں کہیں انہیں پاؤ انہیں قتل کر ڈالو اور ان میں کسی کو اپنا سرپرست اور مددگار نہ بناؤ۔ (89) سوا ان کے جو ان لوگوں سے جا ملیں جن کے اور تمہارے درمیان (جنگ نہ کرنے کا) معاہدہ ہے یا اس حالت میں تمہارے پاس آئیں کہ ان کے سینے (دل) میں تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ جنگ کرنے سے تنگ آچکے ہوں (ایسے منافق قتل کے اس حکم سے مستثنیٰ ہیں) اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کر دیتا اور وہ ضرور تم سے لڑتے تو پھر اگر وہ تم سے کنارہ کشی کر لیں اور تمہارے ساتھ جنگ نہ کریں اور صلح کا پیغام بھیجیں تو اللہ نے تمہارے لئے ان کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کی کوئی راہ نہیں رکھی ہے۔ (90) عنقریب تم کچھ ایسے لوگ (منافق) پاؤگے۔ جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن جب وہ کبھی فتنہ و فساد کی طرف بلائے جاتے ہیں تو اندھے منہ اس میں جا پڑتے ہیں۔ لہٰذا اگر یہ لوگ تم سے کنارہ کشی نہ کریں اور تمہاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ نہ بڑھائیں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو پھر انہیں پکڑو۔ اور جہاں کہیں انہیں پاؤ۔ قتل کرو۔ یہی وہ لوگ ہیں! جن پر ہم نے تمہیں کھلا غلبہ عطا کیا ہے۔ (91) کسی مسلمان کے لئے روا نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان کو قتل کرے مگر غلطی سے۔ اور جو کوئی کسی مؤمن کو غلطی سے قتل کرے (تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ) ایک مؤمن غلام آزاد کیا جائے اور خون بہا اس کے گھر والوں (وارثوں) کو ادا کیا جائے، مگر یہ کہ وہ لوگ خود (خون بہا) معاف کر دیں۔ پھر اگر مقتول تمہاری دشمن قوم سے تعلق رکھتا ہو، مگر وہ خود مسلمان ہو تو پھر (اس کا کفارہ) ایک مؤمن غلام کا آزاد کرنا ہے اور اگر وہ (مقتول) ایسی (غیر مسلم) قوم کا فرد ہو جس کے اور تمہارے درمیان (جنگ نہ کرنے کا) معاہدہ ہے۔ تو (کفارہ میں) ایک خون بہا اس کے وارثوں کے حوالے کیا جائے گا۔ اور ایک مسلمان غلام بھی آزاد کیا جائے گا اور جس کو (غلام) میسر نہ ہو تو وہ مسلسل دو مہینے روزے رکھے گا۔ یہ اللہ کی طرف سے (اس گناہ کی) توبہ مقرر ہے۔ خدا بڑا جاننے والا اور بڑا حکمت والا ہے۔ (92) اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا دوزخ ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہوگا۔ اور اللہ اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لیے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے۔ (93) اے ایمان والو! جب خدا کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو پہلے خوب تحقیق کر لیا کرو۔ اور جو تمہیں سلام کرے تم اسے نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے۔ تم دنیاوی زندگی کا سازوسامان حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بڑی غنیمتیں ہیں۔ اس سے پہلے تم خود ایسے (کافر) ہی تھے۔ پھر اللہ نے تم پر احسان کیا (کہ تم مسلمان ہوگئے) پس خوب تحقیق کر لیا کرو۔ یقینا اللہ اس سے باخبر ہے۔ جو کچھ تم کرتے ہو۔ (94) مسلمانوں میں سے بلا عذر گھر میں بیٹھے رہنے والے اور راہِ خدا میں مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔ اللہ نے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والوں کو درجہ کے اعتبار سے بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت دی ہے اور یوں تو اللہ نے ہر ایک سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے۔ مگر اس نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اجر عظیم کے ساتھ فضیلت دی ہے۔ (95) یعنی اس کی طرف سے (ان کے لئے) بڑے درجے، بخشش اور رحمت ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (96) بے شک وہ لوگ جو اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔ جب فرشتوں نے ان کی روحوں کو قبض کیا، تو ان سے کہا تم کس حال میں تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم زمین میں کمزور و بے بس تھے۔ فرشتوں نے کہا کہ اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بُری جائے بازگشت ہے۔ (97) علاوہ ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے جن کے اختیار میں کوئی تدبیر نہ تھی اور وہ کوئی راستہ نہ نکال سکتے تھے۔ (98) یہی وہ لوگ ہیں جن کو عنقریب خدا معاف کر دے گا کہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور بڑا بخشنے والا ہے۔ (99) اور جو کوئی راہِ خدا میں ہجرت کرے گا۔ وہ زمین میں بہت ہجرت گاہ، جائے پناہ اور بڑی کشائش پائے گا۔ اور جو شخص اپنے گھر سے خدا اور رسول(ص) کی طرف ہجرت کے ارادہ سے نکلے پھر اسے موت آجائے، تو اس کا اجر و ثواب اللہ کے ذمہ ہوگیا۔ اور اللہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (100) اور جب تم زمین میں سفر کرو۔ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے (بلکہ واجب ہے کہ) نماز میں قصر کر دو۔ (بالخصوص) جب تمہیں خوف ہو کہ کافر لوگ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائیں گے۔ بے شک کافر تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہیں۔ (101) اے رسول(ص) جب آپ(ص) ان (مسلمانوں) میں ہوں اور انہیں نماز (باجماعت) پڑھانے لگیں تو چاہیے کہ ان کا ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہو۔ اور وہ لوگ اپنے ہتھیار لئے رہیں۔ اور جب یہ سجدہ کر چکیں (نماز پڑھ چکیں) تو یہ (پشت پناہی کے لیے) تمہارے پیچھے چلے جائیں اور پھر وہ دوسرا گروہ جس نے ہنوز نماز نہیں پڑھی ہے۔ آجائے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھے۔ اور چوکنا رہے اور اپنا اسلحہ لئے رہے، کفار کی تو یہ خواہش ہے کہ تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سازوسامان سے (ذرا) غافل ہو جاؤ اور وہ تم پر یکبارگی ٹوٹ پڑیں۔ اور اگر تمہیں بارش سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم اپنے ہتھیاروں کو رکھ دو۔ ہاں اپنی حفاظت کا خیال رکھو (چوکنا رہو) بے شک اللہ نے کافروں کے لئے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے۔ (102) پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کرو کھڑے ہوئے، بیٹھے ہوئے، اور اپنے پہلوؤں پر (لیٹے ہوئے) اور جب تمہیں اطمینان ہو جائے تو نماز کو پورے طور پر ادا کرو۔ بے شک نماز اہل ایمان پر پابندی وقت کے ساتھ فرض کی گئی ہے۔ (103) اس (مخالف) جماعت کی تلاش اور تعاقب میں سستی نہ دکھاؤ۔ اگر اس میں تمہیں تکلیف پہنچتی ہے۔ تو انہیں بھی اسی طرح تکلیف پہنچتی ہے۔ جس طرح تمہیں پہنچتی ہے اور تم اللہ سے اس چیز (ثواب) کے امیدوار ہو جس کے وہ امیدوار نہیں ہیں اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے۔ (104) بے شک ہم نے (یہ) کتاب حق کے ساتھ آپ پر اتاری ہے۔ تاکہ آپ لوگوں میں اس کے مطابق فیصلہ کریں، جو اللہ نے آپ کو بتا دیا ہے اور آپ خیانت کاروں کے طرفدار نہ بنیں۔ (105) اور اللہ سے مغفرت طلب کریں، یقینا اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (106) اور جو لوگ اپنی ذات سے خیانت کرتے ہیں۔ آپ ان کی وکالت نہ کریں۔ بے شک اللہ اسے دوست نہیں رکھتا، جو بڑا خیانت کار اور بڑا گنہگار ہے۔ (107) یہ لوگ (اپنی حرکات) لوگوں سے تو چھپا سکتے ہیں مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے، کیونکہ وہ تو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے، جب وہ راتوں کو اس کی پسند کے خلاف گفتگوئیں (مشورے) کرتے ہیں اور وہ جو کچھ کرتے ہیں۔ اللہ اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ (108) (اے مسلمانو!) یہ تم ہو جو دنیاوی زندگی میں ان کی طرف سے جھگڑتے ہو (ان کی طرفداری کرتے ہو)۔ تو قیامت کے دن ان کی طرف سے خدا سے کون بحث کرے گا؟ یا کون ان کا وکیل (نمائندہ) ہوگا؟ ۔ (109) اور جو کوئی برائی کرے یا قبیح کام کرے یا کوئی اپنے اوپر ظلم کرے (گناہ کا ارتکاب کرے) پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے، تو وہ اللہ کو بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا پائے گا۔ (110) اور جو گناہ کرتا ہے تو وہ اپنی ہی جان کے خلاف کرتا ہے۔ اور اللہ بڑا جاننے والا ہے اور بڑی حکمت والا ہے۔ (111) اور جو کوئی غلطی یا گناہ کرے یا کسی بے قصور پر تہمت لگائے، تو اس نے ایک بڑے بہتان اور کھلے ہوئے گناہ کا بوجھ اٹھایا ہے۔ (112) اور اگر اللہ کا فضل و کرم اور اس کی خاص رحمت آپ(ص) کے شامل حال نہ ہوتی تو ان کے ایک گروہ نے تو یہ تہیّہ کر لیا تھا کہ آپ کو گمراہ کرکے رہے گا۔ حالانکہ وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کر رہے ہیں اور آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ نے آپ پر کتاب و حکمت نازل کی ہے اور آپ کو وہ کچھ پڑھا دیا ہے۔ جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا بڑا فضل و کرم ہے۔ (113) لوگوں کی زیادہ تر سرگوشیوں میں کوئی خیر و خوبی نہیں ہے سوا اس کے کہ کوئی صدقہ دینے، نیکی کرنے یا لوگوں کے درمیان صلح صفائی کرانے کی بات کرے اور جو شخص خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر ایسا کرے ہم اسے اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔ (114) اور جو راہِ ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور اہل ایمان کے راستے کے خلاف چلے، تو ہم اسے ادھر ہی جانے دیں گے، جدھر وہ گیا ہے (ہم اسے کرنے دیں گے جو کچھ وہ کرتا ہے)۔ اور اسے آتش دوزخ کا مزا چکھائیں گے اور یہ بہت بری جاءِ بازگشت ہے۔ (115) بے شک اللہ اس جرم کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے سوا (جو کم درجہ کے جرائم ہیں) جس کے لئے چاہتا ہے، بخش دیتا ہے۔ اور جو کسی کو اس کا شریک ٹھرائے، وہ گمراہ ہوا (اور اس میں) بہت دور نکل گیا۔ (116) یہ (مشرک) لوگ اللہ کو چھوڑ کر نہیں پکارتے، مگر زنانی چیزوں (دیویوں) کو (ان کی عبادت کرتے ہیں) اور نہیں پکارتے، مگر سرکش شیطان کو (اس کی پرستش کرتے ہیں)۔ (117) جس پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس نے کہا کہ میں تیرے بندوں میں سے اپنا مقررہ حصہ لے کر رہوں گا۔ (118) اور انہیں ضرور گمراہ کروں گا اور میں انہیں مختلف آرزوؤں میں الجھاؤں گا (انہیں سبز باغ دکھاؤں گا) اور انہیں حکم دوں گا کہ وہ ضرور چوپاؤں کے کان شگافتہ کریں گے اور میں انہیں حکم دوں گا کہ وہ خدا کی خدائی ساخت کو ضرور بدل دیں گے اور جو اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا سرپرست بنائے گا وہ کھلا ہوا نقصان اٹھائے گا۔ (119) وہ شیطان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں (جھوٹی) امیدیں دلاتا ہے۔ اور ان سے شیطان وعدہ نہیں کرتا مگر فریب کے طور پر۔ (120) یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ جس سے وہ چھٹکارا کی راہ نہیں پائیں گے۔ (121) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ہم عنقریب انہیں ان بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون بات کا سچا ہے۔ (122) (اے مسلمانو) نہ تمہاری تمناؤں سے کچھ ہوتا ہے اور نہ اہلِ کتاب کی تمناؤں سے۔ جو بھی برائی کرے گا، اس کو اس کی سزا دی جائے گی اور وہ اللہ کو چھوڑ کر اپنے لئے نہ کوئی سرپرست پائے گا اور نہ کوئی حامی و مددگار۔ (123) اور جو کوئی نیک عمل کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت درانحالیکہ وہ مؤمن ہو تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر تل برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (124) اور اس شخص سے بڑھ کر کس کا دین اچھا ہوگا۔ جو اللہ کے لئے اپنا چہرہ جھکا دے (اپنے کو اللہ کے سپرد کر دے) اور وہ احسان کرنے والا ہو۔ اور اس ابراہیم حنیف کی ملت کا پیرو ہو۔ جسے اللہ نے اپنا خلیل بنایا تھا۔ (125) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ وہ اللہ ہی کا ہے۔ اور اللہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ (126) اے رسول! لوگ عورتوں کے معاملہ میں آپ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں کہہ دیجیے! کہ اللہ تمہیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے اور متوجہ کرتا ہے ان آیات کی طرف جو کلام الٰہی کے اندر ہیں اور تمہیں ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں۔ جن کا تم مقررہ حق تو ادا نہیں کرتے مگر چاہتے ہو کہ ان سے نکاح کرلو۔ اور متوجہ کرتا ہے ان (آیات) کی طرف جو ان کمزور و بے بس لڑکوں کے بارے میں ہیں۔ اور جو (آیات) اس بارے میں ہیں کہ یتیم بچوں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور تم جو بھلائی کروگے تو اللہ اس کا خوب علم رکھتا ہے۔ (127) اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر سے حق تلفی یا بے توجہی محسوس کرے تو ان دونوں کے لیے کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ (کچھ لو کچھ دو کی بنا پر) آپس میں صلح کر لیں اور صلح بہرحال بہتر ہے اور نفوس میں بخل موجود رہتا ہے (تنگ دلی پر آمادہ رہتے ہیں) اور اگر تم بھلائی کرو۔ اور پرہیزگاری اختیار کرو۔ تو بے شک اللہ تمہارے اس طرزِ عمل سے باخبر ہے۔ (128) یہ ٹھیک ہے کہ تم جس قدر چاہو مگر بیویوں میں پورا پورا عدل نہیں کر سکتے۔ مگر بالکل تو ایک طرف نہ جھک جاؤ۔ کہ (دوسری کو) بیچوں بیچ لٹکا چھوڑ دو۔ اور اگر تم اپنی اصلاح کر لو۔ اور تقویٰ اختیار کرو۔ تو خدا بڑا بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ (129) اور اگر دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں تو اللہ ہر ایک کو اپنے فضل و کرم کی وسعت سے بے نیاز کر دے گا۔ اور اللہ بڑی وسعت والا بڑی حکمت والا ہے۔ (130) اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے اور ہم نے ان لوگوں کو بھی جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور تمہیں بھی ہدایت کی ہے کہ تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرو۔ وہ تو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کا مالک ہے۔ اللہ بڑا بے نیاز ہے حمد و ثناء کا حقدار ہے۔ (131) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ وہ سب اللہ کا ہے اور اللہ کارسازی کے لیے کافی ہے۔ (132) اے لوگو! اگر وہ چاہے، تو تم سب کو لے جائے (ختم کر دے) اور دوسروں کو لے آئے اور اللہ اس پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ (133) جو شخص صرف دنیاوی صلہ و ثواب کا طلبگار ہو (تو اس کی مرضی ورنہ) اللہ کے پاس تو دنیا و آخرت دونوں کا صلہ و ثواب ہے اور اللہ بڑا سننے والا، بڑا دیکھنے والا ہے۔ (134) اے ایمان والو! مضبوطی کے ساتھ انصاف کے علمبردار ہو جاؤ۔ اور محض اللہ کے لئے گواہی دینے والے بنو۔ خواہ تمہیں اپنے یا والدین کے اور اپنے قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی گواہی دینا پڑے۔ وہ (جس کے خلاف گواہی دی جا رہی ہے) چاہے امیر ہو چاہے فقیر ہو بہرحال اللہ ان دونوں کا تم سے زیادہ خیرخواہ ہے پس اس طرح خواہش نفس کی پیروی نہ کرو کہ حق سے ہٹ جاؤ۔ اور اگر تم نے ہیرپھیر کیا یا (حق سے) منہ موڑا تو بے شک جو کہ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ (135) اے ایمان والو! اللہ پر، اس کے رسول(ص) پر اور اس کی کتاب پر ایمان لاؤ جو اس نے اپنے رسول(ص) پر نازل کی ہے۔ اور اس کتاب پر جو اس نے پہلے اتاری ہے اور جو کوئی اللہ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کی کتابوں کا، اس کے رسولوں کا، اور آخرت کے دن کا انکار کرے۔ وہ گمراہ ہوا اور اس میں بہت دور نکل گیا۔ (136) جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے۔ پھر کفر میں بڑھتے گئے۔ اللہ ہرگز نہ ان کی مغفرت فرمائے گا اور نہ انہیں سیدھی راہ تک پہنچائے گا۔ (137) منافقوں کو سنا دیجیے! کہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ (138) وہ (منافق) جو اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ کیا یہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں۔ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے (اس کے اختیار میں ہے)۔ (139) اور اس نے کتاب (قرآن) میں تم پر یہ حکم نازل کیا ہے کہ جب سنو کہ (کسی جگہ) آیات الٰہیہ کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ تو ایسے لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو۔ جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہو جائیں (ورنہ) اس حالت میں تم بھی انہی جیسے ہو جاؤگے۔ بے شک خدا سب منافقوں اور سب کافروں کو دوزخ میں اکھٹا کرنے والا ہے۔ (140) یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے (انجام) کے منتظر رہتے ہیں۔ پھر اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح و فیروزی حاصل ہوگئی تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اور اگر کافروں کو (فتح کا) کچھ حصہ مل گیا تو (کافروں سے) کہتے ہیں۔ کیا ہم تم پر غالب نہیں آنے لگے تھے؟ اور کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں سے نہیں بچایا؟ اب اللہ ہی قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اور اللہ کبھی کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کا کوئی راستہ نہیں رکھے گا۔ (141) منافق (بزعم خود) خدا کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ حالانکہ وہ انہیں دھوکے میں رکھ رہا ہے (انہیں ان کی دھوکہ بازی کی سزا دینے والا ہے) اور جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔ تو بے دلی اور کاہلی کے ساتھ وہ بھی خلوص نیت سے نہیں بلکہ محض لوگوں کو دکھانے کے لیے۔ اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑ۔ (142) وہ (کفر و اسلام کے) درمیان ڈانواں ڈول ہیں نہ پورے اس طرف نہ پورے اس طرف جسے اللہ بھٹکنے دے (اس کی کج رفتاری کی وجہ سے توفیق ہدایت سلب کر لے) تو تو اس کے لئے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں پائے گا۔ (143) اے ایمان والو! اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے خلاف اللہ کو کھلی ہوئی دلیل مہیا کر دو۔ (144) بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے والے طبقہ میں ہوں گے۔ اور تم ان کے کوئی یار و مددگار نہیں پاؤگے۔ (145) سوا ان کے جنہوں نے توبہ کی، اپنی اصلاح کرلی۔ اور اللہ سے وابستہ ہوگئے اور اللہ کے لئے اپنا دین خالص کر دیا (خلوص کے ساتھ اس کی اطاعت کرنے لگے) تو یہ لوگ مؤمنین کے ساتھ ہوں گے اور اللہ اہل ایمان کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ (146) اگر تم شکرگزار بن جاؤ۔ اور ایمان لے آؤ تو اللہ تمہیں عذاب کرکے کیا کرے گا؟ اور اللہ تو بڑا قدردان ہے (اور) بڑا جاننے والا ہے۔ (147) اللہ علانیہ بدگوئی کو پسند نہیں کرتا سوائے اس کے کہ جس پر ظلم ہوا ہو (کہ اس کے لیے ظالم کی بدگوئی جائز ہے) اللہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔ (148) اگر تم کوئی نیکی ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ۔ یا کسی برائی سے درگزر کرو۔ تو بے شک اللہ (بھی) بڑا معاف کرنے والا، بڑا قدرت والا ہے۔ (149) بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے پیغمبروں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ (ایمان و کفر کے) درمیان کوئی راستہ نکالیں۔ (150) یہی وہ لوگ ہیں، جو حقیقی کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب مہیا کر رکھا ہے۔ (151) اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کی۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں وہ (اللہ) ان کا اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔ اور اللہ تو ہے ہی بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا۔ (152) آپ سے اہل کتاب مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے کوئی (لکھی ہوئی) کتاب اتروا دیں سو یہ تو جناب موسیٰ سے اس سے بھی بڑا مطالبہ کر چکے ہیں یعنی کہا تھا کہ ہمیں کھلم کھلا اللہ دکھا دو تو ان کے (اسی) ظلم کی وجہ سے ان کو بجلی نے پکڑ لیا۔ اور پھر ان لوگوں نے آیات و معجزات آجانے کے بعد گوسالے کو (خدا) بنا لیا۔ مگر ہم نے انہیں معاف کر دیا اور موسیٰ کو کھلا ہوا غلبہ عطا کیا۔ (153) اور ہم نے ان سے (فرمانبرداری کا) پختہ عہد لینے کے لیے ان کے اوپر کوہ طور کو بلند کیا اور ہم نے ان سے کہا سجدہ ریز ہوکر دروازہ (شہر) میں داخل ہو جاؤ اور ان سے کہا کہ قانون سبت کے بارے میں زیادتی نہ کرو (حد سے نہ بڑھو) اور ہم نے ان سے پختہ عہد و پیمان لیا تھا۔ (154) سو (ان کو جو سزا ملی وہ) ان کے عہد شکنی کرنے، آیاتِ الٰہیہ کا انکار کرنے، نبیوں کو ناحق قتل کرنے اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔ بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان کے (دلوں) پر مہر لگا دی ہے۔ اس لیے وہ بہت کم ایمان لائیں گے۔ (155) نیز ان کے ساتھ یہ جو کچھ ہوا یہ ان کے کفر کی وجہ سے ہوا۔ اور جناب مریم پر بہتان عظیم لگانے کی وجہ سے۔ (156) اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے خدا کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے نہ انہیں قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان پر اصل معاملہ مشتبہ کر دیا گیا۔ اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ یقینا اس کے متعلق شک میں ہیں اور انہیں گمان کی پیروی کرنے کے سوا کوئی علم نہیں ہے۔ اور انہوں نے یقینا ان کو قتل نہیں کیا۔ (157) بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ زبردست ہے، بڑا حکمت والا ہے۔ (158) اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں، جو اپنی موت (یا ان کی موت) سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے اور وہ قیامت کے دن ان کے خلاف گواہ ہوں گے۔ (159) یہودیوں کے ایسے ہی مظالم اور زیادتیوں کیوجہ سے ہم نے وہ بہت سی پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کر دیں، جو پہلے ان کے لئے حلال تھیں۔ نیز ان کے (لوگوں کو) اللہ کے راستہ سے بکثرت روکنے کی وجہ سے۔ (160) اور ان کے سود لینے کے سبب سے، حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا اور لوگوں کا ناحق مال کھانے کے باعث (یہ سب کچھ ہوا)۔ اور ان میں سے جو لوگ کافر ہیں، ہم نے ان کے لئے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے۔ (161) البتہ ان میں سے جو علم میں پختہ ہیں اور جو ایمان دار ہیں، وہ سب اس پر ایمان لاتے ہیں، جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا اور وہ نماز کو قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم بہت بڑا اجر و ثواب عطا کریں گے۔ (162) بے شک ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے۔ جس طرح (جناب) نوح اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف بھیجی تھی۔ اور ہم نے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، اولادِ یعقوب، عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کی طرف وحی بھیجی تھی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی تھی۔ (163) کچھ پیغمبر وہ ہیں جن کے حالات ہم نے آپ سے پہلے بیان کر دیئے ہیں اور کچھ وہ ہیں جن کے واقعات ہم نے آپ سے بیان نہیں کئے اور اللہ نے موسیٰ سے اس طرح کلام کیا جیساکہ کلام کرنے کا حق ہے۔ (164) اور (ہم نے) رسولوں کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا تاکہ رسولوں کے آجانے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت باقی نہ رہ جائے اور اللہ زبردست، بڑا حکمت والا ہے۔ (165) اللہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس نے جو کچھ آپ پر نازل کیا۔ وہ اپنے علم سے نازل کیا ہے اور فرشتے (بھی) اس کی گواہی دیتے ہیں۔ اگرچہ گواہی کے لیے اللہ کافی ہے۔ (166) بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور (دوسروں کو) اللہ کی راہ سے روکا گمراہی میں بہت دور نکل گئے۔ (167) بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ظلم و ستم کیا، اللہ انہیں بخشنے والا نہیں ہے۔ اور نہ ہی انہیں کوئی راستہ دکھائے گا۔ (168) سوا جہنم کے راستہ کے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بات اللہ کے لئے بالکل آسان ہے۔ (169) اے لوگو! تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے رسول حق لے کر آگیا ہے۔ پس ان پر ایمان لاؤ۔ یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے۔ اور اگر انکار کروگے تو (اللہ کا کیا نقصان کروگے) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ وہ اللہ ہی کا ہے۔ اور اللہ بڑا علم والا، بڑا حکمت والا ہے۔ (170) اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو نہ کرو۔ اور اللہ کے بارے میں نہ کہو مگر سچی بات جناب عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ جسے اس نے مریم کی طرف بھیجا۔ اور اللہ کی طرف سے ایک خاص روح ہیں۔ پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور تثلیث (یعنی تین خداؤں) کے قائل نہ ہو۔ (اس سے باز آجاؤ) (یہ) تمہارے لئے بہتر ہے۔ اللہ تو صرف ایک ہے۔ اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ سب اسی کا ہے اور اللہ کارسازی کے لئے کافی ہے۔ (171) عیسیٰ مسیح اللہ کا بندہ ہونے میں اپنے لئے عار نہیں سمجھتے اور نہ ہی مقرب فرشتے اس میں اپنے لئے کوئی عار محسوس کرتے ہیں اور جو اس کی بندگی میں ننگ و عار محسوس کرے گا اور تکبر کرے گا۔ اللہ سب کو جلد اپنی طرف محشور فرمائے گا۔ (172) پھر جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور نیک عمل کئے ہوں گے انہیں ان کا پورا پورا صلہ و ثواب دے گا اور اپنے فضل و کرم سے انہیں مزید بھی عطا فرمائے گا۔ اور جنہوں نے (اس کی بندگی سے) ننگ و عار محسوس کیا ہوگا اور تکبر کیا ہوگا ان کو دردناک عذاب کی سزا دے گا۔ اور وہ اللہ کے سوا نہ کوئی سرپرست پائیں گے اور نہ کوئی یار و مددگار۔ (173) اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیل آگئی ہے۔ اور ہم نے تمہاری طرف نمایاں نور اتارا ہے۔ (174) سو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور مضبوطی سے اس کا دامن پکڑا تو ضرور اللہ انہیں اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا۔ اور ان کو اپنے سیدھے راستہ پر لگا دے گا۔ (175) اے رسول یہ لوگ آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے! کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص مر جائے جس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو اس کا آدھا ترکہ اس کا ہوگا۔ اور اگر وہ (بہن) مر جائے اور اس کی کوئی اولاد نہ ہو (اور ایک بھائی ہو) تو وہ اس کے پورے ترکہ کا وارث ہوگا۔ اور اگر کسی مرنے والے کی دو بہنیں ہوں تو ان کا اس کے ترکہ میں سے دو تہائی حصہ ہوگا۔ اور اگر کئی بھائی بہن ہوں یعنی مرد عورت دونوں ہوں تو ایک مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کھول کر احکام بیان کرتا ہے۔ تاکہ تم گمراہ نہ ہو اور اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔ (176)

پچھلی سورت:
سورہ آل عمران
قرآن کریم اگلی سورت:
سورہ مائدہ
سورہ نسا4

١.فاتحہ ٢.بقرہ ٣.آل‌عمران ٤.نساء ٥.مائدہ ٦.انعام ٧.اعراف ٨.انفال ٩.توبہ ١٠.یونس ١١.ہود ١٢.یوسف ١٣.رعد ١٤.ابراہیم ١٥.حجر ١٦.نحل ١٧.اسراء ١٨.کہف ١٩.مریم ٢٠.طہ ٢١.انبیاء ٢٢.حج ٢٣.مؤمنون ٢٤.نور ٢٥.فرقان ٢٦.شعراء ٢٧.نمل ٢٨.قصص ٢٩.عنکبوت ٣٠.روم ٣١.لقمان ٣٢.سجدہ ٣٣.احزاب ٣٤.سبأ ٣٥.فاطر ٣٦.یس ٣٧.صافات ٣٨.ص ٣٩.زمر ٤٠.غافر ٤١.فصلت ٤٢.شوری ٤٣.زخرف ٤٤.دخان ٤٥.جاثیہ ٤٦.احقاف ٤٧.محمد ٤٨.فتح ٤٩.حجرات ٥٠.ق ٥١.ذاریات ٥٢.طور ٥٣.نجم ٥٤.قمر ٥٥.رحمن ٥٦.واقعہ ٥٧.حدید ٥٨.مجادلہ ٥٩.حشر ٦٠.ممتحنہ ٦١.صف ٦٢.جمعہ ٦٣.منافقون ٦٤.تغابن ٦٥.طلاق ٦٦.تحریم ٦٧.ملک ٦٨.قلم ٦٩.حاقہ ٧٠.معارج ٧١.نوح ٧٢.جن ٧٣.مزمل ٧٤.مدثر ٧٥.قیامہ ٧٦.انسان ٧٧.مرسلات ٧٨.نبأ ٧٩.نازعات ٨٠.عبس ٨١.تکویر ٨٢.انفطار ٨٣.مطففین ٨٤.انشقاق ٨٥.بروج ٨٦.طارق ٨٧.اعلی ٨٨.غاشیہ ٨٩.فجر ٩٠.بلد ٩١.شمس ٩٢.لیل ٩٣.ضحی ٩٤.شرح ٩٥.تین ٩٦.علق ٩٧.قدر ٩٨.بینہ ٩٩.زلزلہ ١٠٠.عادیات ١٠١.قارعہ ١٠٢.تکاثر ١٠٣.عصر ١٠٤.ہمزہ ١٠٥.فیل ١٠٦.قریش ١٠٧.ماعون ١٠٨.کوثر ١٠٩.کافرون ١١٠.نصر ١١١.مسد ١١٢.اخلاص ١١٣.فلق ١١٤.ناس


حوالہ جات

  1. دانشنامہ قرآن و قرآن‌ پژوتی، ج۲، ص۱۲۳۷.
  2. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۸.
  3. دانشنامہ قرآن و قرآن‌ پژوتی، ج۲، ص۱۲۳۷.
  4. طباطبایی، المیزان، ترجمہ، ۱۳۷۴ش، ج۴، ص۲۱۳.
  5. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۳، ص۲۷۳تا۲۷۵.
  6. مکارم شیرازی، مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ۱۳۷۱ش، ج۳، ص۳۲۲.
  7. قرائتی، تفسیر نور، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۴۰.
  8. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوتی، ج۲، ص۱۹۸۸.
  9. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۳، ص۳۹۸.
  10. قندوزی، ینابیع المودت، ۱۴۱۶ق، ص۴۹۴.
  11. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۱۴ق، ج۲۱، ابواب: القسم و النشوز و الشقاق، باب۱۱، ص۳۵۱.
  12. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۵، ص۱۱۶.
  13. بجنوردی، القواعد الفقہیہ، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۱۸۷.
  14. ر.ک: ایروانی، دروس تمتیدیت فی تفسیر آیات الاحکام، ۱۴۲۳ق، ج۱ و ۲، فترست آیات.
  15. بت این آیات مراجعت شود: ۷، ۱۵ـ۱۶، ۲۵ و ۳۳.
  16. ر.ک: ایروانی، دروس تمتیدیت فی تفسیر آیات الاحکام، ۱۴۲۳ق، ج۱ و ۲، فترست آیات.
  17. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۹۰، ج۳، ص۵.
  18. شیخ صدوق، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ۱۳۸۲ش۷ ص۱۰۵.
  19. سید بن طاووس، الامان من أخطار الاسفار و الأزمان، ۱۴۰۹ ق، ص۸۹.
  20. کفعمی، مصباح كفعمی، ۱۴۰۳ق، ص۴۵۴.
  21. شیخ طوسی، مصباح المتتجّد، ۱۴۱۱ ق، ص۲۸۴.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔

منابع

  • قرآن کریم، ترجمہ محمدمہدی فولادوند، تہران، دارالقرآن الکریم، ۱۴۱۸ق/۱۳۷۶ش.
  • ایروانی، باقر، دروس تمہیدیہ فی تفسیر آیات الاحکام، قم، دار الفقہ، ۱۴۲۳ق.
  • بجنوردی، سیدحسن بن آقابزرگ موسوی، القواعدالفقہیہ، تحقیق مہدی مہریزی، قم، نشر الہادی، ۱۴۱۹ق.
  • حرّ عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعۃ، قم، آل البیت، ۱۴۱۴ق.
  • دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، کوشش بہاءالدین خرمشاہی، ج۲، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش.
  • سید بن طاووس، علی بن موسی، الأمان من أخطار الأسفار و الأزمان، قم، مؤسسۃ آل البیت، ۱۴۰۹ ق.
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، تحقیق: صادق حسن زادہ، تہران، ارمغان طوبی، ۱۳۸۲ش.
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ترجمہ محمدباقر موسوی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۳۷۴ش.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ترجمہ بیستونی، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۳۹۰ش.
  • طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتہجد، بیروت، مؤسسہ فقہ الشیعۃ، ۱۴۱۱ ق.
  • قرائتی، محسن، قرائتی، تفسیر نور، ۱۳۸۸ش، تہران، مرکز فرہنگی درس‌ہایی از قرآن، ۱۳۸۸ش.
  • قندوزی، سلیمان بن ابراہیم، ینابیع المودۃ لذوی القربی، قم، اسوہ، ۱۴۱۶ق.
  • کفعمی، ابراہیم بن علی، مصباح، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی، ۱۴۰۳ق.
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چ۱، ۱۳۷۱ش.
  • مكارم شيرازى، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الكتب الإسلاميۃ، چاپ اول، ۱۳۷۴ش.