سورہ ق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حجرات سورۂ ق ذاریات
سوره قاف.jpg
ترتیب کتابت: 50
پارہ : 26
نزول
ترتیب نزول: 34
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 45
الفاظ: 373
حروف: 1506

سورہ قاف [سُوْرَةُ ق] [=قاف] کو ق کہا گیا ہے کیونکہ اس کا آغاز "ق وَالْقُرْ‌آنِ الْمَجِيدِ" (قاف۔ قسم ہے بڑے مرتبے والے قرآن کی) سے ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا نام باسقات ہے اور حجم و کمیت کے لحاظ سے مفصلات کے زمرے میں آتی ہے۔ قرآن کی سورتوں کا یہ مجموعہ بھی سور طوال کی مانند ہے۔

سورہ ق

  • سورہ ق [=قاف] کو ق کہا گیا ہے کیونکہ اس کا آغاز "ق وَالْقُرْ‌آنِ الْمَجِيدِ" (قاف۔ قسم ہے بڑے مرتبے والے قرآن کی) سے ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا نام باسقات (باسقۃ کی جمع) ہے اور اس کے معنی اونچے درختوں کے ہیں (آیت 10)۔
  • لفظ (باسقات) قرآن میں صرف ایک بار ـ اس سورت کی آیت 10 میں ـ استعمال ہوا ہے ۔
  • حروف مقعطہ سے شروع ہونے والی 29 سورتوں میں اٹھائیسویں نمبر پر اور حرف مقطع "قاف" سے شروع ہوئی ہے۔
  • ان 23 سورتوں میں چھٹے نمبر پر ہے جن کا آغاز قسم سے ہوتا ہے اور حرف مقطع کے بعد اس کا افتتاح قرآن کی قسم سے ہوتا ہے۔
  • اس سورت کی آیات کی تعداد اتفاق رائے سے 45 ہے۔
  • اس کے الفاظ کی تعداد 373 اور حروف کی تعداد 1507 ہے۔
  • ترتیب مصحف کے لحاظ سے پچاسویں اور ترتیب نزول کے لحاظ سے چونتیسویں سورت ہے۔
  • یہ سورت مکی ہے۔
  • حجم و کمیت کے لحاظ سے مفصلات کے زمرے میں آتی ہے اور تقریبا نصف حزب کے برابر ہے۔

مفاہیم

یہ سورت مسئلۂ معاد اور کفار کی حیرت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ کیونکر خاک ہونے کے بعد دوبارہ زندہ ہوتے ہیں؛ نیز ان مسئلۂ نبوت کے سلسلے میں ان کی حیرت انکار اور تعجب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کے بے بنیاد توہمات کا جواب دیتی ہے کہ کیا انھوں نے آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ خدا نے اس کو کسطرح بنایا اور آراستہ کیا؛ اور یہ خدا نے ان کی آنکھوں کے سامنے مری ہوئی زمین کو زندہ کیا اور سوکھے درختوں کو بارآور کیا؛ توحید اور اللہ کی یکتائی اور قدرت و قوت کی طرف اشارہ کرتی ہے اور رسول اللہ(ص) کو چند اخلاقی اور معاشرتی احکام پہنچاتی ہے۔[1]

سورہ ق کے مضامین[2]
 
 
 
 
قیامت کے منکروں کو جواب اور انتباہ
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا گفتار؛ آیہ ۳۶-۴۵
معاد کے منکروں کو خبردار
 
دوسرا گفتار؛ آیہ ۱۶-۳۵
انسان کے افکار اور اعمال کو حساب کرنے میں شبہہ ایجاد کرنا
 
پہلا گفتار؛ آیہ ۱-۱۵
بدن کے منتشر ذرات کو دوبارہ سے زندہ کرنے پر شبہہ
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۳۶-۳۷
کافروں کو سابقہ امتوں کی ہلاکت سے عبرت لینے کی ضرورت
 
پہلا جواب؛ آیہ ۱۶
انسانی تمام حالات پر اللہ کا علم
 
مقدمہ؛ آیہ ۱-۳
انسان کی دوبارہ حیات کے بارے میں پیغمبر کی باتوں پر کافروں کا تعجب
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۳۸
خلقت پر اللہ کی قدرت، معاد کے منکروں کے عقائد کے بطلان کی دلیل
 
دوسرا جواب؛ آیہ ۱۷-۳۵
فرشتوں کے توسط اعمال کا درج ہونا
 
پہلا جواب؛ آیہ ۴-۵
مردوں کے بدن کے اجزا زمین پر کہاں ہونے کا اللہ کو علم ہے
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۳۹-۴۵
معاد کے منکروں کے مقابلے میں پیغمبر کی ذمہ داریاں
 
 
 
 
 
دوسرا جواب؛ آیہ ۶-۸
کائنات کی خلقت اور تدبیر پر اللہ کی قدرت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا جواب؛ آیہ ۹-۱۴
مردہ زمین کی طرح مردوں کو زندہ کرنا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا جواب؛ آیہ ۱۵
انسان کی پہلی خلقت پر اللہ کی قدرت


متن اور ترجمہ

سورہ ق
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ ﴿1﴾ بَلْ عَجِبُوا أَن جَاءهُمْ مُنذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكَافِرُونَ هَذَا شَيْءٌ عَجِيبٌ ﴿2﴾ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا ذَلِكَ رَجْعٌ بَعِيدٌ ﴿3﴾ قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ ﴿4﴾ بَلْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءهُمْ فَهُمْ فِي أَمْرٍ مَّرِيجٍ ﴿5﴾ أَفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاء فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ ﴿6﴾ وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ﴿7﴾ تَبْصِرَةً وَذِكْرَى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ ﴿8﴾ وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاء مَاء مُّبَارَكًا فَأَنبَتْنَا بِهِ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِ ﴿9﴾ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيدٌ ﴿10﴾ رِزْقًا لِّلْعِبَادِ وَأَحْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا كَذَلِكَ الْخُرُوجُ ﴿11﴾ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَابُ الرَّسِّ وَثَمُودُ ﴿12﴾ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ وَإِخْوَانُ لُوطٍ ﴿13﴾ وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ ﴿14﴾ أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ ﴿15﴾ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ﴿16﴾ إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ ﴿17﴾ مَا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ ﴿18﴾ وَجَاءتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ ﴿19﴾ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ ذَلِكَ يَوْمُ الْوَعِيدِ ﴿20﴾ وَجَاءتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ ﴿21﴾ لَقَدْ كُنتَ فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَذَا فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَاءكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ ﴿22﴾ وَقَالَ قَرِينُهُ هَذَا مَا لَدَيَّ عَتِيدٌ ﴿23﴾ أَلْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٍ ﴿24﴾ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيبٍ ﴿25﴾ الَّذِي جَعَلَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَأَلْقِيَاهُ فِي الْعَذَابِ الشَّدِيدِ ﴿26﴾ قَالَ قَرِينُهُ رَبَّنَا مَا أَطْغَيْتُهُ وَلَكِن كَانَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ ﴿27﴾ قَالَ لَا تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ إِلَيْكُم بِالْوَعِيدِ ﴿28﴾ مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ ﴿29﴾ يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِن مَّزِيدٍ ﴿30﴾ وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ بَعِيدٍ ﴿31﴾ هَذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ ﴿32﴾ مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَن بِالْغَيْبِ وَجَاء بِقَلْبٍ مُّنِيبٍ ﴿33﴾ ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ ذَلِكَ يَوْمُ الْخُلُودِ ﴿34﴾ لَهُم مَّا يَشَاؤُونَ فِيهَا وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ ﴿35﴾ وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هُمْ أَشَدُّ مِنْهُم بَطْشًا فَنَقَّبُوا فِي الْبِلَادِ هَلْ مِن مَّحِيصٍ ﴿36﴾ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ ﴿37﴾ وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٍ ﴿38﴾ فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ ﴿39﴾ وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَارَ السُّجُودِ ﴿40﴾ وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ ﴿41﴾ يَوْمَ يَسْمَعُونَ الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ ذَلِكَ يَوْمُ الْخُرُوجِ ﴿42﴾ إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي وَنُمِيتُ وَإِلَيْنَا الْمَصِيرُ ﴿43﴾ يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا ذَلِكَ حَشْرٌ عَلَيْنَا يَسِيرٌ ﴿44﴾ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِجَبَّارٍ فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ ﴿45﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

ق۔ (1) قَسم ہے باعظمت قرآن کی (پیغمبرِ اسلام (ص) میرے سچے رسول ہیں) لیکن ان لوگوں کو اس بات پر تعجب ہے کہ انہی میں سے ایک ڈرانے والا (رسول) ان کے پاسایا ہے تو کافر کہتے ہیں کہ یہ ایک عجیب چیز ہے۔ (2) کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے (تو دوبارہ زندہ ہوں گے) یہ تو بڑی بعید (از عقل) بات ہے۔ (3) ہم خوب جانتے ہیں (ان اجزاء کو) جو زمین (کھا کر) ان میں سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس تو ایک ایسی کتاب ہے جس میں (سب کچھ) محفوظ ہے۔ (4) بلکہ (دراصل بات تو یہ ہے کہ) انہوں نے (دینِ) حق کو جھٹلایا جبکہ وہ ان کے پاسایا پس وہ ایک الجھی ہوئی بات میں مبتلا ہیں۔ (5) کیا انہوں نے آسمان کی طرف نہیں دیکھا جو ان کے اوپر ہے کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے؟ اور آراستہ کیا ہے جس میں کوئی رخنہ نہیں ہے۔ (6) اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ گاڑ دئیے اور اس میں ہر قِسم کی خوشنما چیزیں اگائیں۔ (7) ہر اس بندے کی بصیرت اور یاددہانی کے لئے جو اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔ (8) اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا اور اس سے باغات اور کاٹے جانے والی کھیتی کا غلہ اگایا۔ (9) اور کھجور کے بلند وبالا درخت جن میں تہہ بہ تہہ خوشے لگتے ہیں۔ (10) بندوں کی روزی کے لئے اور ہم اس مردہ زمین کو زندہ کرتے ہیں اسی طرح (مردوں کا) زمین سے نکلنا ہوگا۔ (11) ان سے پہلے نوح(ع) کی قوم، اصحابِ رس اور ثمود نے جھٹلایا۔ (12) نیز عاد، فرعون، لوط(ع) کے بھائی۔ (13) اور ایکہ والے اور تبع کی قوم ان سب نے پیغمبروں(ع) کو جھٹلایا آخر میری وعید کے مستحق ہو ئے۔ (14) کیا ہم پہلی بار کی پیدائش سے تھک گئے ہیں؟ (ایسا نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ ازسرِنو پیدائش کے بارے میں شبہ میں مبتلا ہیں۔ (15) بےشک ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم وہ وسوسے جانتے ہیں جو اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم اس کی شہ رگ (حیات) سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔ (16) جبکہ دو اخذ کرنے والے (کراماً کاتبین) ایک دائیں جانب بیٹھا ہے اور دوسرا بائیں جانب (اور ہر چیز کو لکھ رہے ہیں)۔ (17) وہ کوئی لفظ بھی نہیں بولتا مگر یہ کہ اس کے پاس نگران تیار موجود ہوتا ہے۔ (18) اور موت کی بےہوشی حق کے ساتھ آپہنچی۔ یہی وہ چیز ہے جس سے تو گریز کرتا رہتا تھا۔ (19) اور صور پھونکا جائے گا یہی وعید کا دن ہوگا۔ (20) اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ہانکنے والا اور ایک گواہ ہوگا۔ (21) اے غا فل) تو اس دن سے غفلت میں رہا تو (آج) ہم نے تیری آنکھوں سے تیرا پردہ ہٹا دیا سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔ (22) اور اس کا (زندگی بھر کا) ساتھی کہے گا کہ جو میرے پاس تھا وہ حاضر ہے۔ (23) تم دونوں جہنم میں جھونک دو ہر بڑے کافر کو جو(حق سے) عناد رکھتا تھا۔ (24) جو نیکی و خیرات سے بڑا روکنے والا، حد سے بڑھنے والا اور شک کرنے والا اور دوسروں کو شک میں ڈالنے والا تھا۔ (25) جس نے اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی خدا بنا رکھا تھا۔ پس اس کو سخت عذاب میں جھونک دو۔ (26) اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا اے ہمارے پروردگار! میں نے تو اسے سرکش نہیں بنایا تھا مگر وہ خود ہی سخت گمراہی میں تھا۔ (27) ارشاد ہوگا میرے سامنے جھگڑا نہ کرو اور میں نے تو تمہیں پہلے عذاب سے ڈرایا تھا۔ (28) میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی اور نہ ہی میں بندوں پر ظلم کرنے والا ہوں۔ (29) وہ دن یاد کرو جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کیا تو بھر گئی ہے؟ اور وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے؟ (30) اور جنت پرہیزگاروں کے قریب کر دی جائے گی اور دور نہیں ہوگی۔ (31) یہ (جنت) وہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (تم میں سے) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا (اور حدودِ الٰہی) کی بڑی حفاظت کرنے والا ہے۔ (32) جو بِن دیکھے خدائے رحمٰن سے ڈرتا ہے اور ایسے دل کے ساتھایا ہے جو (خدا کی طرف) رجوع کرنے والا ہے۔ (33) تم اس(جنت) میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ یہ (حیاتِ) ابدی کا دن ہے۔ (34) وہاں ان کیلئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس تو (ان کے لئے) اور بھی زیادہ ہے۔ (35) اور ہم (کفارِ مکہ) سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جو قوت و طاقت میں ان سے زیادہ طاقتور تھیں وہ (مختلف) شہروں میں گھو متے پھرتے تھے تو ان کو کوئی جائے پناہ ملی؟ (36) اس میں بڑی عبرت و نصیحت ہے اس کے لئے جس کے پاس دل ہویا حضورِ قلب سے کان لگائے۔ (37) بےشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کو چھ دن میں پیدا کیا ہے اور ہم کو تھکان نے چھوا تک نہیں۔ (38) وہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجئے اور سورج کے طلوع و غروب سے پہلے اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے۔ (39) اور رات کے کچھ حصے میں اس کی تسبیح کیجئے اور (نمازوں کا) سجدہ کرنے کے بعد بھی۔ (40) اور غور سے سنو اس دن کا حال جب ایک منادی بہت قریب سے ندا دے گا۔ (41) جس دن سب لوگ ایک زوردار آواز کو بالیقین سنیں گے وہی دن (قبروں سے) نکلنے کا ہوگا۔ (42) یقیناً ہم ہی جِلاتے ہیں ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری ہی طرف سب کی بازگشت ہے۔ (43) اس دن زمین ان پر پھٹ جائے گی اور وہ تیز تیز برآمد ہوں گے یہ حشر (جمع کرنا) ہمارے لئے بالکل آسان ہے۔ (44) جو کچھ لوگ کہتے ہیں ہم خوب جانتے ہیں اور آپ(ص) ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں پس آپ(ص) قرآن کے ذریعہ سے اسے نصیحت کریں جو میری تہدید سے ڈرے۔ (45)

پچھلی سورت:
سورہ حجرات
قرآن کریم اگلی سورت:
سورہ ذاریات
سورہ 50

١.فاتحہ ٢.بقرہ ٣.آل‌عمران ٤.نساء ٥.مائدہ ٦.انعام ٧.اعراف ٨.انفال ٩.توبہ ١٠.یونس ١١.ہود ١٢.یوسف ١٣.رعد ١٤.ابراہیم ١٥.حجر ١٦.نحل ١٧.اسراء ١٨.کہف ١٩.مریم ٢٠.طہ ٢١.انبیاء ٢٢.حج ٢٣.مؤمنون ٢٤.نور ٢٥.فرقان ٢٦.شعراء ٢٧.نمل ٢٨.قصص ٢٩.عنکبوت ٣٠.روم ٣١.لقمان ٣٢.سجدہ ٣٣.احزاب ٣٤.سبأ ٣٥.فاطر ٣٦.یس ٣٧.صافات ٣٨.ص ٣٩.زمر ٤٠.غافر ٤١.فصلت ٤٢.شوری ٤٣.زخرف ٤٤.دخان ٤٥.جاثیہ ٤٦.احقاف ٤٧.محمد ٤٨.فتح ٤٩.حجرات ٥٠.ق ٥١.ذاریات ٥٢.طور ٥٣.نجم ٥٤.قمر ٥٥.رحمن ٥٦.واقعہ ٥٧.حدید ٥٨.مجادلہ ٥٩.حشر ٦٠.ممتحنہ ٦١.صف ٦٢.جمعہ ٦٣.منافقون ٦٤.تغابن ٦٥.طلاق ٦٦.تحریم ٦٧.ملک ٦٨.قلم ٦٩.حاقہ ٧٠.معارج ٧١.نوح ٧٢.جن ٧٣.مزمل ٧٤.مدثر ٧٥.قیامہ ٧٦.انسان ٧٧.مرسلات ٧٨.نبأ ٧٩.نازعات ٨٠.عبس ٨١.تکویر ٨٢.انفطار ٨٣.مطففین ٨٤.انشقاق ٨٥.بروج ٨٦.طارق ٨٧.اعلی ٨٨.غاشیہ ٨٩.فجر ٩٠.بلد ٩١.شمس ٩٢.لیل ٩٣.ضحی ٩٤.شرح ٩٥.تین ٩٦.علق ٩٧.قدر ٩٨.بینہ ٩٩.زلزلہ ١٠٠.عادیات ١٠١.قارعہ ١٠٢.تکاثر ١٠٣.عصر ١٠٤.ہمزہ ١٠٥.فیل ١٠٦.قریش ١٠٧.ماعون ١٠٨.کوثر ١٠٩.کافرون ١١٠.نصر ١١١.مسد ١١٢.اخلاص ١١٣.فلق ١١٤.ناس


حوالہ جات

  1. دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج 2، ص 1252
  2. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔