حوامیم

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

حوامیم حَواميم، سورتوں کے ایک زمرے کا نام ہے جن کی تعداد سات ہے: (سورت 40 (غافر) سے سورہ نمبر 46 (احقاف) تک۔ یہ وہ سورتیں ہیں جن کا آغاز حروف مقطعہ [حم:حاء میم] سے ہوتا ہے۔

سُوَرِ حوامیم

[1] اور حتی کہ کہا گیا ہے کہ یہ سورتیں یکجا نازل ہوئی ہیں۔[2]

حوامیم کے دوسرے نام

ان سورتوں کو "ذوات حم" یا "آل حم" بھی کہا گیا ہے[3] اور کہا گیا ہے کہ حم کے لئے "حوامیم" کا بطور جمع استعمال کلام عرب سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ بچوں کا محاورہ اور روزمرہ کلام ہے جو کہتے ہیں: "تَعَلَّمنا الْحَواميم"، (ہم نے حوامیم کو سیکھ لیا) اور بہتر ہے کہ اس کی جمع کے لئے لفظ "آل حم" یا لفظ "ذوات حم" بروئے کار لایا جائے۔[4]

ان سورتوں کو بعض دیگر مشترکہ عناوین سے بھی یاد کیا گیا ہے جن کا تعلق ان سورتوں کی شان و مرتبت سے ہے۔ یہ عنوان کچھ یوں ہیں:

  • تاج القرآن؛
  • ثمرۃ القرآن؛
  • دیباج القرآن؛
  • روضۃ من ریاض الجنۃ؛
  • ریاحین القرآن؛
  • لباب القرآن؛
  • یاسمین العرائس۔

حوامیم کی ترتیب

ان تمام سورتوں میں حروف مقطعہ [=حم:حاء میم] کے بعد وحی اور قرآن اور نزول قرآن کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ بعض مفسرین کے مطابق یہ مشترکہ خصوصیات ان سورتوں کی مماثلت کے علاوہ حجم و کمیت اور کلام کی نظم و ترتیب ان کی مشابہت اور پیوستگی کا سبب ہے اور نتیجے کے طور پر یہ سورتیں یکے بعد دیگرے قرار پائی ہیں۔[5]

سیوطی کے بقول (الاتقان ط 1408 ہجری، ص118) سورہ زمر بھی ـ جو حوامیم سے قبل واقع ہوئی ہے اور ـ "تَنزيلُ الْكِتابِ" کی عبارت کی وجہ سے حوامیم سے شباہت رکھتی ہے، "اُبىّ بن كَعْب" کے مصحف میں "حم" سے شروع ہوتی ہے۔ سيوطى دوسرے مقام پر[6] کہتے ہیں کہ اس کے باوجود کہ سور مسبحات متوالی نہیں ہیں اور یکے بعد دیگرے نہیں آئی ہیں لیکن اس کے باوجود سور حوامیم پے درپے مندرج ہیں قرآن کی سورتوں کی ترتیب یا ان میں اکثر کی ترتیب توقیفی ہے کیونکہ اگر سورتوں کی ترتیب اجتہادی ہوتی سور مسبحات بھی پیہم قرار پاتیں۔


قابل ذکر ہے کہ ان سورتوں کی فضیلت میں بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں[7] کسی حد تک واضح کرتی ہیں کہ قرآن کی سورتوں کے یہ مجموعے رسول اللہ(ص) کے عصر میں ہی جانے پہچانے تھے۔

دوسری طرف سے سیوطی[8] کہتے ہیں: حوامیم اور حرف مقطع "را" سے شروع نے والی چھ سورتوں (سورہ يونس، سورہ ہود، سورہ يوسف، سورہ رعد، سورہ ابراہيم اور سورہ حجر) کے درمیان شباہت پائی جاتی ہے؛ جس طرح کہ سور حوامیم کی دوسری سورت (یعنی سورہ فصلت) کے آغاز میں اور "الر" (الف لام را) سے شروع ہونے والی دوسری سورت سورہ ہود کے آغاز میں وحیانی کتاب کی توصیف کا اسلوب مختلف ہوجاتا ہے اور قرآن کو ایسی کتاب کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے جس کی آیات تفصیل یافتہ ہیں (فُصِّلَتْ اياتُه)۔

سور حوامیم کا مضمون

نظر یوں آتا ہے کہ متعدد سورتوں کا آغاز مشابہ حروف مقطعہ سے ہوتا ہے؛ جو مجموعی طور پر ہمآہنگی کے اور مفاہیم و مقاصد کے عمومی ربط، کچھ مستقل خصوصیات کی حامل بھی ہیں؛ یہ سورتیں مختلف اور اپنے خاص زاویوں سے ایک ہی مسئلے پر روشنی ڈالتی ہیں۔ لفظ "حم" دوسرے حروف مقطعہ سے زیادہ سورتوں کا لفظ آغاز ہے چنانچہ ان سورتوں کے مشترکہ نکات کی تلاش آسان ہوجاتی ہے۔

لفظ حم

چونکہ حروف مقطعہ کے معانی کے بارے میں کوئی فیصلہ کن رائے نہیں پائی جاتی، لفظ "حم" کی تفسیر کے بارے میں بھی آراء مختلف ہیں؛ جیسے:

  • حم اللہ کے اسماء میں سے ہے؛
  • قرآن کی سورت کا نام ہے؛
  • قرآن کا نام اور قسم ہے "حلم" اور "ملک" پر.
  • "الر"، "حم"، "ن" اور لفظ "الرحمن" وجود میں آتا ہے۔[9]
  • "حم" سے مراد حضرت رسول(ص) کی ذات بابرکات ہے۔[10] لگتا ہے کہ یہ رائے عنوان "آل حم" سے تعلق رکھتی ہے۔
  • بعض مفسرین کا خیال ہے کہ "حم" افعال میں سے ہے، ان کا کہنا ہے کہ حم یعنی "قُدِّر" یا "قُضِىَ ماهوكائن"،[11] البتہ یہ رائے شاذ اور رائج رائے سے متصادم ہے اور مشہور و معتبر قرائات کے ساتھ ناسازگار ہے۔
  • [مشہور نظریہ یہ ہے کہ حم سمیت تمام] حروف مقطعہ اللہ کے اختصاری نام یا صفات ہیں؛
  • حر ف "ح" اللہ کی صفات میں "حليم، حكيم، حميد، حىّ اور حنّان اور حرف "م" کو "مَلِک، مجيد، مُبدِء (خالق) اور منّان جیسی صفات کی علامت ہے۔[12]
  • "ح" "الرحمن" "م" "الرحيم" سے ماخوذ ہیں۔[13]
  • امام صادق علیہ السلام نے حروف مقطعہ کے تہرے مکں سفیان ثوری کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: "حم" الحمید" و "المجید" ہے۔[14]

اس فرض کی بنا پر کہ حروف مقطعہ اختصاری حروف ہیں، مفسرین نے اپنے ذوق اور سلیقے سے مختلف قسم کے نظریات پیش کئے ہیں؛ [جیسے]:

  • "ح" محبت کی طرف اور "م"، "منّت" کی طرف اشارہ ہے؛[15]
  • "ح" حیات پروردگار کی طرف اور "م" "مُلک" یعنی خدا کی حکومت کی طرف اشارہ ہے؛[16]
  • "ح" اشارہ ہے مفتاحِِ "حیّ" ہے اور "م" مفتاحِ مَلِک[17] ہے۔[18]

اسی نظریئے کے مطابق، مستشرقین نے بھی بعض آراء پیش کی ہیں:

ہانس بائر کا کہنا ہے کہ ہر سورت کا آغاز اس کے مندرجات کا ترجمان ہے اور "حم" لفظ "جہنم" کا ملخص ہے کیونکہ ـ بقول اس کے ـ حرف "ح" عربی کتابت میں کبھی حرف "ج" سے مشتبہ ہوجاتا ہے؛ اگرچہ اس نے بھی اس قسم کی تفاسیر کو شک کی نگاہ سے دیکھا ہے۔[19]

روایات میں حوامیم کی فضیلت

حوامیم کی تلاوت کی فضیلت اور آثار کے بارے میں تفاسیر اور مآخذ حدیث میں کئی متعدد روایات نقل ہوئی ہیں اور حوامیم قرآنی میؤوں ہیں؛ قرآن کی دلہنیں ہیں یا جنت کے باغات میں سے ہیں۔[20] سور حوامیم قرآن عرائس قرآن کے نام سے مشہور ہیں اور انس نے رسول اللہ(ص) سے نقل کیا کہ آپ(ص) نے فرمایا: "حوامیم دیباج قرآن ہیں"۔

نیز رسول اللہ(ص) سے مروی ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: ہر چیز کا ایک پھل ہوتا ہے اور حوامیم قرآن کے پھل ہیں؛ حوامیم خوبصورت اور عمدہ و سرسبز باغات ہیں جو ایک دوسرے کے برابر میں واقع ہوئے ہیں اور جو بھی ان جنت کے ان باغات میں جانا چاہے حوامیم کی تلاوت کرے۔

سیوطی جابر بن یزید اور ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ حوامیم سورہ زمر کے بعد نازل ہوئے ہیں اور ان کا ترتیب نزول ان کی ترتیب کتابت جیسی ہے۔

وہ لکھتے ہیں: سور حوامیم لفظ "حم" اور اس کے بعد لفظ "کتاب" کے اشتراک کی بنا پر حوامیم کے عنوان سے مشہور ہوئی ہیں اور وہ سب مکی ہیں اور حدیث میں ہے کہ یہ سب ایک بار نازل ہوئی ہیں اور سورہ زخرف اور سورہ دخان کا مطلع نیز سورہ جاثیہ اور سورہ احقاف کا مطلع ایک جیسا ہے۔

سور حوامیم کے درمیان تناسب

طبرسی حوامیم کے درمیان تناسب کے بارے میں لکھتے ہیں: سورہ مؤمن کو خداوند متعال نے منکرین کو آیات الہی کی یادآوری پر ختم کیا "قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَمَّا جَاءنِيَ الْبَيِّنَاتُ ..." (ترجمہ:کہہ دیجئے کہ مجھے ممانعت ہوئی ہے اس سے کہ میں عبادت کروں ان کی جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو جب کہ میرے پاس پروردگار کے پاس سے کھلی ہوئی دلیلیں آ چکیں(غافر 66))؛ اور اس کے بعد حم سجدہ کا آغاز ان آیات سے فرمایا: "...بَشِيراً وَنَذِيراً فَأَعْرَضَ أَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ" (ترجمہ: خوشخبری دینے والا اور (عذاب سے) ڈرانے والا تو ان میں سے اکثر نے روگردانی کی اور وہ سنتے ہی نہیں(فصلت 4))؛ خداوند متعال نے سورہ فصلت کو قرآن کی یاد پر ختم کیا اور سورہ شوری کا آغاز قرآن کے ذکر سے ہی کیا: "كَذَلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ" (ترجمہ: اسی طرح وحی بھیجتا ہے آپ کی طرف اور ان کی طرف جو آپ کے پہلے تھے وہ اللہ جو عزت والا ہے، صحیح کام کرنے والا(شوری 3))؛ اور جب سورہ شوری کا اختتام ذکر قرآن اور وحی سے کیا: "وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحاً مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَكِن جَعَلْنَاهُ نُوراً نَّهْدِي بِهِ مَنْ نَّشَاء مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ" (ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف بھیجی بصورت وحی اپنے فرمان کی ایک روح، آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کس کا نام ہے مگر ہم نے اسے ایک نور بنایا ہے جس سے ہم ہدایت کرتے ہیں جسے چاہتے ہیں اپنے بندوں میں سے اور بلاشبہ آپ رہنمائی کرتے ہیں سیدھے راستے کی طرف(شوری 52))؛ اور سورہ زخرف کا آغاز اسی تسلسل میں نازل کیا: "حم٭ وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ" (ترجمہ: حا۔ میم ٭ قسم اس روشن کتاب کی(زخرف 2 و 3))؛ اور جب سورہ زخرف کو عذاب کی وعید پر ختم کیا اور فرمایا: "فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ" (ترجمہ: تو ان سے چشم پوشی کیجئے اور کہئے بس خدا حافظ! عنقریب انہیں خود معلوم ہو گا(زخرف 89))؛ تو سورہ دخان کا آغاز وعید عذاب اور تنبیہ و خبردار سے کیا: "فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاء بِدُخَانٍ مُّبِينٍ" (ترجمہ: تو منتظر رہیے اس دن کے جب آسمان سے نمایاں طور پر ایک دھواں آئے گا (دخان 10)؛ تو اس کا اختتام ذکر قرآن سے کیا: "فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ" (ترجمہ: تو ہم نے اس کو آپ کی زبان پر بالکل آسان قرار دیا ہے، شاید وہ نصیحت قبول کریں (دخان 58))؛ تو سورہ جاثیہ کا آغاز بھی قرآن کے ذکر سے کیا اور فرمایا: "فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاء بِدُخَانٍ مُّبِينٍ" (ترجمہ: اس کتاب کا اتارا جانا ہے اللہ کی طرف سے جو عزت والا، حکمت والا ہے (جاثیہ 2)) اور اس کا اختتام ذکر توحید، اہل شرک کی مذمت اور ان کے لئے وعیدِ عذاب سے کیا اور فرمایا: "وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاء يَوْمِكُمْ هَذَا وَمَأْوَاكُمْ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ" (ترجمہ: اور کہا گیا کہ آج ہم تمہیں بھلاوے میں ڈالتے ہیں جس طرح تم نے بھلایا تھا اپنے اس دن کے سامنے آنے کو اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور تمہارے کوئی مددگار نہیں ہیں (جاثیہ 34))؛ اور سورہ احقاف کا آغاز بھی ابتداء میں توحید اور پھر گنہگاروں کے لئے وعدہ عذاب سے شروع کیا۔

بیرونی ربط

حوالہ جات

  1. رجوع کریں: زركشى، مقدمتان فى علوم القرآن، ص9، 15؛ ج1، ص193؛ سيوطى، الاتقان في علوم القرآن، 1408 ہجری قمری، ص118ـ119؛ قس وہی ماخذ، 1363ہجری شمسی، ج1، ص41۔
  2. رجوع کریں: سيوطى، الاتقان 1408، ص118۔
  3. رجوع کریں: طبرسى، مجمع البیان، ج8، ص797؛ قرطبى، تفسیر، ج15، ص288۔
  4. رجوع کریں: جوهرى؛ زَبيدى؛ شرتونى، ذيل "حم"۔
  5. رجوع کریں: طبرسى، ذيل سوره فصلت: 1؛ سيوطى، 1408، ص118ـ119۔
  6. ط 1363ہجری شمسی، ج1، ص219۔
  7. رجوع کریں اسی مضمون کی اگلی سطور کی طرف۔
  8. 1408، وہیں۔
  9. رجوع کریں: ابن قتيبه، ص36؛ ميبدى، ج8، ص447ـ448؛ ابوالفتوح رازى؛ قرطبى، ذيل غافر: 1۔
  10. سيوطى، 1363ش، ج3، ص33۔
  11. طبرسى، ذيل سوره غافر: 1؛ ابوالفتوح رازى؛ قرطبى، ذیل سورہ غافر۔
  12. طبرسى؛ قرطبى، ذیل "حم"۔
  13. سيوطى، 1363ہجری شمسی، ج3، ص26۔
  14. ابن بابويه، ص22؛ طباطبائى، المیزان، ذيل سوره شورى: 1۔
  15. میبدی ج8، ص456.
  16. میبدی، ج9، ص59.
  17. ج9، ص153.
  18. میبدی، ج9، ص14ـ15، 126؛ ابوالفتوح رازى، ذيل شورى: 1۔
  19. بلیشر، ص149، پانويس 201۔
  20. طبرسى، ج8، ص797ـ798؛ ابوالفتوح رازى، ج17، ص1ـ2؛ سيوطى، 1421، ج7، ص232ـ233؛ مجلسى، ج89، ص301ـ302؛ آقانجفى، ص113.


مآخذ