سورہ جن

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
نوح سورۂ جن مزمل
سوره جن.jpg
ترتیب کتابت: 72
پارہ : 29
نزول
ترتیب نزول: 40
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 28
الفاظ: 286
حروف: 1109

سورہ جن قرآن مجید کی 72ویں اور مکی سورتوں میں سے ہے جو 29ویں پارے میں واقع ہے۔ اس سورت کی پہلی آیت میں لفظ جن اور اس سورت میں جنّات سے متعلق گفتگو ہونے کی بنا پر اس سورت کا نام "سورہ جن" رکھا گیا ہے۔ جنّات سے متعلق لوگوں کے بغض خرافات کا ذکر کرتے ہونے ان کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ اس سورت کی بعض آیات کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کی دعوت جنّات اور انسانوں دونوں کو شامل کرتی ہے۔ آیت نمبر 18، 26 اور 27 اس سورت کی مشہور آیات میں سے ہیں، آیت نمبر 18 میں مساجد جبکہ آیت نمبر 26 اور 27 میں انبیاء کی عصمت کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے۔

اس سورت کی فضیلت کے بارے میں آیا ہے کہ جو کوئی سورہ جنّ کی تلاوت کرے، خدا پیغمبر اسلامؐ کی تصدیق یا تکذیب کرنے والے تمام جنّات اور شیاطین کی تعداد کے برابر غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا کرے گا۔

اجمالی تعارف

نام‌

تفصیلی مضمون: جن

اس سورت کی پہلی آیت میں لفظ جن اور اس سورت میں جنّات سے متعلق گفتگو ہونے کی بنا پر اس سورت کا نام "سورہ جن" رکھا گیا ہے۔[1] چونکہ اس سورت کا آغاز لفظ "قل اوحی" کے ذریعے ہوتا ہے اس بنا پر بعض اسے اسی نام سے بھی یاد کرتے ہیں۔[2]

جنّات کو اسرارآمیز موجودات قرار دیئے جاتے ہیں جو انسانوں کی طرح شعور، اختیار اور وظیفہ رکھتے ہیں اور یہ فطری طور پر انسانوں کے نظروں سے اوجھل اور عام حالات میں قابل درک نہیں ہیں۔[3] بعض آیات اور روایات کے مطابق جنّات آگ یا آگ سے مل کر خلق ہوئے ہیں اور انسانوں کی طرح یہ بھی مکلف ہوتے ہیں اور ان کی خقلت کا مقصد بھی انسانوں کی طرح خدا کی عبادت اور بندگی ہے۔ قیامت کے دن انہیں بھی مبعوث کیئے جائیں گے اس بنا پر ان میں بھی مطیع یا نافرمان، مؤمن یا مشرک ہو سکتے ہیں۔[4]

ترتیب اور محل نزول

سورہ جن مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے 40ویں جبکہ مُصحَف کی موجودہ ترتیب کے اعتبار سے 72ویں سورہ ہے جو قرآن کے 29ویں پارے میں واقع ہے۔[5]

آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ جن 28 آیات، 286 کلمات اور 1109 حروف پر مشتمل ہے اور حجم کے اعتبار سے اس کا شمار سور مفصلات میں ہوتا ہے اور نسبتا چھوٹی سورتوں میں سے ہے۔[6] سورہ جن سور مقولات یعنی لفظ "قُل‌" سے شروع ہونے والی سورتوں میں پہلی سورت ہے۔ ااس سورت کو ممتحنات میں بھی شمار کیا جاتا ہے؛ [7] کیونکہ سورہ ممتحنہ کے مضامین سے مشابهت رکھتی ہے۔[8] [نوٹ 1]

مفاہیم

  • اس سورت کے مضامین کا پہلا حصہ جنات کی ایک جماعت کی داستان پر مشتمل ہے جو قرآن کی تلاوت سن کر اس کی فصاحت و بلاغت سے حیرت زدہ ہوتی ہیں اور قرآن کے محیر العقول اور راہنما ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے پیغمبر اکرمؐ کی نبوت اور معاد پر ایمان لاتے ہیں اور قرآن کے مقابلے میں خضوع اور خشوع کا اظہار کرتے ہیں۔[9]
  • اس سورت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جنّات میں بھی انسانوں کی طرح کچھ افراد مؤمن و صالح اور بعض دوسرے کافر اور فساد پھیلانے والے ہوتے ہیں۔
  • اس سورت میں جنّات سے متعلق بعض خرافات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا جواب دیا بھی دیا گیا ہے اور اس نکتے کی یادآوری کی گئی ہے کہ رسول اللہ(ص) کی دعوت جنوں اور انسانوں کے لئے عمومیت رکھتی ہے اور دونوں کو شامل کرتی ہے۔[10]
  • اس سورت کے دوسرے حصے میں توحید اور معاد کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے اور اس سورت کے آخری حصے میں علم غیب کے بارے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ خدا کے ارادے کے بغیر کوئی بھی عالم غیب سے باخبر نہیں ہو سکتے ہیں۔[11]
سورہ جن کے مضامین[12]
 
 
جن اور انس کی سعادت اللہ پر ایمان میں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا گفتار؛ آیہ ۱۶-۲۸
مشرکوں کو توحید اور پیغمبر کی اطاعت کی دعوت
 
پہلا گفتار؛ آیہ ۱-۱۵
مومن جنات کی فلاح
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱۶-۱۸
ایمان کے فوائد کی یاد دہانی
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱-۲
جنات کا پیغمبر اکرم پر ایمان لے آنا
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۱۹-۲۸
:پیغمبر پر ایمان نہ لانے کے لیے مشرکوں کے بہانے
پیغمبر کا ہدف لوگوں کو اپنی طرف بلانا؛
ہماری طاقت اور افراد زیادہ ہیں؛
شاید پیغمبر نے اللہ کی باتوں میں تحریف کیا ہو۔
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۳-۱۲*
مومن جنات کا انحرافی عقیدوں سے توبہ
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۱۳-۱۵
مومن جنات کا اجر


شأن نزول

مفسرین‌ کے مطابق جنّات کی ایک جماعت کی طرف سے پیغمبر اکرمؐ کی تلاوت سننے کا واقعہ جس کی طرف سوره احقاف (آیات ۲۹-۳۲) میں اشارہ کیا گیا ہے، سورہ جن کی نزول کا سبب بنا ہے۔[13] سورہ جن کی شأن نزول کے بارے میں درج ذیل بعض احتمالات بھی پائے جاتے ہیں:

  • تفسیر علی بن ابراهیم قمی میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کیلئے مکہ سے طائف بازار عکاظ تشریف لے گئے لیکن کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ واپسی پر وای جن نامی جگہ پر آپؐ قرآن کی تلاوت میں مشغول ہوئے۔ اس موقع پر جنوں کی ایک جماعت نے آپ کی تلاوت کی آواز سن کر آپ پر ایمان لے آئے پھر اسلام کی تبلیغ کے لئے اپنی قوم کی طرف چلے گئے۔[14]
  • ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ صبح کی نماز میں قرآن کی تلاوت میں مشغول تھے جسے جنّات کی ایک جماعت نے سنی جو جتّات تک پہنچنے والی آسمانی خبروں کے منقطع ہونے کی علت کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے، جب انہوں نے پیغمبر اکرمؐ کی تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم تک آسمانی خبروں کی ترسیل کے منقطع ہونے کی علت یہی ہے اس کے بعد وہ اپنی قوم کی طرف پلٹ گئے اور انہیں اسلام کی دعوت دینے لگے۔[15]
  • عبداللہ بن مسعود سے بھی نقل ہوا ہے کہ ایک رات پیغمبر اکرمؐ کو مکہ میں نہیں پائے گئے جس پر لوگ پریشان ہوئے، تلاش کے بعد آپ کو کوہ حراء سے آتے ہوئے پائے گئے اس موقع پر آپ نے فرمایا جنّات کی طرف سے مجھے دعوت دینے کیلئے آگئے تھے اور میں قرآن پڑھنے ان کے یہاں گیا ہوا تھا۔[16]

آیات مشہورہ

سورہ جن کی مشہور آیات درج ذیل ہیں:

آیت المساجد للہ (18)

وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّـهِ أَحَدًا
(ترجمہ: اور یہ کہ سجدہ کے مقامات خاص اللہ کیلئے ہیں لہذا اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔)

طبرسی تفسیر مجمع البیان میں خلیل سے نقل کرتے ہیں: یہ آیت اصل میں اس طرح تھی "و لأنّ المساجد للَّه فلا تدعوا مع اللَّه احدا سوى اللَّه؛ یعنی مساجد اور خدا کی عبادت کے لئے بنائے گئے اماکن میں خدا کے ساتھ کسی کو شریک مت بناؤ جس طرح نصارا اپنے معابد اور مشرکین خانہ کعبہ میں کیا کرتے تھے۔ ایک اور جگہے پر آپ سعید بن جبیر، زجاج اور فراء سے نقل کرتے ہیں کہ مساجد سے مراد یہاں پر انسان کے وہ اعضاء ہیں جو نماز میں سجده کرتے وقت زمین پر رکھے جاتے ہیں اس بنا پر شائستہ نہیں ہے کہ ان اعضاء کے ذریعے خدا کے علاوہ کسی اور کی پرستش کی جائے۔[17]

آیات عصمت انبیاء (26 اور 27)

تفصیلی مضمون: آیت عصمت انبیاء

عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ‌ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا؛ إِلَّا مَنِ ارْ‌تَضَىٰ مِن رَّ‌سُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَ‌صَدًا
(ترجمہ: وہ (اللہ) عالِمُ الغیب ہے وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ سوائے اپنے اس رسول کے جسے وہ اس بات کے لئے منتخب کرتا ہے تو وہ اس کے آگے پیچھے محافظ (فرشتے) لگا دیتا ہے۔)

یہ آیات علم غیب سے متعلق ایک عمومی قاعدہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں وہ یہ کہ خدا کسی کو علم غیب سے مطلع نہیں فرماتا، اس کے بعد اس قاعدے سے "برگزیدہ انبیاء" کو خارج کرتے ہیں۔[18] اسی طرح یہ آیات انبیاء کی عصمت پر بھی دلیل ہیں جو غیبی طاقت، الہی امداد اور فرشتوں کی زیر نگرانی لغزشوں، خطاؤوں، شیاطین جن و انس کے شر اور وسوسوں نیز وحی الہی کو خدشہ دار کرنے والی چیزوں سے محفوظ ہیں۔[19]

فضیلت اور خواص

اس سورت کی فضیلت کے بارے میں آیا ہے کہ جو کوئی سورہ جنّ کی تلاوت کرے، خدا پیغمبر اسلامؐ کی تصدیق یا تکذیب کرنے والے تمام جنّات اور شیاطین کی تعداد کے برابر غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا کرے گا۔[20] امام صادقؑ سے بھی نقل ہوا ہے کہ جو شخص سورہ "قل اوحى" کی زیادہ تلاوت کرے تو دنیا میں نظر بد، جادو، مكر اور جنّات کی ایذا رسانی سے محفوظ رہے گا اور آخرت میں انبیاء کے ساتھ محشور ہو گا۔[21]

احادیث میں اس سورت کے بعض خواص بیان ہوئے ہیں من جملہ ان میں خواب میں پیغمبر اکرمؐ سے ملاقات،[22] فہم و درک اور عقلمندی میں اضافہ،[23] قرضوں کی ادائیگی[24] اور جنّات کی دوری[25] وغیره شامل ہیں

متن سورہ

سوره جن
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا ﴿1﴾ يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا ﴿2﴾ وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا ﴿3﴾ وَأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى اللَّهِ شَطَطًا ﴿4﴾ وَأَنَّا ظَنَنَّا أَن لَّن تَقُولَ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ﴿5﴾ وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا ﴿6﴾ وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَمَا ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَبْعَثَ اللَّهُ أَحَدًا ﴿7﴾ وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاء فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا ﴿8﴾ وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَّصَدًا ﴿9﴾ وَأَنَّا لَا نَدْرِي أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِي الْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا ﴿10﴾ وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَلِكَ كُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا ﴿11﴾ وَأَنَّا ظَنَنَّا أَن لَّن نُّعجِزَ اللَّهَ فِي الْأَرْضِ وَلَن نُّعْجِزَهُ هَرَبًا ﴿12﴾ وَأَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدَى آمَنَّا بِهِ فَمَن يُؤْمِن بِرَبِّهِ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقًا ﴿13﴾ وَأَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا الْقَاسِطُونَ فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُوْلَئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا ﴿14﴾ وَأَمَّا الْقَاسِطُونَ فَكَانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا ﴿15﴾ وَأَلَّوِ اسْتَقَامُوا عَلَى الطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَاهُم مَّاء غَدَقًا ﴿16﴾ لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَمَن يُعْرِضْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا ﴿17﴾ وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا ﴿18﴾ وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا ﴿19﴾ قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا ﴿20﴾ قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا ﴿21﴾ قُلْ إِنِّي لَن يُجِيرَنِي مِنَ اللَّهِ أَحَدٌ وَلَنْ أَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا ﴿22﴾ إِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللَّهِ وَرِسَالَاتِهِ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ﴿23﴾ حَتَّى إِذَا رَأَوْا مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِرًا وَأَقَلُّ عَدَدًا ﴿24﴾ قُلْ إِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ مَّا تُوعَدُونَ أَمْ يَجْعَلُ لَهُ رَبِّي أَمَدًا ﴿25﴾ عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا ﴿26﴾ إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا ﴿27﴾ لِيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا ﴿28﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

(اے نبی (ص)) آپ(ص) کہئے! کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنات کے ایک گروہ نے (قرآن کو) توجہ کے ساتھ سنا پھر (جا کر اپنی قوم سے) کہا کہ ہم نے بڑا عجیب قرآن سنا ہے۔ (1) جو بھلائی کی طرف راہنمائی کرتا ہے اس لئے ہم تو اس پر ایمان لے آئے اور اب ہم کسی کوبھی اپنے پروردگار کا شریک نہیں بنائیں گے۔ (2) اور یہ کہ ہمارے پروردگار کی شان بہت بلند ہے اس نے (اپنے لئے) نہ کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ اولاد۔ (3) اور یہ کہ ہمارے بےوقوف لوگ خدا کے بارے میں خلافِ حق (ناروا) باتیں کرتے رہتے ہیں۔ (4) اور یہ کہ ہمارا خیال تھا کہ انسان اور جن خدا کے بارے میں ہرگز جھوٹی بات نہیں کہیں گے۔ (5) اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنات میں سے کچھ لوگوں کی پناہ لیا کرتے تھے۔ (6) اور یہ کہ انہوں (انسانوں) نے بھی تمہاری طرح یہ خیال کیا کہ اللہ کسی کو (دوبارہ زندہ کر کے) نہیں اٹھائے گا (یا کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا)۔ (7) اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے پایا کہ وہ سخت پہریداروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا ہے۔ (8) اور یہ کہ ہم (پہلے کچھ) سن گن لینے کیلئے آسمان کے بعض خاص مقامات پر بیٹھا کرتے تھے مگر اب جو (جن) سننے کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایک شہاب کو اپنی گھات میں پاتا ہے۔ (9) اور یہ کہ ہم نہیں سمجھتے کہ آیا زمین والوں کیلئے کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے پروردگار نے ان کے ساتھ بھلائی کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ (10) اور یہ کہ ہم میں سے کچھ نیک ہیں اور کچھ اور طرح اور ہم مختلف الرّائے لوگ تھے۔ (11) اور یہ کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے اور نہ ہی بھاگ کر اسے بےبس کر سکتے ہیں۔ (12) اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت کی بات سنی تو اس پر ایمان لے آئے پس جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے گا تو اسے نہ کسی کمی (نقصان) کا خوف ہوگا اور نہ زیادتی کا۔ (13) اور یہ کہ ہم میں سے بعض مسلم (فرمانبردار) ہیں اور کچھ راہِ راست سے منحرف (نافرمان) ہیں پس جنہوں نے اسلام (فرمانبرداری) کی راہ اختیار کی تو انہوں نے بھلائی کا راستہ ڈھونڈھ لیا۔ (14) اور جو راہِ راست سے منحرف ہوں گے وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ (15) اور یہ کہ اگر یہ لوگ راہِ راست پر ثابت قدم رہتے تو ہم انہیں خوب سیراب کرتے۔ (16) تاکہ اس نعمت سے ان کی آزمائش کریں اور جو شخص اپنے پروردگار کی یاد سے منہ موڑے گا خدا اسے ایسے سخت عذاب میں داخل کرے گا جو بڑھتا ہی جائے گا۔ (17) اور یہ کہ سجدہ کے مقامات خاص اللہ کیلئے ہیں لہذا اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔ (18) اور یہ کہ جب بھی اللہ کا خاص بندہ (رسول (ص)) اس کو پکارنے کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو (ایسا معلوم ہوتاہے کہ) لوگ اس پر ٹوٹ پڑیں گے۔ (19) آپ(ص) کہئے! کہ میں تو صرف اپنے پروردگار کو پکارتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک قرار نہیں دیتا۔ (20) کہیے! میں تمہارے لئے نہ کسی نقصان اور برائی کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا۔ (21) آپ کہیے! کہ مجھے اللہ سے کوئی پناہ نہیں دے سکتا اور میں اس کے سوا اور کوئی جائے پناہ نہیں پاتا۔ (22) (ہاں البتہ) میرا کام صرف یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے تبلیغ کروں اور اس کے پیغامات (لوگوں تک) پہنچاؤں اور جو خدا اور اس کے رسول(ع) کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لئے دوزخ کی آگ ہے جس میں (ایسے لوگ) ہمیشہ رہیں گے۔ (23) (یہ لوگ اپنی کجروی سے باز نہیں آئیں گے) یہاں تک کہ جب وہ وہ چیز (عذاب) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ وعید کیا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ مددگار اور تعداد کی حیثیت سے کون زیادہ کمزور ہے۔ (24) آپ(ص) کہہ دیجیے! کہ میں نہیں جانتا کہ جس چیز (عذاب) کا تم لوگوں سے وعدہ وعید کیا جارہا ہے کہ آیا وہ قریب ہے یا میرا پروردگار اس کیلئے کوئی طویل مدت مقرر کرتا ہے۔ (25) وہ (اللہ) عالِمُ الغیب ہے وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ (26) سوائے اپنے اس رسول کے جسے وہ اس بات کے لئے منتخب کرتا ہے تو وہ اس کے آگے پیچھے محافظ (فرشتے) لگا دیتا ہے۔ (27) تاکہ وہ معلوم کرے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے اور وہ ان کے حالات کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور اس نے ہر چیز کو گن رکھا ہے۔ (28)

پچھلی سورت: سورہ نوح سورہ جن اگلی سورت:سورہ مزمل

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. صفوی، «سورہ جن»، ص۷۱۷۔
  2. ابن عاشور، تفسیرالتحریر و التنویر، ج۲۹، ص‌۲۱۶۔
  3. کوشا، «جن»، ص۵۹۵۔
  4. کوشا، «جن»، ص۵۹۵۔
  5. خرمشاہی، «سورہ جن»، ص۱۲۵۹۔
  6. خرمشاہی، «سورہ جن»، ص۱۲۵۹۔
  7. رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰و۵۹۶۔
  8. فرہنگ‌نامہ علوم قرآن، ج۱، ص۲۶۱۲۔
  9. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۵، ص۹۷۔
  10. جن کے بارے میں تفصیل جاننے کے لئے رجوع کریں: مقالہ جن در کتاب قرآن پژوہی، نوشتہ بہاءالدین خرمشاہی، ص590؛ دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج2، ص1259۔
  11. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۵، ص۹۷۔
  12. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  13. سیوطی، الدّر المنثور، ۱۴۰۴ق، ج۶، ص۲۷۰.
  14. قمی، تفسیر القمی، ۱۳۶۳ش، ج۲، ص۲۹۹.
  15. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج۲۵، ص۱۰۱.
  16. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۵۵۴.
  17. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۵۶۰.
  18. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۵، ص۱۴۰-۱۴۱.
  19. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۲۰، ص۵۴.
  20. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۱۴۰.
  21. صدوق، ثواب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ص۱۲۰.
  22. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳‌ق، ج۵۳، ص۳۳.
  23. کفعمی، مصباح، ۱۴۲۳ق، ص۴۵۹.
  24. کفعمی، مصباح، ۱۴۲۳ق، ص۴۵۹.
  25. بحرانی، البرهان، ۱۴۱۵ق، ج۵، ص۵۰۵.
  1. قرآن کی 16 سورتوں کو ممتحنات کہا جاتا ہے جنہیں سیوطی نے اسی نام سے ذکر کئے ہیں۔رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۵۹۶ ان سورتوں میں: فتح، حشر، سجدہ، طلاق، قلم، حجرات، تبارک، تغابن، منافقون، جمعہ، صف، جن، نوح، مجادلہ، ممتحنہ اور تحریم شامل ہیں (رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰۔)

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • ابن عاشور، محمدطاہر، تفسیر التحریر و التنویر، معروف بہ تفسیر ابن عاشور، بیروت، موسسۃ التاريخ العربی، ۱۴۲۰ق۔
  • بحرانی، سید ہاشم، البرہان، تہران، بنیاد بعثت، ۱۴۱۵ق۔
  • خرمشاہی، بہاء الدین، «جن»، در دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • خرمشاہی، قوام الدین، «سورہ جن»، در دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • رامیار، محمود، تاریخ قرآن، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۶۲ش۔
  • صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، تحقیق: صادق حسن زادہ، تہران، ارمغان طوبی، ۱۳۸۲ش۔
  • صفوی، سلمان، «سورہ لقمان»، در دانشنامہ معاصر قرآن کریم، قم، انتشارات سلمان آزادہ، ۱۳۹۶ش۔
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۰ق۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ محمدجواد بلاغی‏، تہران، ناصر خسرو، ۱۳۷۲ش۔
  • عبدالباقی، محمد فؤاد، المعجم المفہرس لالفاظ القرآن الکریم، قاہرہ، ۱۳۶۴ش، چاپ افست تہران ۱۳۹۷ش۔
  • فرہنگ‌نامہ علوم قرآن، قم، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم۔
  • قرآن کریم، ترجمہ محمدمہدی فولادوند، تہران، دارالقرآن الکریم، ۱۴۱۸ق/۱۳۷۶ش۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، محقق، مصحح، موسوی جزائری، سید طیب،‏ قم، دار الکتاب، ۱۴۰۴ق۔
  • کفعمی، ابراہیم بن علی، المصباح للکفعمی، ،قم، محبین، ۱۴۲۳ق۔
  • کوشا، محمدعلی، «جن»، در دانشنامہ معاصر قرآن کریم، قم، انتشارات سلمان آزادہ، ۱۳۹۶ش۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، دار احیا التراث العربی، ۱۴۰۳ق۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، ۱۳۷۱ش۔

بیرونی روابط