سورہ فیل

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ہمزہ سورۂ فیل قریش
سوره فیل.jpg
ترتیب کتابت: 105
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 19
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 5
الفاظ: 23
حروف: 97

سوره فیل 105ویں سورت ہے اور مکی سورتوں میں اس کا شمار ہوتا ہے اور قرآن مجید کے 30ویں پارے میں واقع ہے۔ اس سورت کو اس لئے یہ نام دیا گیا ہے کہ اس میں اصحاب فیل کا واقعہ بیان ہوا ہے؛ وہ لوگ جو کعبہ کو مسمار کرنے کی غرض سے مکہ کی طرف آئے تھے اور اللہ تعالی کی طرف سے ابابیل نام کے پرندے ان پر مسلط ہوئے اور ان کے سروں پر کنکر مار کر ہلاک کردیا۔ بعض مراجع تقلید کے فتوے کے مطابق اگر کوئی نماز یومیہ میں سورہ حمد کے بعد سورہ فیل پڑھنا چاہے تو احتیاط کی بنا پر سورہ قریش بھی ساتھ پڑھے؛ کیونکہ یہ دونوں سورتیں ایک سورت کے حکم میں ہیں۔ سورہ فیل کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں امام صادقؑ سے منقول ہے کہ واجب نمازوں میں پڑھے تو قیامت کے دن اس دنیا کی تمام موجوات گواہی دینگی کہ پڑھنے والا نمازیوں میں سے تھا؛ اور اللہ تعالی ان کی گواہی قبول کرتے ہوئے حکم دے گا کہ اسے بہشت لے جایا جائے۔

تعارف

  • نام

اس سورت کو اس لئے سورہ فیل کا نام دیا گیا ہے کہ اس میں اصحاب فیل کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ بسا اوقات اس کی ابتدائی عبارت کی وجہ سے اسے سورہ «الم تر» کا نام دیا جاتا ہے۔[1]

  • ترتیب اور محل نزول

سوره فیل مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہونے والی 19ویں جبکہ قرآن مجید کے موجودہ مصحف کے مطابق 105ویں سورت ہے[2] اور قرآن مجید کے 30ویں پارے میں واقع ہے۔

  • آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ فیل میں 5 آیات، 23 کلمات اور 97 حروف موجود ہیں۔ اس کا شمار قرآن کی چھوٹی سورتوں میں ہوتا ہے اور مفصلات سورتوں (چھوٹی آیات والی) میں سے ہے۔ نیز یہ سورت ان سورتوں میں سے ایک ہے جس کی تمام آیات ایک ہی دفعے میں پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئی ہیں۔[3]

مضمون

اس سورت میں اللہ تعالی اصحاب فیل کے واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کعبہ کو مسمار کرنے کی غرض سے اپنے وطن سے نکلے تھے اور اللہ تعالی نے ان پر ابابیل پرندے مسلط کر کے انہیں ہلاک کردیا۔ پرندوں نے ان کے سروں پر کنکریاں پھینک کر انہیں اس طرح سے ہلاک کردیا کہ کھائے ہوئے بھوسے کی طرح ہوگئے تھے۔[4]

سورہ فیل کے مضامین[5]
 
 
اصحاب فیل کی شکست، دشمن کو نابود کرنے میں قدرت الہی کی نشانی
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ۳-۵
اصحابِ فیل نابود کرنے میں اللہ کا طریقہ
 
پہلا مطلب؛ آیہ۱-۲
اللہ کے قدرت کے سامنے اصحاب فیل کی عاجزی
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا نکتہ؛ آیہ۳
چھوٹے پرندوں سے استفادہ
 
پہلا نکتہ؛ آیہ ۱
اصحاب فیل کی فوجی طاقت کو ناکام بنانا
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا نکتہ؛ آیہ۴
کنکریوں سے استفادہ
 
دوسرا نکتہ؛ آیہ ۲
اصحاب فیل کے نقشے اور تدبیریں ناکام ہونا
 
 
 
نتیجہ؛ آیہ۵
قدرت الہی سے اصحاب فیل کا شکست کھانا


شأن نزول

اس سورت کے شان نزول کے بارے میں امام سجادؑ سے منقول ہے کہ: ابوطالب نے حضرت محمدؐ سے پوچھا: کیا آپ تمام لوگوں کے لیے مبعوث ہوئے ہیں یا صرف اپنی قوم کے لیے مبعوث ہوئے ہو؟ آنجضرتؐ نے جواب دیا: «میں تمام انسانیت کے لیے مبعوث ہوا ہوں، سفید ہو یا سیاہ، عرب ہو یا عجم، پہاڑوں پر ہوں یا سمندر میں، ان سب کو میں اس آئین کی دعوت دیتا ہوں اور فارس اور روم کو دعوت دیتا ہوں»۔ جب پیغمبر اکرمؐ کی یہ بات قریش تک پہنچی تو وہ تعجب کرنے لگے۔ قریش نے ابوطالب سے کہا: تم اپنے بھتیجے کی باتوں کو سنتے ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟ خدا کی قسم اگر فارس اور روم کے لوگ ان باتوں کو سنیں تو وہ ہمیں اپنی سرزمین سے لے بھاگیں گے اور کعبہ کے ہر پتھر کو الگ الگ کردیں گے۔ ان کی یہ بات کہ فارس اور روم کے لوگ خانہ کعبہ کو گرادیں گے، اس وجہ سے سورہ فیل نازل ہوئی۔[6]

نماز میں سورہ فیل

بعض مراجع کے فتوے کے مطابق اگر کوئی یومیہ واجب نمازوں میں سورہ فیل پڑھنا چاہے تو احتیاط کی بناپر اس کے ساتھ سورہ قریش بھی پڑھنا ہوگا؛ کیونکہ یہ دونوں سورتیں ایک سورت کے حکم میں ہیں۔[7]

فضائل اور خواص

سورہ فیل کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں امام صادقؑ سے منقول ہے کہ واجب نمازوں میں پڑھے تو قیامت کے دن اس دنیا کی تمام موجوات گواہی دینگی کہ پڑھنے والا نمازیوں میں سے تھا اور قیامت کے دن ایک منادی ندا دے گا کہ میرے بندے کے بارے میں تم لوگوں نے صحیح گواہی دی۔ اور اس کے بارے میں تمہاری گواہی قبول کرتا ہوں۔ اسے بہشت لے جاؤ اور وہ ان لوگوں میں سے ہے جس کے کام اور خود اس کو اللہ تعالی پسند کرتا ہے۔[8] بعض روایات میں سورہ فیل کی تلاوت کے لئے بعض خواص ذکر ہوئے ہیں؛ جیسے دشمن کی شر سے محفوظ رہنا،[9]غرق ہونے سے بچنا اور عمر کے آخر تک پانی میں موت آنے سے بچنا۔[حوالہ درکار]


متن سورہ

سوره فیل
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ ﴿1﴾ أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ ﴿2﴾ وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ ﴿3﴾ تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ ﴿4﴾ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ ﴿5﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا (سلوک) کیا؟ (1) کیا اس نے ان کی تدبیر و ترکیب کو بےکار نہیں کر دیا؟ (2) ان پر (ہر سمت سے) ابابیل نامی پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے۔ (3) جو ان پر سنگِ گل (پکی ہوئی مٹی کے پتھر) مارتے تھے۔ (4) آخرکار اللہ نے انہیں (مویشیوں کے) کھائے ہوئے بھو سے کی طرح کر دیا۔ (5)


پچھلی سورت: سورہ ہمزہ سورہ فیل اگلی سورت:سورہ قریش

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس



حوالہ جات

  1. دانش نامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۸.
  2. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۶.
  3. دانش نامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۸.
  4. طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج۲۰، ص۳۶۱.
  5. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  6. فتال نیشابوری، روضۃ الواعظین و بصیرۃ المتعظین، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص ۵۴–۵۵.
  7. بنی‌هاشمی خمینی، توضیح المسائل مراجع، ۱۳۹۲ش. ج۱، ص۶۹۳، آیت‌الله خویی، سیستانی، صافی و وحید خراسانی کی نظر کے مطابق.
  8. شیخ صدوق، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ص۱۲۶.
  9. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۱۴ق، ج۶، ص۵۵.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • بنی‌ہاشمی خمینی، سیدمحمدحسین، توضیح المسائل مراجع: مطابق با فتاوای شانزدہ نفر از مراجع معظم تقلید، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ اول، ۱۳۹۲ہجری شمسی۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعۃ، قم، آل البیت، ۱۴۱۴ھ.
  • دانش نامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج2، بہ کوشش بہاء الدین خرم شاہی، تہران: دوستان-ناہید، 1377ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، تحقیق: صادق حسن زادہ، تہران، ارمغان طوبی، ۱۳۸۲ہجری شمسی۔
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، چاپ دوم، ۱۹۷۴ء.
  • فتال نیشابوری، محمد بن احمد، روضۃ الواعظین و بصیرۃ المتعظین، قم، انتشارات رضی، چاپ اول، ۱۳۷۵ہجری شمسی۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چاپ اول، ۱۳۷۱ہجری شمسی۔

بیرونی روابط