سورہ طہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مریم سورۂ طہ انبیاء
سوره طه.jpg
ترتیب کتابت: 20
پارہ : 16
نزول
ترتیب نزول: 44
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 135
الفاظ: 1353
حروف: 5399

سوره طہ [سُوْرَةُ طٰهٰ] مدنی سورتوں میں سے ہے حروف مقطعہ [=طا ہاء] سے شروع ہوتی ہے چنانچہ اس کو اس نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ حجم و کمیت کے لحاظ سے مئون کے زمرے میں آتی ہے اور [[حروف مقطعہ سے شروع ہونے والی سورتوں میں گیارہویں نمبر پر ہے۔

سورہ طہ

یہ سورہ حروف مقطعہ [= طہ: ط ہاء] سے شروع ہوتی ہے، اس بنا پر اس کو سورہ طہ کہا جاتا ہے۔ اس کا دوسرا نام کلیم ہے؛ کیونکہ حضرت موسی(ع) کے القاب میں سے ایک "کلیم اللہ" (اللہ کے ساتھ ہم کلام ہونے والا) ہے اور اس پیغمبر اور اللہ کے ساتھ ان براہ راست تکلم کی داستان اور ان کے اس لقب سے ملقب ہونے کی کیفیت کا بیان اسی سورت میں آیا ہے۔ مصحف کی ترتیب کے لحاظ سے قرآن کی بیسویں اور نزول کے لحاظ سے پینتالیسویں سورت ہے، مکی ہے، اس کی آیات کی تعداد کوفی قراء کے مطابق 135، حجازی قراء کے مطابق 134، بصری قاریوں کے مطابق 130 اور شامی قراء کے مطابق 140 ہے تاہم اول الذکر قول معمول اور مشہور ہے۔ سورہ طہ کے الفاظ کی تعداد 1353 اور حروف کی تعداد 5399 ہے۔ حجم و کمیت کے لحاظ سے اوسط درجے کی سورتوں میں سے ہے اور مئون کے زمرے میں آتی ہے اور پورے نصف پارے کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یہ سورت حروف مقطعہ سے شروع ہونے والی سورتوں میں گیارہویں نمبر پر ہے۔

مفاہیم

اس سورت کا خطاب حضرت محمد(ص) سے ہے اور آپ(ص) کے فرائض کا تعین کرتی ہے۔ خطاب ہوتا ہے کہ "آپ(ص) پر کوئی رنج و مشقت نہیں ہے اور صرف لوگوں کو دعوت دیں اور انجام کار کو اللہ کے سپرد کریں کیونکہ سب کی بازگشت خدا کی طرف ہے اور لوگوں کی تکذیب و تردید اور ان کے کفر و انکار سے آپ(ص) کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا"۔ خداوند متعال اس سورت میں تمام امور و معاملات حتی کہ دعا اور عبادت میں اعتدال اور میانہ روی کا حکم دیا گیا ہے۔

اس سورت کے بعض دیگر مضامین و مفاہیم حسب ذیل ہیں:

سورہ طہ کے مضامین[2]
 
 
 
 
 
 
 
 
انسانوں کو تذکر دینے کے قرآنی طریقے
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
خاتمہ؛ آیہ ۱۳۰-۱۳۵
قرآن کے مخالفوں کے مقابلے میں پیغمبر کی ذمہ داری
 
تیسرا طریقہ؛ آیہ ۱۱۵-۱۲۹
اللہ کی یاد سے غفلت اور روگردانی کے آثار کی یادآوری
 
دوسرا طریقہ؛ آیہ ۱۰۵-۱۱۴
قیامت میں اعمال کے انجام کی نسبت انتباہ
 
پہلا طریقہ؛ آیہ ۹-۱۰۴
حضرت موسی اور دیگر انبیا کے واقعات
 
مقدمہ؛ آیہ ۱-۸
قرآن کے نزول کا ہدف تذکر دینا ہے
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلی ذمہ داری؛ آیہ ۱۳۰
مخالفتوں پر صبر کرنا
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱۱۵-۱۲۳
حضرت آدم اور حوا کا اللہ کے فرمان کی طرف بےتوجہی کے آثار
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱۰۵-۱۰۷
قیامت بپا ہوتے ہوئے پہاڑ ریزہ ہونا
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۹-۴۱
حضرت موسی کی بعثت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسری ذمہ داری؛ آیہ ۱۳۱
مخالفوں کی ظاہری طاقت کی نسبت بے توجہی
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۱۲۴-۱۲۹
انسانی زندگی میں اللہ کی یاد سے روگردانی کے نتائج
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۱۰۸
قیامت کے دن اللہ کے فرمان کے سامنے سب تسلیم ہونا
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۴۲-۵۶
حضرت موسی کی فرعون کو توحید کی دعوت دینے کی ذمہ داری
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسری ذمہ داری؛ آیہ ۱۳۲
نماز اور عبادت کی تشویق
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۱۰۹-۱۱۲
قیامت کے دن انسان کا انجام
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۵۷-۷۶
فرعون کے ساحروں کا ایمان لانا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھی ذمہ داری؛ آیہ ۱۳۳-۱۳۵
اللہ کے حتمی عذاب کی یادآوری
 
 
 
 
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۱۱۳-۱۱۴
قرآن میں معادی کی حقیقت بیان کرنے کا طریقہ
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۷۷-۹۸
بنی اسرائیل کی بچھڑا پرستی
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچواں مطلب؛ آیہ ۹۹-۱۰۴
انبیا کے واقعات بیان کرنے کا ہدف، تذکر ہے
 
 
 
 

متن اور ترجمہ

سورہ طہ
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

طه ﴿1﴾ مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى ﴿2﴾ إِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَن يَخْشَى ﴿3﴾ تَنزِيلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْأَرْضَ وَالسَّمَاوَاتِ الْعُلَى ﴿4﴾ الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى ﴿5﴾ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرَى ﴿6﴾ وَإِن تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى ﴿7﴾ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْأَسْمَاء الْحُسْنَى ﴿8﴾ وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى ﴿9﴾ إِذْ رَأَى نَارًا فَقَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي آنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّي آتِيكُم مِّنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى ﴿10﴾ فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِي يَا مُوسَى ﴿11﴾ إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ﴿12﴾ وَأَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَى ﴿13﴾ إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي ﴿14﴾ إِنَّ السَّاعَةَ ءاَتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى ﴿15﴾ فَلاَ يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لاَ يُؤْمِنُ بِهَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَتَرْدَى ﴿16﴾ وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَا مُوسَى ﴿17﴾ قَالَ هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَى غَنَمِي وَلِيَ فِيهَا مَآرِبُ أُخْرَى ﴿18﴾ قَالَ أَلْقِهَا يَا مُوسَى ﴿19﴾ فَأَلْقَاهَا فَإِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسْعَى ﴿20﴾ قَالَ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ سَنُعِيدُهَا سِيرَتَهَا الْأُولَى ﴿21﴾ وَاضْمُمْ يَدَكَ إِلَى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاء مِنْ غَيْرِ سُوءٍ آيَةً أُخْرَى ﴿22﴾ لِنُرِيَكَ مِنْ آيَاتِنَا الْكُبْرَى ﴿23﴾ اذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى ﴿24﴾ قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ﴿25﴾ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي ﴿26﴾ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي ﴿27﴾ يَفْقَهُوا قَوْلِي ﴿28﴾ وَاجْعَل لِّي وَزِيرًا مِّنْ أَهْلِي ﴿29﴾ هَارُونَ أَخِي ﴿30﴾ اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي ﴿31﴾ وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي ﴿32﴾ كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيرًا ﴿33﴾ وَنَذْكُرَكَ كَثِيرًا ﴿34﴾ إِنَّكَ كُنتَ بِنَا بَصِيرًا ﴿35﴾ قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَى ﴿36﴾ وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّةً أُخْرَى ﴿37﴾ إِذْ أَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّكَ مَا يُوحَى ﴿38﴾ أَنِ اقْذِفِيهِ فِي التَّابُوتِ فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَأْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّي وَعَدُوٌّ لَّهُ وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّي وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي ﴿39﴾ إِذْ تَمْشِي أُخْتُكَ فَتَقُولُ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى مَن يَكْفُلُهُ فَرَجَعْنَاكَ إِلَى أُمِّكَ كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنَاكَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا فَلَبِثْتَ سِنِينَ فِي أَهْلِ مَدْيَنَ ثُمَّ جِئْتَ عَلَى قَدَرٍ يَا مُوسَى ﴿40﴾ وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِي ﴿41﴾ اذْهَبْ أَنتَ وَأَخُوكَ بِآيَاتِي وَلَا تَنِيَا فِي ذِكْرِي ﴿42﴾ اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى ﴿43﴾ فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى ﴿44﴾ قَالَا رَبَّنَا إِنَّنَا نَخَافُ أَن يَفْرُطَ عَلَيْنَا أَوْ أَن يَطْغَى ﴿45﴾ قَالَ لَا تَخَافَا إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَى ﴿46﴾ فَأْتِيَاهُ فَقُولَا إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَاكَ بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى ﴿47﴾ إِنَّا قَدْ أُوحِيَ إِلَيْنَا أَنَّ الْعَذَابَ عَلَى مَن كَذَّبَ وَتَوَلَّى ﴿48﴾ قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَى ﴿49﴾ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى ﴿50﴾ قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُونِ الْأُولَى ﴿51﴾ قَالَ عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي فِي كِتَابٍ لَّا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنسَى ﴿52﴾ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا وَسَلَكَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًا وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاء مَاء فَأَخْرَجْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّن نَّبَاتٍ شَتَّى ﴿53﴾ كُلُوا وَارْعَوْا أَنْعَامَكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّأُوْلِي النُّهَى ﴿54﴾ مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى ﴿55﴾ وَلَقَدْ أَرَيْنَاهُ آيَاتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَأَبَى ﴿56﴾ قَالَ أَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ أَرْضِنَا بِسِحْرِكَ يَا مُوسَى ﴿57﴾ فَلَنَأْتِيَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهِ فَاجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهُ نَحْنُ وَلَا أَنتَ مَكَانًا سُوًى ﴿58﴾ قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّينَةِ وَأَن يُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴿59﴾ فَتَوَلَّى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَيْدَهُ ثُمَّ أَتَى ﴿60﴾ قَالَ لَهُم مُّوسَى وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى ﴿61﴾ فَتَنَازَعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ وَأَسَرُّوا النَّجْوَى ﴿62﴾ قَالُوا إِنْ هَذَانِ لَسَاحِرَانِ يُرِيدَانِ أَن يُخْرِجَاكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِمَا وَيَذْهَبَا بِطَرِيقَتِكُمُ الْمُثْلَى ﴿63﴾ فَأَجْمِعُوا كَيْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوا صَفًّا وَقَدْ أَفْلَحَ الْيَوْمَ مَنِ اسْتَعْلَى ﴿64﴾ قَالُوا يَا مُوسَى إِمَّا أَن تُلْقِيَ وَإِمَّا أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى ﴿65﴾ قَالَ بَلْ أَلْقُوا فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى ﴿66﴾ فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَى ﴿67﴾ قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَى ﴿68﴾ وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَى ﴿69﴾ فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ هَارُونَ وَمُوسَى ﴿70﴾ قَالَ آمَنتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ فَلَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ وَلَتَعْلَمُنَّ أَيُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا وَأَبْقَى ﴿71﴾ قَالُوا لَن نُّؤْثِرَكَ عَلَى مَا جَاءنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالَّذِي فَطَرَنَا فَاقْضِ مَا أَنتَ قَاضٍ إِنَّمَا تَقْضِي هَذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ﴿72﴾ إِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا وَمَا أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ وَاللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَى ﴿73﴾ إِنَّهُ مَن يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيى ﴿74﴾ وَمَنْ يَأْتِهِ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَأُوْلَئِكَ لَهُمُ الدَّرَجَاتُ الْعُلَى ﴿75﴾ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ جَزَاء مَن تَزَكَّى ﴿76﴾ وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَى ﴿77﴾ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُودِهِ فَغَشِيَهُم مِّنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْ ﴿78﴾ وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُ وَمَا هَدَى ﴿79﴾ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ قَدْ أَنجَيْنَاكُم مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَوَاعَدْنَاكُمْ جَانِبَ الطُّورِ الْأَيْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى ﴿80﴾ كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِي وَمَن يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِي فَقَدْ هَوَى ﴿81﴾ وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِّمَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى ﴿82﴾ وَمَا أَعْجَلَكَ عَن قَوْمِكَ يَا مُوسَى ﴿83﴾ قَالَ هُمْ أُولَاء عَلَى أَثَرِي وَعَجِلْتُ إِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضَى ﴿84﴾ قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِن بَعْدِكَ وَأَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ ﴿85﴾ فَرَجَعَ مُوسَى إِلَى قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا قَالَ يَا قَوْمِ أَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا أَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ أَمْ أَرَدتُّمْ أَن يَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَخْلَفْتُم مَّوْعِدِي ﴿86﴾ قَالُوا مَا أَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَلَكِنَّا حُمِّلْنَا أَوْزَارًا مِّن زِينَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنَاهَا فَكَذَلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُّ ﴿87﴾ فَأَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَهُ خُوَارٌ فَقَالُوا هَذَا إِلَهُكُمْ وَإِلَهُ مُوسَى فَنَسِيَ ﴿88﴾ أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا وَلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ﴿89﴾ وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَارُونُ مِن قَبْلُ يَا قَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَنُ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِي ﴿90﴾ قَالُوا لَن نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عَاكِفِينَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْنَا مُوسَى ﴿91﴾ قَالَ يَا هَارُونُ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوا ﴿92﴾ أَلَّا تَتَّبِعَنِ أَفَعَصَيْتَ أَمْرِي ﴿93﴾ قَالَ يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي إِنِّي خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي ﴿94﴾ قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يَا سَامِرِيُّ ﴿95﴾ قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا بِهِ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ أَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَلِكَ سَوَّلَتْ لِي نَفْسِي ﴿96﴾ قَالَ فَاذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ فِي الْحَيَاةِ أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَ وَإِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهُ وَانظُرْ إِلَى إِلَهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا لَّنُحَرِّقَنَّهُ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُ فِي الْيَمِّ نَسْفًا ﴿97﴾ إِنَّمَا إِلَهُكُمُ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَسِعَ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ﴿98﴾ كَذَلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاء مَا قَدْ سَبَقَ وَقَدْ آتَيْنَاكَ مِن لَّدُنَّا ذِكْرًا ﴿99﴾ مَنْ أَعْرَضَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَحْمِلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وِزْرًا ﴿100﴾ خَالِدِينَ فِيهِ وَسَاء لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِمْلًا ﴿101﴾ يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ وَنَحْشُرُ الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ زُرْقًا ﴿102﴾ يَتَخَافَتُونَ بَيْنَهُمْ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا عَشْرًا ﴿103﴾ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًا ﴿104﴾ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا ﴿105﴾ فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا ﴿106﴾ لَا تَرَى فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا ﴿107﴾ يَوْمَئِذٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهُ وَخَشَعَت الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا ﴿108﴾ يَوْمَئِذٍ لَّا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلًا ﴿109﴾ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِ عِلْمًا ﴿110﴾ وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا ﴿111﴾ وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخَافُ ظُلْمًا وَلَا هَضْمًا ﴿112﴾ وَكَذَلِكَ أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا وَصَرَّفْنَا فِيهِ مِنَ الْوَعِيدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ أَوْ يُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا ﴿113﴾ فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِن قَبْلِ أَن يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهُ وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا ﴿114﴾ وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا ﴿115﴾ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى ﴿116﴾ فَقُلْنَا يَا آدَمُ إِنَّ هَذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقَى ﴿117﴾ إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعْرَى ﴿118﴾ وَأَنَّكَ لَا تَظْمَأُ فِيهَا وَلَا تَضْحَى ﴿119﴾ فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَى ﴿120﴾ فَأَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ وَعَصَى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَى ﴿121﴾ ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَى ﴿122﴾ قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى ﴿123﴾ وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى ﴿124﴾ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا ﴿125﴾ قَالَ كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنسَى ﴿126﴾ وَكَذَلِكَ نَجْزِي مَنْ أَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِن بِآيَاتِ رَبِّهِ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبْقَى ﴿127﴾ أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مَسَاكِنِهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّأُوْلِي النُّهَى ﴿128﴾ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَأَجَلٌ مُسَمًّى ﴿129﴾ فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاء اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى ﴿130﴾ وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَى ﴿131﴾ وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَّحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى ﴿132﴾ وَقَالُوا لَوْلَا يَأْتِينَا بِآيَةٍ مِّن رَّبِّهِ أَوَلَمْ تَأْتِهِم بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَى ﴿133﴾ وَلَوْ أَنَّا أَهْلَكْنَاهُم بِعَذَابٍ مِّن قَبْلِهِ لَقَالُوا رَبَّنَا لَوْلَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَنَتَّبِعَ آيَاتِكَ مِن قَبْلِ أَن نَّذِلَّ وَنَخْزَى ﴿134﴾ قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوا فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ أَصْحَابُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ وَمَنِ اهْتَدَى ﴿135﴾۔

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

طا۔ ھا۔ (1) ہم نے اس لئے آپ پر قرآن نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں۔ (2) بلکہ (اس لئے نازل کیا ہے کہ) جو (خدا سے) ڈرنے والا ہے اس کی یاددہانی ہو۔ (3) (یہ) اس ہستی کی طرف سے نازل ہوا ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ (4) وہ خدائے رحمن ہے جس کا عرش پر اقتدار قائم ہے۔ (5) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے سب اسی کا ہے۔ (6) اگر تم پکار کر بات کرو (تو تمہاری مرضی) وہ تو راز کو بلکہ اس سے بھی زیادہ مخفی بات کو جانتا ہے۔ (7) وہ الٰہ ہے اس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔ سب اچھے اچھے نام اسی کے لئے ہیں۔ (8) کیا آپ(ص) تک موسیٰ کا واقعہ پہنچا ہے؟ (9) جب انہوں نے آگ دیکھی تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم (یہیں) ٹھہرو۔ میں نے آگ دیکھی ہے شاید تمہارے لئے ایک آدھ انگارا لے آؤں یا آگ کے پاس راستہ کا کوئی پتّہ پاؤں؟ (10) تو جب اس کے پاس گئے تو انہیں آواز دی گئی کہ اے موسیٰ! (11) میں ہی تمہارا پروردگار ہوں! پس اپنی جوتیاں اتار دو (کیونکہ) تم طویٰ نامی ایک مقدس وادی میں ہو۔ (12) اور میں نے تمہیں (پیغمبری کیلئے) منتخب کیا ہے۔ پس (تمہیں) جو کچھ وحی کی جاتی ہے اسے غور سے سنو۔ (13) بےشک میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے پس میری عبادت کرو اور میری یاد کیلئے نماز قائم کرو۔ (14) یقیناً قیامت آنے والی ہے میں اسے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو اس کی سعی و کوشش کا معاوضہ مل جائے۔ (15) پس (خیال رکھنا) کہیں وہ شخص جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہش نفس کا پیرو ہے تمہیں اس کی فکر سے روک نہ دے ورنہ تم تباہ ہو جاؤگے۔ (16) اور اے موسیٰ! تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ (17) کہا وہ میرا عصا ہے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کیلئے (درختوں سے) پتے جھاڑتا ہوں اور میرے لئے اس میں اور بھی کئی فائدے ہیں۔ (18) ارشاد ہوا اے موسیٰ! اسے پھینک دو۔ (19) چنانچہ موسیٰ نے اسے پھینک دیا تو وہ ایک دم دوڑتا ہوا سانپ بن گیا۔ (20) ارشاد ہوا اسے پکڑ لو۔ اور ڈرو نہیں ہم ابھی اسے اس کی پہلی حالت کی طرف پلٹا دیں گے۔ (21) اور اپنے ہاتھ کو سمیٹ کر اپنے بازو کے نیچے (بغل میں) کر لو وہ کسی برائی و بیماری کے بغیر چمکتا ہوا نکلے گا یہ دوسری نشانی ہوگی۔ (22) تاکہ ہم آپ کو اپنی بڑی نشانیوں سے کچھ دکھائیں۔ (23) جاؤ فرعون کے پاس کہ وہ بڑا سرکش ہو گیا ہے۔ (24) موسیٰ نے کہا اے میرے پروردگار! میرا سینہ کشادہ فرما۔ (حوصلہ فراخ کر)۔ (25) اور میرے کام کو میرے لئے آسان کر۔ (26) اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ (27) تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔ (28) اور میرے خاندان میں سے میرے بھائی۔ (29) ہارون کو میرا وزیر بنا۔ (30) اس کے ذریعے سے میری کمر کو مضبوط بنا۔ (31) اسے میرے کام (رسالت) میں میرا شریک بنا۔ (32) تاکہ ہم کثرت سے تیری تسبیح کریں۔ (33) اور کثرت سے تیرا ذکر کریں۔ (34) بےشک تو ہمارے حال کو خوب دیکھ رہا ہے۔ (35) خدا نے فرمایا اے موسیٰ! تمہاری درخواست منظور کر لی گئی ہے۔ (36) اور ہم ایک مرتبہ اور بھی تم پر احسان کر چکے ہیں۔ (37) جب ہم نے تمہاری ماں کی طرف وحی بھیجی جو بھیجنا تھی (جو اب بذریعہ وحی تمہیں بتائی جا رہی ہے)۔ (38) کہ اس (موسیٰ) کو صندوق میں رکھ اور پھر صندوق کو دریا میں ڈال دے پھر دریا اسے کنارہ پر پھینک دے گا (اور) اسے وہ شخص (فرعون) اٹھائے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور اس (موسیٰ) کا بھی دشمن ہے میں نے تم پر اپنی محبت کا اثر ڈال دیا۔ (جو دیکھتا وہ پیار کرتا) اور اس لئے کہ تم میری خاص نگرانی میں پرورش پائے۔ (39) اور وہ وقت یاد کرو جب تمہاری بہن چل رہی تھی اور (فرعون کے اہل خانہ سے) کہہ رہی تھی کہ کیا میں تم لوگوں کو ایسی (دایہ) بتاؤں جو اس کی پرورش کرے؟ اور اس طرح ہم نے تمہیں تمہاری ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور رنجیدہ نہ ہو اور تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا تو ہم نے تمہیں اس غم سے نجات دی اور ہم نے تمہاری ہر طرح آزمائش کی۔ پھر تم کئی برس تک مدین کے لوگوں میں رہے اور پھر اے موسیٰ! تم اپنے معین وقت پر (یہاں) آگئے۔ (40) اور میں نے تمہیں اپنی ذات کیلئے منتخب کر لیا۔ (41) (سو اب) تم اور تمہارا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ (فرعون کے پاس) جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔ (42) تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔ (43) اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا کہ شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔ (44) ان دونوں نے کہا اے ہمارے پروردگار! ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا سرکشی کرے؟ (45) ارشاد ہوا تم ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں۔ سب کچھ سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔ (46) تم (بے دھڑک) اس کے پاس جاؤ۔ اور کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے پیغمبر ہیں۔ سو تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ روانہ کر اور ان کو تکلیف نہ پہنچا۔ ہم تیرے پاس تیرے پروردگار کی طرف سے معجزہ لے کر آئے ہیں اور سلامتی ہے اس کے لئے جو ہدایت کی پیروی کرے۔ (47) بےشک ہماری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ عذاب اس کیلئے ہے جو (آیات اللہ کو) جھٹلائے اور (اس کے احکام سے) روگردانی کرے۔ (48) (چنانچہ وہ گئے) اور فرعون نے کہا اے موسیٰ! تمہارا پروردگار کون ہے؟ (49) موسیٰ نے کہا ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو خلقت بخشی پھر راہنمائی فرمائی۔ (50) فرعون نے کہا پھر ان نسلوں کا کیا ہوگا جو پہلے گزر چکی ہیں؟ (51) موسیٰ نے کہا ان کا علم میرے پروردگار کے پاس ایک کتاب میں ہے میرا پروردگار نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ (52) وہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا ہے اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے اور آسمان سے پانی برسایا۔ تو ہم نے اس سے مختلف اقسام کے نباتات کے جوڑے پیدا کئے۔ (53) خود بھی کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو بھی چراؤ۔ بےشک اس (نظام قدرت) میں صاحبانِ عقل کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ (54) اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ تمہیں نکالیں گے۔ (55) اور ہم نے اس (فرعون) کو اپنی سب نشانیاں دکھائیں مگر اس پر بھی اس نے جھٹلایا اور انکار کیا۔ (56) اور کہا اے موسیٰ! کیا تم اس لئے ہمارے پاس آئے ہو کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہماری سرزمین سے نکال دو؟ (57) سو ہم بھی تمہارے مقابلہ میں ویسا ہی جادو لائیں گے لہٰذا تم (مقابلہ کیلئے) ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدہ گاہ مقرر کرو۔ جس کی نہ ہم خلاف ورزی کریں گے اور نہ تم۔ اور وہ وعدہ گاہ ہو بھی ہموار اور کھلے میدان میں۔ (58) موسیٰ نے کہا تمہارے لئے وعدہ کا دن جشن والا دن ہے اور یہ کہ دن چڑھے لوگ جمع کر لئے جائیں۔ (59) اس کے بعد فرعون واپس چلا گیا اور اپنے سب مکر و فریب (داؤ) جمع کئے اور پھر (مقابلہ کیلئے) آگیا۔ (60) موسیٰ نے (فرعونیوں سے) کہا افسوس ہے تم پر۔ اللہ پر جھوٹا بہتان نہ باندھو۔ ورنہ وہ کسی عذاب سے تمہارا قلع قمع کر دے گا۔ اور جو کوئی بہتان باندھتا ہے وہ ناکام و نامراد ہوتا ہے۔ (61) پھر وہ اپنے معاملہ میں باہم جھگڑنے لگے اور پوشیدہ سرگوشیاں کرنے لگے۔ (62) (آخرکار) انہوں نے کہا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں جو چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال دیں اور تمہارے اعلیٰ و مثالی طریقہ کار کو مٹا دیں۔ (63) لہٰذا تم اپنی سب تدبیریں (داؤ پیچ) جمع کرو۔ اور پرا باندھ کر (مقابلہ میں) آجاؤ۔ یقیناً فلاح وہی پائے گا جو غالب آئے گا۔ (64) ان لوگوں (جادوگروں) نے کہا اے موسیٰ تم پہلے پھینکوگے یا پہلے ہم پھینکیں؟ (65) موسیٰ علیہ السلام نے کہا: نہیں۔ بلکہ تم ہی (پہلے) پھینکو! پس اچانک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کی وجہ سے موسیٰ کو دوڑتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ (66) (یہ منظر دیکھ کر) موسیٰ نے اپنے دل میں کچھ خوف محسوس کیا۔ (67) ہم نے کہا (اے موسیٰ) ڈرو نہیں بےشک تم ہی غالب رہوگے۔ (68) اور جو تمہارے دائیں ہاتھ میں (عصا) ہے اسے پھینک دو۔ یہ ان کی سب بناوٹی چیزوں کو نگل جائے گا۔ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے وہ جادوگر کا فریب ہے اور جادوگر کہیں بھی آئے (جائے) کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ (69) چنانچہ (ایسا ہی ہوا کہ) سب جادوگر (بے ساختہ) سجدے میں گرا دیئے گئے (اور)کہنے لگے کہ ہم ہارون اور موسیٰ کے پروردگار پر ایمان لائے ہیں۔ (70) فرعون نے کہا تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں یہی تمہارا وہ بڑا (جادوگر) ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے اب میں ضرور تمہارے ہاتھ پاؤن مخالف سمت سے کٹواتا ہوں اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی دیتا ہوں پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم (دونوں) میں اور موسیٰ میں سے کس کا عذاب سخت اور دیرپا ہے؟ (71) جادوگروں نے کہا ہمارے پاس جو کھلی نشانیاں آچکی ہیں ہم ان پر اور اس ذات پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ کبھی تجھے ترجیح نہیں دیں گے بےشک تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے وہ تو (زیادہ سے زیادہ) اسی دنیاوی زندگی (کے ختم کرنے) کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ (72) ہم تو اپنے پروردگار پر ایمان لا چکے ہیں تاکہ وہ ہماری خطاؤں کو اور اس جادوگری کو جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا معاف کر دے۔ ہمارے لئے اللہ ہی بہتر ہے اور وہی زیادہ دیرپا ہے۔ (73) بےشک جو کوئی مجرم بن کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوگا اس کیلئے وہ جہنم ہے جس میں وہ نہ مرے گا اور نہ جیئے گا۔ (74) اور جو کوئی مؤمن بن کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہوگا۔ جب کہ اس نے نیک عمل بھی کئے ہوں گے ان کے لئے بڑے بلند درجے ہیں۔ (75) (اور) ہمیشہ رہنے والے باغات جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اس کی جزاء ہے جو پاکباز رہا۔ (76) اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں (بنی اسرائیل) کو لے کر نکل جاؤ پھر (عصا مار کر) ان کیلئے سمندر سے خشک راستہ بناؤ۔ نہ تمہیں پیچھے سے ان کے پکڑے جانے کا خطرہ ہو اور نہ ہی (غرق وغیرہ کا) کوئی اندیشہ۔ (77) پھر فرعون نے اپنی فوجوں کے ساتھ ان کا پیچھا کیا تو انہیں سمندر نے ڈھانپ لیا جیساکہ ڈھانپنے کا حق تھا۔ (78) اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا کوئی راہنمائی نہیں کی۔ (79) اے بنی اسرائیل! ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوہ طور کی دائیں جانب توریت دینے کا قول و قرار کیا۔ اور تم پر من و سلویٰ نازل کیا۔ (80) تم سے کہا گیا کہ جو پاکیزہ روزی تمہیں دی گئی ہے اس سے کھاؤ اور اس کے بارے میں سرکشی نہ کرو (حد سے نہ گزرو) ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب نازل ہو جائے وہ ہلاک ہی ہوگیا۔ (81) اور جو کوئی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل بجا لائے اور پھر راہِ راست پر قائم رہے تو میں اس کو بہت ہی بخشنے والا ہوں۔ (82) اے موسیٰ! اپنی قوم سے پہلے کیا چیز تمہیں جلدی لے آئی؟ (83) موسیٰ نے کہا: وہ لوگ میرے نقش قدم پر آرہے ہیں۔ اور اے میرے پروردگار! میں اس لئے جلدی تیری بارگاہ میں حاضر ہوگیا ہوں کہ تو خوش ہو جائے۔ (84) ارشاد ہوا۔ ہم نے تمہارے بعد تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ اور سامری نے انہیں گمراہ کر دیا ہے۔ (85) پس موسیٰ غصہ میں افسوس کرتے ہوئے اپنی قوم کی طرف لوٹے (اور) کہا اے میری قوم! کیا تمہارے پروردگار نے تم سے بڑا اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ تو کیا تم پر (وعدہ سے) زیادہ مدت گزر گئی؟ یا تم نے چاہا کہ تمہارے رب کا غضب تم پر نازل ہو؟ اس لئے تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟ (86) قوم نے کہا کہ ہم نے اپنے اختیار سے تو آپ سے وعدہ خلافی نہیں کی (البتہ بات یوں ہوئی) کہ ہمیں اس جماعت کے زیورات جمع کرکے لانے پر آمادہ کیا گیا اور یہ سامری ایک (سنہرا) بچھڑا نکال کر لایا۔ جس سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی۔ (87) تو لوگوں سے کہا یہی تمہارا خدا ہے اور موسیٰ کا بھی جسے وہ بھول گئے ہیں۔ (88) کیا وہ اتنا بھی نہیں دیکھتے کہ وہ (گؤ سالہ) ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور نہ ہی وہ ان کو نقصان یا نفع پہنچانے کا کوئی اختیار رکھتا ہے۔ (89) اور ہارون نے اس سے پہلے ہی ان سے کہہ دیا تھا کہ اے میری قوم! تم اس (گو سالہ) کی وجہ سے آزمائش میں پڑ گئے ہو۔ اور یقیناً تمہارا پروردگار خدائے رحمن ہے سو تم میری پیروی کرو۔ اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔ (90) مگر قوم نے کہا کہ ہم تو برابر اس کی عبادت پر جمے رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ ہماری طرف آجائیں۔ (91) موسیٰ نے کہا اے ہارون! جب تم نے دیکھا کہ یہ لوگ گمراہ ہوگئے ہیں۔ (92) تو تمہیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا؟ کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی ہے؟ (93) ہارون نے کہا: اے میرے ماں جائے! میری ڈاڑھی اور میرا سر نہ پکڑئیے! مجھے تو یہ ڈر تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا۔ اور میری بات کا خیال نہیں کیا (یا میرے حکم کا انتظار نہ کیا؟)۔ (94) (بعد ازاں) کہا اے سامری! تیرا کیا معاملہ ہے؟ (95) اس نے کہا کہ میں نے ایک ایسی چیز دیکھی جو اور لوگوں نے نہیں دیکھی تو میں نے (خدا کے) فرستادہ کے نقش قدم سے ایک مٹھی (خاک) اٹھا لی۔ اور اسے (اس گو سالہ میں) ڈال دیا۔ میرے نفس نے مجھے یہ بات سجھائی (اور میرے لئے آراستہ کر دی)۔ (96) موسیٰ نے کہا جا چلا جا! تیرے لئے اس زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ تو کہتا رہے گا کہ مجھے کوئی نہ چھوئے (کہ میں اچھوت ہوں) اور تیرے لئے (آخرت میں عذاب) کا ایک وعدہ ہے جو تجھ سے ٹلنے والا نہیں ہے۔ اور اب دیکھ اپنے اس معبود کو جس کی پرستش پر تو جما بیٹھا رہا۔ ہم (پہلے) اسے جلائیں گے اور پھر اس کی راکھ کو اڑا کر سمندر میں بہائیں گے۔ (97) اے لوگو! تمہارا الٰہ تو بس اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔ اور وہ ہر چیز کا علمی احاطہ کئے ہوئے ہے۔ (98) (اے رسول) ہم اسی طرح گزرے ہوئے واقعات کی کچھ خبریں آپ سے بیان کرتے ہیں اور ہم نے اپنی طرف سے آپ کو ایک نصیحت نامہ (قرآن) عطا کیا ہے۔ (99) جو کوئی اس سے روگردانی کرے گا تو وہ قیامت کے دن (اپنے اس جرم کا) بوجھ خود اٹھائے گا۔ (100) ایسے لوگ ہمیشہ اسی حالت میں گرفتار رہیں گے اور قیامت کے دن یہ بوجھ بڑا برا بوجھ ہوگا۔ (101) جس دن صور پھونکا جائے گا تو ہم مجرموں کو اس طرح محشور کریں گے کہ ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی۔ (102) وہ آپس میں چپکے چپکے کہیں گے کہ تم (دنیا و برزخ میں) کوئی دس دن ہی رہے ہوگے۔ (103) ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہہ رہے ہوں گے جبکہ ان کا سب سے زیادہ صائب الرائے یہ کہتا ہوگا کہ تم تو بس ایک دن رہے ہو۔ (104) (اے رسول(ص)) لوگ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ (قیامت کے دن کہاں جائیں گے)؟ تو آپ کہہ دیجئے! کہ میرا پروردگار ان کو (ریزہ ریزہ کرکے) اڑا دے گا۔ (105) پھر ان کی جگہ زمین کو اس طرح چٹیل میدان بنا دے گا۔ (106) کہ تم اس میں نہ کوئی ناہمواری دیکھوگے اور نہ بلندی۔ (107) اس روز لوگ ایک پکارنے والے (اسرافیل) کے پیچھے اس طرح سیدھے آئیں گے جس میں کوئی کجی نہ ہوگی اور خدا کے سامنے اور سب آوازیں دب جائیں گی پس تم قدموں کی آہٹ کے سوا کچھ نہیں سنوگے۔ (108) اس دن کوئی شفاعت فائدہ نہیں دے گی سوائے اس کے جس کو خدا اجازت دے گا اور اس کے بولنے کو پسند کرے گا۔ (109) جو کچھ لوگوں کے آگے ہے (آنے والے حالات) اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے (گزرے ہوئے واقعات) وہ سب کچھ جانتا ہے مگر لوگ اپنے علم سے اس کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ (110) سب کے چہرے حی و قیوم کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے اور جو شخص ظلم کا بوجھ اٹھائے گا وہ ناکام و نامراد ہو جائے گا۔ (111) اور جو کوئی نیک کام کرے درآنحالیکہ وہ مؤمن بھی ہو تو اسے نہ ظلم و زیادتی کا اندیشہ ہوگا اور نہ کمی و حق تلفی کا۔ (112) اور اس طرح ہم نے اس (کتاب) کو عربی زبان میں قرآن بنا کر نازل کیا ہے اس میں وعید و تہدید بیان کی ہے تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں یا وہ ان میں نصیحت پذیری پیدا کر دے۔ (113) بلند و برتر ہے اللہ جو حقیقی بادشاہ ہے اور (اے پیغمبر(ص)) جب تک قرآن کی وحی آپ پر پوری نہ ہو جائے اس (کے پڑھنے) میں جلدی نہ کیا کیجئے۔ اور دعا کیجئے کہ (اے پروردگار) میرے علم میں اور اضافہ فرما۔ (114) اور ہم نے اس سے پہلے آدم سے عہد لیا تھا مگر وہ بھول گئے اور ہم نے ان میں عزم و ثبات نہ پایا۔ (115) اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (ع) کے سامنے سجدہ میں گر جاؤ۔ (چنانچہ) ابلیس کے سوا سب سجدے میں گر گئے۔ (116) سو ہم نے کہا اے آدم (ع)! یہ آپ کا اور آپ کی زوجہ کا دشمن ہے یہ کہیں آپ دونوں کو جنت سے نکلوا نہ دے؟ ورنہ مشقت میں پڑ جائیں گے۔ (117) بیشک تم اس میں نہ کبھی بھوکے رہوگے اور نہ ننگے۔ (118) اور نہ یہاں پیاسے رہوگے اور نہ دھوپ کھاؤگے۔ (119) پھر شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا (اور) کہا اے آدم! کیا میں تمہیں بتاؤں ہمیشگی والا درخت اور نہ زائل ہونے والی سلطنت؟ (120) پس ان دونوں نے اس (درخت) میں سے کچھ کھایا۔ تو ان پر ان کے قابل ستر مقامات ظاہر ہوگئے اور وہ اپنے اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے پروردگار (کے امر ارشادی) کی خلاف ورزی کی اور (اپنے مقصد میں) ناکام ہوئے۔ (121) اس کے بعد ان کے پروردگار نے انہیں برگزیدہ کیا (چنانچہ) ان کی توبہ قبول کی اور ہدایت بخشی۔ (122) فرمایا (اب) تم زمین پر اتر جاؤ ایک دوسرے کے دشمن ہوکر پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ بدبخت ہوگا۔ (123) اور جو کوئی میری یاد سے روگردانی کرے گا تو اس کے لئے تنگ زندگی ہوگی۔ اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا محشور کریں گے۔ (124) وہ کہے گا اے میرے پروردگار! تو نے مجھے اندھا کیوں محشور کیا ہے حالانکہ میں آنکھوں والا تھا؟ (125) ارشاد ہوگا اسی طرح ہماری آیات تیرے پاس آئی تھیں اور تو نے انہیں بھلا دیا تھا اسی طرح آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا اور نظر انداز کر دیا جائے گا۔ (126) اور جو کوئی حد سے تجاوز کرے اور اپنے پروردگار کی بات پر ایمان نہ لائے تو ہم اسے اسی طرح (دنیا میں) سزا دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب تو اور بھی بڑا سخت اور پائیدار ہے۔ (127) کیا (اس بات سے بھی) انہیں ہدایت نہ ملی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی نسلیں (ان گناہوں کی پاداش میں) ہلاک کر دیں جن کے مکانوں میں (آج) یہ چلتے پھرتے ہیں بےشک اس میں صاحبان عقل کیلئے خدا کی قدرت کی بڑی نشانیاں ہیں۔ (128) اور (اے رسول(ص)) اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک بات طے نہ کر دی گئی ہوتی اور ایک (مہلت کی) مدت معین نہ ہو چکی ہوتی تو (عذاب) لازمی طور پر آچکا ہوتا۔ (129) سو آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے اور طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے اور رات کے اوقات میں بھی اور دن کے اول و آخر میں بھی اپنے پروردگار کی حمد و ثناء کے ساتھ تسبیح کیجئے تاکہ آپ راضی ہو جائیں۔ (130) اور جو کچھ ہم نے مختلف لوگوں کو آزمائش کیلئے دنیا کی زیب و زینت اور آرائش دے رکھی ہے اس کی طرف نگاہیں اٹھا کر بھی نہ دیکھیں اور آپ کے پروردگار کا دیا ہوا رزق بہتر ہے اور زیادہ پائیدار ہے۔ (131) اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیں اور خود بھی اس پر قائم و برقرار رہیں ہم آپ سے روزی طلب نہیں کرتے۔ ہم تو خود آپ کو روزی دیتے ہیں اور انجام بخیر تو پرہیزگاری کا ہی ہے۔ (132) اور یہ لوگ (اہل مکہ) کہتے ہیں کہ یہ (رسول) ہمارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) کیوں نہیں لاتے۔ کیا ان کے پاس اگلی کتابوں کا کھلا ہوا ثبوت نہیں آیا؟ (133) اور اگر ہم اس (رسول) سے پہلے انہیں عذاب سے ہلاک کر دیتے تو یہ کہتے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا؟ کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے تیری آیتوں کی پیروی کرتے۔ (134) آپ کہہ دیجئے! کہ ہر ایک اپنے (انجام کا) انتظار کر رہا ہے سو تم بھی انتظار کرو۔ عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ سیدھی راہ والے کون ہیں؟ اور ہدایت یافتہ کون ہیں۔ (135)

پچھلی سورت:
سورہ مریم
قرآن کریم اگلی سورت:
سورہ انبیاء
سورہ 20

١.فاتحہ ٢.بقرہ ٣.آل‌عمران ٤.نساء ٥.مائدہ ٦.انعام ٧.اعراف ٨.انفال ٩.توبہ ١٠.یونس ١١.ہود ١٢.یوسف ١٣.رعد ١٤.ابراہیم ١٥.حجر ١٦.نحل ١٧.اسراء ١٨.کہف ١٩.مریم ٢٠.طہ ٢١.انبیاء ٢٢.حج ٢٣.مؤمنون ٢٤.نور ٢٥.فرقان ٢٦.شعراء ٢٧.نمل ٢٨.قصص ٢٩.عنکبوت ٣٠.روم ٣١.لقمان ٣٢.سجدہ ٣٣.احزاب ٣٤.سبأ ٣٥.فاطر ٣٦.یس ٣٧.صافات ٣٨.ص ٣٩.زمر ٤٠.غافر ٤١.فصلت ٤٢.شوری ٤٣.زخرف ٤٤.دخان ٤٥.جاثیہ ٤٦.احقاف ٤٧.محمد ٤٨.فتح ٤٩.حجرات ٥٠.ق ٥١.ذاریات ٥٢.طور ٥٣.نجم ٥٤.قمر ٥٥.رحمن ٥٦.واقعہ ٥٧.حدید ٥٨.مجادلہ ٥٩.حشر ٦٠.ممتحنہ ٦١.صف ٦٢.جمعہ ٦٣.منافقون ٦٤.تغابن ٦٥.طلاق ٦٦.تحریم ٦٧.ملک ٦٨.قلم ٦٩.حاقہ ٧٠.معارج ٧١.نوح ٧٢.جن ٧٣.مزمل ٧٤.مدثر ٧٥.قیامہ ٧٦.انسان ٧٧.مرسلات ٧٨.نبأ ٧٩.نازعات ٨٠.عبس ٨١.تکویر ٨٢.انفطار ٨٣.مطففین ٨٤.انشقاق ٨٥.بروج ٨٦.طارق ٨٧.اعلی ٨٨.غاشیہ ٨٩.فجر ٩٠.بلد ٩١.شمس ٩٢.لیل ٩٣.ضحی ٩٤.شرح ٩٥.تین ٩٦.علق ٩٧.قدر ٩٨.بینہ ٩٩.زلزلہ ١٠٠.عادیات ١٠١.قارعہ ١٠٢.تکاثر ١٠٣.عصر ١٠٤.ہمزہ ١٠٥.فیل ١٠٦.قریش ١٠٧.ماعون ١٠٨.کوثر ١٠٩.کافرون ١١٠.نصر ١١١.مسد ١١٢.اخلاص ١١٣.فلق ١١٤.ناس


حوالہ جات

  1. دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج2، ص1242۔
  2. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔