سورہ حشر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مجادلہ سورۂ حشر ممتحنہ
سوره حشر.jpg
ترتیب کتابت: 59
پارہ : 28
نزول
ترتیب نزول: 101
مکی/ مدنی: مدنی
اعداد و شمار
آیات: 24
الفاظ: 448
حروف: 971

سورہ حَشْر قرآن کی 59ویں اور مدنی سورتوں میں سے ہے اور قرآن کے 28ویں پارے میں واقع ہے۔ اس سورت کا نام اس کی دوسری آیت سے لیا گیا ہے۔ اس سورت میں مدینہ سے یہودیوں کو نکالے جانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ سورہ حشر کا آغاز خدا کی تسبیح جبکہ اس کا اختتام خدا کی تقدیس سے ہوتا ہے۔ جنگ بنی‌ نضیر میں مسلمانوں کے ہاتھوں یہودیوں کی شکست، جنگ کے بغیر حال ہونے والے اموال اور غنائم کی تقسیم کا حکم، منافقین کی ملامت اور ان کی منافقت کا برملا ہونا نیز مہاجرین کی ایثار و فداکاری کی تعریف و تمجید اس سورت کے مضامین میں سے ہیں۔

احادیث میں آیا ہے کہ جو شخص سورہ حشر کی تلاوت کرے گا تو دوسری تمام موجودات اس شخص پر صلوات بھیجتے ہیں اور اس کی مغفرت کیلئے دعا کرتے ہیں اور اگر تلاوت کے دن یا رات کو اس شخص کی موت واقع ہو تو اسے شہیدوں میں شمار کیا جائے گا۔

تعارف

  • نام

اس سورت کو اس لئے حَشر‌ کہا جاتا ہے کہ اس کی دوسری آیت میں "حشر" کا لفط آیا ہے جو بنی نضیر کے پیمان شکن یہودیوں کی آوارگی کی طرف اشارہ ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورت کو "سورہ بنی‌ نضیر‌" کہا جاتا ہے۔[1]

  • ترتیب اور محل نزول

سورہ حشر مدنی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے 101ویں جبکہ موجودہ ترتیب کے اعتبار سے 59ویں سورہ ہے اور قرآن کے 28ویں پارے میں واقع ہے۔[2]

  • آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ حشر 24 آیات 445 کلمات اور 1913 حروف پر مشتمل ہے۔[3] اس سورت کا شمار حجم کے اعتبار سے مُفَصلّات میں ہوتا ہے۔ اسی طرح سورہ حشر کا شمار مُسَبِّحات‌ میں بھی ہوتا ہے جن کا آغاز تسبیح سے ہوتا ہے۔[4]

اس سورہ کو ممتحنات میں سے بھی شمار کیا گیا ہے[5] جس کی علت سورہ ممتحنہ کے ساتھ مضامین میں یکسانیت بتائی گئی ہے۔[6] [نوٹ 1]

مضامین

سورہ حشر کا آغاز خدا کی تسبیح یعنی "سَبَّحَ للہ‌" سے ہوتا ہے۔ اس سورت کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے که اس کی آخری تین آیات میں خدا کی صفات اور اسمائے حُسنا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس کی علاوہ اس سورت درج ذیل موضوعات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے: جنگ بنی‌ نضیر میں مسلمانوں کے ہاتھوں یہودیوں کی شکست، جنگ کے بغیر حال ہونے والے اموال اور غنائم کی تقسیم کا حکم، منافقین کی ملامت اور ان کی منافقت کا برملا ہونا نیز مہاجرین کی ایثار و فداکاری کی تعریف و تمجید اس سورت کے مضامین میں سے ہیں۔ جس طرح اس سورت کا آغاز خدا کی تسبیح سے ہوتا ہے اسی طرح اس کا اختتام بھی خدا کی تقدیس سے ہوتا ہے۔[7]

سورہ حشر کے مضامین[8]
 
 
 
 
 
 
اللہ کی مخالفت کا انجام، ناکامی اور ذلت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا گفتار؛ آیہ ۱۸-۲۴
زندگی میں ہمیشہ اللہ کے فرامین پر توجہ کی ضرورت
 
تیسرا گفتار؛ آیہ ۱۱-۱۷
منافقوں پر اعتماد کرنے کی وجہ سے یہودیوں کی ناکامی
 
دوسرا گفتار؛ آیہ ۶-۱۰
جنگی غنائم کی تقسیم میں مسلمانوں کا اللہ کی اطاعت
 
پہلا گفتار؛ آیہ ۱-۵
خدا اور رسول کی مخالفت سے یہودیوں کی ذلت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱۸-۲۱
اللہ کے فرمان کے مقابلے میں مومنوں کی ذمہ داریاں
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱۱-۱۲
یہودیوں سے منافقوں کے جھوٹے وعدے
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۶
جنگ کے بغیر ملنے والی غنیمت کا حکم
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱
تمام موجودات کی تسبیح، اللہ کی عزت کی علامت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۲۲-۲۴
کائنات کے فرمانروا خدا کی اوصاف
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۱۳-۱۴
یہودیوں اور منافقوں کو مسلمان سے خوف
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۷
جنگی غنیمت تقسیم کرنے کا طریقہ
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۲
یہودی نظامی قلعے تسخیر ہونا، اللہ کی قدرت کی نشانی
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۱۵-۱۷
غیر خدا پر اعتماد کرنے والے یہودیوں اور منافقوں کا انجام
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۸-۱۰
جنگی غنائم کی تقسیم بندی میں ترجیحات
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۳-۵
اللہ اور پیغمبر کی مخالفت پر یہودیوں کی ابدی ذلت

تاریخی واقعات

شأن نزول: مسلمانوں کے خلاف یہودیوں کی سازش

تفصیلی مضمون: غزوہ بنی نضیر

جب پیغمبر اکرمؐ نے مدینہ ہجرت فرمائی تو وہاں پر پہلے سے موجود یہودیوں جن میں بنی‌ نضیر، بنی‌ قُریظہ اور بنی‌ قَینُقاع شامل تھے، کے ساتھ صلح کا معاہدہ فرمایا لیکن انہوں نے بعد میں مختلف سازشوں کے ذریعے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی، من جملہ یہ کہ:

  1. پیغمبر اسلامؐ کو قتل کرنے کیلئے یہودیں کے سردار کعب بن اشرف کا ابوسفیان کے ساتھ اتحاد۔ یہ خبر جنگ احد کے بعد وحی کے ذریعے پیغمبر اکرمؐ تک پہنچی۔
  2. قبیلہ بنی‌ نضیر کے ایک یہودی عمرو بن جحاش کی پیغمبر اکرمؐ کو قتل کرنے کی سازش۔
  3. پیغمبر اکرمؐ کی شان میں توہین آمیز اشعار۔

ان تمام سازشوں کے بعد مسلمانوں کے ایک لشکر نے یهودیوں کے مضبوط قلعہ کو محاصرے میں لے لیا اور کئی دن کے محاصرے کے بعد قلعہ کے اطراف میں موجود کجھوروں کو آگ لگانے اور انہیں ختم کرنے کے ذریعے یہودیوں کو تسلیم ہونے پر مجبور کیا یوں جنگ کے بغیر مسلمانوں کو کامیابی ملی۔ مسلمانوں کی کامیابی کے بعد پیغمبر اسلامؐ نے یہودیوں کو مدینہ چھوڑنے پر مجبور کیا اور وہ گھر بار چھوڑ کر مختصر سازو سامان کے ساتھ مدینہ سے چلے گئے۔ ان میں سے بعض "اذرعات" ، شام جبکہ بعض "خیبر" اور بعض "حیرہ" کی طرف چلے گئے۔[9]

فضیلت اور خواص

پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے: "جو شخص سورہ حشر کی تلاوت کرے گا اس پر بہشت، جہنم، عرش الہی، کرسی، سات آسمان اور سات زمین، ہوا، پرندے، درخت، پہاڑ، چاند، سورج اور فرشتے درود و سلام بھیجتے ہیں اور اس کی مغفرت کیلئے دعا کرتے ہیں اور یہ شخص اگر اسی دن اس دنیا سے فوت ہوجائے جس دن اس نے اس سورت کی تلاوت کی ہے، تو اسے شہیدوں میں شمار کیا جائے گا"۔[10] امام صادقؑ سے بھی نقل ہوئی ہے: "جو شخص عصر کے وقت سورہ الرحمن اور سورہ حشر کی تلاوت کرے، خداوند متعال ایک فرشتے کو مأمور کرے گا جو صبح تک اس کی حفاظت کرے گا"۔[11]

متن اور ترجمہ

سورہ حشر
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿1﴾ هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِن دِيَارِهِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ مَا ظَنَنتُمْ أَن يَخْرُجُوا وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ ﴿2﴾ وَلَوْلَا أَن كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَاء لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ ﴿3﴾ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَمَن يُشَاقِّ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴿4﴾ مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ ﴿5﴾ وَمَا أَفَاء اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَى مَن يَشَاء وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿6﴾ مَّا أَفَاء اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاء مِنكُمْ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴿7﴾ لِلْفُقَرَاء الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ ﴿8﴾ وَالَّذِينَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿9﴾ وَالَّذِينَ جَاؤُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ ﴿10﴾ أَلَمْ تَر إِلَى الَّذِينَ نَافَقُوا يَقُولُونَ لِإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَئِنْ أُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلَا نُطِيعُ فِيكُمْ أَحَدًا أَبَدًا وَإِن قُوتِلْتُمْ لَنَنصُرَنَّكُمْ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ﴿11﴾ لَئِنْ أُخْرِجُوا لَا يَخْرُجُونَ مَعَهُمْ وَلَئِن قُوتِلُوا لَا يَنصُرُونَهُمْ وَلَئِن نَّصَرُوهُمْ لَيُوَلُّنَّ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ ﴿12﴾ لَأَنتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً فِي صُدُورِهِم مِّنَ اللَّهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ ﴿13﴾ لَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرًى مُّحَصَّنَةٍ أَوْ مِن وَرَاء جُدُرٍ بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ ﴿14﴾ كَمَثَلِ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَرِيبًا ذَاقُوا وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿15﴾ كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ ﴿16﴾ فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَا أَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيْنِ فِيهَا وَذَلِكَ جَزَاء الظَّالِمِينَ ﴿17﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿18﴾ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ أُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿19﴾ لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ ﴿20﴾ لَوْ أَنزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ﴿21﴾ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ ﴿22﴾ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴿23﴾ هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاء الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿24﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اللہ ہی کی تسبیح کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہ زبردست، بڑا حکمت والا ہے۔ (1) وہ وہی ہے جس نے اہلِ کتاب کے کافروں (بنی نضیر) کو پہلی بار اکٹھا کر کے ان کے گھروں سے نکال دیا۔ تمہیں گمان بھی نہ تھا کہ وہ نکل جائیںگے اور وہ بھی خیال کرتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ (کی گر فت) سے بچا لیں گے تو اللہ (کا قہر) ایسی جگہ سےایا جہاں سے ان کو خیال بھی نہیں تھا اور اس نے ان کے دلوں میں (رسول(ص) کا) رعب ڈال دیا تو وہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے گھروں کو خراب و برباد کر رہے تھے اور اہلِ ایمان کے ہاتھوں سے بھی عبرت حاصل کرو اے دیدۂ بینا رکھنے والو۔ (2) اور اگر اللہ نے ان کے حق میں جلا وطنی نہ لکھ دی ہوتی تووہ دنیا ہی میں ان کو عذاب دیتا اور آخرت میں تو ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے ہی۔ (3) یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول(ص) کی مخالفت کی اور جو اللہ کی مخالفت کرتا ہے تو یقیناً اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (4) تم لوگوں نے کھجوروں کے جو درخت کاٹے یا جن کو ان کی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا یہ سب اللہ کی اجازت سے تھا اور تاکہ وہ فاسقوں کو رسوا کرے۔ (5) اور اللہ نے ان لوگوں (بنی نضیر) سے جو مال بطور فئے اپنے رسول(ص) کو دلوایا تو تم لوگوں نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ پس اس میں تمہارا کوئی حق نہیں ہے لیکن اللہ اپنے رسولوں(ع) کو جس پر چاہتا تسلط دے دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے۔ (6) تو اللہ نے ان بستیوں والوں کی طرف سے جو مال بطور فئے اپنے رسول(ص) کو دلوایا ہے وہ بس اللہ کا ہے اور پیغمبر(ص) کا اور(رسول(ص) کے) قرابتداروں (ان کے) یتیموں اور (ان کے) مسکینوں اور مسافروں کا ہے تاکہ وہ مالِ فئے تمہارے دولتمندوں کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے اور جو کچھ رسول(ص) تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ اور اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو۔ بےشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (7) (نیز وہ مال) ان غریب مہاجروں کیلئے ہے جن کو اپنے گھروں اور مالوں سے نکال دیا گیا یہ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ص) کی مدد کرتے ہیں اور یہی سچے لوگ ہیں۔ (8) (اور یہ مال) ان کیلئے بھی ہے جو ان (مہاجرین) سے پہلے ان دیار (دارالہجرت مدینہ) میں ٹھکانا بنائے ہوئے ہیں اور ایمان لائے ہوئے ہیں اور جو ہجرت کرکے ان کے پاس آتا ہے وہ اس سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان (مہاجرین) کو دیا جائے وہ اس کی اپنے دلوں میں کوئی ناخوشی محسوس نہیں کرتے اور وہ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود ضرورت مند ہوں (فاقہ میں ہوں) اور جسے اپنے نفس کے حرص سے بچا لیا گیا وہی فلاح پانے والے ہیں۔ (9) اور جو ان کے بعد آئے (ان کا بھی اس مال میں حصہ ہے) جو کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش دے جنہوں نے ایمان لانے میں ہم پر سبقت کی اور ہمارے دلوں میں اہلِ ایمان کے لئے کینہ پیدا نہ کر۔ اے ہمارے پروردگار یقیناً تو بڑا شفقت کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (10) کیا تم نے منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے کافر اہلِ کتاب بھائیوں سے کہتے ہیں کہ اگر تم (اپنے گھروں سے) نکالے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ (شہر سے) نکل جائیں گے اور ہم تمہارے معاملہ میں کبھی کسی کی اطاعت نہیں کریں گے اور اگرتم سے جنگ کی گئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں۔ (11) اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے اور اگر ان کی مدد کی بھی تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے پھر ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔ (12) یقیناً تم لوگوں کا ڈر ان کے دلوں میں اللہ سے زیادہ ہے یہ اس لئے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔ (13) یہ سب مل کر کبھی تم سے (کھلے میدان میں) جنگ نہیں کریں گے مگر قلعہ بند بسیتوں میں (بیٹھ کر) یا دیواروں کے پیچھے سے (چھپ کر) وہ آپس میں بڑے قوی ہیں اور تم خیال کرتے ہو کہ وہ متحد ہیں حالانکہ ان کے دل متفرق ہیں یہ اس لئے ہے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں۔ (14) یہ ان لوگوں کی طرح ہیں جو ان سے کچھ ہی پہلے اپنے کرتوتوں کا مزہ چکھ چکے ہیں اور ان کیلئے دردناک عذاب ہے۔ (15) اور یہ شیطان کی مانند ہیں جو (پہلے) انسان سے کہتا ہے کہ کفر اختیار کر اور جب وہ کافر ہو جاتا ہے تو وہ (شیطان) کہتا ہے کہ میں تجھ سے بیزار ہوں میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو رب العالمین ہے۔ (16) تو ان دونوں (شیطان اور اس کے مرید) کا انجام یہ ہوا کہ دونوں دوزخ میں ہیں (اور) ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے اور یہی ظالموں کی سزا ہے۔ (17) اے ایمان والو! اللہ (کی مخالفت سے) ڈرو اور ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل (قیامت) کیلئے آگے کیا بھیجا ہے اللہ سے ڈرو بےشک جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔ (18) اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اللہ کو بھول گئے تواللہ نے ان کو اپنا آپ بھلا دیا یہی لوگ فاسق (نافرمان) ہیں۔ (19) دوزخ والے اور جنت والے برابر نہیں ہیں جنت والے کامیاب ہو نے والے ہیں۔ (20) اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ وہ خدا کے خوف سے جھک جاتا اور پاش پاش ہو جاتا اور یہ مثالیں ہم اس لئے لوگوں کیلئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں۔ (21) وہی وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ہر غائب اور حاضر کا جاننے والا ہے (اور) وہی رحمٰن و رحیم ہے۔ (22) وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے وہ (حقیقی) بادشاہ، (ہر عیب سے) مقدس (پاک)، سراپا سلامتی، امن و امان دینے والا، نگہبانی کرنے والا، غالب آنے والا زور آور (یا سرکشوں کو زیر کرنے والا) اور کبریائی و بڑائی والا ہے (اور) اللہ اس شرک سے پاک ہے جو لوگ کرتے ہیں۔ (23) وہی اللہ (ہر چیز کا) ٹھیک اندازے کے مطابق پیدا کرنے والا (وجود میں لانے والا) اور صورت گری کرنے والا ہے اسی کیلئے سارے اچھے نام ہیں (اور) اسی کی تسبیح کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہ غالب آنے والا (اور) بڑا حکمت والا ہے۔ (24)

پچھلی سورت: سورہ مجادلہ سورہ حشر اگلی سورت:سورہ ممتحنہ

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۴ـ۱۲۵۵۔
  2. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۱۶۸۔
  3. ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۳۷۱ش، ج۱۹، ص ۹۴۔
  4. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۵-۱۲۵۴۔
  5. رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰و۵۹۶۔
  6. فرہنگ‌نامہ علوم قرآن، ج۱، ص۲۶۱۲۔
  7. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۵-۱۲۵۴۔
  8. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  9. مکارم شیرازی، برگزیدہ تفسیر نمونہ، ۱۳۸۲ش، ج۵، ص۱۳۲-۱۳۳۔
  10. شیخ صدوق، ثواب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ص۱۱۷۔
  11. طبرسی، مجمع البیان، ۱۴۰۶ق، ج۹، ص۳۸۴۔


نوٹ

  1. قرآن کی 16 سورتوں کو ممتحات کہا جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ یہ نام ان سورتوں کو "سیوطی" نے دیا۔ رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۵۹۶ اور وہ سورتیں یہ ہیں: فتح، حشر، سجدہ، طلاق، قلم، حجرات، تبارک، تغابن، منافقون، جمعہ، صف، جن، نوح، مجادلہ، ممتحنہ و تحریم (رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰۔)

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجِنان و روح الجَنان فی تفسیر القرآن، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۳۷۱ش۔
  • رامیار، محمود، تاریخ قرآن، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۶۲ش۔
  • بحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، مؤسسہ البعثہ، قسم الدراسات الاسلامیہ، قم، ۱۳۸۹ش۔
  • دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، بہ کوشش بہاء‌الدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، محمدرضا انصاری محلاتی، قم، نسیم کوثر، ۱۳۸۲ش۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار المعرفۃ، چاپ اول، ۱۴۰۶ق۔
  • فرہنگ‌نامہ علوم قرآن، قم، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چ۱، ۱۳۷۱ش۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، برگزیدہ تفسیر نمونہ،‌ دار الکتب الاسلامیہ، تہران، ۱۳۸۲ش۔

بیرونی روابط