سورہ تغابن

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
منافقون سورۂ تغابن طلاق
سوره تغابن.jpg
ترتیب کتابت: 64
پارہ : 28
نزول
ترتیب نزول: 108
مکی/ مدنی: مدنی
اعداد و شمار
آیات: 18
الفاظ: 242
حروف: 1091

سورہ تغابن [سُوْرَةُ التَّغَابُنِ] کو تغابن کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی نویں آیت میں روز قیامت کو يَوْمُ التَّغَابُنِ (یعنی نقصان اور حسرت اٹھانے کا دن) کہا گیا ہے۔ یہ سورت حجم کے لحاظ سے مفصلات کے زمرے میں آتی ہے اور مسبحات میں چھٹے نمبر پر ہے۔ یہ سورت تمام موجودات کی عمومی اور کائناتی عبادت و راز و نیاز اور تسبیح و تقدیس کی طرف اشارہ کرتی ہے اور اس کا آغاز یسَبِّحُ لِلہِ سے ہوتا ہے۔

سوره تغابن

يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذَلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (ترجمہ: جس دن تمہیں اکٹھا کرے گا اس دن کے لئے جو اکٹھا کرنے ہی کے لئے ہے، وہ دن ہو گا ایک دوسرے کے مقابلے میں نقصان اٹھانے کا اور جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک اعمال کرے وہ اس کی غلطیوں کو نظر انداز کرے گا اور اسے داخل کرے گا ان بہشتوں میں جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ بہت بڑی کامیابی ہے) [ سورہ تغابن–9]


اس سورت کو تغابن کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی نویں آیت میں روز قیامت کو یوم التغابن (نقصان اٹھانے اور حسرت کا دن) کہا گیا ہے۔

یہ لفظ ایک بار اسی معنی میں، قرآن کی اسی سورت میں، استعمال ہوا ہے۔ اس سورت کی آیات کی تعداد (قراء اور مفسرین کے درمیان کسی اختلاف کے بغیر) 18، الفاظ کی تعداد 242 اور حروف کی تعداد 1091 ہے۔

سورہ تغابن مصحف کی ترتیب کے مطابق قرآن کریم کی چونسٹھویں اور ترتیب نزول کے لحاظ سے ایک سو آٹھویں سورت ہے۔

سورہ تغابن کے مکی اور مدنی ہونے کے سلسلے میں قراء و مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن اس کا مدنی ہونا مقرون بہ صحت ہے۔

سورہ تغابن حجم و کمیت کے لحاظ سے سور مفصلات کے زمرے میں آتی ہے اور قرآن کی نسبتا چھوٹی سورتوں میں شمار ہوتی ہے اور اٹھائیسویں پارے کے تیسرے حزب کے آخر میں قرار پائی ہے۔

یہ سورت مسبحات میں چھٹے نمبر پر ہے جو تمام موجودات کی عمومی اور کائناتی عبادت و راز و نیاز اور تسبیح و تقدیس کی طرف اشارہ کرتی ہے اور اس کا آغاز یسَبِّحُ لِلہِ سے ہوتا ہے۔

مفاہیم

  • معاد اور روز جزاء اور خلقت انسان کا مسئلہ۔
  • انسان کو بہترین صورت میں خلق کیا جانا۔
  • چند اخلاقی اور معاشرتی احکام جیسے: خدا پر توکل؛ قرض الحسنہ اور اللہ کی راہ میں قرض دینے کا 'پسندیدہ عمل' ہونا اور بخل اور کنجوسی سے اجتناب کی ضرورت اس سورت کے اہم موضوعات ہیں۔[1]
سورہ تغابن کے مضامین[2]
 
 
سعادت کا راستہ صرف اللہ پر ایمان لانا اور اس کی اطاعت ہے
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا گفتار: آیہ۱۱-۱۸
زندگی میں اللہ اور رسول کی پیروی کرنے کی ضرورت
 
پہلا گفتار: آیہ ۱ - ۱۰
عذاب سے نجات میں اللہ اور رسول پر ایمان لانے کی تأثیر
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب: آیہ۱۱-۱۳
تمام حالات میں اللہ اور پیغمبر کے فرمان کی پیروی کی اہمیت
 
پہلا مطلب: آیہ ۱-۷
کافروں کو سزا حتمی ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب: آیہ ۱۴-۱۵
اولاد اور بیوی کیلیے اللہ کی مخالفت نہ کرنا
 
دوسرا مطلب: آیہ ۸-۱۰
عذاب سے نجات اللہ اور پیغمبر پر ایمان لانے میں
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب: آیہ ۱۶-۱۸
پوری طاقت سے اللہ کے فرامین پر عمل کی ضرورت

متن سورہ

سوره تغابن
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿1﴾ هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ﴿2﴾ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ ﴿3﴾ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ﴿4﴾ أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَبْلُ فَذَاقُوا وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿5﴾ ذَلِكَ بِأَنَّهُ كَانَت تَّأْتِيهِمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا فَكَفَرُوا وَتَوَلَّوا وَّاسْتَغْنَى اللَّهُ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَمِيدٌ ﴿6﴾ زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ ﴿7﴾ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنزَلْنَا وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ﴿8﴾ يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذَلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿9﴾ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ خَالِدِينَ فِيهَا وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ﴿10﴾ مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿11﴾ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَى رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿12﴾ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿13﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿14﴾ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللَّهُ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ ﴿15﴾ فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَأَنفِقُوا خَيْرًا لِّأَنفُسِكُمْ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿16﴾ إِن تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ ﴿17﴾ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿18﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

وہ سب چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اس اللہ کی تسبیح کرتی ہیں جو (حقیقی) بادشاہ ہے اور اسی کیلئے (ہر) تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ (1) وہ وہی ہے جس نے تم (سب) کو پیدا کیا پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مؤمن اور تم جو کچھ کرتے ہواللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔ (2) اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اوراس نے تمہاری صورت گری کی تو تمہاری بہت اچھی صورتیں بنائیں اور اسی کی طرف (سب نے) لوٹ کر جانا ہے۔ (3) وہ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اوروہ اسے بھی جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور اللہ تو سینوں کے بھیدوں کا بھی خوب جاننے والا ہے۔ (4) کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا اور اپنے کئے (کفر) کا وبال چکھا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ (5) یہ اس لئے ہوا کہ ان کے رسول(ص) کھلی ہوئی دلیلیں لے کر ان کے پاس آتے رہے تو انہوں نے کہا کیا بشر ہماری رہبری کریں گے؟ پس(اس طرح) انہوں نے کفر اختیار کیا اور رُوگردانی کی اور اللہ نے (بھی ان کی) کوئی پروا نہ کی (کیونکہ) اللہ بےنیاز (اور) سزاوارِ حمد و ثنا ہے۔ (6) کافر لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ (مر نے کے بعد) دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے آپ(ص) کہئے! ہاں میرے پروردگار کی قَسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر تمہیں بتایا جائے گا جو کچھ تم نے کیا ہوگا اور یہ کام اللہ کیلئے بالکل آسان ہے۔ (7) تو تم اللہ اور اس کے رسول(ص) پر ایمان لاؤ اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہواللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔ (8) (اس دن کو یاد کرو) جس دن اللہ تمہیں اجتماع والے دن جمع کرے گا یہی دن باہمی گھاٹا اٹھانے کا دن ہوگا اور جو اللہ پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اللہ اس سے اس کی برائیاں (گناہ) دور کرے گا اور اسے ان باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں رواں دواں ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ (9) اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا یہی لوگ دوزخی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ (10) کوئی مصیبت (کسی پر) نہیں آتی مگر اللہ کے اذن و اجازت سے اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو صحیح راستہ دکھاتا ہے اور اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔ (11) اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول(ص) کی پھر اگر تم رُوگردانی کرو گے تو ہمارے رسول(ص) پر کھول کر پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ (12) اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے بس ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ (13) اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور تمہاری بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں بس تم ان سے ڈرتے رہو (ہوشیار رہو) اور اگر معاف کرو، درگزر کرو اور بخش دو تو اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (14) تمہارے مال، تمہاری اولاد ایک بڑی آزمائش ہیں اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے۔ (15) اور جہاں تک ہو سکے اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو اور سنو اور اطاعت کرو اور (مال) خرچ کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور جو شخص اپنے نفس کے بُخل سے بچایا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (16) اگر خدا کو قرضۂ حسنہ دو تو اللہ اسے تمہارے لئے کئی گنا بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا اللہ بڑا قدردان (اور) بڑا بردبار ہے۔ (17) وہ غائب اور حاضر کا جاننے والا، زبردست(اور) بڑا حکمت والا ہے۔ (18)

پچھلی سورت:
سورہ منافقون
قرآن کریم اگلی سورت:
سورہ طلاق
سورہ 64

١.فاتحہ ٢.بقرہ ٣.آل‌عمران ٤.نساء ٥.مائدہ ٦.انعام ٧.اعراف ٨.انفال ٩.توبہ ١٠.یونس ١١.ہود ١٢.یوسف ١٣.رعد ١٤.ابراہیم ١٥.حجر ١٦.نحل ١٧.اسراء ١٨.کہف ١٩.مریم ٢٠.طہ ٢١.انبیاء ٢٢.حج ٢٣.مؤمنون ٢٤.نور ٢٥.فرقان ٢٦.شعراء ٢٧.نمل ٢٨.قصص ٢٩.عنکبوت ٣٠.روم ٣١.لقمان ٣٢.سجدہ ٣٣.احزاب ٣٤.سبأ ٣٥.فاطر ٣٦.یس ٣٧.صافات ٣٨.ص ٣٩.زمر ٤٠.غافر ٤١.فصلت ٤٢.شوری ٤٣.زخرف ٤٤.دخان ٤٥.جاثیہ ٤٦.احقاف ٤٧.محمد ٤٨.فتح ٤٩.حجرات ٥٠.ق ٥١.ذاریات ٥٢.طور ٥٣.نجم ٥٤.قمر ٥٥.رحمن ٥٦.واقعہ ٥٧.حدید ٥٨.مجادلہ ٥٩.حشر ٦٠.ممتحنہ ٦١.صف ٦٢.جمعہ ٦٣.منافقون ٦٤.تغابن ٦٥.طلاق ٦٦.تحریم ٦٧.ملک ٦٨.قلم ٦٩.حاقہ ٧٠.معارج ٧١.نوح ٧٢.جن ٧٣.مزمل ٧٤.مدثر ٧٥.قیامہ ٧٦.انسان ٧٧.مرسلات ٧٨.نبأ ٧٩.نازعات ٨٠.عبس ٨١.تکویر ٨٢.انفطار ٨٣.مطففین ٨٤.انشقاق ٨٥.بروج ٨٦.طارق ٨٧.اعلی ٨٨.غاشیہ ٨٩.فجر ٩٠.بلد ٩١.شمس ٩٢.لیل ٩٣.ضحی ٩٤.شرح ٩٥.تین ٩٦.علق ٩٧.قدر ٩٨.بینہ ٩٩.زلزلہ ١٠٠.عادیات ١٠١.قارعہ ١٠٢.تکاثر ١٠٣.عصر ١٠٤.ہمزہ ١٠٥.فیل ١٠٦.قریش ١٠٧.ماعون ١٠٨.کوثر ١٠٩.کافرون ١١٠.نصر ١١١.مسد ١١٢.اخلاص ١١٣.فلق ١١٤.ناس


متعلقہ مآخذ

حوالہ جات

  1. دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج2، ص1256۔
  2. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔