سورہ زمر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ص سورۂ زمر غافر
سوره زمر.jpg
ترتیب کتابت: 39
پارہ : 23 و 24
نزول
ترتیب نزول: 59
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 75
الفاظ: 1180
حروف: 4871

سورہ زُمرْ قرآن کی 39ویں اور مکی سورتوں میں سے ہے جو 23ویں اور 24ویں پارے میں واقع ہے۔ اس سورت کی 71ویں اور 73ویں آیت میں لفظ "زمر" کا تذکرہ ہوا ہے اسی مناسبت سے اس سورت کا نام "سورہ زمر" رکھا گیا ہے۔ اس سورت میں قیامت کے دن انسانوں کو دو گروہوں بہشتیوں اور دوزخیوں میں تقسیم کر کے ہر گروہ کے حالات کا جائزه لیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ معاد اور توحید کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ عموما انسان مجبوری اور بےچارگی کی حالت میں خدا کو یاد کرتا ہے لیکن جب مشکلات سے نجات ملتی ہے تو غفلت کا شکار ہو جاتا ہے۔
آیت نمبر 53 اس سورت کی مشہور آیات میں سے ہے جس میں بندگان خدا کو خدا کی رحمت سے ہرگز ناامید نہ ہونے کی سفارش کی گئی ہے۔ حجم کے اعتبار سے یہ سورت تقریبا ایک پارے کے نصف کے برابر ہے۔ اس کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں آیا ہے کہ جو شخص سورہ زمر کی تلاوت کرے گا خدا قیامت کے دن اس کی امیدوں پر پانی نہیں پھیرے گا اور اسے خدا سے خوف کھانے والوں کا ثواب عطا کرے گا۔

مختصر تعارف

  • نام

اس سورت کا نام اس کی آیت نمبر 71 اور 73 میں لفظ زُمَر کے آنے کی وجہ سے "سورہ زمر" رکھا گیا ہے جس کے معنی گروہ اور جماعت کے ہیں۔ ان آیتوں میں بہشتیوں کا بہشت اور جہنمیوں کا جہنم میں داخل ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس سورت کا دوسرا نام سورہ غُرَف‌ ہے جس کے معنی بہشتی کمروں کے ہیں جس کی طرف آیت نمبر 20 میں اشارہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اس سورت کو سورۃ العرب‌ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ آیت نمیر 28 میں قرآن کی توصیف "قرآ­ن عربی" کے ساتھ کی گئی ہے۔[1]

  • ترتیب اور محل نزول

سورہ زمر مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے 59ویں اور مُصحَف کی موجودہ ترتیب کے اعتبار سے 39ویں سورت ہے[2]۔ یہ سورت قرآن کے 23ویں اور 24ویں پارے میں واقع ہے۔

  • آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ زمر75 آیات، 1180 کلمات اور 4871 حروف پر مشتمل ہے۔ حجم کے اعتبار سے اس کا شمار سور مَثانی میں ہوتا ہے اور تقریبا ایک پارے کے نصف کے برابر ہے۔[3]

مضمون

اس سورت کا اصلی مضمون توحید اور عبادت میں اخلاص کی طرف دعوت دینا ہے۔[4] توحید کے اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خدا کو اولاد سے مبرا قرار دینا اور مشرکوں کے خداووں کی طرف اعتناء نہ کرتے ہوئے پیغمبر اکرمؐ کو توحید اور دین میں اخلاص پیدا کرنے کا حکم دینا اس سورت کے دوسرے موضوعات میں سے ہیں۔
خالصانہ عبادتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اس نکتے کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ عموما انسان ضرورت اور مجبوری کی حالت میں خدا کو یاد کرتا ہے لیکن جب مشکلات سے نجات ملتی ہے اور مجبوری ختم ہو جاتی ہے تو پھر غفلت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس سورت میں ربوبیت اور خالقیت میں خدا کی یکتائی پر وحی اور عقل دونوں طریق سے استدلال کی گئی ہے اور مؤمنوں اور مشرکوں کا آپس میں موازنہ اور ان میں سے ہر ایک کی خصوصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے مؤمنوں کو ثواب کی بشارت اور مشرکوں کو غذاب سے ڈرایا گیا ہے۔ آخر میں قیامت اور معاد کا تذکرہ کرتے ہوئے قیامت سے مربوط مسائل کو واضح اور آشکار دلائل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔[5]

سورہ زمر کے مضامین[6]
 
 
 
 
 
 
 
 
توحید اور یکتاپرستی کی دعوت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچواں گفتار؛ آیہ ۶۷-۷۵
قیامت میں اللہ کی فرمانروائی توحید کی نشانی
 
چوتھا گفتار؛ آیہ ۵۳-۶۶
مشرکوں کو توبہ اور اللہ کی رحمت جلب کرنے کی دعوت
 
تیسرا گفتار؛ آیہ ۳۶-۵۲
کائنات پر خدا کی فرمانروائی اور بتوں کی عاجزی کی دلیلیں
 
دوسرا گفتار؛ آیہ ۱۰-۳۵
انسانوں کو توحید کی دعوت دینے میں پیغمبر کی ذمہ داریاں
 
پہلا گفتار؛ آیہ ۱-۹
آئینِ یکتاپرستی کی حقانیت کی دلیلیں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۶۷
اللہ کی قدرت سے دنیا کا نظام ختم ہونا
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۵۳-۵۴
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا
 
پہلی دلیل؛ آیہ ۳۶-۳۷
پیغمبر کو نقصان پہنچانے میں بتوں کی عاجزی
 
پہلی ذمہ داری؛ آیہ ۱۰
تقوی اختیار کرنے کی دعوت
 
مقدمہ؛ آیہ ۱-۲
پیغمبر صرف خدا کی پرستش کرتا ہے
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۶۸
اللہ کے حکم سے تمام موجودات کی دوبارہ موت اور حیات
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۵۵-۵۹
قرآن کی پیروی کرو تاکہ قیامت میں پشیمان نہ ہوجاؤ
 
دوسری دلیل؛ آیہ ۳۸-۴۱
اللہ کے ارادے کے سامنے بتوں کی عاجزی
 
دوسری ذمہ داری؛ آیہ ۱۱-۱۲
یکتاپرستی کے لیے اللہ کے فرمان کا اعلان
 
پہلی دلیل؛ آیہ ۳-۴
اللہ کا کوئی شریک اور اولاد نہیں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۶۹-۷۰
اللہ کے حکم سے سب کے اعمال کا حساب و کتاب
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۶۰-۶۱
قیامت میں مشرکوں کا شرمسار ہونا
 
تیسری دلیل؛ آیہ ۴۲
انسانی موت اور حیات کا مالک اللہ ہے
 
تیسری ذمہ داری؛ آیہ ۱۳-۱۶
اخروی عذاب میں شرک کی تاثیر کا بیان
 
دوسری دلیل؛ آیہ ۵
کائنات کی خلقت اور تدبیر اللہ کے ہاتھ میں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۷۱-۷۲
اللہ کے حکام سے کافروں کو جہنم بھیجنا
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۶۲-۶۳
شرک؛ خسارے کا عامل
 
چوتھی دلیل؛ آیہ ۴۳-۴۵
انسان کا شفیع اور مددگار صرف خدا ہے
 
چوتھی ذمہ داری؛ آیہ ۱۷-۲۰
اخروی سعادت میں یکتاپرستی کی تاثیر کا بیان
 
تیسری دلیل؛ آیہ ۶
انسان کی خلقت اور تدبیر اللہ کے ہاتھ میں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچواں مطلب؛ آیہ ۷۳-۷۴
اللہ کے حکم سے مؤمنین کا بہشت کی طرف روانہ ہونا
 
پانچواں مطلب؛ آیہ ۶۴-۶۶
شرک؛ اعمال کی تباہی کا عامل
 
پانچویں دلیل؛ آیہ ۴۶-۴۸
اخروی عذاب اللہ کے ہاتھ میں ہے
 
پانچویں ذمہ داری؛ آیہ ۲۱-۲۳
عقلمندوں کے لیے توحید کی نشانیوں کی یادآوری
 
چوتھی دلیل؛ آیہ ۷
یکتاپرستی انسان کے فائدے میں ہے
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چھٹا مطلب؛ آیہ ۷۵
فرشتوں کا قیامت کے دن اللہ کا حکم ماننا
 
 
 
 
 
چھٹی دلیل؛ آیہ ۴۹-۵۲
تمام نعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں
 
چھٹی ذمہ داری؛ آیہ ۲۴-۳۵
مشرکوں کی اخروی عذاب کی یادآوری
 
پانچویں دلیل؛ آیہ ۸
شرک ناشکری کی علامت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چھٹی دلیل؛ آیہ ۹
اللہ کی بندگی عقلمندی کی علامت ہے


بعض آیتوں کی شأن نزول

  • آیت نمبر 17

مفسرین کے مطابق آیت وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَن يَعْبُدُوهَا...(ترجمہ: اور جن (خوش بخت) لوگوں نے طاغوت (معبودانِ باطل) کی عبادت سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کیا...)، زید بن عمرو، اباذر غفاری اور سلمان فارسی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو زمانہ جاہلیت میں ہمیشہ لا الہ الا اللہ کا ورد کیا کرتے تھے۔[7]

  • آیت نمبر 18

ابن عباس سے منقول ہے کہ جب ابوبکر نے پیغمبر اسلامؐ پر ایمان لے آیا تو عثمان، عبدالرحمن بن عوف، طلحہ، زبیر اور سعد بن ابی وقاص ابوبکر کے پاس گئے۔ ابوبکر نے ان کے سامنے اپنے ایمان لائے جانے کا تذکرہ کیا۔ ابوبکر کی باتیں سن کر انہوں نے بھی پیغمبر اکرمؐ پر ایمان لے آئے اس وقت یہ آیت لَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ...(ترجمہ: جو (ہر کہنے والے کی) بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس میں سے بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں...۔) نازل ہوئی۔[8]

طبرسی تفسیر مجمع البیان میں عبدالرحمن بن زید سے نقل کرتے ہیں کہ یہ اور اس سے پہلے اور بعد والی آیتیں زید بن عمرو نفیل، ابوذر غفاری اور سلمان فارسی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو زمانہ جاہلیت میں ہمیشہ "لا الہ الا اللہ" کا ورد کیا کرتے تھے۔[9]

  • آیت نمبر 22

أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ ۚ فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّـهِ...(ترجمہ: کیا وہ شخص جس کے سینہ کو اللہ نے (قبولِ) اسلام کیلئے کھول دیا ہے اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے نور (ہدایت) پر ہے (قسی القلب لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے) بربادی ہے ان کیلئے جن کے دل ذکرِ خدا سے سخت ہوگئے ہیں ...۔)

اس آیت کا پہلا حصہ حمزہ سید الشہداء اور امام علی(ع) کے بارے میں نازل ہوا ہے کہ خداوندعالم نے اسلام قبول کرنے کیلئے انہیں وسیع قلب سے نوازا گیا ہے۔ جبکہ اس آیت کا دوسرا حصہ ابولہب اور ان کی اولاد کے بارے میں نازل ہوا ہے جو قساوت قلبی کی وجہ سے ذکر خدا سے منہ موڑ لیتے تھے۔[10]

  • آیت نمبر 53

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ...(ترجمہ: آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ اے میرے بندو! جنہوں نے (گناہ پر گناہ کرکے) اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو...۔)

اس آیت کے کئی شأن نزول ذکر ہوئی ہیں:

  1. اس شخص کے بارے میں جس نے جنگ احد میں پیغمبر اکرمؐ کے چچا حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا۔[11]
  2. اس جوان کے بارے میں جو کفن چوری کرتا تھا اور ایک دن انصار کی ایک مردہ لڑکی کو برہنہ کر کے اس کے ساتھ بد فعلی کی۔[12]
  3. اہل مکہ کے بارے میں جو بت پرستی اور بے گناہوں کا خون بہایا کرتے تھے۔[13]

آیات مشہورہ

سورہ زمر، آیت نمبر 7 خط نسخ میں

آیت نمبر 7

إِن تَكْفُرُ‌وا فَإِنَّ اللَّـہَ غَنِيٌّ عَنكُمْ ۖ وَلَا يَرْ‌ضَىٰ لِعِبَادِہِ الْكُفْرَ‌ ۖ وَإِن تَشْكُرُ‌وا يَرْ‌ضَہُ لَكُمْ ۗ وَلَا تَزِرُ‌ وَازِرَ‌ۃٌ وِزْرَ‌ أُخْرَ‌ىٰ ۗ ثُمَّ إِلَىٰ رَ‌بِّكُم مَّرْ‌جِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۚ إِنَّہُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ‌﴿٧﴾(ترجمہ: اگر تم کفر (انکار و ناشکری کرو) تو بے شک وہ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کیلئے (ناشکراپن) پسند نہیں کرتا اور اللہ کا تم شکر ادا کرو تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور پھر تم سب کی بازگشت تمہارے پروردگار کی طرف ہے وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو بے شک وہ سینوں کے رازوں کو جاننے والا ہے۔)

یہ آیت خدا کی عدالت کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کے مطابق کوئی بھی کسی کے گناہوں کا بوجھ اٹھانے کیلئے تیار نہیں اگرچہ یہ بوجھ مختصر ہی کیوں نہ ہو۔[14]

آیت نمبر 6

خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ ۚ يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِّن بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ ۖ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ ﴿٦﴾(ترجمہ: ااس نے تم (سب) کو ایک نفس سے پیدا کیا پھر اسی (کی جنس) سے اس کا جوڑا (شریک حیات) پیدا کیا اور پھر تمہارے لئے (تعداد میں) چوپایوں کے آٹھ جوڑے پیدا کئے وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں (تدریجاً) پیدا کرتا ہے۔ ایک خلقت کے بعد دوسری خلقت تین تاریک پردوں میں یہ اللہ تمہارا پروردگار ہے اسی کی حکومت ہے اس کے سوا کوئی الٰہ (خدا) نہیں ہے تم کدھر پھیرے جاتے ہو؟)

تین تاریک پردوں سے مراد

تفسیر المیزان[15] اور تفسیر نمونہ[16] میں آیا ہے کہ قرآن کی صریح عبارت "فی بطون امہاتکم" کے مطابق تین تاریک پردوں سے مراد، شکم، رحم اور بچہ دانی ہے۔ لیکن بعض مفسرین اس سے صرف بچہ دانی مراد لیتے ہیں جو خود تین ضخیم پردوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس آیت کو قرآن کے معجزات میں سے شمار کیا جاتا ہے۔[17]

آیت نمبر 18

الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّـهُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ ﴿۱۸﴾(ترجمہ: جو (ہر کہنے والے کی) بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس میں سے بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ ہدایت دیتا ہے اور یہی صاحبانِ عقل ہیں۔)

یہ آیت مسلمانوں کی آزاد اندیشی اور مختلف مسائل میں اپنی مرضی کے مطابق حق انتخاب کو بیان کرتی ہے۔ یہ آیت مؤمنین کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ دوسری کی بات سنیں ان میں غور و فکر کریں اور تتحقیق و تفحص کے ساتھ اچھی بات کا انتخاب کریں۔ اس آیت کی شہرت آزاد اندیشی کی طرف ترغیب دینے کی وجہ سے ہے۔

آیت نمبر 30

إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ﴿۳۰﴾(ترجمہ: پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کی بارگاہ میں جھگڑوگے (اور وہ حق و باطل کا فیصلہ کرے گا)۔)

اس آیت میں پیغمبر اکرمؐ کو مورد خطاب قرار دیتے ہوئے موت کے عمومی قانون، تمام انسانوں کو شامل کرنا اور اس حوالے سے تمام انسانوں کا یکساں ہونا اور کسی کو اس سے چھٹکارا نہ ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔[18]

آیت نمبر 53

آیت لاتقنطو، خط ثلث میں

'قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴿۵۳﴾(ترجمہ: آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ اے میرے بندو! جنہوں نے (گناہ پر گناہ کرکے) اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ بے شک اللہ سب گناہوں کو بخش دیتا ہے کیونکہ وہ بڑا بخشنے والا (اور) بڑا رحم کرنے والا ہے۔)

اس آیت میں خدا نے اپنی لطف اور مہربانی سے لبریز رحمت کے دروازے کو سب پر کھول کر تمام گناہگاروں کو مورد عفو قرار دئے ہیں۔ امام علیؑ سے منقول ایک حدیث میں آیا ہے کہ قرآن کریم میں اس آیت سے زیادہ وسعت والی کوئی آیت نہیں ہے، کیونکہ یہ آیت ہر قسم کی گناہوں کو شام کرتی ہے۔[19]

فضیلت اور خواص

اس سورت کی تلاوت کے بارے میں آیا ہے کہ جو شخص اس سورت کی تلاوت کرے گا خدا قیامت کے دن اس کے امیدوں پر پانی نہیں پھیرے گا اور اسے خدا سے خوف کھانے والوں کا ثواب عطا کرے گا۔[20] امام صادقؑ سے نقل ہوئی ہے کہ جو شخص سورہ زمر کو دن یا رات میں تلاوت کرے اور اس کے کلمات کو آرام اور آسانی سے اپنی زبان پر جاری کرے تو خدا دنیا اور آخرت کی عزت و شرافت اسے عطا کرے گا اور اسے مال اور رشتہ داروں کے بغیر بھی ہر دلعزیر قرار دے گا اس طرح کہ جو بھی اسے دیکھے گا اس کا احترام کرے گا ارو اس کی جلالت دیکھنے والوں کو مجذوب کرے گا اور دوزخ کو اس کے بدن پر حرام قرار دے گا۔[21]

متن اور ترجمہ

سورہ زمر
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ﴿1﴾ إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ ﴿2﴾ أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ ﴿3﴾ لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاء سُبْحَانَهُ هُوَ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ﴿4﴾ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى أَلَا هُوَ الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ ﴿5﴾ خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَأَنزَلَ لَكُم مِّنْ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِن بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ ﴿6﴾ إِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنكُمْ وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَإِن تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلَى رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ﴿7﴾ وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَيْهِ مِن قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَندَادًا لِّيُضِلَّ عَن سَبِيلِهِ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيلًا إِنَّكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ﴿8﴾ أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاء اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ ﴿9﴾ قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴿10﴾ قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ ﴿11﴾ وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ ﴿12﴾ قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ﴿13﴾ قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهُ دِينِي ﴿14﴾ فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُم مِّن دُونِهِ قُلْ إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَلَا ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ﴿15﴾ لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ ذَلِكَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ يَا عِبَادِ فَاتَّقُونِ ﴿16﴾ وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَن يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَى فَبَشِّرْ عِبَادِ ﴿17﴾ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأُوْلَئِكَ هُمْ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ ﴿18﴾ أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ أَفَأَنتَ تُنقِذُ مَن فِي النَّارِ ﴿19﴾ لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّن فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِيَّةٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَعْدَ اللَّهِ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ الْمِيعَادَ ﴿20﴾ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاء مَاء فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِأُوْلِي الْأَلْبَابِ ﴿21﴾ أَفَمَن شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَى نُورٍ مِّن رَّبِّهِ فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّهِ أُوْلَئِكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿22﴾ اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاء وَمَن يُضْلِلْ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ﴿23﴾ أَفَمَن يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَقِيلَ لِلظَّالِمِينَ ذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ ﴿24﴾ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَأَتَاهُمْ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ ﴿25﴾ فَأَذَاقَهُمُ اللَّهُ الْخِزْيَ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿26﴾ وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِن كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ﴿27﴾ قُرآنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ﴿28﴾ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِيهِ شُرَكَاء مُتَشَاكِسُونَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿29﴾ إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ﴿30﴾ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِندَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ ﴿31﴾ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَبَ عَلَى اللَّهِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءهُ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكَافِرِينَ ﴿32﴾ وَالَّذِي جَاء بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ أُوْلَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ﴿33﴾ لَهُم مَّا يَشَاءونَ عِندَ رَبِّهِمْ ذَلِكَ جَزَاء الْمُحْسِنِينَ ﴿34﴾ لِيُكَفِّرَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَسْوَأَ الَّذِي عَمِلُوا وَيَجْزِيَهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿35﴾ أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ﴿36﴾ وَمَن يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ أَلَيْسَ اللَّهُ بِعَزِيزٍ ذِي انتِقَامٍ ﴿37﴾ وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ قُلْ أَفَرَأَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ ﴿38﴾ قُلْ يَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ﴿39﴾ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيمٌ ﴿40﴾ إِنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ فَمَنِ اهْتَدَى فَلِنَفْسِهِ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ ﴿41﴾ اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴿42﴾ أَمِ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّهِ شُفَعَاء قُلْ أَوَلَوْ كَانُوا لَا يَمْلِكُونَ شَيْئًا وَلَا يَعْقِلُونَ ﴿43﴾ قُل لِّلَّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا لَّهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴿44﴾ وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ ﴿45﴾ قُلِ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِي مَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ﴿46﴾ وَلَوْ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ مِن سُوءِ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبَدَا لَهُم مِّنَ اللَّهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ ﴿47﴾ وَبَدَا لَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُون ﴿48﴾ فَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاهُ نِعْمَةً مِّنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَى عِلْمٍ بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿49﴾ قَدْ قَالَهَا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَمَا أَغْنَى عَنْهُم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴿50﴾ فَأَصَابَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَالَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْ هَؤُلَاء سَيُصِيبُهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ ﴿51﴾ أَوَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاء وَيَقْدِرُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ﴿52﴾ قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴿53﴾ وَأَنِيبُوا إِلَى رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ ﴿54﴾ وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ العَذَابُ بَغْتَةً وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ﴿55﴾ أَن تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَى علَى مَا فَرَّطتُ فِي جَنبِ اللَّهِ وَإِن كُنتُ لَمِنَ السَّاخِرِينَ ﴿56﴾ أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي لَكُنتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ﴿57﴾ أَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ ﴿58﴾ بَلَى قَدْ جَاءتْكَ آيَاتِي فَكَذَّبْتَ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتَ وَكُنتَ مِنَ الْكَافِرِينَ ﴿59﴾ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ تَرَى الَّذِينَ كَذَبُواْ عَلَى اللَّهِ وُجُوهُهُم مُّسْوَدَّةٌ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِينَ ﴿60﴾ وَيُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوا بِمَفَازَتِهِمْ لَا يَمَسُّهُمُ السُّوءُ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿61﴾ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ ﴿62﴾ لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ أُوْلَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ ﴿63﴾ قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ ﴿64﴾ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿65﴾ بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُن مِّنْ الشَّاكِرِينَ ﴿66﴾ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴿67﴾ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاء اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُم قِيَامٌ يَنظُرُونَ ﴿68﴾ وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاء وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ﴿69﴾ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُونَ ﴿70﴾ وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتَّى إِذَا جَاؤُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَبِّكُمْ وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاء يَوْمِكُمْ هَذَا قَالُوا بَلَى وَلَكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكَافِرِينَ ﴿71﴾ قِيلَ ادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ ﴿72﴾ وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا حَتَّى إِذَا جَاؤُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ ﴿73﴾ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاء فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ ﴿74﴾ وَتَرَى الْمَلَائِكَةَ حَافِّينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿75﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

یہ کتاب (قرآن) اس خدا کی طرف سے نازل کی گئی ہے جو (سب پر) غالب ہے (اور) بڑا حکمت والا ہے۔ (1) (اے رسول(ص)) بے شک ہم نے حق کے ساتھ یہ کتاب آپ کی طرف نازل کی ہے تو بس آپ اسی کی عبات کریں اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ (2) خبردار! خالص دین صرف اللہ کیلئے ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا ولی و سرپرست بنائے ہیں اور (تاویل یہ کرتے ہیں کہ) ہم ان کی صرف اسی لئے عبادت کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کا مقرب بنا دیں گے۔ بے شک اللہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا ان باتوں میں جن کے بارے میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ بے شک اللہ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا (اور) بڑا ناشکرا ہو۔ (3) اگر اللہ چاہتا کہ (کسی کو) اپنا بیٹا بنائے تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا منتخب کر لیتا وہ اس سے پاک ہے وہی اللہ ہے جو یکتا (اور سب پر) غالب ہے۔ (4) اس نے آسمانوں اور زمین کو حق (حکمت) کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ رات کو دن پر اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو (اس طرح) مسخر کر رکھا ہے کہ ہر ایک ایک مقررہ مدت تک رواں دواں ہے آگاہ ہو جاؤ کہ وہ (سب پر) غالب ہے (اور) بڑا بخشنے والا ہے۔ (5) اس نے تم (سب) کو ایک نفس سے پیدا کیا پھر اسی (کی جنس) سے اس کا جوڑا (شریک حیات) پیدا کیا اور پھر تمہارے لئے (تعداد میں) چوپایوں کے آٹھ جوڑے پیدا کئے وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں (تدریجاً) پیدا کرتا ہے۔ ایک خلقت کے بعد دوسری خلقت تین تاریک پردوں میں یہ اللہ تمہارا پروردگار ہے اسی کی حکومت ہے اس کے سوا کوئی الٰہ (خدا) نہیں ہے تم کدھر پھیرے جاتے ہو؟ (6) اگر تم کفر (انکار و ناشکری کرو) تو بے شک وہ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کیلئے (ناشکراپن) پسند نہیں کرتا اور اللہ کا تم شکر ادا کرو تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور پھر تم سب کی بازگشت تمہارے پروردگار کی طرف ہے وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو بے شک وہ سینوں کے رازوں کو جاننے والا ہے۔ (7) اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ دل سے رجوع کرکے اپنے پروردگار کو پکارتا ہے اور پھر جب وہ اپنی طرف سے اسے کوئی نعمت عطا کرتا ہے تو وہ اس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے جس کیلئے وہ پہلے اسے پکار رہا تھا اور اللہ کیلئے ہمسر (شریک) ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ اس کے راستہ سے (لوگوں کو) گمراہ کرے۔ آپ(ص) کہہ دیجئے! تھوڑے دن اپنے کفر (ناشکرے پن) سے فائدہ اٹھا لے (انجامِ کار) یقیناً تو دوزخ والوں سے ہے۔ (8) بھلا جو شخص رات کی گھڑیوں میں کبھی سجدہ کرکے اور کبھی قیام کرکے خدا کی عبادت کرتا ہے اور (اس کے باوجود) آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے؟ (تو کیا وہ شخص جو ایسا نہیں ہے یکساں ہو سکتے ہیں؟) کہیے کیا علم والے اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں؟ بے شک نصیحت تو صرف صاحبانِ عقل ہی حاصل کرتے ہیں۔ (9) کہہ دیجئے! اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو! اپنے پروردگار (کی نافرمانی) سے ڈرو۔ (اور یاد رکھو) جو لوگ اس دنیا میں نیک عمل کرتے ہیں ان کیلئے (آخرت میں) نیک صلہ ہے اور اللہ کی زمین وسیع (کشادہ) ہے بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔ (10) کہہ دیجئے! کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو اس کیلئے خالص کرکے (مکمل اخلاص کے ساتھ) اس کی عبادت کروں۔ (11) اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب مسلمانوں سے پہلے مسلمان ہوں۔ (12) کہئے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو ایک بڑے دن (قیامت) کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ (13) آپ(ص) کہئے کہ میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں اسی کیلئے اپنے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ (14) تم اس کے سوا جن کی چاہو عبادت (کرو) نیز کہہ دیجئے کہ اصلی خسارے والے تو وہ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن خسارے میں میں ڈالا آگاہ ہو جاؤ کہ یہی کھلا ہوا خسارہ ہے۔ (15) ان (بدبختوں) کیلئے ان کے اوپر بھی آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی یہی وہ (عذاب) ہے جس سے خدا اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو! مجھ سے ڈرو۔ (16) اور جن (خوش بخت) لوگوں نے طاغوت (معبودانِ باطل) کی عبادت سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کیا ان کیلئے خوشخبری ہے (اے نبی(ص)) میرے ان بندوں کو خوشخبری دے دو۔ (17) جو (ہر کہنے والے کی) بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس میں سے بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ ہدایت دیتا ہے اور یہی صاحبانِ عقل ہیں۔ (18) بھلا جس پر عذاب کا حکم ثابت ہو چکا تو کیا آپ اسے چھڑا سکتے ہیں جو (دوزخ کی) آگ میں ہیں۔ (19) البتہ جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کیلئے ایسے بالا خانے ہیں کہ جن کے اوپر اور بالا خانے بنے ہوئے ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کبھی (اپنے) وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ (20) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور پھر زیرِ زمین اس کے چشمے جاری کر دیتا ہے پھر اس سے مختلف قسم کی رنگ برنگی کھیتیاں برآمد کرتا ہے پھر وہ (پک کر) خشک ہونے لگتی ہیں تم انہیں زرد دیکھتے ہو پھر انہیں ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں صاحبانِ عقل کیلئے نصیحت ہے۔ (21) کیا وہ شخص جس کے سینہ کو اللہ نے (قبولِ) اسلام کیلئے کھول دیا ہے اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے نور (ہدایت) پر ہے (قسی القلب لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے) بربادی ہے ان کیلئے جن کے دل ذکرِ خدا سے سخت ہوگئے ہیں یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔ (22) اللہ ہی نے بہترین کلام نازل کیا ہے یعنی ایسی کتاب جس کی آیتیں آپس میں ملتی جلتی ہیں (اور) بار بار دہرائی جاتی ہیں اس (کے پڑھنے) سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں پھر ان کے جسم اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم (مائل) ہو جاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ذریعہ سے وہ جس کی چاہتا ہے راہنمائی کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اس کیلئے کوئی راہنما نہیں۔ (23) بھلا وہ (احمق) شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرہ سے اپنے آپ کو سخت عذاب سے بچاتا ہے؟ (اس عذاب سے محفوظ شخص کی مانند ہو سکتا ہے؟) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ (آج) مزہ چکھو اس کمائی کا جو تم کیا کرتے تھے۔ (24) جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے (حق کو) جھٹلایا آخر ان پر وہاں سے عذاب آیا جدھر سے ان کو خیال نہ تھا۔ (25) تو خدا نے ان کو اس دنیاوی زندگی میں ذلت و رسوائی کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب اس سے بھی بڑا ہے کاش وہ لوگ جانتے۔ (26) اور بے شک ہم نے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں پیش کی ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (27) یہ ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کَجی نہیں ہے تاکہ وہ (ڈریں) پرہیزگاری اختیار کریں۔ اللہ نے ایک مثال بیان کی ہے کہ ایک غلام ہے جس کے کئی بد اخلاق مالک ہیں اور ایک دوسرا شخص ہے جو پورا ایک مالک کا ہے (ان دونوں) کا حال یکساں ہے؟ الحمد ﷲ! مگر اکثر لوگ (یہ حقیقت) جانتے نہیں ہیں۔ (28) (اے پیغمبر(ص)) بے شک آپ نے بھی مرنا ہے اور وہ لوگ بھی مرنے والے ہیں۔ (29) پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کی بارگاہ میں جھگڑوگے (اور وہ حق و باطل کا فیصلہ کرے گا)۔ (30) پس اس شخص سے بڑھ کر اور کون ظالم ہوگا جو خدا پر جھوٹ باندھے اور جب سچائی اس کے پاس آئے تو وہ اسے جھٹلائے۔ کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانہ نہیں ہے؟ (31) اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی تو یہی لوگ پرہیزگار ہیں۔ (32) ان کیلئے پروردگار کے پاس وہ سب کچھ ہے جو وہ چاہیں گے یہ نیکوکاروں کی جزا ہے۔ (33) تاکہ اللہ ان کے بدترین اعمال کو معاف کرے اور انہیں ان کے بہترین اعمال کی جزا عطا فرمائے۔ (34) کیا اللہ اپنے بندہ کیلئے کافی نہیں ہے؟ اور یہ لوگ آپ کو اللہ کے سوا دوسروں سے ڈراتے ہیں اور جس کو خدا گمراہی میں چھوڑ دے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔ (35) اور جسے خدا ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے۔ (36) کیا اللہ زبردست (اور) انتقام لینے والا نہیں ہے؟ (37) اور اگر آپ(ص) اُن سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو وہ یقینا کہیں گے کہ اللہ نے آپ(ص) کہیے! تمہارا کیا خیال ہے؟ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ مجھے کچھ نقصان پہنچانا چاہے تو کیا یہ اس کی جانب سے نقصان کو دور کر دیں گے؟ یا اگر اللہ مجھ پر کچھ رحمت کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں؟ بس آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ میرے لئے اللہ کافی ہے۔ بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ (38) آپ(ص) کہہ دیجئے! اے میری قوم! تم اپنی جگہ (اپنے طریقہ پر) کام کئے جاؤ۔ میں اپنا کام کرتا ہوں عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔ (39) کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور کس پر دائمی عذاب اترتا ہے؟ (40) (اے رسول(ص)) بیشک ہم نے یہ کتاب سب انسانوں (کی ہدایت) کیلئے حق کے ساتھ آپ(ص) پر اتاری ہے جو ہدایت حاصل کرے گا تو وہ اپنے لئے کرے گا اور جو گمراہی اختیار کرے گا تو اس کی گمراہی کا وبال اسی پر پڑے گا آپ(ص) ان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ (41) اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور جن کی موت (ابھی) نہیں آئی (تو ان کی روحیں) نیند کے وقت قبض کرتا ہے پھر جن (روحوں کی) موت کا فیصلہ کرتا ہے انہیں روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک مقررہ مدت تک چھوڑ دیتا ہے۔ بیشک اس میں غور و فکر کرنے والوں کیلئے (قدرتِ خدا کی) نشانیاں ہیں۔ (42) کیا ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو شفیع (سفارشی) بنا رکھا ہے آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ اگرچہ وہ (سفارشی) نہ کسی چیز کے مالک ہوں اور نہ ہی عقل و شعور رکھتے ہوں؟ (43) آپ(ص) کہہ دیجئے کہ شفاعت پوری کی پوری اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے (اور) اسی کیلئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔ (44) اور جب خدا کی توحید (اس کی وحدت و یکتائی) کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل کڑھنے لگتے ہیں اور جب اس کے دوسرے (مزعومہ شرکاء) کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ یکایک خوش ہو جاتے ہیں۔ (45) آپ(ص) کہہ دیجئے! اے اللہ! اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے (اور) اے غائب و حاضر کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا ان چیزوں کے بارے میں جن میں وہ باہم اختلاف کیا کرتے تھے۔ (46) اور جن لوگوں نے (کفر و شرک کرکے) ظلم کیا اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اتنی اور بھی تو وہ یہ سب کچھ قیامت کے دن برے عذاب سے بچنے کیلئے فدیہ دے دیں اور (اس دن) اللہ کی طرف سے وہ کچھ ظاہر ہوگا جس کا انہیں گمان بھی نہیں تھا۔ (47) اور وہاں ان پر ان کی کمائی کی برائیاں ظاہر ہو جائیں گی اور انہیں وہ (عذاب) گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ (48) اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے اور پھر جب ہم اسے اپنی جانب سے کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو مجھے اپنے علم و ہنر کی بنا پر دی گئی ہے بلکہ وہ ایک آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (49) ایسی بات ان لوگوں نے بھی کہی تھی جو ان سے پہلے تھے تو (ہماری گرفت کے وقت) ان کی کوئی کمائی ان کے کام نہ آئی۔ (50) تو انہوں نے جو کچھ کمایا تھا اس کے برے نتائج ان تک پہنچے اور جو ان لوگوں میں سے ظالم ہیں ان تک بھی۔ ان کی برائی کے برے نتائج پہنچیں گے اور وہ (اللہ کو) عاجز نہیں کر سکتے۔ (51) کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے بے شک اس میں ایمان والوں کیلئے (قدرت کی) بڑی نشانیاں ہیں۔ (52) آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ اے میرے بندو! جنہوں نے (گناہ پر گناہ کرکے) اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ بے شک اللہ سب گناہوں کو بخش دیتا ہے کیونکہ وہ بڑا بخشنے والا (اور) بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (53) اور اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار بن جاؤ قبل اس کے کہ تم پر عذاب آجائے پھر تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔ (54) اور اس بہترین کلام و پیغام کی پیروی کرو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف اتارا گیا ہے پیشتر اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ (55) مبادا کوئی شخص یہ کہے ہائے افسوس! میری اس کوتاہی پر جو میں نے خدا کی جناب میں کی اور میں تو مذاق اڑانے والوں میں شامل رہا۔ (56) یا کوئی یہ کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں بھی متقیوں میں سے ہوتا۔ (57) یا کوئی عذاب دیکھ کر یہ کہے کاش مجھے ایک بار (دنیا میں دوبارہ جانے کا) موقع ملتا تو میں بھی نیکوکاروں میں سے ہو جاتا۔ (58) ہاں (کیوں نہیں) تیرے پاس میری آیتیں آئی تھیں مگر تو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافروں میں سے تھا۔ (59) اور قیامت کے دن تم دیکھوگے کہ جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ باندھا تھا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ کیا تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم نہیں ہے؟ (60) اور اللہ متقیوں کو ان کی کامیابی کی وجہ سے اس طرح نجات دے گا کہ انہیں نہ کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔ (61) اور وہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (62) اور آسمانوں اور زمین (کے خزانوں) کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں اور جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔ (63) آپ(ص) کہہ دیجئے! اے جاہلو! کیا تم (پھر بھی) مجھ سے غیر اللہ کی عبادت کرنے کی فرمائش کرتے ہو؟ (64) بیشک آپ(ص) کی طرف بھی وحی کی جا چکی ہے اور ان (انبیاء(ع)) کی طرف بھی جو آپ سے پہلے تھے کہ اگر (بفرضِ محال) آپ نے بھی شرک کیا تو آپ کے عمل ضائع ہو جائیں گے اور آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ (65) (اے نبی(ص)) بلکہ آپ بس اللہ ہی کی عبادت کیجئے اور شکر گزار بندوں میں سے ہو جائیے۔ (66) اور ان لوگوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جس طرح کہ اس کی قدر کرنی چاہیے تھی۔ حالانکہ قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور سب آسمان بھی اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے وہ پاک ہے اور برتر ہے اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں۔ (67) اور (پہلی بار) صور پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں وہ بھی اور جو زمین میں وہ بھی سب بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے سوائے ان کے جن کو اللہ چاہے گا (وہ بے ہوش نہیں ہوں گے) پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو وہ ایک دم کھڑے ہوکر (ِادھر اُدھر) دیکھنے لگیں گے۔ (68) اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی اور نامۂ اعمال رکھ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (69) اور ہر شخص نے جو کچھ عمل کیا ہوگا اسے اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور لوگ جو کچھ کرتے ہیں ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ (70) اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا وہ (اس خدائی فیصلہ کے بعد) جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اس کے داروغے ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہی میں سے کچھ رسول(ع) نہیں آئے تھے جو تمہیں تمہارے پروردگار کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے اور تمہیں اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے وہ (جواب میں) کہیں گے کہ ہاں (آئے تو تھے) لیکن (ہم نے نہ مانا کیونکہ) کافروں پر عذاب کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ (71) (پھر ان سے) کہا جائے گا کہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ رہنے کیلئے کتنا برا ٹھکانا ہے متکبروں کا۔ (72) اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے تھے وہ گروہ در گروہ بہشت کی طرف لے جائے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھولے جا چکے ہوں گے اور اس کے نگہبان ان سے کہیں گے سلامٌ علیکم (سلام ہو تم پر) تم پاک ہو! اب تم اس میں داخل ہو جاؤ ہمیشہ رہنے کیلئے۔ (73) اور وہ کہیں گے کہ سب تعریف (اور شکر) ہے اس خدا کا جس نے ہم سے کیا ہوا اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور ہمیں (اس) زمین کا وارث بنایا کہ اب ہم جنت میں جہاں چاہیں گے وہاں رہیں گے۔ کتنا اچھا صلہ ہے (نیک) عمل کرنے والوں کا۔ (74) اور آپ فرشتوں کو دیکھیں گے کہ وہ عرش (الٰہی) کے اردگرد اپنے پروردگار کی تسبیح (تقدیس) کر رہے ہوں گے اور ان (لوگوں) کے درمیان حق (و انصاف) کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا ہر قِسم کی تعریف اس اللہ کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ (75)

پچھلی سورت: سورہ ص سورہ زمر اگلی سورت:سورہ غافر

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. خرمشاہی، «سورہ زمر»، ج۲، ص۱۲۴۸۔
  2. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۶۔
  3. خرمشاہی، «سورہ زمر»، ج۲، ص۱۲۴۸۔
  4. صفوی، «سورہ زمر»، ص۷۳۸۔
  5. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج‌۱۷، ص۳۵۴۔
  6. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  7. واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ق، ص۳۸۲۔
  8. واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ق، ص۳۸۳۔
  9. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۷۷۰۔
  10. واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ق، ص۳۸۳۔
  11. قمی، سفینۃ البحار، ۱۴۱۴ق، ج۲، ص۶۳۷؛ حویزی، نور الثقلین، ۱۴۱۵ق، ج۴، ص۴۹۱۔
  12. ابوالفتوح رازی، روض الجنان و روح الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۱۶، ص۳۳۸-۳۳۹۔
  13. فخر رازی، تفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۲۷، ص۴۔
  14. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۱۸، ص۲۲۵۔
  15. طباطبایی، المیزان، ۱۳۷۴ش، ج۱۷، ص۲۳۱۔
  16. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۱۹، ص۳۸۴۔
  17. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۱۹، ص۳۷۹۔
  18. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۹، ص۴۴۶
  19. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۱۹، ص۵۲۱۔
  20. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۷ش، ج۸، ص۳۸۱۔
  21. شیخ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۱۴ق، ج۶، ص۲۵۴۔


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القران، مشہد، بنیاد پژوہشہای اسلامی آستان قدس رضوی، ۱۳۷۶ش۔
  • حوزیزی، عبدالعلی جمعہ، تفسیر نور الثقلین، قم، اسماعیلیان، ۱۴۱۵ق۔
  • بحرانی، سید ہاشم، البرہان، تہران، بنیاد بعثت، ۱۴۱۶ق۔
  • حرّ عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، قم، آل البیت، ۱۴۱۴ق۔
  • خرمشاہی، بہاءالدین، حافظ نامہ، ناشر، علمی و فرہنگی، چاپ۲۱، ۱۳۹۳ش۔
  • خرمشاہی، قوام الدین، «سورہ زمر» در دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، بہ کوشش بہاء‌الدین خرمشاہی، تہران، انتشارات دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ترجمہ سیدمحمدباقر موسوى ہمدانی، قم، دفتر انتشارات اسلامى جامعہ‏ مدرسين حوزہ علميہ قم‏، چ۵، ۱۳۷۴ش۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصر خسرو، ۱۳۷۱ش۔۔
  • فردوسی، ابوالقاسم، شاہنامہ، تہران، نشر قطرہ، ۱۳۸۴ش۔
  • قمی، عباس، سفینۃ البحار و مدینۃ الحکم و الآثار، قم، اسوہ، ۱۴۱۴ق۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلاميہ، چ۱، ۱۳۷۴ش۔