سورہ طور

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ذاریات سورۂ طور نجم
سوره طور.jpg
ترتیب کتابت: 52
پارہ : 27
نزول
ترتیب نزول: 76
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 49
الفاظ: 313
حروف: 1324

سورہ طور [سُوْرَةُ الطُّور] کو اس نام سے موسوم کیا گیا ہے کیونکہ اس کا آغاز وَالطُّورِ سے ہوتا ہے۔ حجم کے لحاظ سے سور مفصلات میں سے ہے۔ اور طوال کے زمرے میں آتی ہے۔


سورہ طور

  • اس سورت کو سورہ طور کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا آغاز آیت وَالطُّورِ سے ہوتا ہے اور خداوند متعال نے یہاں طور کے مقدس پہاڑ پر قسم کھائی ہے جو حضرت موسی(ع) کی میعادگاہ [اور اللہ کی] تجلی گاہ تھا۔
  • ان سورتوں میں آٹھویں نمبر پر جن کا آغاز قسم سے ہوتا ہے۔
  • اس سورت کی ابتدائی آیات میں بھی خداوند متعال نے سورہ ذاریات کی طرح پانچ موضوعات کی قسم اٹھائی ہے۔
  • قراءِ کوفہ و شام کے نزدیک اس سورت کی آیات کی تعداد 49 قراءِ حجاز کی رائے میں 47 اور دیگر قراء کے قول کے مطابق 48 ہے لیکن اول الذکر رائے مشہور اور معمول ہے۔
  • سورہ طور ترتیب مصحف کے لحاظ سے باون ویں اور ترتیب نزول کے لحاظ سے چہترویں سورت ہے۔
  • اس کے الفاظ کی تعداد 313 اور حروف کی تعداد 1324 ہے۔
  • یہ سورت حجم و کمیت کے لحاظ سے سور طول اور مفصلات کے زمرے میں آتی ہے، نسبتا چھوٹی سورت ہے اور ایک حزب کے کچھ حصے پر محیط ہے۔[1]

مفاہیم

یہ سورت کئی بار ایسی مخلوقات اور اشیاء پر قسم سے شروع ہوتی ہے جو قیامت کے دن وقوع عذاب کو قطعی اور فیصلہ کن قرار دیتی ہیں اور پھر جھوٹوں اور ہرزہ سراؤں کو عذاب جہنم کی وعید دی جاتی ہے۔ اس کے بعد جنتیوں کو حاصل ہونے والی ناز و نعمت کی توصیف کی جاتی ہے۔ اور آخر میں رسول خدا(ص) کو صبر و حمد و تسبیج نیز دعا و شبانہ عبادت کی ہدایت کی جاتی ہے۔[2]


متن سورہ

سورہ طور مکیہ ـ نمبر 52 - آیات 49 - ترتیب نزول 76
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

وَالطُّورِ ﴿1﴾ وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ ﴿2﴾ فِي رَقٍّ مَّنشُورٍ ﴿3﴾ وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ ﴿4﴾ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ ﴿5﴾ وَالْبَحْرِ الْمَسْجُورِ ﴿6﴾ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ ﴿7﴾ مَا لَهُ مِن دَافِعٍ ﴿8﴾ يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاء مَوْرًا ﴿9﴾ وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْرًا ﴿10﴾ فَوَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ ﴿11﴾ الَّذِينَ هُمْ فِي خَوْضٍ يَلْعَبُونَ ﴿12﴾ يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا ﴿13﴾ هَذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ ﴿14﴾ أَفَسِحْرٌ هَذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ ﴿15﴾ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاء عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿16﴾ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَعِيمٍ ﴿17﴾ فَاكِهِينَ بِمَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ وَوَقَاهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ ﴿18﴾ كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿19﴾ مُتَّكِئِينَ عَلَى سُرُرٍ مَّصْفُوفَةٍ وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍ عِينٍ ﴿20﴾ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ كُلُّ امْرِئٍ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌ ﴿21﴾ وَأَمْدَدْنَاهُم بِفَاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ ﴿22﴾ يَتَنَازَعُونَ فِيهَا كَأْسًا لَّا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ ﴿23﴾ وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُونٌ ﴿24﴾ وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءلُونَ ﴿25﴾ قَالُوا إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ ﴿26﴾ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ ﴿27﴾ إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلُ نَدْعُوهُ إِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيمُ ﴿28﴾ فَذَكِّرْ فَمَا أَنتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَلَا مَجْنُونٍ ﴿29﴾ أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ ﴿30﴾ قُلْ تَرَبَّصُوا فَإِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُتَرَبِّصِينَ ﴿31﴾ أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلَامُهُم بِهَذَا أَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ ﴿32﴾ أَمْ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُ بَل لَّا يُؤْمِنُونَ ﴿33﴾ فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِّثْلِهِ إِن كَانُوا صَادِقِينَ ﴿34﴾ أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ ﴿35﴾ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بَل لَّا يُوقِنُونَ ﴿36﴾ أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ ﴿37﴾ أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ﴿38﴾ أَمْ لَهُ الْبَنَاتُ وَلَكُمُ الْبَنُونَ ﴿39﴾ أَمْ تَسْأَلُهُمْ أَجْرًا فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ ﴿40﴾ أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ ﴿41﴾ أَمْ يُرِيدُونَ كَيْدًا فَالَّذِينَ كَفَرُوا هُمُ الْمَكِيدُونَ ﴿42﴾ أَمْ لَهُمْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴿43﴾ وَإِن يَرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاء سَاقِطًا يَقُولُوا سَحَابٌ مَّرْكُومٌ ﴿44﴾ فَذَرْهُمْ حَتَّى يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي فِيهِ يُصْعَقُونَ ﴿45﴾ يَوْمَ لَا يُغْنِي عَنْهُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ ﴿46﴾ وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا عَذَابًا دُونَ ذَلِكَ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿47﴾ وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ ﴿48﴾ وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَارَ النُّجُومِ ﴿49﴾

قرآن کریم


ترجمہ
اللہ کے نام سے جو بہت رحم والا نہایت مہربان ہے

قسم ہے طور کی (1) اور ایک لکھی ہوئی کتاب (2) چمک دار ورق میں (3) اور قسم اس گھر کی جو آباد ہے (4) اور اس چھت کی جو بلند ہے (5) اور اس سمندر کی جو جوش زن ہے (6) کہ تمہارے پروردگار کا عذاب ایک ایسی واقفیت ہے (7) جس کا ٹالنے والا کوئی نہیں (8) جس دن آسمان پورے طور پر حرکت میں آ جائے گا (9) اور پہاڑ پوری طرح رواں دواں ہوں گے (10) تو وائے ہو اس دن جھٹلانے والوں پر (11) جو بڑی ہی (غلط قسم کی) سرگرمی میں تفریح محسوس کرتے ہیں (12) جس دن وہ دھکیلے جائیں گے دوزخ والی آگ کی طرف شدت کے ساتھ (13) یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلاتے تھے (14) کیا یہ جادو ہے یا تمہیں دکھلائی نہیں دیتا؟(15) اس میں جلتے رہو۔ اب تم ضبط کرو یا نہ کرو، تمہارے لیے یکساں ہے، بس وہی تو تمہیں سزا مل رہی ہے جو تمہارے اعمال ہوا کرتے تھے (16) یقینا پرہیزگار لوگ باغہائے بہشت میں ہیں (17) اور آرام میں لطف اندوز ہوتے ہوئے اس سے جو انہیں ان کے پروردگار نے دیا ہے اور بچایا ہے انہیں ان کے پروردگار نے دوزخ کے عذاب سے (18) کھاؤ اور پیو۔ مبارک تمہیں ان اعمال کی بدولت جو تم کرتے تھے (19) گاؤ تکیے سے لگے ہوئے ان تختوں پر جو ترتیب کے ساتھ بچھے ہوئے ہوں گے اور ہم نے ان کی شادی کی ہو گی بڑی آنکھوں والی حوروں کے ساتھ (20) اور جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ان کے ساتھ ان کی پیروی کی۔ ہم نے ان کی اولاد کو ان سے ملا دیا اور ان کے اعمال میں کچھ بھی کمی نہیں کی۔ ہر آدمی اپنے اعمال کے ساتھ گروی ہے (21) اور ہم نے انہیں مدد پہنچائی پھلوں سے اور گوشت کے ساتھ جس طرح کی انہیں خواہش ہو (22) اس میں ایک دوسرے سے لے رہے ہوں گے ایسی شراب سے بھرے ہوئے ساغر جن میں نہ بیہودہ قسم کی کوئی بات ہے نہ گنہگار ٹھہرانے کی (23) اور ان کے پاس چکر لگا رہے ہوں گے ایسے نوجوان خدمت گار جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہوں (24) اور ان میں سے ایک نے دوسرے کی طرف رخ کیا، آپس میں سوال وجواب کرتے رہے (25) کہنے لگے کہ ہم پہلے ہی سے اپنے گھربار میں ڈرتے رہتے تھے (26) اور ہم کو اس دوزخ کے عذاب سے بچایا (27) یقینا ہم پہلے سے اسے پکارا کرتے تھے، یقینا وہ اچھا ہی اچھا کرنے والا ہے، بڑا مہربان (28) تو یاددہانی کرتے رہیے کہ آپ اپنے پروردگار کے فضل وکرم سے نہ کاہن ہیں اور نہ دیوانہ (29) کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے، یہی انتظار ہے اس کے لیے کہ وہ موت کے حادثہ کا شکار ہو جائے (30) کہئے کہ انتظار کرو، میں بھی تمہارے انتظار کرنے والوں میں ہوں (31) کیا (سچ مچ) ان کی عقلوں کا تقاضا ان سے یہ ہے یا وہ بے حد سرکش لوگ ہیں (32) یا وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے گھڑ لیا ہے؟ بلکہ وہ ایمان لانے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں (33) تو پھر وہ ایسا ہی کلام لے آئیں، اگر وہ سچے ہیں (34) کیا وہ خودبخود پیدا ہوئے ہیں یا وہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟(35) یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے بلکہ وہ یقین نہیں رکھتے (36) یا ان کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہی پورے اقتدار کے مالک ہیں (37) کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس سے وہ (آسمانی رازوں کو) سن لیتے ہوں تو جو ان میں سے ایسا ہو، وہ کھلی ہوئی دلیل پیش کرے (38) کیا اس کے لیے مخصوص طور پر بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے مخصوص طور پر بیٹے ہیں (39) یا آپ ان سے کوئی معاوضہ مانگتے ہیں تو وہ ایک بڑے مالی نقصان سے گراں بار ہیں (40) یا خود ان کے پاس غیب کا علم ہے تو وہ اسے قلم بند کرتے ہیں؟(41) یا یہ لوگ کوئی داؤ چلنا چاہتے ہیں، تو جو لوگ کافر ہیں وہ خود اپنے داؤ میں (پھنستے) ہیں (42) یا ان کے لیے (سچ مچ) اللہ کے سوا کوئی خدا ہے؟ پاک ہے اللہ کی ذات اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں (43) اور اگر وہ آسمان کا ایک ٹکڑا گرتے ہوئے دیکھیں تو وہ کہیں گے یہ ابر ہے جو تہہ بہ تہہ کر دیا گیا ہے (44) تو چھوڑ دو انہیں، یہاں تک کہ سامنا ہو انہیں اس دن کا جس میں وہ بے حس وحرکت ہو کر گر جائیں گے (45) جس دن ان کی منصوبہ سازی انہیں کچھ فائدہ نہ پہنچا سکے گی اور نہ ان کو مدد ملے گی (46) اور یقینا ان کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ہے، اس کے پہلے بھی ایک بڑا عذاب ہے لیکن ان میں سے زیادہ جانتے نہیں (47) اور اپنے پروردگار کے فیصلے کے لیے ضبط وصبر سے کام لیجئے کہ آپ ہماری نگہبانی میں ہیں اور اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہیے جب کھڑے ہوں (48) اور رات کے کچھ حصے میں اور ستاروں کے آسمان سے پیٹھ پھرانے کے بعد (49)


پچھلی سورت:
سورہ ذاریات
سورہ 52 اگلی سورت:
سورہ نجم
قرآن کریم

(1) سورہ فاتحہ (2) سورہ بقرہ (3) سورہ آل عمران (4) سورہ نساء (5) سورہ مائدہ (6) سورہ انعام (7) سورہ اعراف (8) سورہ انفال (9) سورہ توبہ (10) سورہ یونس (11) سورہ ہود (12) سورہ یوسف (13) سورہ رعد (14) سورہ ابراہیم (15) سورہ حجر (16) سورہ نحل (17) سورہ اسراء (18) سورہ کہف (19) سورہ مریم (20) سورہ طہ (21) سورہ انبیاء (22) سورہ حج (23) سورہ مؤمنون (24) سورہ نور (25) سورہ فرقان (26) سورہ شعراء (27) سورہ نمل (28) سورہ قصص (29) سورہ عنکبوت (30) سورہ روم (31) سورہ لقمان (32) سورہ سجدہ (33) سورہ احزاب (34) سورہ سباء (35) سورہ فاطر (36) سورہ یس (37) سورہ صافات (38) سورہ ص (39) سورہ زمر (40) سورہ غافر (41) سورہ فصلت (42) سورہ شوری (43) سورہ زخرف (44) سورہ دخان (45) سورہ جاثیہ (46) سورہ احقاف (47) سورہ محمد (48) سورہ فتح (49) سورہ حجرات (50) سورہ ق (51) سورہ ذاریات (52) سورہ طور (53) سورہ نجم (54) سورہ قمر (55) سورہ رحمن (56) سورہ واقعہ (57) سورہ حدید (58) سورہ مجادلہ (59) سورہ حشر (60) سورہ ممتحنہ (61) سورہ صف (62) سورہ جمعہ (63) سورہ منافقون (64) سورہ تغابن (65) سورہ طلاق (66) سورہ تحریم (67) سورہ ملک (68) سورہ قلم (69) سورہ حاقہ (70) سورہ معارج (71) سورہ نوح (72) سورہ جن (73) سورہ مزمل (74) سورہ مدثر (75) سورہ قیامہ (76) سورہ انسان (77) سورہ مرسلات (78) سورہ نباء (79) سورہ نازعات (80) سورہ عبس (81) سورہ تکویر (82) سورہ انفطار (83) سورہ مطففین (84) سورہ انشقاق (85) سورہ بروج (86) سورہ طارق (87) سورہ اعلی (88) سورہ غاشیہ (89) سورہ فجر (90) سورہ بلد (91) سورہ شمس (92) سورہ لیل (93) سورہ ضحی (94) سورہ شرح (95) سورہ تین (96) سورہ علق (97) سورہ قدر (98) سورہ بینہ (99) سورہ زلزال (100) سورہ عادیات (101) سورہ قارعہ (102) سورہ تکاثر (103) سورہ عصر (104) سورہ ہمزہ (105) سورہ فیل (106) سورہ قریش (107) سورہ ماعون (108) سورہ کوثر (109) سورہ کافرون (110) سورہ نصر (111) سورہ مسد (112) سورہ اخلاص (113) سورہ فلق (114) سورہ ناس


متعلقہ مآخذ

پاورقی حاشیے

  1. دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج2، ص1252۔
  2. دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج 2، ص 1252۔


مآخذ