سورہ مزمل

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جن سورۂ مزمل مدثر
سوره مزمل.jpg
ترتیب کتابت: 73
پارہ : 29
نزول
ترتیب نزول: 3 یا 4
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 20
الفاظ: 300
حروف: 853

سورہ مزمل قرآن کی 73ویں اور مکی سورتوں میں سے ہے جو قرآن کے 29ویں پارے میں واقع ہے۔ اس کا نام اس کی پہلی آیت سے لی گئی ہے جس کے معنی کپڑوں میں لپیٹ کر لیٹنے والے کے ہیں اور جس سے پیغمبر اکرمؐ ہیں۔ اس سورت میں مطرح ہونے والے موضوعات میں پیغمبر اکرمؐ کو رات کو عبادت کرنے اور قرآن کی تلاوت کی دعوت، کافروں کے مقابلے میں صبر و استقامت کا مظاہرہ اور معاد وغیرہ شامل ہیں۔ آیت نمبر 4 اس سورت کی مشہور آیتوں میں سے ہے جس میں پیغمبر اکرمؐ کو قرآن کو ترتیل کے ساتھ قرائت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ترتیل سے مراد کلمات کو صحیح طور پر ادا کرنا اور آیات کے معانی میں غور و فکر کرنے کے ہیں۔ احادیث میں آیا ہے کہ جو شخص سورہ مزمل کو نماز عشاء یا رات کے آخری پہر میں پڑھے تو خدا اسے پاک و پاکیزہ زندگی عطا کرے گا اور وہ شخص اسی حالت میں باقی رہ کر اس دنیا سے چلا جائے گا۔

تعارف

  • نام

اس سورت کا نام مزّمّل رکھا گیا ہے چونکہ خداوند عالم اس کی پہلی آیت میں پیغمبر اکرمؐ کو اسی نام سے خطاب فرمایا ہے۔[1] مُزّمّل اس شخص کو کہا جاتا ہے جو سونے یا سردی سے بچنے کیلئے اپنے آپ کو کپڑے یا کسی اور چیز سے لپیٹ لیتے ہیں۔ جب پیغمبر اکرمؐ نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا شروع کیا تو لوگ آپ کو اذیت و آزار پہنچانے لگے اس صورتحال میں آپؐ اس غم اندوہ کو اپنے سے دور کرنے کیلئے کوئی کپڑا اوڑ کر استراحت فرماتے تھے۔[2] اسی طرح کہا جاتا ہے کہ بعثت کی ابتداء میں رسالت کی مسئولیت کی سنگینی کی وجہ سے آپ کی یہ حالیت ہوئی تھی۔[3]

  • محل اور ترتیب نزول

سورہ مزّمّل مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے تیسری جبکہ ترتیب مُصحَف کے اعتبار سے 73ویں سورہ ہے[4] جو قرآن کے 29ویں پارے میں واقع ہے۔

  • آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ مزّمّل 20 آیات، 300 کلمات اور 853 حروف پر مشتمل ہے۔ اس کا شمار مُفَصِّلات (چھوٹی آیات والی سورت) میں ہوتا ہے۔[5]

مضامین

تفسیر نمونہ کے مطابق سورہ مزمل کے مضامین کو 5 حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

سورہ مزمل کے مضامین[7]
 
 
 
 
دینی تبلیغ میں پیغمبر کی کامیابی کے لیے موقع فراہم کرنا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا گفتار؛ آیہ ۲۰
پیغمبر کی ہمرای میں مومنوں کی ذمہ داری
 
دوسرا گفتار؛ آیہ ۱۵-۱۹
پیغمبر کی دعوت قبول کرنے کے لیے مشرکوں کو انتباہ
 
پہلا گفتار؛ آیہ ۱-۱۴
دین کی تبلیغ میں کامیابی کے لیے پیغمبر کی ذمہ داریاں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلی ذمہ داری؛ آیہ ۲۰
رات میں سے کچھ حصہ عبادت کے لیے مختص کرنا
 
پہلا انتباہ؛ آیہ ۱۵-۱۶
رسول خدا کی مخالفت کا دنیوی انجام
 
پہلی ذمہ داری؛ آیہ ۱-۷
تہجد اور شب بیداری
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسری ذمہ داری؛ آیہ ۲۰
نیک واجب اور مستحب اعمال کی انجام دہی
 
دوسرا انتباہ؛ آیہ ۱۷-۱۹
رسول اللہ کی مخالفت کا اخروی عذاب
 
دوسری ذمہ داری؛ آیہ ۸
اللہ کیلیے دوسروں سے منقطع ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسری ذمہ داری؛ آیہ ۹
تمام امور میں اللہ پر توکل
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھی ذمہ داری؛ آیہ ۱۰-۱۴
مخالفوں کے طنز اور تہمتوں کو برداشت کرنا


مشہور آیتیں

  • و رَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیلاً(ترجمہ: اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (اور واضح کر کے) پڑھا کیجئے!۔)(آیت 4)
تفصیلی مضمون: آیت ترتیل

"ترتیل" اصل میں "منظم" اور "موزون ترتیب" کو کہا جاتا ہے اور یہاں پر قرآن کو منظم انداز میں ٹہر ٹہر کر حروف کی صحیح ادئیگی، الفاظ کی صحیح تلفظ، معانی میں دقت اور ان کے نتائج میں غور فکر کے ساتھ پڑھنے کو کہا جاتا ہے۔[8] امام علیؑ سے نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا: "قرآن کے الفاظ کو صحیح تلفظ کے ساتھ واضح ادا کرو اور انہیں شعر کی طرح جدا جدا اور پراکندہ مت پڑھو۔ قرآن کی تلاوت کے ذریعے اپنے دلوں کو گریہ و زاری کیلئے تیار کرو اور تمہارا مقصد سورت کے آخر تک پہنچنا نہ ہو"۔ امام صادقؑ سے بھی منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: قرآن کی تلاوت میں ترتیل کے معنی یہ ہیں کہ جب بھی کسی ایسی آیت کی تلاوت کریں جس میں بہشت کا تذکرہ ہو تو خدا سے بہشت کی درخواست کی جائے اور جب کسی ایسی آیت تک پہنچے جس میں جہنم کا ذکر ہو تو خدا سے اس کی ماہ مانگیں"۔ ایک اور حدیث میں امام صادقؑ فرماتے ہیں: "ترتیل یہ ہے کہ قرآن کو ایک اچھی آواز میں پڑھا جائے"۔[9]

فضیلت اور خواص

سورہ مزمل کی تلاوت کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ سے ایک حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص اس سورت کو ہمیشہ پڑھتے رہے تو خداوند عالم اس سے دنیا اور آخرت کی سخیتیوں کو دور کرے گا اور وہ پیغمبر اکرمؐ کو خواب میں دیکھے گا۔[10] اس طرح امام صادقؑ سے ایک احادیث میں آیا ہے کہ جو شخص سورہ مزمل کو نماز عشاء یا رات کے آخری پہر میں پڑھے تو خدا اسے پاک و پاکیزہ زندگی عطا کرے گا اور وہ شخص اسی حالت میں باقی رہ کر اس دنیا سے چلا جائے گا۔[11]

متن اور ترجمہ

سوره مزمل
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ﴿1﴾ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿2﴾ نِصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا ﴿3﴾ أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا ﴿4﴾ إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا ﴿5﴾ إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْءًا وَأَقْوَمُ قِيلًا ﴿6﴾ إِنَّ لَكَ فِي اَلنَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا ﴿7﴾ وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا ﴿8﴾ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا ﴿9﴾ وَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلًا ﴿10﴾ وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا ﴿11﴾ إِنَّ لَدَيْنَا أَنكَالًا وَجَحِيمًا ﴿12﴾ وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا ﴿13﴾ يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيبًا مَّهِيلًا ﴿14﴾ إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا ﴿15﴾ فَعَصَى فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَأَخَذْنَاهُ أَخْذًا وَبِيلًا ﴿16﴾ فَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِن كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا ﴿17﴾ السَّمَاء مُنفَطِرٌ بِهِ كَانَ وَعْدُهُ مَفْعُولًا ﴿18﴾ إِنَّ هَذِهِ تَذْكِرَةٌ فَمَن شَاء اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا ﴿19﴾ إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَى مِن ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِّنَ الَّذِينَ مَعَكَ وَاللَّهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ عَلِمَ أَن لَّن تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَؤُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرْضَى وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّهِ وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَاقْرَؤُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿20﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اے کمبلی اوڑھنے والے (رسول(ص))۔ (1) رات کو(نماز میں) کھڑے رہا کیجئے مگر (پوری رات نہیں بلکہ) تھوڑی رات۔ (2) یعنی آدھی رات یا اس میں سے بھی کچھ کم کر دیجئے۔ (3) یا اس سے کچھ بڑھا دیجئے! اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (اور واضح کر کے) پڑھا کیجئے! ۔ (4) بےشک ہم آپ(ص) پر ایک بھاری کلام ڈالنے والے ہیں۔ (5) بےشک رات کا اٹھنا سخت روندتا ہے (اور سخت کوفت کا باعث ہے) مگر ذکر (خدا اور قرآن خوانی) کیلئے زیادہ موزوں اور ٹھیک ہے۔ (6) بلاشبہ دن میں آپ(ص) کیلئے بڑی مشغولیت ہے۔ (7) اور اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کیجئے اور (سب سے کٹ کر) اسی کی طرف متوجہ ہو جائیے۔ (8) وہ مشرق و مغرب کا پروردگار ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ پس اسی کو اپنا کارساز بنائیے۔ (9) اور ان (کفار) کی باتوں پر صبر کیجئے! اور بڑی خوبصورتی کے ساتھ ان سے الگ ہو جائیے۔ (10) اور مجھے اور ان جھٹلانے والے اہلِ دولت کو چھوڑ دیجئے اور انہیں تھوڑی سی مہلت دیجئے! (11) ہمارے پاس ان کیلئے بیٹریاں اور دوزخ کی آگ ہے۔ (12) اور گلے میں پھنس جانے والی غذا اور دردناک عذاب ہے۔ (13) یہ اس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑ ہلنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے بکھر نے والے تودے بن جائیں گے۔ (14) ہم نے تمہاری طرف ایک رسول(ص) بھیجا ہے تم پر گواہ بنا کر جس طرح ہم نے فر عون کی طرف ایک رسول(ع) بھیجا تھا۔ (15) پھر جب فرعون نے رسول(ع) کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے بڑا سخت پکڑا۔ (16) اگر تم نے کفر اختیار کیا تو اس دن کے عذاب سے کیونکر بچوگے جو بچوں کو بوڑھا بنا دے گا۔ (17) جس کی سختی سے آسمان پھٹ جائے گا (اور یہ) اللہ کا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔ (18) بےشک یہ ایک بڑی نصیحت ہے پس جو چاہے وہ اپنے پروردگار کی طرف راستہ اختیار کرے۔ (19) (اے رسول (ص)) یقیناً آپ(ص) کا پروردگار جانتا ہے کہ آپ(ص) کبھی رات کی دو تہائی کے قریب، کبھی نصف شب اور کبھی ایک تہائی (نماز کیلئے) قیام کرتے ہیں اور ایک گروہ آپ کے ساتھیوں میں سے بھی اور اللہ ہی رات اور دن کا اندازہ ٹھہراتا ہے (انہیں چھوٹا بڑا کرتا ہے) وہ جانتا ہے کہ تم لوگ (اس) وقت پر پوری طرح حاوی نہیں ہو سکتے (شمار نہیں کر سکتے) تو اس نے تمہارے حال پر توجہ (مہربانی) فرمائی تو اب جتنا قرآن تم آسانی سے پڑھ سکتے ہو اتنا ہی پڑھ لیا کرو وہ یہ بھی جانتا ہے کہ تم میں کچھ بیمار ہوں گے اور کچھ ایسے بھی ہوں گے جو اللہ کے فضل (روزی) کی تلاش میں زمین میں سفر کریں گے اور دوسرے لوگ ایسے بھی ہوں گے جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے پس اتنا قرآن پڑھو جتنا میسر ہو اور نماز قائم کرو (پابندی سے پڑھو) اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو قرضۂ حسنہ دو اور تم لوگ جو کچھ بھلائی (نیک عمل) اپنے لئے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے وہی تمہارے لئے بہتر ہے اس کا ثواب بہت بڑا ہے اور اللہ سے مغفرت طلب کرو بےشک اللہ بڑا بخشنے والا اوربڑا رحم کرنے والا ہے۔ (20)

پچھلی سورت: سورہ جن سورہ مزمل اگلی سورت:سورہ مدثر

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۹۔
  2. طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج۲۰، ص۶۰۔
  3. طبرسی، مجمع البیان، ۱۴۰۶ق، ج۱۰، ص۵۶۷۔
  4. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۱۶۶۔
  5. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۹۔
  6. مکارم شیرازی، برگزیدہ تفسیر نمونہ، ۱۳۸۲ش، ج۵، ص۳۱۱۔
  7. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  8. مکارم شیرازی ناصر، برگزیدہ تفسیر نمونہ، ۱۳۸۲ش، ج۵، ص۳۱۲۔
  9. قرائتی، تفسیر نور، ۱۳۸۸ش، ج۱۰، ص۲۶۴۔
  10. بحرانی، البرہان فی تفسیر القرآن، ۱۳۸۹ش، ج۵، ص۵۱۵۔
  11. طبرسی، مجمع البیان، ۱۴۰۶ق، ج۱۰، ص۵۶۵۔


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • بحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، قم، مؤسسہ البعثہ، قسم الدراسات الاسلامیہ، ۱۳۸۹ش۔
  • دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، بہ کوشش بہاءالدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمي للمطبوعات، چاپ دوم، ۱۹۷۴م۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار المعرفۃ، چاپ اول، ۱۴۰۶ق۔
  • قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، مرکز فرہنگی درس‌ہایی از قرآن، ۱۳۸۸ش۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چاپ اول، ۱۳۷۱ش۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، برگزیدہ تفسیر نمونہ،‌ تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۸۲ش۔

بیرونی روابط