سورہ صف

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ممتحنہ سورۂ صف جمعہ
سوره صف.jpg
ترتیب کتابت: 61
پارہ : 28
نزول
ترتیب نزول: 109
مکی/ مدنی: مدنی
اعداد و شمار
آیات: 14
الفاظ: 226
حروف: 966

سورہ صف قرآن پاک کے ۲۸ویں پارے میں اکسٹھویں سورہ ہے جو مدنی سورتوں کا حصہ ہے۔ سورے کی چوتھی آیت میں جہادیوں کی صف کا ذکر ہونے کی مناسبت سے اسے «‌صفّ‌» کہتے ہیں۔ خدا کی تسبیح و تقدیس ، گفتار و کردار میں مطابقت نہ رکھنے والوں کی سرزنش و توبیخ، دین خدا کی نہائی کامیابی اور اس کا جہانی ہونا، اس دین کو روکنے والوں کی کوششوں کا بلاثمر رہنا اور جان و مال سے جہاد کنے والوں کی حوصلہ افزائی اس سورت کے اہم عناوین ہیں۔

نَصْرٌ‌ مِّنَ اللَّہِ وَفَتْحٌ قَرِ‌یبٌ اس سورہ کی مشہور آیات میں سے ہے کہ جس میں مؤمنوں کو کامیابی کی بشارت دی گئی ہے۔ مفسرین نے اس آیت کو فتح مکہ سمیت مختلف فتوحات پر منطبق کیا ہے۔ اسی طرح فتح قریب کی تفسیر قائم آل محمد کی کامیابی سے بیان ہوئی ہے۔ اس سورت کی فضیلت تلاوت میں روایات مذکور ہیں جیسے سورہ صف صف کی تلاوت کرنے والا جب تک اس دنیا میں ہے حضرت عیسی اس پر درود بھیجتے، اس کیلئے مغفرت اور گناہوں کی بخشش کے طلبگار رہیں گے نیز وہ شخص قیامت کے روز حضرت عیسی کا رفیق ہو گا۔

تعارف

  • وجہ تسمیہ

سورہ کی چوتھی آیت میں لفظ صف آنے کی وجہ سے اس کا نام سورہ صف رکھا گیا جو جہاد کرنے والوں کی صف کی طرف اشارہ ہے۔ آخری آیات میں حواریون اور حضرت عیسی(ع) کے متعلق گفتگو ہونے کی وجہ سے سورہ حواریون اور سورہ عیسی بھی کہتے ہیں۔ حواریون حضرت عیسی(ع) کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ [1]

  • مقام و ترتیب نزول

سورہ صف مدنی سورتوں میں سے ہے اور رسول خدا پر نازل ہونے کے لحاظ سے ایک سو گیارھویں(111ویں) نمبر پر ہے۔ قرآن کی موجودہ ترتیب میں اکسٹھویں (61ویں) نمبر پر ہے۔[2] و در جزء ۲۸ قرآن جای دارد.

  • تعداد آیات و دیگر خصوصیات

سورہ صف ۱۴ آیات، ۲۲۶ کلمات اور ۹۶۶ حروف پر مشتمل ہے۔ حجم کے لحاظ سے چھوٹی آیات پر مشتمل مفصلات کا حصہ ہے۔ تسبیح خداوند سے آغاز ہونے کی وجہ سے مُسَبِّحات میں بھی شامل ہے۔[3]

مضامین کے لحاظ سے سورہ ممتحنہ کے ساتھ مناسبت رکھنے کی وجہ سے ممتحنات میں بھی شمار کرتے ہیں[4][5] [نوٹ 1]

مضامین

یہ سورت مؤمنین کو راہ خدا میں جہاد کرنے کی ترغیب دیتی ہے نیز دین اسلام کوایسے درخشان نور سے تشبیہ دیتی ہے کہ جس نور کو کافر اور اہل کتاب خاموش کرنا چاہتے ہیں لیکن خدا اس نور کو مکمل کرے گا اور اسے ہر دوسرے دین پر غلبہ عطا کریگا اگرچہ کافر اور مشرکین اس سے ناخوش ہی کیوں نہ ہوں۔ پھر اس سورہ میں آیا ہے کہ محمد(ص) خدا کا بھیجا ہوا نبی ہے اور عیسی بن مریم(ع) نے بنی‌اسرائیل کو اس نبی کے آنے کی بشارت دی تھی۔ پس مؤنوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس کی پیروی کریں اور جہاد کے ذریعے خدا کی مدد کریں۔ جس چیز پر خود عمل نہیں کرتے ہیں ہر گز کسی دوسرے کو نہ کہیں اور وعدہ کرنے کی صورت میں وعدہ خلافی نہ کریں کیونکہ یہ اعمال خدا کی ناراضگی اور اذیت کا سبب بنتے ہیں۔[6]

مشہور آیات

کردار کے بغیر گفتار

  • يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ‌ مَقْتًا عِندَ اللَّـہِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ (آیہ ۲ و ۳)

ترجمہ: اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟

اس آیت کے شأن نزول میں آیا ہے کہ مسلمانوں کا ایک گروہ کہتا تھا کہ اگر ہم جانتے ہوتے کہ خدا کے نزدیک کونسا عمل پسندیدہ ہے تو جان و مال اس میں صرف کر دیتے۔ خداوند جہاد کو بیان کیا اور انہیں غزوہ اُحد میں آزامایا لیکن وہ جنگ سے فرار کر گئے[7] اسی طعح رسول کے اصحاب میں ایسے افراد تھے جنہوں نے رسول سے مدد کا وعدہ کیا لیکن اسے وفا نہیں کیا۔ اسی طرح تفسیر قمی میں آیا ہے کہ اپنے کہے پر عمل نہ کرنے والوں میں اصحاب پیامبر(ص) ہیں کہ جنہوں نے رسول سے مدد کا وعدہ اور ان کے فرمان کی مخالفت اور حضرت علی کے معاملے میں رسول سے کئے وعدہ کی یمان شکنی نہیں کریں گے۔ لیکن خدا نے رسول کو اس سے مطلع کیا کہ وہ اپنے وعدے کو پورا نہیں کریں گے۔ [8]

آیت نصر من اللہ

اصل مضمون: آیت نصر من اللہ
  • نَصْرٌ‌ مِّنَ اللَّہِ وَفَتْحٌ قَرِ‌یبٌ وَبَشِّرِ‌ الْمُؤْمِنِینَ(آیہ ۱۳)

ترجمہ: اللہ کی مدد اور قریبی فتح و کامیابی اور ایمان والوں کو بشارت دے دیجئے۔

فتح قریب سے کونسی کامیابی مراد ہے۔ اس میں مفسرین کے درمیان اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ بہت سے مفسرین اس کی تفسیر فتح مکہ سے کی ہے، بعض نے ایران و روم کی سرزمینوں اور بعض نے نزدیک کی تمام فتوحات اسلامی کا کہا ہے[9] تفسیر قمی آمدہ میں اس سے مراد قائم آل محمد کی کامیابی مراد بیان ہوئی ہے۔[10] یہ آیت شیعوں کے درمیان یا کم سے کم ایرانیوں کے درمیان ایک شعار کی حیثیت حاصل کر چکی ہے لہذا لوگ مختلف مناسبتوں کے موقع پر اس آیت کو پرچم پر لکھ کر بلند کرتے ہیں۔[حوالہ درکار]


فضیلت اور خواص

سورہ صف کی تلاوت میں پیامبر(ص) سے مروی ہے: جو کوئی سورہ حضرت عیسی (سورہ صف) کی تلاوت کرے گا جب تک وہ اس دنیا میں رہے گا حضرت عیسی اس پر درور بھیجتے رہیں گے اور اس کیلئے مغفرت گناہوں سے استغفار کرتے رہیں گے نیز قیامت کے دن ایسا وہ شخص حضرت عیسی(ع) کے ہمراہ ہو گا۔[11] امام محمدباقر(ع) سے روایت ہے کہ واجن اور مستحب نمازوں میں ہمیشہ اس سورت کی تلاوت کرنے کو خدا فرشتوں اور انبیائے الہی کی صف میں رکھے گا۔[12]

تاریخی روایات

اسس سورت سے مربوط تاریخی روایات:

  • موسی کی اپنی قوم طرف سے پہنچنے والی اذیتوں کی شکایت(آیہ ۵)،
  • عیسی(ع) کا بنی‌اسرائیل کو نبوت محمد(ص) کی بشارت دینا، معجزات کا لانا اور ان پر سحر کی تہمت۔ (آیہ ۶)،
  • حواریون سے حضرت عیسی کی گفتگو، بنی‌اسرائیل کے بعض افراد کے ایمان اور بعض کے کُفر کا ذکر۔ (آیہ ۱۴).

متن سورہ

سورہ صف
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـہِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

سَبَّحَ لِلَّہِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَہُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿1﴾ يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آَمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ ﴿2﴾ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّہِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ ﴿3﴾ إِنَّ اللَّہَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِہِ صَفًّا كَأَنَّہُم بُنيَانٌ مَّرْصُوصٌ ﴿4﴾ وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِہِ يَا قَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنِي وَقَد تَّعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّہِ إِلَيْكُمْ فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّہُ قُلُوبَہُمْ وَاللَّہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ ﴿5﴾ وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّہِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُہُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءہُم بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا ہَذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ ﴿6﴾ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّہِ الْكَذِبَ وَہُوَ يُدْعَى إِلَى الْإِسْلَامِ وَاللَّہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴿7﴾ يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّہِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَاللَّہُ مُتِمُّ نُورِہِ وَلَوْ كَرِہَ الْكَافِرُونَ ﴿8﴾ ہُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہُ عَلَى الدِّينِ كُلِّہِ وَلَوْ كَرِہَ الْمُشْرِكُونَ ﴿9﴾ يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آَمَنُوا ہَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿10﴾ تُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَتُجَاہِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّہِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿11﴾ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿12﴾ وَأُخْرَى تُحِبُّونَہَا نَصْرٌ مِّنَ اللَّہِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ﴿13﴾ يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آَمَنُوا كُونوا أَنصَارَ اللَّہِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّينَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّہِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّہِ فَآَمَنَت طَّائِفَةٌ مِّن بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَفَرَت طَّائِفَةٌ فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آَمَنُوا عَلَى عَدُوِّہِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاہِرِينَ ﴿14﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے اللہ کی تسبیح کرتی ہے اور وہ (سب پر) غالب ہے (اور) بڑا حکمت والا ہے۔ (1) اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ (2) اللہ کے نزدیک یہ بڑی ناراضی کی بات ہے کہ تم کہو ایسی بات جو کرو نہیں۔ (3) بےشک خدا ان (مجاہدوں) کو دوست رکھتا ہے جو اس کی راہ میں یوں صف بستہ ہو کر (پَراجما کر) جنگ کرتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ (4) اور وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ(ع) نے اپنی قوم سے کہا کہ میری قوم! تم کیوں مجھے اذیت دیتے ہو؟ حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا(بھیجا ہوا) رسول ہوں۔ پس جب وہ لوگ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو (اور بھی) ٹیڑھا کر دیا اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا (انہیں منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا) (5) اور وہ وقت یاد کرو جب عیسیٰ(ع) بن مریم(ع) نے کہا کہ اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا (بھیجا ہوا) رسول ہوں میں اس تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے آئی ہے (اور جو موجود ہے) اورخوشخبری دینے والا ہوں ایک رسول(ص) کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد(ص) ہوگا پھر جب وہ کھلی نشانیاں (معجزے) لے کر ان کے پاس آئے تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ تو کھلا ہو جادو ہے۔ (6) اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہے اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا (انہیں منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا) (7) یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ (پھونکوں) سے بجھا دیں حالانکہ اللہ اپنے نور کو کامل کرکے رہے گا اگرچہ کافر لوگ ناپسند ہی کریں۔ (8) وہ وہی ہے جس نے اپنے رسول(ص) کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین ناپسند کریں۔ (9) اے ایمان والو! کیا میں تمہیں ایک تجارت بتا‎ؤں جو (اگر کرو تو) تمہیں دردناک عذاب سے بچالے۔ (10) (اور وہ یہ ہے کہ) تم اللہ اور اس کے رسول(ص) پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کرو یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔ (11) (اگر ایسا کروگے تو) اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں ان باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور ان پاکیزہ مکانوں میں داخل کرے گا جو ہمیشہ رہنے والے باغات میں ہوں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ (12) اور ایک اور چیز بھی ہے جسے تم پسند کرتے ہو (وہ اس کے علاوہ ہے) یعنی اللہ کی مدد اور قریبی فتح و کامیابی اور ایمان والوں کو بشارت دے دیجئے۔ (13) اے ایمان والو! اللہ کے (دین کے) انصار و مددگار بنو جیسا کہ عیسٰی(ع) بن مریم(ع) نے حواریوں سے کہا تھا کہ اللہ کی طرف بلانے میں کون میرا مددگار ہے؟ حواریوں نے (جواب میں) کہا ہم اللہ کے (دین کے) مددگار ہیں تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لایا اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا تو جو ایمان لائے تھے ہم نے ان کے دشمن کے مقابلہ میں ان کی تائید کی پس وہ غالب ہو گئے۔ (14)

پچھلی سورت:
سورہ ممتحنہ
قرآن کریم اگلی سورت:
سورہ جمعہ
سورہ 61

١.فاتحہ ٢.بقرہ ٣.آل‌عمران ٤.نساء ٥.مائدہ ٦.انعام ٧.اعراف ٨.انفال ٩.توبہ ١٠.یونس ١١.ہود ١٢.یوسف ١٣.رعد ١٤.ابراہیم ١٥.حجر ١٦.نحل ١٧.اسراء ١٨.کہف ١٩.مریم ٢٠.طہ ٢١.انبیاء ٢٢.حج ٢٣.مؤمنون ٢٤.نور ٢٥.فرقان ٢٦.شعراء ٢٧.نمل ٢٨.قصص ٢٩.عنکبوت ٣٠.روم ٣١.لقمان ٣٢.سجدہ ٣٣.احزاب ٣٤.سبأ ٣٥.فاطر ٣٦.یس ٣٧.صافات ٣٨.ص ٣٩.زمر ٤٠.غافر ٤١.فصلت ٤٢.شوری ٤٣.زخرف ٤٤.دخان ٤٥.جاثیہ ٤٦.احقاف ٤٧.محمد ٤٨.فتح ٤٩.حجرات ٥٠.ق ٥١.ذاریات ٥٢.طور ٥٣.نجم ٥٤.قمر ٥٥.رحمن ٥٦.واقعہ ٥٧.حدید ٥٨.مجادلہ ٥٩.حشر ٦٠.ممتحنہ ٦١.صف ٦٢.جمعہ ٦٣.منافقون ٦٤.تغابن ٦٥.طلاق ٦٦.تحریم ٦٧.ملک ٦٨.قلم ٦٩.حاقہ ٧٠.معارج ٧١.نوح ٧٢.جن ٧٣.مزمل ٧٤.مدثر ٧٥.قیامہ ٧٦.انسان ٧٧.مرسلات ٧٨.نبأ ٧٩.نازعات ٨٠.عبس ٨١.تکویر ٨٢.انفطار ٨٣.مطففین ٨٤.انشقاق ٨٥.بروج ٨٦.طارق ٨٧.اعلی ٨٨.غاشیہ ٨٩.فجر ٩٠.بلد ٩١.شمس ٩٢.لیل ٩٣.ضحی ٩٤.شرح ٩٥.تین ٩٦.علق ٩٧.قدر ٩٨.بینہ ٩٩.زلزلہ ١٠٠.عادیات ١٠١.قارعہ ١٠٢.تکاثر ١٠٣.عصر ١٠٤.ہمزہ ١٠٥.فیل ١٠٦.قریش ١٠٧.ماعون ١٠٨.کوثر ١٠٩.کافرون ١١٠.نصر ١١١.مسد ١١٢.اخلاص ١١٣.فلق ١١٤.ناس


حوالہ جات

  1. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۵.
  2. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۶.
  3. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۵.
  4. رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰و۵۹۶.
  5. فرہنگ‌نامہ علوم قرآن، ج۱، ص۲۶۱۲.
  6. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۹، ص ۲۴۸
  7. واحدی، أسباب النزول، ۱۴۱۱ق، ص۴۴۸
  8. قمی، تفسیر قمی، ۱۳۶۷ش، ج۲، ص۳۶۵
  9. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج۲۴، ص۹۱
  10. قمی، تفسیر قمی، ۱۳۶۷ش، ج۲، ص۳۶۶
  11. طبرسی، مجمع البیان، ج۹، ص۴۵۹
  12. شیخ صدوق، ثواب الاعمال، ۱۴۰۶ق، ص۱۱۸
  1. ممتحنات: سیوطی نے قرآن کی ۱۶ سورتوں کو ممتحنات کا نام دیا ہے۔رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۵۹۶ ممتحنات میں فتح، حشر، سجدہ، طلاق، قلم، حجرات، تبارک، تغابن، منافقون، جمعہ، صف، جن، نوح، مجادلہ، ممتحنہ اور تحریم شامل ہیں۔(رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰.)

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • رامیار، محمود، تاریخ قرآن، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۶۲ش.
  • دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲،(کوشش) بہاءالدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش.
  • شیخ صدوق، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، قم، دار الشریف الرضی، چاپ دوم، ۱۴۰۶ق.
  • طباطبائی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ق
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بہ تصحیح فضل‌اللہ یزدی طباطبایی و ہاشم رسولی، تہران، ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲ش.
  • فرہنگ‌نامہ علوم قرآن، قم، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم.
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر قمی، قم،‌دار الکتاب، چاپ چہارم، ۱۳۶۷ش.
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چ۱، ۱۳۷۱ش.
  • مکارم شیرازی، ناصر،‌ تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ اول، ۱۳۷۴ش
  • واحدی، علی بن احمد، أسباب نزول القرآن، بیروت، دار الکتب العلمیہ، چاپ اول، ۱۴۱۱ق.