ثقل اکبر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ثِقْل اکبر ایک ایسی صفت ہے جسے پیغمبر اکرمؐ نے حدیث ثقلین میں قرآن کے لئے استعمال فرمایا ہے۔ ثِقْل کے معنی سنگین اور وزنی سامان[1] اور ثَقَل کے معنی ہر قیمتی اور گرانبہا چیز کے ہیں۔[2] نویں صدی ہجری کے لغت شناس فیروزآبادی کے مطابق حدیث ثقلین لفظ "ثقلین" ثَقَل سے لیاب گیا ہے۔[3]

حدیث ثقلین کے بعض نسخوں کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے اس حدیث میں قرآن کو ثقل اکبر اور اپنی عترت کو ثقل اصغر کے نام سے یاد کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر میری امت ان دونوں سے تمسک کریں تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہونگے۔[4]اسی طرح پیغمبر اکرمؐ نے خطبہ غدیر میں بھی قرآن کو ثقل اکبر اور حضرت علیؑ اور اپنی پاک و پاکیزہ نسل کو ثقل اصغر کے نام سے یاد فرمایا ہے۔[5]

امام علیؑ نے بھی مختلف مواقع پر اپنے آپ کو ثقل اصغر اور قرآن کریم کو ثقل اکبر کے نام سے یاد کیا ہے؛ من جملہ یہ کہ نہج البلاغہ کے ایک خطبے[6] اور کمیل بن زیاد کو اپنی سفارش میں اس نکتے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔[7]

قرآن مجید کو اس صفت سے متصف کرنے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ عترت اور اہل بیت قرآن کے تابع ہیں، قرآن کو اہل بیت سے بلند مرتبہ قرار دیا گیا ہے۔[8] بعض مورخین کہتے ہیں: چونکہ قرآن کریم پیغمبر اکرمؐ کا معجزہ اور دین کی اساس اور بنیاد ہے اس بنا پر اہل بیت سے بلند مرتبہ قرار دیا گیا ہے۔[9]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. ابن‌منظور، لسان‌العرب، ۱۴۱۴ق، ج۱۱، ص۸۵ (ذیل واژہ ثقل)۔
  2. فیروزآبادی، القاموس المحیط، ۱۴۲۶ق، ص۹۷۲ (ذیل واژہ ثقل)۔
  3. فیروزآبادی، القاموس المحیط، ۱۴۲۶ق، ص۹۷۲ (ذیل واژہ ثقل)۔
  4. عیاشی، تفسیرالعیاشی، ۱۳۸۰ق، ج۱، ص۵۔
  5. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۱۲؛ ابن‌طاووس، اقبال‌الاعمال، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۴۵۶۔
  6. نہج‌البلاغہ، خطبہ۸۷۔
  7. مجلسی، بحارالانوار، ۱۳۹۰ق، ج۷۴، ص۳۷۵۔
  8. بحرانی، شرح نہج البلاغہ، ۱۴۰۴ق، ج۲،ص۱۸۷۔
  9. خویی، مِنْہاجُ البَراعہ، ۱۴۰۰ق، ج۵ ص۲۳۴۔

منابع

  • ابن‌طاووس، علی بن موسی، اقبال‌الاعمال، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۹ق۔
  • ابن‌منظور، محمد بن مکرم، لسان‌العرب، تصحیح احمد فارس، بیروت،‌ دار الفکر الطباعہ و النشر و التوزیع و دار صادر، ۱۴۱۴ق۔
  • بحرانی، ابن‌میثم، شرح نہج‌البلاغہ، قم مطبعہ حیدری، ۱۴۰۴ق۔
  • خویی ، میرزاحبیب اللہ، مِنْہاجُ البَراعہ فی شَرْح نَہجُ البَلاغَۃ، تصحیح سید ابراہیم میانجی، تہران، مکتبۃالاسلامیۃ، ۱۴۰۰ق۔
  • عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیرالعیاشی، تحقیق سید ہاشم رسولی محلاتی، چاپخانہ علمیہ، تہران، ۱۳۸۰ق۔
  • فیروزآبادی، محمد بن یعقوب، القاموس المحیط،‌ بیروت، مؤسسۃالرسالۃ، ۱۴۲۶ق/۲۰۰۵م۔
  • مجلسی، محمدباقر، بِحارُالاَنوار الجامِعَۃُ لِدُرَرِ أخبارِ الأئمۃِ الأطہار، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۹۰ق۔
  • یعقوبی، احمد، تاریخ یعقوبی، بیروت،‌ دار صادر، (بی‌تا)۔