سورہ روم

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عنکبوت سورۂ روم لقمان
سوره روم.jpg
ترتیب کتابت: 30
پارہ : 21
نزول
ترتیب نزول: 84
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 60
الفاظ: 820
حروف: 3472

سوره روم قرآن کی تیسویں (30ویں) سورت ہے جو ۲۱ویں پارے میں واقع ہے اور اسے مکی سورتوں میں شمار کرتے ہیں۔ اس سورت میں مستقبل میں ایرانیوں کے ہاتھوں رومیوں کی شکست کی خبر کی وجہ سے اسے روم کا نام دیا گیا ہے۔ اس سورت میں حروف مقطعات کے بعد لفظ روم آیا ہے۔

یہ سورت نصرت الہی کے وعدے، نفوس اور آفاق کی سیر، تکوینی اور تشریعی قوانین کے متعلق گفتگو کرتی ہے نیز ازدواج، مودت، انسانوں میں فطری رحمت، محتاجوں کی دستگیری اور سودخوری سے ممنوعت اس کے مضامین ہیں۔ آیت فطرت اس کی مشہور آیات میں سے ہے جس میں سرشت الہی اور خلقت انسان کے موضوع کو بیان کرتی ہے اور انسان کے خدا اور دین کی طرف رجحان کو اس کی فطرت کا حصہ قرار دیتی ہے۔

تعارف

  • وجہ تسمیہ

اس سورہ کے شروع میں مذکور «روم» کو دیکھتے ہوئے اس سورہ کا نام رکھا گیا ہے جس میں مستقل کی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رومی ایرانیوں کے ہاتھوں اور پھر چند سال بعد ایرانی رومیوں کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونگے۔[1]

  • ترتیب اور مقام نزول

سوره روم مکی سورتوں کا حصہ ہے اور رسول خدا پر نازل ہونے سورتوں ترتیب نزول کے مطابق چوراسیویں مقام پر ہے۔ قرآن کی موجودہ ترتیب میں تیسویں (30ویں) نمبر ہے اور قرآن کے اکیسویں پارے میں واقع ہے۔[2]

  • تعداد آیات و دیگر خصوصیات

سوره روم سولہویں سورت ہے جو حروف مقطعہ سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں آیات کی تعداد ۶۰ ، ۸۲۰ کلمات اور ۳۴۷۲ حروف ہیں نیز حجم کے لحاظ سے مثانی سورتوں کا حصہ ہے قرآن کے ایک حزب پر مشتمل ہے۔[3]

مضامین

خدا کی طرف سے دین اور مومنین کی حمایت کا قطعی وعدہ، انفس اور آفاق کی سیر، گروہوں کی جدائی اور ان کی سرنوشت، دعوت توحید، فطرت انسان، کائنات میں رونما ہونے والے واقعات اور لوگوں کے اعمال کا بلا واسطہ ارتباط، انسانی روش و رفتار کی فتنہ و فساد کے ظہور میں تاثیر، مسألہ اختلاف، تفرقہ اور گروہبندی کے نقصانات اور ان کے دین اور معاشرے پر منفی اثرات اس سورت کے اصلی مضامین ہیں۔[4] کچھ قوانین خلقت اور سُنن الہی جیسے مسألۂ زوجیت، مودت اور انسانوں کے درمیان فطری رحم کا ہونا، اختلاف شب و روز، انسانوں کی زبانیں اور انکے رنگ، نزول باران،احیائے زمین مردہ، فضام میں زمین و آسمان کا قائم رہنا کی بھی وضاحت دی گئی ہے۔ اسی طرح رباخوری کی ممنوعیت،اپنے عزیزوں اور محتاجوں دستگیری جیسے عناوین کی تاکید کی گئی ہے۔[5]

ابتدائی آیات کا شان نزول

سوره روم کی ابتدائی آیات کے شان نزول کو ایران و روم کے درمیان ہونے والی جنگ سے مربوط سمجھتے ہیں؛ کیونکہ ایرانیوں کے رومیوں پر غلبے کو مکہ کے مشرکین نیک فال سمجھتے تھے اور اسے اپنی حقانیت پر دلیل سمجھتے تھے نیز کہتے:ایرانی مجوسی اور مشرک جبکہ رومی مسیحی اور اہل کتاب ہیں جس طرح ایرانی اہل کتاب پر کامیاب ہوئے ہیں اسی طرح آخری کامیابی مشرکوں کی ہے اور اسلام کی بساط لپیٹی جائے گی۔ اس نتیجے کی اگرچہ کوئی اساس اور بنیاد نہیں تھی لیکن اس منفی پرپیگنڈے کی فضا نے مسلمانوں کیلئے حالات سخت کر دئے اسی وجہ سے روم کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں اور رومیوں کی ایرانیوں پر فتح کی خبر دی گئی ۔ ان آیات کے نزول نے مسلمانوں کے دلوں میں حرارت پیدا کر دی یہان تک کہ بعض مسلمان مشرکین کے ساتھ اس سلسلے میں شرط بندی کرتے تھے۔[6]

مشہور آیات

آیت فطرت

اصل مضمون: آیت فطرت

فَأَقِمْ وَجْهَک لِلدِّینِ حَنِیفًا ۚ فِطْرَ‌تَ اللَّهِ الَّتِی فَطَرَ‌ النَّاسَ عَلَیهَا ۚ لَا تَبْدِیلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِک الدِّینُ الْقَیمُ وَلَٰکنَّ أَکثَرَ‌ النَّاسِ لَا یعْلَمُونَ﴿۳۰﴾

ترجمہ:پس (اے رسول(ص)) آپ باطل سے کنارہ کش ہوکر اپنا رخ دین (حق) کی طرف رکھیں یعنی اس (دینِ) فطرت کی پیروی کریں جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہے یہی سیدھا دین ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

یہ آیت فطرت کے نام سے مشہور ہے جس میں فطرت الہی اور انسانوں کی تخلیق کا موضوع بیان ہوا ہے نیز انسان کے دین اور خدا کی طرف رجحان کو فطری کہا گیا ہے[7] علامه طباطبائی مراد از دین در این آیت را دین اسلام می‌داند.[8]

آیت عدم خلف میعاد

وَعْدَ اللَّهِ ۖ لَا یخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَٰکنَّ أَکثَرَ‌ النَّاسِ لَا یعْلَمُونَ﴿۶﴾

ترجمہ:یہ اللہ کا وعدہ ہے اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

اس آیت میں خدا کی طرف سے کلی طور اس کی وعدہ خلافی کی نفی بیان ہوئی ہے۔ علامہ طباطبائی اس آیت کے ذی میں قائل ہیں کہ بعض اضطراری مقامات پر وعدہ خلافی ایک پسندیدہ امر ہوتا ہے اسی وجہ سے کہہ سکتے ہیں کہ اس میں ذاتی قبح موجود نہیں ہے۔ لیکن کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے جو خدا کو وعدہ خلافی پر مجبور کرے پس اس بنا پر خدا کی نسبت وعدہ خلافی ایک ناپسندیدہ اور قبیح امر ہے نیز خلف کمی کا بیان گر ہے جبکہ خدا ایسا کامل ہے کہ جس میں کمی کا ہونا محال ہے؛ لہذا اس بنا پر خداوند اپنے وعدے پر عمل کرتا ہے۔[9]

آیات سفر (۹ اور ۴۲)

أَوَلَمْ یسِیرُ‌وا فِی الْأَرْ‌ضِ فَینظُرُ‌وا کیفَ کانَ عَاقِبَةُ الَّذِینَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ کانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُ‌وا الْأَرْ‌ضَ وَعَمَرُ‌وهَا أَکثَرَ‌ مِمَّا عَمَرُ‌وهَا وَجَاءَتْهُمْ رُ‌سُلُهُم بِالْبَینَاتِ ۖ فَمَا کانَ اللَّهُ لِیظْلِمَهُمْ وَلَٰکن کانُوا أَنفُسَهُمْ یظْلِمُونَ ﴿۹﴾ قُلْ سِیرُ‌وا فِی الْأَرْ‌ضِ فَانظُرُ‌وا کیفَ کانَ عَاقِبَةُ الَّذِینَ مِن قَبْلُ ۚ کانَ أَکثَرُ‌هُم مُّشْرِ‌کینَ ﴿۴۲﴾

ترجمہ:آیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں ہیں کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا؟ وہ قوت میں ان سے زیادہ مضبوط تھے اور انہوں نے ان سے زیادہ زمین کو جَوتا بویا اور آباد کیا تھا۔ اور ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے تو اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے۔﴿۹﴾(اے رسول(ص)) آپ کہہ دیجئے! کہ زمین میں چلو پھرو۔ پھر دیکھو کہ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا انجام کیسا ہوا؟ ان میں سے اکثر مشرک تھے۔﴿۴۲﴾

ان آیات میں گذشتہ امتوں کے آثار کی سیر و سیاحت اور ان کے انجاموں سے عبرت کے حصول کو مسلمانوں کیلئے ضروری کہا گیا ہے۔ [10]

آیات تسبیح

فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِینَ تُمْسُونَ وَحِینَ تُصْبِحُونَ ﴿۱۷﴾ وَلَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَ عَشِیا وَ حِینَ تُظْهِرُ‌ونَ ﴿۱۸﴾

ترجمہ:پس تم جب شام کرو اور جب صبح کرو تو اللہ کی تسبیح کرو (اس کی پاکیزگی بیان کرو)۔اور آسمانوں میں اور زمین میں اور سہ پہر کو اور جب تم ظہر کرتے ہو ساری حمد و ثنا اسی خدا کے لئے ہے۔

ابتدا اور معاد کی بحث اور مومنین اور مشرکین کی جزا و سزا کے بعد ان آیات میں خدا نے اپنی تسبیح، تحمید اور تنزیہ کو بیان کیا۔ بعض مفسران نے ان آیات میں تسبیح کی تفسیر اوقات نماز سے کی ہے۔[11] بعض تمام اوقات میں تسبیح کرنا مراد لیتے ہیں۔[12]

آیت ازدواج

وَمِنْ آیاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَکم مِّنْ أَنفُسِکمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْکنُوا إِلَیهَا وَجَعَلَ بَینَکم مَّوَدَّةً وَرَ‌حْمَةً ۚ إِنَّ فِی ذَٰلِک لَآیاتٍ لِّقَوْمٍ یتَفَکرُ‌ونَ﴿۲۱﴾ |ترجمه=اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت (نرم دلی و ہمدردی) پیدا کر دی۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کیلئے بہت نشانیاں ہیں۔

خداوند اپنی آیات کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں سے تمہارے ہی نفوس سے ازواج کی تخلیق ہے کہ جو انسان کی زندگی کے آرام اور تکامل کا موجب ہے نیز ان کے درمیان موجود محبت و مودت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔[13]

آیت ۶۰

فَاصْبِرْ‌ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ وَلَا یسْتَخِفَّنَّک الَّذِینَ لَا یوقِنُونَ﴿۶۰﴾ (اے رسول(ص)) آپ صبر و ثبات سے کام لیں۔ بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ آپ کو (جوش دلا کر) بے برداشت نہ کر دیں۔

وعدہ الہی کے تحقق کی امید پر مشکلات پر صبر کرنے کی دوت دینا اور دوسروں کے با ایمان نہ ہونے کی وجہ سے صراط مستقیم سے نہ ہٹنا اس آیت کا اصلی پیغام ہے۔[14]

آیات احکام

وَمَا آتَیتُم مِّن رِّ‌بًا لِّیرْ‌بُوَ فِی أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یرْ‌بُو عِندَ اللَّهِ ۖ وَمَا آتَیتُم مِّن زَکاةٍ تُرِ‌یدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولَٰئِک هُمُ الْمُضْعِفُونَ﴿۳۹﴾

ترجمہ:اور جو چیز (روپیہ) تم اس لئے سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں شامل ہوکر بڑھ جائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا اور جو زکوٰۃ تم خوشنودئ خدا کیلئے دیتے ہو ایسے ہی لوگ اپنا مال (کئی گنا) بڑھانے والے ہیں۔

مفسرین ایک جماعت یہاں ربا سے وہی حرام سود مراد لیتی ہے۔ ایک اور جماعت یہاں اس سود سے مراد حلال سود مراد لیتی ہے کہ جو ہدیہ کی نیت سے دوسروں کو دیتے ہیں تا کہ اس کے جواب میں طرف مقابل سے زیادہ لیں۔ [15] محمدجواد مغنیہ تفسیر الکاشف میں اس بات کے معتقد ہیں کہ اس آیت کو دونوں معنا پر حمل کریں اور مقصود یہ ہے کہ خدا کے نزدیک دونوں قسموں والے پاداش و جزا کے مستحق نہیں ہیں البتہ پہلی قسم میں سزا ہے جبکہ دوسری قسم میں نہ سزا اور نہ جزا ہے۔ اس کے مقابلے جو خدا کی راہ میں انفاق کرتے ہیں اس دنیا میں ان کے مال میں اضافہ اور آخرت میں انہیں زیادہ اجر دیا جائے گا۔[16]

فضائل اور خواص

اس ورت کی تلاوت میں مروی ہے: جو بھی سورہ روم کی تلاوت کرے گا زمین و آسمان میں خدا کی تسبیح کرنے والے فرشتوں کی تسبیح سے دس گنا زیاہ اجر اسے دیا جائے گا اور شب و روز میں کھو جانے والی چیز کو پا لے گا[17] ثواب الاعمال میں امام صادق(ع) سے منقول ہے: سوره روم اور عنکبوت کی تئیسویں ماہ رمضان کی رات کی تلاوت کا اجر بہشت ہے پھر فرمایا: مجھے اطمینان ہے کہ یہ دو سورتیں خدا کے بہت ارزشمند ہیں۔[18]

بعض حدیثی کتب میں آیا ہے کہ جو کوئی اس سورت کی ۱۸-۱۷ آیات عصر کے وقت تلاوت کرے گا اس رات اس شخص کوئی خیر اور اچھائی اس سے فوت نہیں ہو گی اور تمام برائیاں اس سے دور رہے گیں اور جو انہیں صبح کے وقت تلاوت کریگا یہی فوائد اسے دن کو حاصل ہوں گے۔[19] سورہ روم کی (۱۸-۱۷) کی تلاوت کرنے والے کو بہشت کا وعدہ دیا گیا ہے۔[20]

سورہ روم کے مضامین[21]
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مؤمنوں کی کامیابی اور کافروں کی شکست کا وعدہ پورا کرنے میں خدا کی قدرت کا اثبات
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
خاتمہ؛ آیہ ۵۵ - ۶۰
اگرچہ کافر نہ مانیں لکین اللہ کا وعدہ سچ ہے
 
ساتویں دلیل؛ آیہ ۵۴
انسان کے بچپن سے بڑھاپے تک تمام حالات پر اللہ کی قدرت
 
چھٹی دلیل؛ آیہ ۴۸ - ۵۳
زمین زندہ کرنے پر اللہ کی قدرت
 
پانچویں دلیل؛ آیہ ۴۰ - ۴۷
انسان کو خلق کرنے اور رزق دینے پر اللہ کی قدرت
 
چوتھی دلیل؛ آیہ ۲۷ - ۳۹
کائنات کی خلقت میں اللہ کی وحدانیت
 
تیسری دلیل؛ آیہ ۲۰ - ۲۶
اللہ کے ذریعے انسانی زندگی کے تدبیر کی نشانیاں
 
دوسری دلیل؛ آیہ ۹ - ۱۹
کافروں پر عذاب میں اللہ کی سنت
 
پہلی دلیل؛ آیہ ۸
نظامِ خلقت کا باہدف ہونا
 
مقدمہ؛ آیہ ۱ - ۷
اللہ کے تمام وعدے پورا ہونا حتمی‌ ہے
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۵۵ - ۵۷
کافروں کا دنیا اور آخرت دونوں میں باطل کی طرف رغبت
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۴۸ - ۵۰
زمین زندہ ہونا اللہ کا مردوں کو زندہ کرنے پر قدرت کی نشانی
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۴۰
انسان کی خلقت اور اسے رزق دینے میں اللہ کی وحدانیت
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۲۷
کائنات کی خلقت اللہ کے لئے آسان ہونا
 
پہلی نشانی؛ آیہ ۲۰
مٹی سے انسان کی خلقت
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۹ - ۱۰
سابقہ امتوں میں کافروں کی ہلاکت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۵۸ - ۵۹
قرآنی تعلیمات نہ ماننے پر کافروں کی ضد
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۵۱ - ۵۳
اللہ کی قدرت دیکھ کر مشرکوں کا سبق نہ لینا
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۴۱ - ۴۲
گناہ اور شرک کی عاقبت
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۲۸ - ۲۹
خلقت میں خدا کی یکتائی کی ایک مثال
 
دوسری نشانی؛ آیہ ۲۱
شریک حیات کی خلقت
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۱۱ - ۱۶
قیامت میں مؤمنوں کو اجر اور کافروں کو سزا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۶۰
اللہ کا وعدہ پورا ہونے میں کوئی شک نہیں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۴۳ - ۴۶
شرک ترک کرنے اور توحید کا حکم
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۳۰ - ۳۲
یکتا پرستی اور انسانی فطرت میں ہم آہنگی
 
تیسری نشانی؛ آیہ ۲۲
انسانوں میں فرق
 
نتیجہ؛ آیہ ۱۷ - ۱۹
انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے میں اللہ کی قدرت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۴۷
مؤمنوں کی مدد اور کافروں پر عذاب میں اللہ کی سنت
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۳۳ - ۳۵
سختیوں میں اللہ کی طرف توجہ، توحید فطری ہونے کی علامت
 
چوتھی نشانی؛ آیہ ۲۳
سونے کا منظم پلان اور انسان کی کوشش
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچواں مطلب؛ آیہ ۳۶ - ۳۹
سختوں سے مقابلہ اور نعمتوں کے ادراک کا صحیح طریقہ
 
پانچویں نشانی؛ آیہ ۲۴
باران کا نزول
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چھٹی نشانی؛ آیہ ۲۵ - ۲۶
آسمان اور زمین کا اللہ کے فرمان کی پیروی
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 


متن اور ترجمہ

سورہ روم
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

الم ﴿1﴾ غُلِبَتِ الرُّومُ ﴿2﴾ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ﴿3﴾ فِي بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ ﴿4﴾ بِنَصْرِ اللَّهِ يَنصُرُ مَن يَشَاء وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ﴿5﴾ وَعْدَ اللَّهِ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿6﴾ يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ ﴿7﴾ أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنفُسِهِمْ مَا خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَاء رَبِّهِمْ لَكَافِرُونَ ﴿8﴾ أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا الْأَرْضَ وَعَمَرُوهَا أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَاءتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ﴿9﴾ ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِينَ أَسَاؤُوا السُّوأَى أَن كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَكَانُوا بِهَا يَسْتَهْزِؤُون ﴿10﴾ اللَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴿11﴾ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُونَ ﴿12﴾ وَلَمْ يَكُن لَّهُم مِّن شُرَكَائِهِمْ شُفَعَاء وَكَانُوا بِشُرَكَائِهِمْ كَافِرِينَ ﴿13﴾ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ ﴿14﴾ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَهُمْ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ ﴿15﴾ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاء الْآخِرَةِ فَأُوْلَئِكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُونَ ﴿16﴾ فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ ﴿17﴾ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ ﴿18﴾ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَكَذَلِكَ تُخْرَجُونَ ﴿19﴾ وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ ﴿20﴾ وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴿21﴾ وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ ﴿22﴾ وَمِنْ آيَاتِهِ مَنَامُكُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَاؤُكُم مِّن فَضْلِهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ ﴿23﴾ وَمِنْ آيَاتِهِ يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاء مَاء فَيُحْيِي بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴿24﴾ وَمِنْ آيَاتِهِ أَن تَقُومَ السَّمَاء وَالْأَرْضُ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْأَرْضِ إِذَا أَنتُمْ تَخْرُجُونَ ﴿25﴾ وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ ﴿26﴾ وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَى فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿27﴾ ضَرَبَ لَكُم مَّثَلًا مِنْ أَنفُسِكُمْ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن شُرَكَاء فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنتُمْ فِيهِ سَوَاء تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴿28﴾ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ فَمَن يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ ﴿29﴾ فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿30﴾ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿31﴾ مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ﴿32﴾ وَإِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُم مُّنِيبِينَ إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا أَذَاقَهُم مِّنْهُ رَحْمَةً إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ ﴿33﴾ لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ فَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ﴿34﴾ أَمْ أَنزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطَانًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوا بِهِ يُشْرِكُونَ ﴿35﴾ وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوا بِهَا وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ إِذَا هُمْ يَقْنَطُونَ ﴿36﴾ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاء وَيَقْدِرُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ﴿37﴾ فَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ ذَلِكَ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿38﴾ وَمَا آتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِندَ اللَّهِ وَمَا آتَيْتُم مِّن زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ ﴿39﴾ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ هَلْ مِن شُرَكَائِكُم مَّن يَفْعَلُ مِن ذَلِكُم مِّن شَيْءٍ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴿40﴾ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴿41﴾ قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلُ كَانَ أَكْثَرُهُم مُّشْرِكِينَ ﴿42﴾ فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيِّمِ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ ﴿43﴾ مَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَنفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ ﴿44﴾ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِن فَضْلِهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ ﴿45﴾ وَمِنْ آيَاتِهِ أَن يُرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّحْمَتِهِ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿46﴾ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ رُسُلًا إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَاؤُوهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَانتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ ﴿47﴾ اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاء كَيْفَ يَشَاء وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ فَإِذَا أَصَابَ بِهِ مَن يَشَاء مِنْ عِبَادِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ ﴿48﴾ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلِ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْهِم مِّن قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ ﴿49﴾ فَانظُرْ إِلَى آثَارِ رَحْمَتِ اللَّهِ كَيْفَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ ذَلِكَ لَمُحْيِي الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿50﴾ وَلَئِنْ أَرْسَلْنَا رِيحًا فَرَأَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوا مِن بَعْدِهِ يَكْفُرُونَ ﴿51﴾ فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاء إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ ﴿52﴾ وَمَا أَنتَ بِهَادِي الْعُمْيِ عَن ضَلَالَتِهِمْ إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ ﴿53﴾ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاء وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ ﴿54﴾ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ كَذَلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ ﴿55﴾ وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَهَذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلَكِنَّكُمْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿56﴾ فَيَوْمَئِذٍ لَّا يَنفَعُ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَعْذِرَتُهُمْ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ ﴿57﴾ وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِن كُلِّ مَثَلٍ وَلَئِن جِئْتَهُم بِآيَةٍ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُبْطِلُونَ ﴿58﴾ كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ﴿59﴾ فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ ﴿60﴾۔

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

الف، لام، میم۔ (1) رومی مغلوب ہوگئے۔ (2) قریب ترین زمین میں (اہلِ فارس سے) اور یہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔ (3) چند سالوں میں اختیار اللہ کو ہی حاصل ہے پہلے بھی اور بعد بھی۔ اور اس دن اہلِ ایمان خوش ہوں گے۔ (4) اللہ کی نصرت سے، اللہ جسے چاہتا ہے نصرت عطا فرماتا ہے اور وہ غالب ہے (اور) بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (5) یہ اللہ کا وعدہ ہے اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ (6) یہ لوگ صرف دنیاوی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے بالکل غافل ہیں۔ (7) کیا انہوں نے اپنے آپ میں کبھی غور و فکر نہیں کیا؟ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو (حق اور حکمت کے) ساتھ ایک مقررہ مدت تک کیلئے پیدا کیا ہے اور یقیناً بہت سے لوگ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حضوری کے منکر ہیں۔ (8) آیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں ہیں کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا؟ وہ قوت میں ان سے زیادہ مضبوط تھے اور انہوں نے ان سے زیادہ زمین کو جَوتا بویا اور آباد کیا تھا۔ اور ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے تو اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے۔ (9) پھر ان لوگوں کا انجام جنہوں نے (مسلسل) برائیاں کیں برا ہی ہوا کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا تھا اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ (10) اللہ ہی تخلیق کی ابتداء کرتا ہے وہی پھر اس کا اعادہ کرے گا۔ پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے۔ (11) اور جس دن قیامت قائم ہوگی (اس دن) مجرم مایوس اور بےآس ہو جائیں گے۔ (12) اور ان کے بنائے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ بھی اپنے شریکوں سے انکار کر جائیں گے۔ (13) اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن (مؤمن و کافر) الگ الگ ہو جائیں گے۔ (14) پس وہ لوگ جو ایمان لائے تھے اور نیک عمل کئے تھے وہ باغ (بہشت) میں خوش و خرم اور محترم ہوں گے۔ (15) اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور آخرت کی حضوری کو جھٹلایا وہ (ہر وقت) عذاب میں حاضر رکھے جائیں گے۔ (16) پس تم جب شام کرو اور جب صبح کرو تو اللہ کی تسبیح کرو (اس کی پاکیزگی بیان کرو)۔ (17) اور آسمانوں میں اور زمین میں اور سہ پہر کو اور جب تم ظہر کرتے ہو ساری حمد و ثنا اسی خدا کے لئے ہے۔ (18) وہ زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے۔ اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ (سرسبز) کر دیتا ہے۔ اسی طرح تم (مرنے کے بعد) نکالے جاؤگے۔ (19) اور اس کی (قدرت) کی نشانیوں سے (ایک) یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور پھر تم ایک دم آدمی بن کر پھیلتے جا رہے ہو۔ (20) اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت (نرم دلی و ہمدردی) پیدا کر دی۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کیلئے بہت نشانیاں ہیں۔ (21) اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا مختلف ہونا بھی ہے۔ بے شک اس میں اہلِ علم کے لئے بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ (22) اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن میں سونا ہے اور (دن میں) اس کے فضل (روزی) کا تلاش کرنا بھی بے شک اس میں (غور سے) سننے والوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ (23) اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ تمہیں ڈرانے اور امید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کی موت (خشکی) کے بعد زندہ (شاداب) کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں عقل سے کام لینے والے لوگوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ (24) اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب وہ تمہیں زمین سے ایک ہی بار پکارے گا تو تم یکبارگی نکل پڑوگے۔ (25) جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کا ہے (اور) سب اسی کے تابعِ فرمان ہیں۔ (26) اور وہ وہی ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور یہ اس کیلئے زیادہ آسان ہے اور آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے اعلیٰ ہے۔ وہ غالب ہے اور بڑا حکمت والا ہے۔ (27) وہ (اللہ) تمہارے لئے تمہاری اپنی ذات (اور تمہارے حالات) سے ایک مثل بیان کرتا ہے کہ تمہارے غلاموں میں سے کوئی تمہارا اس طرح شریک ہے ان چیزوں میں جو ہم نے تمہیں عطا کر رکھی ہیں کہ تم اور وہ برابر کے حصہ دار بن جاؤ کہ تم ان سے اس طرح ڈرنے لگو۔ جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے (برابر والے) سے ڈرتے ہو؟ ہم عقل سے کام لینے والوں کیلئے اسی طرح آیتیں کھول کر بیان کرتے ہیں۔ (28) بلکہ ظالم لوگ سمجھے بوجھے بھی اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔ جسے اللہ (اس کی نافرمانی کی وجہ سے) گمراہی میں چھوڑ دے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟ اور ان کا کوئی ناصر و مددگار نہیں ہے۔ (29) پس (اے رسول(ص)) آپ باطل سے کنارہ کش ہوکر اپنا رخ دین (حق) کی طرف رکھیں یعنی اس (دینِ) فطرت کی پیروی کریں جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہے یہی سیدھا دین ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ (30) (تم اپنا رخ اسلام کی طرف رکھو) اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور اس سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور (ان) مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ۔ (31) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود گروہ گروہ ہو گئے۔ (پھر) ہر گروہ اس پر خوش ہے جو کچھ اس کے پاس ہے۔ (32) اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے پکارتے ہیں پھر جب وہ انہیں اپنی طرف سے رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو یکایک ان میں سے ایک گروہ پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ (33) تاکہ اس (نعمت) کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں عطا کی ہے۔ اچھا کچھ دن مزہ حاصل کر لو۔ عنقریب تمہیں اس کا انجام معلوم ہو جائے گا۔ (34) کیا ہم نے ان پر کوئی سند (دلیل) نازل کی ہے جو انہیں شرک کرنے کو کہہ رہی ہے جو وہ کر رہے ہیں۔ (35) اور جب ہم لوگوں کو (اپنی) زحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں اور جب ان پر ان کے اعمال کی پاداش میں جو وہ پہلے اپنے ہاتھوں کر چکے ہیں کوئی مصیبت آتی ہے تو ایک دم مایوس ہو جاتے ہیں۔ (36) کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں ایمان والوں کیلئے (قدرتِ خدا کی) بہت سی نشانیاں ہیں۔ (37) پس (اے رسول(ص)) آپ (اپنے) قرابتدار مسکین اور مسافر کو ان کا حق دے دیں۔ یہ ان لوگوں کیلئے بہتر ہے جو رضائے خدا کے طلبگار ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (38) اور جو چیز (روپیہ) تم اس لئے سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں شامل ہوکر بڑھ جائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا اور جو زکوٰۃ تم خوشنودئ خدا کیلئے دیتے ہو ایسے ہی لوگ اپنا مال (کئی گنا) بڑھانے والے ہیں۔ (39) وہ اللہ ہی ہے جس نے (پہلے) تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہیں رزق دیا۔ پھر وہ تمہیں موت دے گا اور پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے بنائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کوئی کام کر سکے؟ اللہ پاک ہے اور بلند و بالا ہے ان کے شرک سے جو وہ کرتے ہیں۔ (40) لوگوں کے ہاتھوں کی کارستانیوں کی وجہ سے خشکی و تری (ساری دنیا) میں فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض (برے) اعمال کا مزہ چکھائے تاکہ وہ لوگ باز آجائیں۔ (41) (اے رسول(ص)) آپ کہہ دیجئے! کہ زمین میں چلو پھرو۔ پھر دیکھو کہ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا انجام کیسا ہوا؟ ان میں سے اکثر مشرک تھے۔ (42) پس (اے رسول(ص)) آپ اپنا رخ دینِ مستقیم کی طرف رکھیں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے کہ جس کیلئے اللہ کی طرف سے ٹلنا نہ ہوگا۔ اس دن لوگ الگ الگ ہو جائیں گے۔ (43) جس نے کفر کیا۔ پس اس کے کفر کا وبال اسی پر ہوگا اور جنہوں نے نیک عمل کئے وہ اپنے ہی لئے راہ ہموار کر رہے ہیں۔ (44) تاکہ اللہ اپنے فضل و کرم سے ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو جزاء (خیر) دے۔ بے شک وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔ (45) اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ہواؤں کو (بارش کی) بشارت دینے کیلئے بھیجتا ہے اور تاکہ وہ تمہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے (تمہاری) کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کا فضل (رزق) تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔ (46) بے شک ہم نے آپ سے پہلے (بہت سے) پیغمبر ان کی قوموں کی طرف بھیجے جو ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں (معجزات) لے کر آئے۔ پھر ہم نے مجرموں سے بدلہ لیا اور ہم پر اہلِ ایمان کی مدد کرنا لازم ہے۔ (47) اللہ ہی وہ ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے۔ تو وہ بادل کو اٹھاتی ہیں۔ پھر اللہ جس طرح چاہتا ہے اسے آسمان پر پھیلا دیتا ہے اور پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان سے بارش نکلنے لگتی ہے۔ پھر وہ اپنے بندوں سے جسے چاہتا ہے پہنچاتا ہے۔ تو بس وہ خوش ہو جاتے ہیں۔ (48) اگرچہ وہ اس کے برسنے سے پہلے بالکل مایوس ہو رہے تھے۔ (49) پس اللہ کی رحمت کے آثار کو دیکھو کہ وہ زمین کو اس کے مردہ (بنجر) ہو جانے کے بعد کس طرح زندہ (سرسبز و شاداب) کرتا ہے۔ بے شک وہی مُردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ (50) اور اگر ہم ایسی ہوا بھیج دیں جس سے وہ اپنی (سرسبز) کھیتی کو زرد ہوتے دیکھ لیں تو وہ اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں۔ (51) (اے رسول(ص)) آپ مُردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ ہی بہروں کو (اپنی) پکار سنا سکتے ہیں جب وہ پیٹھ پھیرے چلے جا رہے ہیں۔ (52) اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر ہدایت دے سکتے ہیں آپ تو بس انہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں پھر وہی لوگ تو ماننے والے ہیں۔ (53) اللہ ہی وہ ہے جس نے کمزوری کی حالت سے تمہاری پیدائش کا آغاز کیا۔ پھر کمزوری کے بعد (تمہیں جوانی کی) قوت بخشی اور پھر اس نے قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا پیدا کر دیا وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ بڑا جاننے والا، بڑی قدرت والا ہے۔ (54) اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرم لوگ قَسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا) میں گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ یہ لوگ (دنیا میں بھی) اسی طرح الٹے چلا کرتے تھے۔ (55) اور جن لوگوں کو علم و ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ تم اللہ کے نوشتہ کے مطابق حشر کے دن تک ٹھہرے رہے ہو۔ چنانچہ یہ وہی حشر کا دن ہے لیکن تمہیں (اس کا) علم و یقین نہیں تھا۔ (56) سو اس دن ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہیں دے گی اور نہ ہی ان سے (توبہ کرکے) خدا کو راضی کرنے کیلئے کہا جائے گا۔ (57) بے شک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے (سمجھانے) کیلئے ہر قسم کی مثال پیش کی ہے اور اگر آپ ان کے پاس کوئی نشانی (معجزہ) لے بھی آئیں تو بھی کافر لوگ یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو۔ (58) اسی طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو جانتے نہیں۔ (59) (اے رسول(ص)) آپ صبر و ثبات سے کام لیں۔ بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ آپ کو (جوش دلا کر) بے برداشت نہ کر دیں۔ (60)

پچھلی سورت: سورہ عنکبوت سورہ روم اگلی سورت:سورہ لقمان

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج۱۶، ص۳۶۰.
  2. صفوی، «سوره روم»، ص۷۳۴.
  3. صفوی، «سوره روم»، ص۷۳۴.
  4. صفوی، «سوره روم»، ص۷۳۴.
  5. طباطبائی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۶، ص۱۵۵؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج۱۶، ص۳۵۵.
  6. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۴۶۰- ۴۶۱؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۶، ص۳۵۹-۵۶۰
  7. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۶، ص۴۱۸.
  8. طباطبائی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۶، ص۱۷۸.
  9. طباطبائی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۶، ص۱۵۶.
  10. طباطبائی، المیزان،۱۳۹۰ق، ج۱۶، ص۱۹۷.
  11. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۴۶۸.
  12. طباطبائی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۶، ص۱۶۰-۱۶۱؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۶، ص۳۸۲.
  13. طباطبائی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۶، ص۱۶۶.
  14. طباطبائی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۶، ص۲۰۷.
  15. مغنیہ، الکاشف، ۱۴۲۴ق، ج۶، ص۱۴۵.
  16. مغنیہ، الکاشف، ۱۴۲۴ق، ج۶، ص۱۴۵.
  17. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۴۵۹.
  18. صدوق، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ص۱۰۹
  19. صدوق،امالی، ۱۳۵۸ش، ص۶۷۴
  20. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۴۶۸.
  21. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • ابن بابویہ، محمد بن علی، الامالی، قم، نشر مؤسسہ بعثت، چاپ اول، ۱۴۱۷ق.
  • صدوق، محمد بن علی، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، محمدرضا انصاری محلاتی، قم، نسیم کوثر، ۱۳۸۲ش.
  • صفوی، سلمان، «سورہ لقمان»، در دانشنامہ معاصر قرآن کریم، قم، انتشارات سلمان آزادہ، ۱۳۹۶ش.
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۰ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ محمدجواد بلاغی‏، تہران، ناصر خسرو، ۱۳۷۲ش.
  • قرآن کریم، ترجمہ محمدمہدی فولادوند، تہران: دارالقرآن الکریم، ۱۴۱۸ق/۱۳۷۶ش.
  • مغنیہ، محمدجواد، تفسیر الکاشف، قم، دارالکتاب الاسلامیہ، ۱۴۲۴ق.
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، ۱۳۷۱ش.